فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
122 - 135
کیاکوئی عاقل وہم کرسکتاہے کہ یہ مراتب موصی لہ بالزائد پرمقدم ہیں زیداگر اپنے کل مال کی وصیت عمرو کے لئے کرجائے اورکوئی وارث نہ رکھتا ہوایک لڑکی ہو جس نے اس کی زوجہ کادودھ کہ اس سے تھا پیاہے توزید کی وصیت نافذ نہ کریں گے اورثلث سے زائد اس دودھ کی لڑکی کودے دیں گے یہ بلاشبہہ باطل ومردود وخلاف اجماع ہے یہ سب مراتب جدیدہ اس امرمیں یکساں ہیں کہ سب مرتبہ اخیرہ کے بعد رکھے گئے ہیں۔
فائدہ۱۴:اقول: زیادت علی الثلث میں موصی لہ کاحق صرف وارث سے مؤخرہے اور غیروارث پرمقدم، ولہٰذا بیت المال پرمقدم ہے کہ بیت المال ہمارے نزدیک وارث نہیں۔
علامہ سیدشریف شرح سراجیہ پھرعلامہ شیخی زادہ مجمع الانہر پھرعلامہ شامی ردالمحتار میں فرماتے ہیں :
اذا عدم من تقدم ذکرہ یبدأ بمن اوصی لہ بجمیع المال فتکمل لہ وصیتہ لان منعہ عمازاد علی الثلث کان لاجل الورثۃ فاذالم یوجد منھم احد فلہ عندنا ماعین لہ کملا، وانما اخرذٰلک عن المقرلہ بناء علی ان لہ نوع قرابۃ بخلاف الموصی لہ۔۱؎
جب وہ معدوم ہوجائیں جن کاپہلے ذکرہوا تو پھر اس سے ابتداء کی جائے گی جس کے لئے میت نے کل مال کی وصیت کی۔ چنانچہ اس کی وصیت پوری کردی جائے گی اس لئے کہ تہائی مال سے زائد کی وصیت کاممنوع ہونا وارثوں کی وجہ سے تھا جب ان میں سے کوئی موجودنہیں توہمارے نزدیک موصی لہ کومکمل طورپر وہ دے دیں گے جس کی تعیین اس کے لئے موصی نے کی ہے۔ موصی لہ اس شخص سے مؤخراس لئے ہے کہ جس کے لئے میت نے نسب کااقرارکیاہے کہ اقراروالے کو ایک قسم کی میت سے قرابت حاصل ہے بخلاف موصٰی لہ کے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۸۸)
(مجمع الانہر شرح ملتقی الابہر کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۷۴۸)
(الشریفیۃ شرح السراجیۃ مقدمۃ الکتاب مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۱۱)
اوران مراتب اربعہ جدیدہ کودیاجانا بطورارث نہیں تو واجب کہ موصی لہ بالزائد ردعلی الزوجین وباقی مراتب ثلٰثہ پرمقدم ہو۔
امام فخرالدین زیلعی تبیین میں فرماتے ہیں :
لومات المعتق ولم یترک الا ابنۃ المعتق فلاشیئ لبنت المعتق فی ظاھر الروایۃ اصحابنا ویوضع مالہ فی بیت المال وبعض مشائخنا کانوا یفتون بدفع المال الیہا لابطریق الارث بل لانھا اقرب الناس الی المیت فکانت اولٰی من بیت المال الاتری انھا لوکانت ذکراکانت تستحقہ ولیس فی زماننا بیت المال ولودفع الی السلطان اوالی القاضی لایصرفہ الی المستحق ظاھرا وعلی ھذا مافضل عن فرض احدالزوجین یردعلیہ لانہ اقرب الناس الیہ ولایوضع فی بیت المال وکذا الابن والبنت من الرضاع یصرف الیھما اذا لم یکن ھناک اقرب منھما ذکرھذہ المسائل فی النھایۃ۔۱؎
اگرمُعتَق مرگیا اورمعتِق کی بیٹی کے علاوہ کسی کو نہ چھوڑا توظاہرالروایہ میں ہمارے اصحاب کے نزدیک معتِق کی بیٹی کوکوئی شے نہیں ملے گی اورسارا مال بیت المال میں رکھ دیاجائے گا، ہمارے بعض مشائخ معتِق کی بیٹی کومال دینے کافتوٰی دیتے تھے مگربطورمیراث نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے لہٰذا وہ بیت المال کی بنسبت اولٰی ہے۔ کیاتم دیکھتے نہیں کہ اگر وہ مذکر ہوتی تومال کی مستحق ہوتی۔ اورہمارے زمانے میں بیت المال نہیں ہے اوراگروہ مال بادشاہ یاقاضی کودیاجائے توبظاہر مستحق پرخرچ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی کے فرضی حصہ وصول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی پررد کیاجاتاہے کیونکہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے اوروہ بچاہوامال بیت المال میں نہ رکھاجائے گا، اسی طرح رضاعی بیٹے اوربیٹی کی طرف مال کولوٹایاجائے گا اگروہاں ان سے بڑھ کر کوئی قریبی موجودنہ ہو، یہ مسائل نہایہ میں مذکورہیں۔(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق کتاب الولاء المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۵/ ۱۷۸)
یہ کلام فہیم کے لئے نص صریح ہے کہ رَدعلی الزوجین وراثۃً نہیں بلکہ اسی طرح ہے جیسے مفاسد بیت المال فاسد سے بچنے کورضاعی اولاد کودیاجاتاہے نیز اس پردلیل انہیں امام جلیل کا ارشادہے کہ اصحاب ردپرردبجہت عصوبت ہے۔
جہاں فرمایا بطوررَدلینا یہ فرض کے طورپرنہیں بلکہ عصبہ کے طورپرہے۔(ت)
(۲؎تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۶/ ۲۴۷)
اورظاہرہے کہ زوجیت عصوبت نہیں، نیزانہیں کاارشادہے :
الرد علی ذوی السھام اولٰی من ذوی الارحام لانھم اقرب الاالزوجین فانھما لاقرابۃ لھما مع المیت۔۳؎
ذوی الفرض پررَد کرنا ذوی الارحام سے اولٰی ہے کیونکہ وہ میت سے زیادہ قرب رکھتے ہیں سوائے زوجین کے اس لئے کہ ان دونوں کی میت سے کوئی قرابت نہیں۔(ت)
(۳؎تبیین الحقائق کتاب الفرائض المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۶/ ۲۴۲)
نیزامام اجل نسفی کاشرح وافی میں ارشاد:
الردباعتبارالرحم حتی لایرد علی الزوجین لعدم الرحم۔۴؎
ردقرابت کے اعتبارسے ہے یہاں تک کہ زوجین پرقرابت کے نہ ہونے کی وجہ سے ردنہیں کیاجاتا۔(ت)
(۴؎ الکافی شرح الوافی )
لاجرم رحیق المختوم میں تصریح فرمائی:
ان الرد انما یستحق بالرحم والزوجان لیسا بذوی رحم فلذا استثناھما، وقیل یرد علیھما لفساد بیت المال و قدمنا فی عصبۃ العتق ان ذٰلک لابطریق الارث۔۱؎(ملخصًا)
بیشک رَد کا استحقاق قرابت کی وجہ سے ہے زوجین چونکہ قرابت نہیں رکھتے اس لئے وہ دونوں مستثنٰی ہیں۔ اورکہاگیاہے کہ بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے زوجین پر رَد کیاجائے گاا ورہم معتق کے عصبہ میں بیان کرچکے ہیں کہ وہ بطورمیراث نہیں۔ ملخصاً(ت)
(۱؎ الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم(رسائل ابن عابدین) باب الرد سہیل اکیڈمی لاہور ۲/ ۲۳۰)
توزوجین کہ باہم اجنبی ہوں اور کوئی رشتہ نہ رکھتے ہوں ان پرردبجہت ارث نہیں ہوسکتا اور اسے ارث ٹھہرانا کتاب اﷲ پرزیادت ہے، تو وہ نہیں مگر اسی وجہ مذکور اولاد رضاعی پر، اورموصی لہ کامانع نہ تھا مگر حق ارث تو ردعلی الزوجین اس کامانع نہیں ہوسکتا بلکہ اس سے مؤخر رہناواجب، وھو المقصود والحمدﷲ الودود۔
فائدہ۱۵: اقول: ردعلی الزوجین اگرمرتبہ میں فرض کیاجائے تو ردکی چارصوتوں سے جن پرمتقدمین متاخرین سب کی کتب اجماع کئے ہوئے ہیں دومنسوخ ہوجائیں کہ اب ذوی الفروض میں من لایردعلیہ کوئی نہ رہا مرد مرے اورایک زوجہ ایک دخترچھوڑے توجمیع کتب متقدمین ومتاخرین حنفیہ میں مسئلہ آٹھ سے کرتے ہیں ایک زوجہ کاکہ صرف اس کافرض ہے اورسات دخترکے چارفرضاً اورتین ردّاً، ہم بہت شکرگزارہوں گے اگرکسی متاخرسے متأخر حنفی معتمد مثلاً علامہ طحطاوی یاعلامہ شامی وغیرہما کسی کے کلام میں دکھادیں کہ صورت مذکورہ میں زوجہ ودخترکونصف نصف دلایاہو، اگرکہئے زوجین پررد ہے تومگر ذوی الفروض النسبیہ پررَد سے مؤخرہے یعنی وہ ہوں توانہیں پررَد ہوگا نہ ان پر، تو اسی کی سند کسی معتمد اگلے پچھلے کے کلام سے دکھائیے جب مذہب منسوب باامیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ لیاگیا اورعول پرقیاس کیاگیا اوراسی زعم پرعدم رد کے خلاف روایت ودرایت بتایاگیا تووجہ تفرقہ کیا۔
فائدہ۱۶: اقول: نہ سہی اگرردعلی الزوجین کومتاخرین نے مرتبہ رَدمیں رکھاہے توآخر کسی متاخر نے ذوی الارحام پرمقدم کیاہوگا کہ باجماع حنفیہ رَد ان پرمقدم ہے اسی کی تصریح کسی متاخر سے متاخر حنفی معتمد کے کلام میں دکھادیجئے کہ آدمی مرے اور زوجہ یازوج اورحقیقی نواسا نواسی بھتیجی بھانجا بھانجی چھوڑے تو سارامال زوج یازوجہ کوملے گا، نواساکچھ نہ پائے گا اورکیونکر دکھاسکتے ہیں کہ وہ اجماع حنفیہ کے خلاف ہے۔
امام نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
اجمعوا علی ان ذوی الارحام لایحجبون بالزوج والزوجۃ ای یرثون معھما فیعطی الزوج والزوجۃ نصیبہ ثم یقسم الباقی بین ذوی الارحام کما لو انفرد وامثالہ زوج وبنت بنت وخالۃ وبنت عم فللزوج النصف والباقی لبنت البنت۔۱؎
مشائخ کااس پراجماع ہے کہ ذوی الارحام خاوند اوربیوی کی وجہ سے محروم نہیں ہوتے یعنی ان دونوں کی موجودگی میں وارث بنتے ہیں چنانچہ خاوند یابیوی کوفرضی حصہ دے کرباقی ذوی الارحام میں تقسیم کردیاجائے گا جیساکہ ان کے منفرد ہونے کی صورت میں کیاجاتا، اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی عورت فوت ہوئی اوراس نے یہ ورثاء چھوڑے خاوند، نواسی، خالہ اور چچاکی بیٹی تو اس صورت میں نصف خاوندکوملے گا باقی نواسی کوملے گا۔(ت)
(۱؎ الکافی شرح الوافی )
اس مسئلہ بدیہیہ میں تشکیک کرنے والے اگراپنے ہی کارنامے یاد کریں توغالباً ایسابے معنی فتوٰی کبھی نہ دیا ہوگا بلکہ ہمیشہ فرض احدالزوجین دلاکر باقی نواسے وغیرہ کوپہنچایاہوگا۔
فائدہ۱۷: اقول: اگلی کارروائیاں یاددلانے کی کیاحاجت، اورممکن کہ بہتوں کوکبھی مسئلہ ذوی الارحام کااتفاق ہی نہ ہواہو، اب حال کے یہی فتاوٰی نہ دیکھے جوکہ مقدمہ میں پیش نظر ہیں، فتوٰی اولٰی میں ہے اگرمتوفی کاکوئی بھی قریبی یابعیدی رشتہ دارموجودنہ ہوتو بعدادائے حصہ وصیت جس قدر بچے سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ درمختار وردالمحتار وغیرہ میں صاف لکھاہے۔ فتوٰی سوم میں ہے بوقت نہ ہونے دیگرورثہ کے زوجہ پرردکیاجائے گا۔ فتوٰی ششم میں ہے اگرمتوفی کاکوئی رشتہ دارموجودنہ ہوتو بچاہواترکہ احدالزوجین کو دے دیں گے۔
فتوی سوم ششم وہشتم نے اس پرعبارت بھی نقل کی ہے:
الرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما۔۲؎
زوجین پررد اس صورت میں ہوگا جب ان کے ماسوا اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہو۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۰۲)