Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
121 - 135
رابعاً علماء فرماتے ہیں یہاں دوچیزیں ہیں: حق للمیت اور وہ تجہیزہے، اور حق علی المیت اور وہ دَین ہے، اوراول ثانی پرمقدم ہے۔
علامہ ابن عابدین شامی الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم میں فرماتے ہیں :
اعلم ان الحقوق المتعلقۃ بالترکۃ ھنا خمسۃ بالاستقراء لان الحق اما للمیت اوعلیہ اولاوالاول التجہیزوالثانی الدین الخ۔۲؎
توجان لے کہ بیشک میت کے ترکہ سے متعلق حقوق بطوراستقراء پانچ ہیں اس لئے کہ حق یاتو میت کے لئے ہوگا یا اس پرہوگا یاایسانہیں ہوگا بصورت اول تجہیزہے اوربصورت ثانی قرض الخ(ت)
 (۲؎ الرحیق المختوم شرح قلائد المنظوم (رسائل ابن عابدین)    سہیل اکیڈمی لاہور۲/ ۱۹۳)
ظاہرہے کہ دَین تجہیزمثل سائردیون حق علی المیت ہے نہ کہ حق للمیت، تومرتبہ دیون ہی میں ہوگا نہ مرتبہ تجہیزمیں۔

خامساً جس طرح یہ دَین حاجت سترکے لئے تھا اور بہت دیون بھی آدمی اپنے کھانے پینے پہننے رہنے وغیرہاحاجات اصلیہ کے اپنی حیات میں لیتاہے، توشیئ اپنے مثل پرکیسے مقدم ہوسکتی ہے، یوں ہی مہرمثل بھی وہ دَین کہ حاجت اصلیہ کے سبب لازم آتاہے۔ ھدایہ باب اقرارالمریض میں ہے:
النکاح من الحوائج الاصلیۃ وھو بمھرالمثل۳؎۔
نکاح حاجات اصلیہ میں سے ہے اور وہ مہرمثل کے ساتھ ہوتاہے۔(ت)
 (۳؎ الہدایۃ            کتاب الاقرار    باب اقرارالمریض    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۲۴۰)
تودین تجہیز اس پرمقدم ہونے کے کوئی معنی نہیں فقیر نے جدالممتارمیں اس مسئلہ کااستظہار کیاتھا اوراب یہ اس کی تحقیق تام ہے وباﷲ التوفیق عبارت اس کی یہ ہے:
ونصوا علٰی ان الوصی اوالوارث اذا کفن من مال نفسہ کفن المثل یرجع فی الترکۃ ویظھر لی انہ یکون المکفن حینئذاسوۃ للغرباء لاتقدیم لحقہ علٰی حقوقھم وان کان دینہ لاجل التکفین فان تقدیم التجھیز کان لحاجۃ المیت اعتبارا بحالۃ الحیاۃ وقد اندفعت حاجتہ ولم یبق الااداء الدین فیکون کمثل سائر الدیون الاتری ان المدیون ان کان محتاجا الی اللباس یقدم علی اداء الدیون وان البسہ رجل من مال نفسہ شارطا علیہ الرجوع کان کاحد الدائنین، وایضا ربما یستدین الرجل فی حیاتہ لاکلہ وشربہ و مالابدمنہ، فالذی ادانہ لھذا کیف یتأخر عن الذی ادانہ لمثل الحاجۃ بعد الموت، واﷲ تعالٰی اعلم۔۱؎ اھ۔
مشائخ نے اس پرنص فرمائی کہ وصی یاوارث جب اپنے مال میں سے میت کومثلی کفن پہنادے تووہ ترکہ میں رجوع کرے گا۔ میرے لئے یہ بات ظاہرہوئی ہے کہ اس صورت میں وہ کفن دینے والاباقی غرباء کے مساوی ہوگا دوسروں کے حق پر اس کاحق مقدم نہ ہوگا اگرچہ اس کایہ قرض تکفین کی وجہ سے ہے کیونکہ تجہیزکومقدم کرنا میت کی حاجت کے لئے اس کی زندگی کی حالت پر قیاس کرتے ہوئے۔ اورتحقیق وہ حاجت پوری ہوچکی اورنہ باقی رہا مگرقرض کااداکرنا تو وہ مثل باقی قرضوں کے ہوگیا۔ کیاتونہیں دیکھتا کہ مقروض جب لباس کا محتاج ہوتو وہ قرض کی ادائیگی پرلباس کو مقدم رکھتاہے۔ اوراگرکوئی شخص اپنے مال سے اس کو لباس پہنادے اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس پررجوع کرلے گا تو وہ دیگرقرضخواہوں میں سے ایک ہوجائے گا نیزبسااوقات کوئی شخص اپنی زندگی میں کھانے پینے اوردیگر ضروری اشیاء کے لئے قرض لیتاہے، توجس شخص نے ان ضروریات کے لئے قرض دیاوہ اس شخص سے کیسے متأخرہوگا جس نے موت کے بعد ایسی ہی حاجت کے لئے اس کو قرض دیا، اوراﷲ تعالٰی خوب جانتاہے۔(ت)
 (۱؎ جدالممتارعلی ردالمحتار)
تواگرشاہ محمدبامرزوجہ بشرط رجوع تجہیزوتکفین کرتاجب بھی غایت درجہ میں دَین مرتبہ دَین میں رہتا نہ کہ مرتبہ تجہیزوتکفین میں ہوکرمہروغیرہ دیون پرمقدم ہوجاتاکہ یہ محض بلاوجہ بلکہ بے معنی ہے
ومن ادعی فعلیہ البیان ولایستطیع الٰی ان یؤب القارظان۔
 جودعوی کرے دلیل بیان کرنا اس کے ذمے ہے اوروہ دلیل نہیں لاسکے گا یہاں تک کہ سلم کے پتے چننے والے واپس آئیں(ت)
تفریعات

(۶۴، ۶۵)فتوی۱ کاقول تجہیزوتکفین کاخرچ پہلے ہی سے نکال لیاجائے گا اس کابارکسی فریق کے حصے پرنہ پڑے گا۔

(۶۶، ۶۷) فتوی ۵ کاقول خرچ دفن کرنے کا چھ سات روپے تک آخر دس روپے تک اس کا بار فریقین پرہے۔

(۶۸، ۶۹) فتوی۷ کاقول جمیع متروکہ میں سے سب سے اول تجہیزکاخرچ نکال لیاجائے گا نیزاس کاقول وصیت اگربعوض دین مہر ہوتو تجہیزوتکفین کے بار سے حسب حصہ زیورات مستثنٰی نہ ہوں گے الخ سب دودووجہ سے غلط ہیں اوّلاً بلاثبوت موجوب رجوع بلکہ بعدظہور مانع رجوع، حکم رجوع دینا، ثانیاً اسے مرتبہ تجہیزوتکفین میں رکھنا۔

(۷۰) فتوی۷ کاقول اگرمدعاعلیہ نے تجہیزوتکفین اپنے مال سے بلااطلاع وبلااجازت مدعیہ کی ہے اس کابار صرف مدعاعلیہ کے مال پرہوگااورباجازت مدعیہ اپنے مال سے کی ہے یامتوفی کے ترکہ سے تو اس کابار متوفی کے تمام ترکہ پرہوگابھی صحیح نہیں فقط اجازت مدعیہ رجوع کے لئے کافی نہیں طرفہ یہ کہ شق اول میں بلااطلاع کالفظ بڑھادیا جو اس کاموہم کہ صرف باطلاع وارث ہونا ہی رجوع کوبس ہے۔
افادہ ثانیہ عشرجامع فوائد غرر

فائدہ۱۳: ہمارے ائمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم کااصل مذہب یہ ہے کہ اصحاب فرائض میں کہ زوجین پرردنہیں ان کے فرض سے جوبچے اورکوئی عصبہ نسبی وسببی نہ ہو توباقیماندہ ذوی الارحام کودیں گے، وہ نہ ہوں تومولی الموالاۃ کو، وہ نہ ہوتومقرلہ بالنسب علی الغیرکو، وہ نہ ہوتو موصی لہ بالزائدکو، وہ نہ ہو یا اسے دے کربھی بچے تووہ باقی فقراء مسلمین کاحق ہے مسلمانوں کے بیت المال میں رکھیں مثل تمام اموال ضائعہ کے جن کا کوئی مالک وارث نہ ہو ان تمام مراتب اوران کی ترتیب میں ائمہ وعلمائے حنفیہ کرام متقدمین ومتاخرین کسی کو اصلاً خلاف نہیں جمیع کتب سلف وخلف میں آج تک برابر اسی طرح لکھتے اوراسی پرعمل کرتے فتوے دیتے آئے اورجبکہ ترتیب مراتب کے یہ معنی ہیں کہ محل استحقاق رتبہ متقدمہ میں رتبہ متاخرہ کونہ دیاجائے گابلکہ وہ اس وقت پائے گا کہ رتبہ متقدمہ موجودنہ ہو جیسے جمیع صورمیں یا اس کے حق کے بعد بھی کچھ باقی بچے جیسے اصحاب فرائض وعصبات یااحدالزوجین ومراتب نازلہ یاموصی لہ بالزائد دون الکل وبیت المال میں اوربیت المال کاکوئی حصہ معین نہیں کہ اس کے بعد کچھ بچے نہ زمان برکت نشان سلف میں اس کے عدم کی صورت تھی لہٰذا ائمہ متقدمہ نے اسے آخرالمراتب رکھازمانہ متاخرین میں جبکہ بیت المال فاسد ہو اورفاسد مثل معدوم ہے تواب بیت المال آخرالمراتب نہ رہا اورصورت یہ پیداہوئی کہ ذوی الارحام نہ ہوں تومولی الموالاۃ کو، وہ نہ ہوتو مقرلہ کو، وہ نہ ہوتو موصی لہ بالزائدکو، وہ نہ ہوتوبیت المال کو، اوروہ بھی نہ ہوجیسے زمانہ متاخرہ میں تواب کس کو۔
اس کے لئے ائمہ متاخرین نے نواں مرتبہ ردعلی الزوجین نکالاا ورزوجین بھی نہ ہوں توبنات معتق کو، وہ بھی نہ ہوں تومعتق کے ذوی الارحام کو، وہ بھی نہ ہوں تومیت کے اولادرضاعی کو، کوئی عاقل نہ کہے گاکہ ان مراتب اربعہ کے احداث سے علماء متاخرین اس ترتیب مجمع علیہ مراتب سابقہ کوتوڑنا چاہتے ہیں حاشا اس پرتوہمارے تمام علماء کاقطعی اجماع بلانزاع ہے بلکہ ازانجاکہ مرتبہ اخیرہ اب مرتبہ اخیرہ نہ رہا اس کے بعد اورمراتب بڑھاتے ہیں تویہ چاروں مراتب جدیدہ بالیقین بیت المال منتظم سے مؤخرہیں، اوربیت المال منتظم موصی لہ بالزائد سے مؤخرہے توقطعاً یقینا یہ چاروں مراتب موصی لہ بالزائد سے بدرجہا مؤخرہیں، علماء نے جس طرح ردعلی الزوجین کامرتبہ نکالایہ تینوں مراتب بنات معتق وذوی الارحام معتق واولاد رضاعی بھی نکالے،
نہایہ پھرتبیین الحقائق پھراشباہ والنظائرپھر منح الغفارپھردرمختارکتاب الولاء میں ہے :
واللفظ لہ لومات المعتق ولم یترک الاابنۃ معتقہ فلاشیئ لھا ویوضع مالہ فی بیت المال ھذا ظاھر الروایۃ وذکر الزیلعی معزیاللنھایۃ ان بنت المعتق ترث فی زماننا لفساد بیت المال وکذا مافضل عن فرض احد الزوجین یرد علیہ وکذا المال یکون للابن اوالبنت رضاعاکذا فی فرائض الاشباہ واقرہ المصنف وغیرہ۱؎۔
اورلفظ درمختارکے ہیں کہ اگرمُعتَق مرگیا اورسوائے مُعتِق کی بیٹی کے اس کے پسماندگان میں کوئی نہیں تو اس کوکچھ نہیں ملے گا، اورمعتق کامال بیت المال میں رکھ دیاجائے گا، یہ ظاہرالروایۃ ہے، اورزیلعی نے نہایہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذکرکیاکہ معتِق کی بیٹی ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے وارث ہوگی یونہی زوجین میں کسی ایک کے فرضی حصہ قبول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی پررَد کردیاجائے گا۔اوراسی طرح ترکہ کامال رضاعی بیٹے یابیٹی کو ملے گا۔ الاشباہ کی کتاب الفرائض میں یونہی ہے، اورمصنّف وغیرہ نے اس کو برقراررکھاہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار        کتاب الولاء        مطبع مجتبائی دہلی     ۲/ ۱۹۴)
ردالمحتارمیں ہے:
ومثلہ فی الذخیرۃ قال وھکذا کان یفتی الامام ابوبکر البرزنجری والقاضی الامام صدر الاسلام لانھا اقرب الی المیت من بیت المال فکان الصرف الیھا اولٰی اذلوکانت ذکرا تستحق المال، قولہ ترث فی زماننا عبارۃ الزیلعی یدفع المال الیھا لابطریق الارث بل لانھا اقرب الناس الی المیت ح، قولہ وکذا مافضل الخ عزاہ فی الذخیرۃ الٰی فرائض الامام عبدالواحد الشھید، قولہ للابن اوالبنت رضاعا عزاہ فی الذخیرۃ الٰی محمد رحمہ اﷲ تعالٰی۔
اسی کی مثل ذخیرہ میں فرمایا،ا ورایسے ہی فتوٰی دیتے تھے امام ابوبکر البرزنجری اورقاضی امام صدرالاسلام۔ کیونکہ معتِق کی بیٹی بیت المال کی بنسبت میت کے زیادہ قریب ہے۔ چنانچہ مال کو اس کی طرف پھیرنااولٰی ہے، کیونکہ اگروہ مذکرہوتی تومال کی مستحق ہوتی۔ ماتن کاقول ''وہ ہمارے زمانے میں وارث بنے گی''۔ زیلعی کی عبارت ہے اس کو مال بطورمیراث نہیں دیاجائے گا بلکہ اس لئے دیاجائے گا کہ وہ لوگوں میں سے میت کے قریب ترین ہے ح۔ ماتن کاقول ''اوریونہی جوبچ جائے الخ'' اس کو ذخیرہ میں فرائض امام عبدالواحد شہید کی طرف منسوب کیاہے۔ ماتن کاقول ''رضاعی بیٹا یابیٹی'' اس کو ذخیرہ میں امام محمدعلیہ الرحمہ کی طرف منسوب کیاہے۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار       کتاب الولاء    داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۷۶)
الرحیق المختوم میں ہے :
بنت المعتق فلاشیئ لھا فی ظاھرالروایۃ وافتی بعضھم بدفعہ لھا لکن لابطریق الارث بل لکونھا اقرب الناس الیہ بل ولذی ارحامہ بل وللولد رضاعا کما یرد علی الزوجین فی زماننا کما فی القنیۃ والزیلعی عن النھایۃ والاشباہ اقرہ فی المنح وسکب الانھر۔۱؎
ظاہرالروایہ میں معتِق کی بیٹی کے لئے کچھ نہیں، اوربعض مشائخ نے اس کو دینے کافتوٰی دیاہے لیکن بطور میراث نہیں بلکہ اس لئے کہ وہ لوگوں میں سے میت کے زیادہ قریب ہے بلکہ معتِق کے ذوی الارحام بلکہ اس کی رضاعی اولاد کو دینے کابھی فتوٰی دیاہے جیساکہ ہمارے زمانے میں زوجین پر رَد کیاجاتاہے۔ جیساکہ قنیہ، زیلعی بحوالہ نہایہ، اورالاشباہ میں ہے اسی کو برقراررکھاہے منح اور سکب الانہرنے۔(ت)
 (۱؎ الرحیق المختوم شرح قائد المنظوم    (رسائل ابن عابدین)    سہیل اکیڈمی لاہور  ۲/ ۲۱۸)
Flag Counter