Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
120 - 135
تفریعات

(۶۱) فتوی۱ کاقول کہ اگر کوئی فریق اپنے حصے کے بدلے اس کی قیمت پررضامند ہوجائے توعدالت کولازم ہوگا کہ اس فریق کوقیمت دے دے لیکن کسی فریق کو اس کے حصے کی قیمت لینے پرمجبورکرنا عدالت کے اختیارسے باہرہے ناقص وقاصر ہے ایک فریق کے رضامند ہونے سے عدالت کولازم درکنار جائزبھی نہیں کہ اسے قیمت دلادے جب تک دوسرافریق بھی قیمت دینے پرراضی نہ ہو، اسے قیمت لینے پرمجبورکرنا اختیارسے باہرہے تواسے قیمت دینے پرمجبورکرناکب اختیارمیں داخل ہے۔

(۶۲) فتوی۵ نے اس سے بھی زیادہ بے تکان کہاکہ مدعیہ کواختیارہے اگرچاہے توہرچیز۶/۱ حصہ بجنسہٖ لے سکتی ہے اگرباختیار خودقیمت اپنے حصے کی فریق ثانی سے لے لے توکچھ مضائقہ نہیں۔

(۶۳) طرفہ ترفتوی۱کایہ قول ہے کہ ظروف وغیرہ کی تقسیم کی بھی یہی صورت ہوگی کہ تیسرے حصہ میں شاہ محمد کاحق اوردوحصے مسماۃ کاحق ہیں لیکن یہ مناسب ہوگاکہ تمام ظروف شاہ محمدخاں کودے دئیے جائیں اورعالم خاتون کاحق جو ان ظروف میں ہے وہ جائداد غیرمنقولہ سے پورا کردیاجائے۔ اب یہاں ایک فریق کی رضابھی شرط نہ رہی خود ہی حاکم کو مشورہ دیاجارہاہے کہ یوں کردو۔لطف یہ کہ یہاں اس سے سوال بھی نہ تھا سوال یہ تھا کہ ظروف وغیرہ کادیاجانا بھی درج وصیت ہے کیایہ جائزہے، اس کاجواب یہ ہوتاہے جوپیش نظرہے، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم۔
افادہ حادیہ عشر

اجنبی کہ نہ وارث ہو نہ وصی اگرمیت کی تجہیزوتکفین بطورخود کرے تو اسے ترکہ میں رجوع کااختیارنہیں وہ اس کاتبرع ٹھہرے گا جب تک وارث کے اذن واجازت سے نہ ہوااوروارث کی اجازت بھی کافی نہیں جب تک اس کاامرنہ ہوا اورتحقیقاً اس کاامربھی کافی نہیں جب تک واپسی کی شرط نہ کرلی ہو مثلاً زیدنے وارث سے کہامیں اس کی تجہیزوتکفین کئے دیتاہوں جوخرچ ہوگا ترکہ سے لے لوں گا وارث نے سکوت کیازیدنے اس کہنے پرلوگوں کوگواہ کرلیا اوراپنے مال سے تجہیزوتکفین کی ایک حبّہ واپس نہ پائے گا کہ یہ بلااذن وارث تھی یازیدنے وارث سے کہامیت میرادوست یا میرامعظم تھا میں چاہتاہوں کہ اس کی تجہیزوتکفین میں خود کروں اس نے کہااچھا، یاوارث ہی نے اس سے کہاکہ اگرتم اس کی تجہیزوتکفین کاثواب لیناچاہوتو تمہیں اجازت ہے اس نے کہامنظور، دونوں صورتوں میں وارث کی اجازت ہوئی اوراختیار رجوع نہیں کہ بے امروارث ہے، یاوارث نے کہا میت تمہارا دوست تھا یاتمہارا پیریااستاد تھا تم پربھی اس کاحق ہے اس کی تجہیزوتکفین تمہیں اپنے مال سے کرو، اس نے کہا بسروچشم، اس میں وارث کابھی امرہوا اوررجوع نہیں کہ اس کی شرط نہ کی گئی، ہاں وارث نے کہاتم اس کی تجہیزوتکفین کردوجوخرچ ہوگاترکہ سے تمہیں دے دیاجائے گاتواب بلاشبہہ اختیاررجوع ہے۔
عیون پھرتاتاخانیہ پھرنہج النجاۃ پھر تنقیح الحامدیہ میں ہے:
اذا کفن الوارث المیّت من مال نفسہ یرجع والاجنبی لایرجع۱؎۔
اگروارث نے میت کواپنے مال سے کفن پہنایا تورجوع کرسکتاہے ا وراجنبی ایساکرے تو رجوع نہیں کرسکتا۔(ت)
(۱؎ العقودالدریۃ    کتاب الوصایا    باب الوصی    ارگ بازارقندھارافغانستان۲/ ۳۲۷)
ردالمحتارمتفرقات البیوع مسئلہ تکفین میں ہے:
لوکفن المیت غیرالوارث من مال نفسہ لیرجع فی ترکتہ بغیر امرالوارث فلیس لہ الرجوع اشھد علی الوارث اولم یشھد ولوکفن الوصی من مال نفسہ لیرجع کان لہ الرجوع۔۱؎
اگرغیروارث نے میت کووارث کے حکم کے بغیر اپنے مال سے کفن پہنایا تاکہ وہ ترکہ میں رجوع کرے تو اس کورجوع کااختیارنہیں ہوگا چاہے وارث کوگواہ بنایاہویانہیں اوراگروصی نے اپنے مال سے کفن پہنایا تاکہ وہ ترکہ میں رجوع کرے تو اس کورجوع کااختیارہوگا۔(ت)
 (۱؎ العقودالدریۃ کتاب الوصایا    باب الوصی  ارگ بازارقندھار افغانستان     ۲/ ۳۲۷)
مجمع الفتاوٰی پھرنورالعین پھرتنقیح مغنی المستفتی میں ہے:
امراحد الورثۃ انسانا بان یکفن المیت فکفن ان امرہ لیرجع علیہ یرجع کما فی انفق فی بناء داری وھو اختیار شمس الاسلام وذکرالسرخسی ان لہ ان یرجع بمنزلۃ امرالقاضی۲؎ اھ قلت والتعلیل دلیل التعویل ثم التقدیم دلیل التقدیم ثم الاختیار من الفاظ الفتوی۔
اگروارثوں میں سے ایک نے کسی شخص کوکہاکہ وہ میت کو کفن پہنادے اوراس نے پہنادیا اب اگروارث نے اس کورجوع کاکہا تورجوع کرسکے گا، جیساکہ کوئی کسی کو کہے تومیرے گھرکی عمارت میں خرچ کر، وہی شمس الاسلام کا اختیارہے، اورامام سرخسی نے ذکرفرمایاکہ اس کوبمنزلہ امرقاضی رجوع کااختیارہے اھ میں کہتاہوں کہ تعلیل دلیل تعویل ہے، پھر تقدیم دلیل تقدیم ہے پھر اختیارفتوی کے الفاظ میں سے۔(ت)
 (۲؎العقودالدریۃ      بحوالہ مجمع الفتاوٰی    کتاب الکفالہ   ارگ بازارقندھار افغانستان    ۱/ ۰۳۔۳۰۲)
یہاں شرط رجوع درکنار امرزوجہ برکنار اجازت زوجہ کابھی ثبوت نہیں بلکہ ظاہریہی ہے کہ شاہ محمد نے بطور خود یہ تجہیزوتکفین کی موصی نے اسی کے گھرمیں وفات پائی اس کا اس کایارانہ تھا اوراس نے اس پراحسان کیاکہ اپنے دونوں مکان اورجملہ اسباب خانہ داری اپنی زوجہ سے چھڑاکر اس کووصیت کرگیا اوراس نے وصیت نامہ میں دوجگہ اس سے اپنی تجہیزوتکفین درخواست تھی اورسوال فتوائے دوم جس کی طرز ادابتارہی ہے کہ وہ شاہ محمدکامرتب کرایاہواہے اس میں یہ لفظ ہیں زید وصیت کرگیاکہ بعد میرے میری جائداد منقولہ غیرمنقولہ کامالک عمرو ہے میری تجہیزوتکفین بھی کرے گا اورﷲ میری ارواح بھی دے گا بعد وفات زیدعمرونے وصیت مذکورہ کو قبول کرکے ایفائے امورات ایصاء میں لگ گیا  جس سے صاف واضح کہ یہ تجہیز وتکفین بربنا ئے درخواست ووصیت نامہ تھی نہ بربنائے امرعالم خاتون، توکوئی امرایساثابت نہیں جس سے یہ خرچ اسے واپس دلایاجائے بلکہ اس کے خلاف کاثبوت ظاہرہے توحکم واپسی نہیں ہوسکتا ثم اقول: یہاں ایک دقیقہ اورہے تجہیزوتکفین ضرورجمیع حقوق متعلقہ بہ ترکہ پرمقدم ہے،
اما المتعلق بعین کالمرھون والمبیع المحبوس بالثمن ودارمستأجرۃ قدم اجرتھا وعین جعلھا مھرا والمقبوض بالبیع الفاسد فانہ اذامات الراھن اوالمشتری اوالاٰجر اوالزوج اوالبائع فی ھذہ الصور علی الولاء قدم حق المرتھن اوالبائع اوالمستاجر اوالمرأۃ اوالمشتری علی تجھیزالمیت فانما ذلک لتعلقھا بالمال قبل صیرورتہ ترکۃ کما فی الدرالمختار وردالمحتار۱؎۔
لیکن وہ حق جوعین سے متعلق ہے جیسے رہن رکھی ہوئی چیز، وہ مبیع جوثمن کے بدلے روکاگیاہے، وہ اجارہ کامکان جس کاکرایہ پیشگی اداکیاگیاہے، وہ عین شیئ جس کومہر بنایاگیاہے اوروہ شیئ جس شیئ پربیع فاسد کے ذریعے قبضہ کیاگیا۔ ان صورتوں میں اگرراہن، مشتری، آجر، خاوندیابائع اسی حال پرمرگیا تومذکورہ حقوق یعنی مرتہن، بائع، مستاجر، بیوی یا مشتری کاحق تجہیزمیت پرمقدم ہوگا یہ اس لئے ہے کہ یہ حقوق مال کے ترکہ ہونے سے پہلے ہی اس سے متعلق ہوگئے ہیں، جیساکہ درمختاراورردالمحتارمیں ہے۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار        کتاب الفرائض    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۵۲)

(ردالمحتار      کتاب الفرائض     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۸۴۔۴۸۳)
مگریہ تقدیم تجہیزوتکفین کوہے نہ اس دَین کوکہ بسبب تجہیزوتکفین عائد ہو وہ اگرہے تو مثل سائردیون ایک دین ہے نہ کہ اورجملہ دیون پر مقدم اوّلاً تمام علماء نے یبدأ بتجھیزہ (اس کی تجہیزسے ابتداء کی جائے گی۔ت) فرمایا ہے کہیں یبدأ بدین تجھیزہ(اس کی تجہیزکے قرض سے ابتداء کی جائے گی۔ت) بھی آیاہے۔
ثانیاً علماء نے اسے لباس حیات پرقیاس فرمایاہے کہ زندگی میں تن کے کپڑے دائن کو نہ دئیے جائیں گے یاکپڑوں کی حاجت ہے تو اس قدردین میں نہ دیں گے،
شریفہ میں فرمایا:
انما کان قضاء الدین مؤخرا عن الکفن لانہ لباسہ بعد وفاتہ فیعتبربلباسہ فی حیاتہ الاتری انہ یقدم علی دینہ اذلایباع ماعلی المدیون من ثیابہ مع قدرتہ علی الکسب۱؎۔(ملخصًا)
بیشک قرض کی ادائیگی کفن سے مؤخر اس لئے ہے کہ کفن مرنے کے بعد میت کالباس ہے، لہٰذا اس کو اس کی زندگی کے لباس پرقیاس کیاجائے گا کیانہیں دیکھتے ہوکہ زندگی میں لباس قرض پر مقدم ہوتاہے، اس لئے کسب کی قدرت رکھنے والے مدیون کے کپڑے فروخت نہیں کئے جاتے۔(ملخصاً)(ت)
 (۱؎ الشریفۃ شرح السراجیہ    خطبۃ الکتاب        مطبع علیمی اندرون لوہاری گیٹ لاہور ص۵)
اورپرظاہرکہ زیدکے مدیون نے اگرعمرو سے قرض لے کرکپڑے بنائے توعمروکوزید پرکوئی ترجیح نہ ہوگی دونوں دَین یکساں ہوں گے دَین پرتقدم لباس کوتھی نہ کہ دَین لباس کو شرع میں اس کی کہیں اصل نہیں توواجب کودَین تکفین بھی دیگر دیون پر اصلاً مقدم نہ ہوبلکہ کفن دہندہ اسوہ غرباء ہو۔
درمنتفی پھر ردالمحتارمیں ہے:
الاصل ان کل حق یقدم فی الحیاۃ یقدم فی الوفاۃ۲؎ اھ ویضم منہ علی العرف الفقھی ان مالایقدم فی الحیاۃ لایقدم فی الوفاۃ۔
اصل یہ ہے کہ جوحق زندگی میں مقدم ہوتاہے وہ موت میں بھی مقدم ہوتاہے اھ اورعرف فقہ میں اس کے ساتھ یہ ضابطہ ملایاجاتاہے کہ جوزندگی میں مقدم نہ ہو وہ وفات میں بھی مقدم نہیں ہوتا۔(ت)
 (۲؎ ردالمحتار        کتاب الفرائض    داراحیاء التراث العربی بیروت۵/ ۴۸۴)
ثالثاً علماء اس کی وجہ یہ فرماتے ہیں کہ میت کوبرہنہ رکھناجائزنہیں کہ تعظیم مسلمان مردہ و زندہ کی یکساں ہے۔تبیین الحقائق میں فرمایا:
المرء یقدم نفسہ فی حیاتہ فیمایحتاج الیہ من النفقۃ والسکنی والکسوۃ علی اصحاب الدیون فکذا بعد وفاتہ یقدم تجھیزہ وھو محترم حیاومیتا فلایجوز کشف عورتہ و فی الاثر لعظام المیت من الحرمۃ مالعظام الحی۱؎۔(ملخصاً)
انسان اپنی ذات کوزندگی میں اپنی ضروری حاجات یعنی نفقہ، سکونت اورلباس میں قرضخواہوں پرمقدم رکھتاہے اسی طرح وفات کے بعد اس کی تجہیزوتکفین کومقدم رکھاجائے گا انسان زندہ ومردہ دونوں حالتوں میں محترم ہے لہٰذا اس کوبرہنہ کرناجائزنہیں، حدیث میں ہے میت کی ہڈیوں کااحترام وہی ہے جو زندہ کی ہڈیوں کاہے۔ملخصاً(ت)
(۱؎ تبیین الحقائق        کتاب الفرائض    المطبعۃ الکبری الامیریہ بولاق مصر۶/ ۳۰۔۲۲۹)
اورپرظاہرکہ یہ علت نفس تجہیزمیں ہے نہ دَین تجہیزمیں۔
Flag Counter