فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
119 - 135
افادہ تاسعہ
اگرزوجہ کاقبول ثابت نہ ہو تووصیت کابے اجازت وارث ثلث سے زائد میں نافذنہ ہونا ان ورثہ کے ساتھ ہے جن کے حقوق میراث کے بعد کچھ نہ بچے زوجین کہ کسی حال میں ان کاحق ارث ربع یا نصف سے زائد نہیں، وصیت میں ثلث پرزیادت جہاں تک ان کے حق کے معارض نہیں یعنی زوجہ کے ساتھ ثلث کے علاوہ نصف مال اورزوج کے ساتھ ثلث کے علاوہ دوسرے ثلث میں اس کانفاذ ان کی اجازت ورضاپر موقوف نہیں، ہاں ارث پرحق تقدم صرف ثلث تک ہے جس کابیان اوپرگزرا اس سے یہ لازم نہیں آتاکہ ثلث سے زیادہ موصی لہ بالزائد کوبے ان کی اجازت کے ملتے ہی نہیں یہ محض باطل ہے،
نوازل امام فقیہ ابواللیث پھرفتاوٰی حامدیہ، جوہرہ نیرہ پھرعقودالدریہ وغیرہا میں ہے:
الوصیۃ بمازاد علی الثلث غیرجائزۃ اذاکان ھناک وارث یجوز ان یستحق جمیع المال اما اذاکان لایستحق جمیع المیراث کالزوج والزوجۃ فانہ یجوز ان یوصی بمازاد علی الثلث۱؎۔
تہائی مال سے زائد کی وصیت ناجائزہے جبکہ کوئی ایساوارث موجودہو جوتمام مال کامستحق بن سکتاہے لیکن اگر وہ وارث تمام مال کامستحق نہ بن سکتاہو جیسے خاوند اوربیوی، دوتہائی سے زائد کی وصیت کرناجائزہوگا۔(ت)
(۱؎ العقودالدریۃ کتاب الوصایا ارگ بازارقندھارافغانستان ۲/ ۳۰۹)
تفریعات
(۵۶) فتوٰی ۱ کاوصیت شاہ محمد کے لئے کہناکہ مدعیہ کے اعتراض کرنے پرتیسرے حصہ میں جائزہوگی زائدمیں جائزنہ ہوگی اس لئے دوحصے عالم خاتون کودیں گے۔
(۵۷) یونہی فتوی ۳ کاقول کہ بوقت موجودگی ورثہ وصیت ثلث سے جاری ہوگی ثلث سے زیادہ ناجائزہے۔
(۵۸) اسی طرح فتوی۶ کاادعاہے کہ مسئلہ زیربحث میں متوفی کی بیوہ موجودہے جواس کی وارث ہے اس لئے جس قدر وصیت ترکہ کے ۳/۱ سے زیادہ ہے بدون اجازت عالم خاتون کے نافذنہیں ہوسکتی
سب باطل اورمسئلہ
لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ۲؎
(تہائی مال سے زائد کی وصیت ورثاء کی اجازت کے بغیر جائزنہیں ہوتی۔ت) میں ورثہ سے مراد علماء کی نافہمی پر مبنی ہے۔
(۱؎ الہدایۃ کتاب الوصایا مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱)
(۵۹) فتوی۳ نے اورترقی کی کہ صریح مخالفت عبارت اپنی سندٹھہرائی عبارت ہدایہ :
لاتجوز بمازاد علی الثلث لانہ حق الورثۃ۔۲؎
تہائی مال سے زائد کی وصیت اس لئے جائزنہیں کہ وہ وارثوں کاحق ہے۔(ت)
(۲؎الہدایۃ کتاب الوصایا مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱)
صاف ارشاد فرمارہی تھی کہ یہ عدم جواز معارضہ حق وراثت کے سبب ہے زوجہ کاحق وراثت ربع سے زیادہ کہاں ہے کہ باقی نصف مال میں معاوضہ کرے۔
(۶۰) یہی خوش فہمی فتوی۶ نے دکھائی عبارت ہدایہ یہ سنائی:
لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ لان الامتناع لحقھم۔۳؎
تہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں سوائے اس کے ورثاء اجازت دے دیں کیونکہ ممانعت ان کے حق کی وجہ سے ہے۔(ت)
(۳؎الہدایۃ کتاب الوصایا مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱ )
اورجملہ تعلیل کونہ دیکھاکہ صراحۃً اس کے خلاف ہے، مگریہ اخلاط ان فتاوائے سہ گانہ کی اس شدید غلط فہمی پرمبنی ہیں جس کاکشف افادہ آخرمیں آتاہے ان شاء اﷲ تعالٰی۔
افادہ عاشرہ
کسی تقسیم میں نہ حاکم کو یہ جبرپہنچتاہے نہ ایک حصہ دار کو رواہے کہ بے رضائے دیگربجائے عین، قیمت لے مگربمجبوری محض جہاں بے اس کے مساوات ناممکن ہونہ زنہار حاکم کویہ اختیارکہ بے رضائے فریقین مختلف الجنس اشیاء میں ایک کاحصہ کہ اس جنس میں ہو دوسرے کودے دے اوراس کے بدلے دوسری جنس دوسرے کے حصے سے اسے دلائے۔
درمختارمیں ہے:
اعلم ان الدراھم لاتدخل فی القسمۃ لعقار اومنقول الابرضاھم فلو کان ارض وبناء اومنقول قسم بالقیمۃ عند الثانی وعندالثالث یردمن العرصۃ بمقابلۃ البناء فان بقی فضل ولایمکن التسویۃ ردالفضل دراھم للضرورۃ واستحسنہ فی الاختیار۔۱؎
یہ جان لے کہ درھم، زمین اورگھر کی تقسیم میں داخل نہیں ہوتے مگراس وقت جب شرکاء اس پرراضی ہوں۔ چنانچہ اگرزمین، عمارت یا مال منقول ہوتواس کی تقسیم امام ابویوسف کے نزدیک قیمت کے اعتبارسے ہوگی، اورامام محمدکے نزدیک زمین کو عمارت کے مقابل پھیردیاجائے گا، پھر اگرکچھ عمارت زائد بچ جائے زمین دے کردونوں میں برابری ممکن نہ ہوتو مجبوراً اس زیادتی کے برابر درھم پھیرے جائیں گے۔ اختیارمیں ہے اس کومستحسن قراردیاہے۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۲۰)
ہدایہ میں ہے:
لاتدخل فی القسمۃ الدراھم والدنانیر الابتراضیھم لانہ لاشرکۃ فی الدراھم والقسمۃ من حقوق الاشتراک لانہ یفوت بہ التعدیل فی القسمۃ، واذاکان ارض و بناء فعن ابی یوسف انہ یقسم علی اعتبار القیمۃ لانہ لایمکن اعتبار المعادلۃ الا بالتقویم۔۲؎
شرکاء کی باہمی رضامندی کے بغیردراھم ودنانیر تقسیم میں داخل نہیں ہوتے کیونکہ دراہم میں کوئی شراکت نہیں اور تقسیم حقوق اشتراک میں سے ہے، اس لئے بھی کہ اس سے تقسم برابری فوت ہوجاتی ہے۔ اورجب زمین مع عمارت ہوتوامام ابویوسف علیہ الرحمہ کے نزدیک قیمت کے اعتبارسے تقسیم ہوگی کیونکہ اس کے بغیر برابری کااعتبارممکن نہیں۔(ت)
(۲؎ الہدایۃ کتاب القسمۃ فصل فی کیفیۃ القسمۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۴)
اورروایت مذکورہ امام محمد کے بیان میں فرمایا:
اذا بقی فضل ولایمکن تحقیق التسویۃ بان لاتفی الوصیۃ بقیمۃ البناء حینئذ یردللفضل دراھم لان الضرورۃ فی ھذا القدرفلایترک الاصل الابھا وھذا یوافق روایۃ الاصل۔۱؎
جب عمارت میں کچھ زیادتی باقی رہی اورزمین کی قیمت لگاکر بھی وصیت میں مساوات ممکن نہیں تواب وہ زیادتی بامرمجبوری دراھم سے لوٹائی جائے گی کیونکہ مجبوری فقط اتنی ہی مقدار میں ہے لہٰذا سوائے اس کے اصل کونہیں چھوڑاجائے گا۔ اوریہ مبسوط کی روایت کے موافق ہے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب القسمۃ فصل فی کیفیۃ القسمۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۱۵۔۴۱۴)
اسی میں ہے:
لایقسم الجنسین بعضہما فی بعض لانہ لااختلاط بین الجنسین فلایقع القسمۃ تمییزابل تقع معاوضۃ وسبیلھا التراضی دون جبرالقاضی۔۲؎
دوجنسوں کی تقسیم میں بعض کو دوسری بعض میں داخل نہیں کیاجائے گا کیونکہ دوجنسوں میں اختلاط نہیں ہوتا تواس طرح تقسیم تمییز کے لئے نہیں بلکہ معاوضہ کے لئے واقع ہوگی اور اس کی صورت صرف باہمی رضامندی ہے نہ کہ جبرقاضی۔(ت)
(۲؎الہدایۃ کتاب القسمۃ فصل فی کیفیۃ القسمۃ مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۴۱۲)