| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
تفریعات (۴۰) فتوٰی۱ کاقول، مہرکے بعد جس قدرجائداد بچے تین حصے کرکے ایک حصہ شاہ محمد خاں کودیں۔ (۴۱) فتوی۵ کاقو ل شرعاً جائدادمتوفی میں سے مدعیہ کو ۶/۱ ملناچاہئے اورمدعاعلیہ کو ۶/۵ پھر اس کاقول ماسوی زیورات کے کل جائداد میں ہرفریق کواپنااپنا حصہ ملے گا جیساکہ بالاتشریح ہوچکی ہے پھر اس کی تصریح کہ صورت متنازعہ میں زوجہ کے ساتھ دوسراحقدار بھی موجودہے جوموصی لہ بجمیع المال ہے۔ (۴۲) فتوی۶ کاقول، جب ترکہ میں سے ۶/۱ من حیث الوصیۃ اور۶/۱ عالم خاتون کومن حیث الارث دے دیاگیاتوآدھا ترکہ باقی رہتاہے۔ (۴۳) یونہی فتوی۷ کاقول کہ اگردین مہر تمام زیور سے حسب اقرار زوجہ اداہواہے توزیور چھوڑکر باقیماندہ خواہ مکانات ہیں یاظروف وغیرہ ۱۲/۲ اس کودیاجائے گا۱۲/۶ شاہ محمد کونیز اس کی تصریح کہ تین وصیتیں کی ہیں جو اس کے تمام مال کو مستغرق ہیں نیز اس کی صاف ترتصریح کہ تیسری وصیت باقیماندہ تمام مال کی شاہ محمدخاں کوکی ہے، یہ سب بے ثبوت محض وبلاافادہ وصیت نامہ صرف اپنی طرف سے شاہ محمد کوموصی لہ بجمیع المال یابجمیع ماسوی علی المہرٹھہرالیناہے اوراگردعوی زوجہ ثابت ہوجائے کہ ان کے سوا اورزیور بھی متروکہ موصی شاہ محمدکے پاس موجود ہیں توصریح حق تلفی اوردوبارہ ظلم ہوگاکہ مستحق کونہ دینا اورنامستحق کودینا شاہ محمد کیونکر بلاوصیت کل جائداد باقیماندہ کو ۶/۵لے لے گا۔
(۴۴) فتوی ۵نے اس طلب پرعبارت درمختاروجوہرہ پیش کیں اول میں صراحۃً تھا۔
اوصی لرجل بکل مالہ فلھا السدس والباقی للموصی لہ۱؎۔
خاوند نے کسی مرد کے لئے پورے مال کی وصیت کی توبیوی کو کل مال کا چھٹا حصہ (۶/۱)اورباقی موصی لہ کو ملے گا۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹)
دوم (جوہرہ) میں تھا:
اوصی لرجل بجمیع مالہ کان لھا السدس وللموصی لہ خمسۃ اسداس۔۲؎
اگرخاوند نے اجنبی مرد کے لئے اپنے تمام مال کی وصیت کی تو اس کی بیوی کو کل مال کاچھٹا حصہ (۶/۱)ملے گا اورموصی لہ کو چھ میں سے پانچ(۶/۵)حصے ملیں گے۔(ت)
(۲؎ الجوہرۃ النیرہ کتاب الوصایا مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/ ۳۹۰)
حکم وہ نقل کرناجواجنبی کے لئے وصیت بجمیع المال کی حالت میں ہو اوراسے وہاں منطبق کردینا جہاں اس کاہرگزثبوت نہیں۔
(۴۵) یونہی فتوی۷ نے بھی اس پریہی عبارت جوہرہ نقل کی یعنی حداوسط کااشتراک ثابت نہیں اور تعدیہ ہوگیا۔ (۴۶) فتوی۲ نے بھی یہی حکم لکھاکہ زوجہ کاحق سدس ہے باقی موصی لہ کامگر اس پراس حکم میں اعتراض نہیں کہ سوال جواس کے یہاں پیش ہوااس میں سائل ہی نے ایک غلط عبارت موصی کی طرف سے لکھ دی تھی کہ بعد میرے میری جائداد منقولہ غیرمنقولہ کامالک عمرو ہے اس کامفاد ضرور وصیت بجمیع المال ہے اگرچہ وصیت نامہ میں اس کاکہیں نشان نہیں تو مجیب سے جیساسوال ہواویساجواب دیا مگراب فتوی ۲ کایہ اطلاقی حکم کہ جس چیز کی زوجہ کے واسطے وصیت کی وہ سالم زوجہ کی ہے بذریعہ وصیت لے سکتی ہے صریح غلط ہے اس کے سامنے سائل کایہ بیان ہواہے کہ چندزیورات کی بابت اپنی زوجہ کے واسطے بھی وصیت کرگیا یعنی کہہ گیاکہ بعد میرے ان زیورات کی مالک میری زوجہ ہے اس بیان پروہ جواب باطل ہے زوجہ کے لئے وصیت وارث کے لئے ہے اوروارث کی وصیت اجنبی کی وصیت سے دودرجہ مؤخرہے باقی کلام مباحث سابقہ سے واضح۔
افادہ ثامنہ یونہی استفتائے مرتبہ ججی خانپور سے واضح کہ شاہ محمدخاں دعوی کرتاہے کہ وصیت کومدعیہ نے بوقت وصیت اورنیزبعدوفات شوہرخودقبول کیاتھا، یہ دعوی بہت واجب اللحاظ ہے اگر اس کاثبوت ہوجائے توپھرزوجہ مکانات واثاث البیت سے بحق میراث کچھ نہ پائے گی اوربعد قبول اس کا اعتراض ہرگزنہ مسموع ہوگا اوراس کادعوی بوجہ تناقض مدفوع ہوگا،
ہدایہ میں فرمایا:
لاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ ولامعتبر باجازتھم حال حیاتہ لانھا قبل ثبوت الحق اذالحق یثبت عند الموت فکان لھم ان یردوہ بعد وفاتہ بخلاف مابعد الموت لانہ بعد ثبوت الحق فلیس لھم ان یرجعوا عنہ لان الساقط متلاش۔۱؎
تہائی سے زائد کی وصیت جائزنہیں سوائے اس کے دیگرورثاء موصی کی موت کے بعد اس کی اجازت دے دیں، اسکی زندگی میں اجازت معتبرنہیں کہ وہ ثبوت حق سے قبول ہوئی کیونکہ حق توموصی کی موت کے وقت ثابت ہوگا لہٰذا انہیں موصی کی موت کے بعد ردکرنے کا اختیارہے بخلاف موت کے بعد کی اجازت کیونکہ وہ ثبوت حق کے بعدہوئی لہٰذا اس سے رجوع نہیں کرسکتے اس لئے کہ جوساقط ہوجائے وہ لاشیئ ہوجاتاہے۔(ت)
(۱؎ الہدایۃ کتاب الوصایا مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۵۱)
البتہ منفعت کی وصیت کہ ثلث کے بعد میں نافذہوگی نافذرہے گی اوریہ خود اسی دعوی موصی لہ سے ظاہرکہ وصیت کومدعیہ نے بعد وفات شوہرقبول کیاوصیت میں وصیت منفعت کی تصریح ہے تو اس کاقبول اس کاقبول ہے نہ کہ اس سے عدول، قبول کاحاصل یہ کہ موصی جوکرگیامنظورہے اوروہ یہ کرگیا کہ مکانات واثاث البیت کامالک شاہ محمدکواورمنفعت کااختیار زوجہ کو۔
وھذا ظاھر جدانعم ماابطلہ الشرع وھو وصیتھا الی حق الثلث فلیسا الیھا قبولہ کمالایخفی۔
اوریہ خوب ظاہرہے، ہاں جس کو شرع نے باطل کیاہے تو تہائی کے حق تک اس کی وصیت ہے جسے قبول کرنے کااختیاراس کے پاس نہیں جیساکہ پوشیدہ نہیں۔(ت)
تفریعات اس امرمہم کے لحاظ سے سب فتووں نے ذہول کیاجن جن کے سامنے استفتائے ججی خانپور پیش ہوا۔ (۴۷) فتوٰی ۱کاقول مہرکے بعد جس قدر بچے دوحصے عالم خاتون کودیں۔ (۴۸) فتوی۵ کاقول مدعیہ نے وصیت پراعتراض کیااس پرمدعیہ کو۶/۱ملناچاہئے۔ (۴۹) فتوی۶ باقی سے ۴/۱ عالم خاتون کاحق ہے سب محل تفصیل میں یکطرفی حکم ہے۔ (۵۰) فتوی۵ نے اعتراض مدعیہ کے ساتھ استناد کیااورلحاظ نہ کیاکہ اگربعد موت شوہر قبول کرچکی تو اب اعتراض کااسے کیاحق رہا۔
(۵۱) یونہی فتوی ۱ نے کہاکہ مدعیہ کے اعتراض پرتیسرے حصہ کے زائد میں جائزنہ ہوگی، کیا اگر اعتراض بعدالقبول ہو، یہ دونوں فتوے تووصیت بالمنفعت کے بھی قائل نہیں انہیں تویہ کہنالازم تھاکہ اگرزوجہ قبول کرچکی تودامن جھاڑکراُٹھ کھڑی ہو اس کے لئے میراث ووصیت کچھ نہیں کہ مطلقاً اسے پورے دوثلث دے دیں۔ (۵۲) فتوی۵ نے خودہی درمختار سے عبارت نقل کی:
ان لم تجز فلہا السدس۔۱؎
اگربیوی نے اجازت نہ دی تو اس کوکل مال کا چھٹا حصہ ملے گا۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹)
اورحکم میں یہ قید بھلادی۔ (۵۳) فتوی۶ نے آپ ہی کہاتھا کہ اگروہ اجازت دے دیں نافذہوگی، پھرکس طرح مطلقاً حکم مذکورلگادیا۔ (۵۴) فتوی۷ نے خودہی کہاکہ اگرورثہ اپنے اضرار کوقبول کرلیں تووہ وصیت زائدعلی الثلث جائزونافذہوگی پھرمطلقاً یہ حکم کس لئے کہ دوسہام جوربع مابقی ہے عالم خاتون کو۔ (۵۵) ہاں فتوی۷ نے یہ علاج کیاکہ وصیت باقی تمام مال کی شاہ محمدکوکی ہے جس کومدعیہ نے قبول نہ کیا۔ یہ جزی حکم کس بناپرحالانکہ سوال میں دونوں پہلوتھے۔