فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
117 - 135
افادہ سادسہ
وصیت ضرورمقیدبشرط ہوسکتی ہے اوروہ زبان موصی پرہے ایک شخص کے لئے متعدد وصایا میں اگر ایک وصیت کوکسی شرط سے مقیدکردے دوسری کونہ کرے یاایک کو ایک شرط سے مقیدکرے دوسری کودوسری سے توجس طرح اس نے کہاہے اسی پرعمل واجب ہوگا، جوجس شرط سے مقید اسی سے مقیدرہے گی نہ کہ دوسری کی قیدسے، اورجومطلق ہے مطلق رہے گی نہ کہ ازپیش خود اسے بھی مقیدکرلیاجائے المطلق یجری علی اطلاقہ (مطلق اپنے اطلاق پرجاری رہتاہے۔ت) قاعدہ اجماعیہ ہے اور
القران فی الذکر لایستلزم القران فی الحکم
(ذکرمیں اقتران حکم میں اقتران کومستلزم نہیں۔ت) ضابطہ وفاقیہ جمع محققین ہے اور المطلق لایحمل علی المقید فی حادثتین (دوحادثوں میں مطلق کومقید پرمحمول نہیں کیاجاسکتا۔ت) قاعدہ مطردہ حنفیہ ہے موصی نے زوجہ کے لئے صرف وصیت سکونت کو اس شرط سے مقید کیاکہ مظہرکی عورت مظہرکے عقدمیں رہ کر گزارہ کرے تو اس کوفقط حق آسائش کاحاصل رہے گا یعنی تاحق مظہرآباد رہے گی، وصیت ظروف میں یہ شرط نہ لگائی توصرف وصیت سکونت مکانات اس قیدسے مقید ہوگی یعنی جب تک نکاح ثانی نہ کرے اسے حق سکونت رہے گا اوراگرنکاح کرلے گی یہ حق جاتا رہے گا مگروصیت ظروف مطلق رہے گی استعمال ظروف کااسے اختیاررہے گا اگرچہ نکاح ثانی کرلے۔
اوریہاں وصیت کوشادی نہ کرنے کی قید سے مقیدکرنے میں انتہائی نفیس باریک نکتہ ہے جس پرہم نے ردالمحتار باب متفرقات البیوع پراپنی تعلیق میں خبردارکیاہے۔(ت)
رہاشاہ محمدخاں کاادعاکہ مدعیہ (معاذاﷲ) حرام کاری کرتی ہے اس لئے بروئے وصیت مکانات میں نشست کی بھی حقدار نہ رہی اوّل تو ایسی ناپاک بات ہے جس کی نسبت رب عزوجل کا ارشاد ہے:
یعظکم اﷲ ان تعودوالمثلہ ابداان کنتم مؤمنین۔۱؎
اﷲ تمہیں نصیحت فرماتاہے کہ پھر ایسانہ کہنااگر ایمان رکھتے ہو۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۱۷ )
اور جس کی نسبت ہم کو ہدایت فرماتا ہے کہ اسے سنتے ہی فوراً کہیں:
سبحٰنک ھذا بھتان عظیم۲؎
پاکی ہے تجھے یہ بڑا بہتان ہے
(۲؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۱۶)
اور جس کی نسبت حکم فرماتاہے کہ اگر وہ چارگواہ نہ لائیں (چاروں مردثقہ عادل جنہوں نے نہ کوئی گناہ کبیرہ کیاہو نہ کسی گناہ صغیرہ کے عادی ہوں نہ کوئی حرکت خلاف مروت ان سے صادر ہوئی ہو اورچاروں یک زبان گواہی دیں کہ ہم نے اس عورت کو اپنی آنکھوں سے زناکرتے دیکھا اوراس طرح دیکھا جیسے سرمہ دانی میں سلائی ) ایسے چارگواہ نہ لاسکیں،
فاولٰئک عنداﷲ ھم الکٰذبون۱؎
تووہی اﷲ کے نزدیک جھوٹے ہیں۔
(۱؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۱۳ )
پھر ان کی سزا بیان فرماتاہے:
فاجلدوھم ثمانین جلدۃ ولاتقبلوا لھم شہادۃ ابدا۔۲؎
ان کو اسی کوڑے مارو اورکبھی ان کی گواہی نہ مانو۔
( ۲؎ القرآن الکریم ۲۴/ ۴)
کیاشاہ محمدخاں اپنے اس اتہام پرایسے چارگواہ پیش کرسکتاہے اورجب نہیں لاسکتا تووہی عنداﷲ جھوٹاہے اوراسی کوڑوں کامستحق ہے، اوراگربفرض باطل وہ سچابھی ہوتاجب بھی اس کاکہناکہ اب وہ نشست کی بھی حقدارنہ رہی غلط تھا موصی نے حق سکونت کوعورت کی پارسائی سے مشروط نہ کیا بلکہ اس شرط سے کہ وہ نکاح ثانی نہ خود کرے نہ دوسرے کی وکالت ووساطت سے، وہ خود اپنی شرط کامفہوم بتاتاہے کہ اگر وہ کسی دوسری جگہ اپنا عقدنکاح کرائے یاجدید خاوندکرے تو اس کے ساتھ اس کاکوئی تعلق اورواسطہ نہ ہوگا عورت کہ نکاح ثانی نہ کرے روزقیامت اپنے شوہرکوملے گی جبکہ دونوں نے ایمان پروفات پائی ہو۔
اللھم ارزقنا الوفاۃ علی الایمان بجاہ حبیبک الکریم یارحمٰن علیہ وعلٰی اٰلہ افضل واکمل التسلیمات مابقیت الجنان۔
اے اﷲ اے مہربان! ہمیں اپنے حبیب کریم کے صدقے ایمان پروفات نصیب فرما، اپنے حبیب کریم اور ان کی آل پرافضل واکمل درود سلام نازل فرماتارہ جب تک جنتیں باقی ہیں۔(ت)
اوراگر دوسرا شوہر کرے تو اس کے نکاح میں مرجائے اس دوسرے کوبشرط ایمان ملے گا، کما فی حدیث۔ اوراگر اس سے بھی بیوہ ہوگئی غرض کسی شوہرکے نکاح میں نہ مری تو اسے روزقیامت اختیاردیاجائے گا کہ ان شوہروں میں جسے چاہے پسندکرلے وہ اسے پسند کرے گی جو اس کے ساتھ زیادہ نیک سلوک سے معاشرت کرتاتھا،
جیساکہ دوسری حدیث میں ہے ان دونوں حدیثوں میں تطبیق وہ ہے جیسا ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا۔(ت)
بہرحال نکاح ثانی سے عورت یاتوشوہر اول کے لئے رہتی ہی نہیں یا اس کے لئے اس کارہنا مشکوک ہوجاتاہے بخلاف بدکاری کہ وہ اسے حق شوہر سے باہرنہیں کرتی حق کاابطال حق اقوٰی سے ہوتاہے نہ کہ ناحق وباطل طغوی سے جیسے بحال حیات اس کے باعث نہ نکاح میں فرق آئے نہ شوہرکو اس سے جدائی لازم ہو۔
درمختارمیں ہے:
لایجب علی الزوج تطلیق الفاجرۃ۔۱؎
بدکار عورت کوطلاق دیناخاوند پرواجب نہیں۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الحظروالاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۴)
(۳۹) فتوی۷ کاوصیت سکنٰی ووصیت ظروف وغیرہا دونوں کوقیدعدم نکاح ثانی سے مقیدکرنا کہ حق سکنٰی وحق استعمال ظروف وغیرہ مدعیہ کو تانکاح ثانی حاصل رہے گاصحیح نہیں۔
افادہ سابعہ
وصیت نامہ کے کسی لفظ کامفادنہیں کہ شاہ محمدخاں موصی لہ بجمیع المال ہو، زیوروں کوجدا کرکے بھی، اس کے لفظ یہ ہیں ماسوا اس کے میری جائدادغیرمنقولہ ازقسم مکانات ہیں وہ پیداکردہ مظہرکے ہیں وہ زیرحفاظت شاہ محمدخاں رہیں گے اورمالک بھی یہی رہے گا۔ یہاں سے صرف مکانات کی وصیت ہوئی آگے کہاعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن وچارپائی وغیرہ جملہ سامان خانہ داری کامالک بھی شاہ محمدخاں رہے گا۔ اس سے اثاث البیت کی وصیت ہوئی خاتمہ پر اس نے انہیں اشیائے معینہ میں وصیت کاانحصار کردیاکہ کل اشیائے مندرجہ بالا کامالک شاہ محمدخاں ہے تومندرجہ بالا مکانات واثاث البیت کے سوااگرکچھ ترکہ ہو وہ زیروصیت نہ آیا اوراستفتائے مرتبہ ججی خانپور سے واضح کہ زوجہ دعوٰی کرتی ہے کہ مدعاعلیہ کے پاس دیگر زیورات ازترکہ شوہرش موجودہیں توجب تک اس دعوی کابطلان ثابت نہ ہو شاہ محمدخاں موصی لہ بجمیع المال کیونکر ٹھہرسکتاہے۔ ہاں موصی نے ذکرمکانات واختیارفروخت ورہن مکانات کے بعد یہ لفظ بھی لکھاکہ غرضکہ مالک شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے۔ یہ وغیرہ اسی اختیار بیع ورہن پرمحمول ہے کہ اس نے اس کے متصل ہی بلافصل یہ لفظ لکھے اورعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری الخ
اگروغیرہ سے کل متروکہ جمیع مملوکہ مراد ہوتاتو اس کے علاوہ کہناباطل ہوجائے گا اورکلام عاقل بالغ کامہما امکن محمل صحیح پرحمل کرناواجب۔ معہذا اگرچہ یہ محمل متعین نہ ہوتو احدالاحتمالین بلکہ انصافاً اقوی الاحتمالین ہے تومکانات واثاث البیت کے غیرمیں وصیت ثابت نہ ہوئی اوریہاں عدم ثبوت ثبوت عدم ہے۔
کیونکہ وصیت ایک ایساایجاب ہے جس کو موصی صادرکرتاہے، توایجاب کے بغیر وجوب نہیں ہوتا، چانچہ ایجاب کے ثبوت کے بغیر وجوب کاثبوت نہیں ہوتا اورقضاء میں وجوب محتاج ہے ثبوت کا۔ جب ثبوت نہیں تووجوب نہیں،وہی مطلوب ہے۔(ت)