Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
116 - 135
 (۲۴) فتوی۷ نے اوربھی قدم عشق پیشتربہترکی ٹھہرائی یعنی زوجہ کاقول اقراربھی ٹھہرایا اور شاہ محمد کی تسلیم بھی مانی پھربھی فریقین کی متفق علیہ بات بات طے شدہ نہ جانی کہ سب سے اول تجہیزوتکفین کاخرچ اداکیاجائے بعدازاں اگرمتوفی نے مدعیہ کودین مہر میں زیورات کی وصیت کی ہے(چنانچہ اس کااعتراف ہے اورمدعاعلیہ نے بھی زیورات اس کوتسلیم کرکے قبول کرلیاہے) توزیورات اس کودین مہرمیں دئیے جائیں گے۔

(۲۵) فتوٰی۷ ان دونوں کی تصریحوں خوداپنے اقراروں اعترافوں کے ساتھ ایک فرض غلط کی راہ نکالی ہے اگربالفرض دین مہرمیں نہیں دئیے بلکہ محض وصیت کی توباقی تمام مال میں سے مہرزوجہ  اداکیاجائے گا یہ فرض بے معنی کس لئے اورفتوٰی متعلقہ دارالقضاء میں اس کاکیامحل۔

(۲۶) فتوی۷ نے اس تفریع میں ڈگری بلادعوی بھی فتوی اول کی طرح دی اورآگے چل کرکہا مدعیہ کا مہر کل مال سے ادا کیا جائے گا زوجہ تو کہہ رہی ہے کہ مجھے یہ زیو ر مہر میں دیا فتوی کہتا ہے نہیں نہیں تمام مال میں سے تجھے مہرملے گا اگرچہ کل مال کومستغرق ہو اور موصی لہ کے لئے کچھ نہ بچے۔ 

(۲۷) فتوٰی۷ کومنظورنہیں کہ یہاں کسی غلطی میں فتول اول سے پیچھے رہے بلاوصیت استحقاق اجنبی میں بھی اس کاساتھ دیاکہ زیورات اگرمہرمیں دئیے تو زیورات پروصیت کابارنہ ہوگا ورنہ زیورات میں سے مدعیہ کو ۳/ ۲ مدعاعلیہ کو۳/ ۱۔
 (۲۸) بلکہ فتوی۷ کایہاں بھی قدم پیشترہے اس نے صاف ماناکہ زیوروں کی وصیت شاہ محمدخاں کے لئے نہیں پھربھی اسے تہائی کاحصہ دار کردیا۔ زیورکایہ حکم لکھ کرآگے کہااوردیگرجائدادمکانات ظروف وغیرہ سے مدعیہ ۱۲/ ۲ مدعاعلیہ ۱۲/ ۱۰ کیونکہ اول ثلث اس کابطور وصیت مدعاعلیہ کوملے گا پھر ربع باقیماندہ یعنی سدس کل، مدعیہ کوملے گا بعدازاں باقیماندہ مدعاعلیہ کو، اگریہ فتوٰی زیورکی بھی اس کے لئے وصیت مانتا تویہی حکم اس پربھی کرتاکہ نہ کہ شاہ محمد کوزیورکا۳/ ۱ اورباقی اموال کے۶/ ۵۔

(۲۹) فتوی۷ نے اس باطل صریح پراستدلال کی بھی جرأت کی یوں بھی اسے فتوی ۱ پرفوقیت رہی کہ اس کے آگے زیوروں کوکہا اگرمحض بطور وصیت دئیے گئے ہیں  تو ان میں مدعاعلیہ کابروئے وصیت بالثلث حق ثلث ہوگا، پھرکہا اگربعوض دین مہرنہ ہو توبحکم وصیت بالثلث زیورات میں بھی ۳/ ۱مدعاعلیہ کو ملے گا۳/ ۲زیورات مدعیہ کو۔ اس کامنشاوہی غلط شدیدوبعیدہے کہ ثلث کل مال کے لحاظ سے وصیت کی تنفیذوصیت معینہ کووصیت شائعہ کردی ہے جس کارَدِّبلیغ فائدہ نہم ودہم میں گزرا۔ سبحٰن اﷲ۔ 

حساب کے لئے ثلث ہرشیئ کالحاظ کیا ہواکہ ثلث ہرشیئ میں اس کی ملک ہی پیداہوگئی اگرچہ اس شیئ کااسے اصلا استحقاق نہیں، نہ اس کے لئے وصیت، بلکہ اس کی وصیت سے جداہونے کی صاف تصریح، ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(بلندی وعظمت والے اﷲ تعالٰی کی توفیق کے بغیرنہ برائی سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی۔ت)

(۳۰) فتوی۱ نے یہاں ایک اورغلطی کی اگرزیور بعوض مہر دیاجانا ثابت نہ ہونے کی حالت میں اس کے نزدیک ان کاثلث شاہ محمد کوملناتھا تومطلقاً یہ کہتاکہ اگرزیور مہرکے عوض دئیے گئے توا ن میں شاہ محمدخاں کاکچھ حق نہیں غلط برغلط ہے اگرزیور مقدارمہر سے زائدہوئے توقدرزیادت میں زوجہ کے لئے وصیت بالمحاباۃ ہوئی اور وہ اجنبی کے حق ثلث کو باطل نہیں کرتی بلکہ خود اس کے حضور مضمحل ہوجاتی ہے۔

(۳۱) فتوی۷ نے بھی یہاں غلطی میں اس کاساتھ دینے کی منت مانی ہے اس نے بھی جابجا وہی تصریحات کیں بلکہ صاف ترکہاکہ زیورات اگرمتوفی نے مہرمیں دئیے ہوں توزیورات پروصیت کابارنہ ہوگا تمام زیورات اس کوملیں گے ورنہ مدعاعلیہ کو۳/۱ پھرکہا اگروہ مہر میں دئیے گئے ہیں تو ان میں مدعاعلیہ کا بروئے وصیت کچھ حق نہیں اورمحض بطوروصیت دئیے گئے تومدعاعلیہ کاثلث۔ پھرکہاوصیت اگر بعوض مہرہوتو زیورات وصیت بالثلث کے بار سے مستثنٰی ہوں گے گویاان صاحبوں کے نزدیک کوئی مال بعوض دین دینے کی وصیت کرناخود اس مال کودین کردیتاہے کہ اس کااداکرنا مطلقا وصیت سے مقدم ہوجاتاہے اگرچہ ایک روپیہ دین کے عوض ہزار روپیہ کامال دینے کی وصیت کی ہو۔
 (۳۲) فتوی۷ نے یہاں بھی قدم پیشترکی آن نہ چھوڑی یہ ٹھہری کہ بعوض مہرکے وصیت ہونا تمام وکمال زیوروں کودَین کے مرتبہ میں کردے گا کہ ان کااداکرنا وصیت للاجنبی سے مقدم ہوگا اوربعوض مہر دئیے جانے کاثبوت نہیں مگربیان زوجہ تواب اس ادعا سے اپنانفع اورموصی لہ کاضررچاہتی ہے کہ وہ وصیت جووصیت نامہ میں بلامعاوضہ لکھی ہے جووصیت اجنبی سے مؤخر رہتی بمعاوضہ بتاکر وصیت اجنبی سے مقدم کئے لیتی ہے تو اب اس کاقول توصرف اقراربلکہ صاف دعوی ہوااوراگرمدعی محض اپنے زبانی دعوی پرڈگری نہیں پاسکتا تویہ کہناکہ اگردین مہرتمام زیورسے حسب اقرارزوجہ اداہواہے تو زیورچھوڑکرباقیماندہ ایک ثلث شاہ محمد کودیاجائے گا عجب درعجیب ہے۔

(۳۳) اگرفتوی۷ وہ بھاری غلطی کہ ایک صورت میں کہ بلاوصیت وبلااستحقاق شاہ محمد کوزیوروں میں تہائی کاحصہ دار کردیانہ بھی کرتا جب بھی اس کامطلقاً یہ کہناکہ اگروصیت بعوض مہر ہوتوزیورات وصیت بالثلث کے بار سے مستثنٰی ہوں گے یعنی بعد خرچ تجہیزوتکفین باقیماندہ مال سے تمام زیورات مدعیہ کوملیں گے صحیح نہ تھا کہ اگرزیور مہرسے زائد ہیں توقدرزیادت میں وصیت بالثلث کے بارسے مستثنٰی نہیں ہوسکتے ثلث میں وہ بھی محسوب ہوتے اگرچہ ان میں سے شاہ محمدخاں کو کچھ نہ دیاجاتا انہیں مطلق مستثنٰی شاہ محمد کی تسلیم نے کردیانہ کہ وصیت بعوض مہرہونے نے۔

(۳۴) یونہی فتوی۵کاقول کہ یہ زیورات حق مہر کے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے اورخودعبارت وصیت نامہ کی محمل قوی ہے اورمہردین ہے اس لئے وصیت اورارث دونوں سے مقدم ہے وہی طرفہ منطق ہے محمل وصیت نامہ کاحال تو اوپرگزرا اوربالفرض اس کی عبارت محتمل ہو تومحض قوت احتمال غایت درجہ ظاہرہے اورظاہر حجت استحقاق نہیں ہوسکتا، ہدایہ وغیرہ تمام کتب معللہ میں تصریح ہے کہ:

الظاھر یصلح حجۃ للدفع لاللاستحقاق۔۱؎ ظاہرحجت دفاع ہے حجت استحقاق نہیں(ت)
 (۱؎ الہدایۃ    کتاب ادب القاضی    باب التحکیم    مسائل شتّی    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۱۴۷)
اب نہ رہا مگرخود مدعیہ کاقول اُسے اپنے حق میں حجت مان لینا نرالا قانون ہے زیور اگرمہرسے زائدہیں تو وہ سب کیونکر دین سمجھ کر وصیت وارث دونوں سے مقدم کردئیے جائیں۔

(۳۵) فتوی۳ نے اوربھی دون کی لی کہ جن زیورات کے بارے میں متوفی بعوض مہرزوجہ کے دینے کی وصیت کرگیاہے وہ اس کاقرض تھا اس کااداکرنا اس کوفرض تھاقرض وفرض کاقافیہ ملالیا اگرچہ مہرشرعاً قرض نہیں ہوتاقرض ودین میں عموم وخصوص ہے، خیریہ بات کہ بعوض مہردینے کی وصیت کرگیاہے وصیت نامہ میں توکہیں نہیں، عورت کابیان ہے اورہوبھی توبحال کمی مہرمحاباۃ ہے نہ قرض ہے نہ فرض۔

(۳۶) فتوی۷ نے یہاں ایک اورغلطی کی کہ زوجین کی وصیت سے مانع مزاحمت حق ورثہ ہے اگریہ نہ ہو توپھرکوئی مانع نہیں خواہ وہ وصیت بالرقبہ ہویابالمنفعۃ، وہ حصہ اوریہ سب کلی دونوں غلط ہیں اجنبی کی وصیت بالثلث بھی اس کی مانع اوراس سے مقدم ہے۔

(۳۷) فتوی۷ کوخود اپناکہا یادنہ رہا، آگے چل کرکہاحق سکنٰی مکانات وحق استعمال ظروف وغیرہ کی جوزوجہ کووصیت کی ہے اس کے بار سے ثلث مال جو شاہ محمد کواول ملے گا بری رہے گاکیونکہ زوجہ کے لئے وصیت اجنبی کی وصیت بالثلث کے مزاحم نہیں ہوسکتی۔ اب یہ وصیت للزوجہ کابے مزاحمت حق ورثہ اورمزاحم قوی ومرجح کدھر سے نکل آیایہ صاف تناقض ہے۔

(۳۸) یونہی فتوی۲ کاقول کہ جس چیزکی زوجہ کے واسطے وصیت کی ہے وہ سالم زوجہ کی حقیت ہے جوبذریعہ وصیت لے سکتی ہے اس سے ذہول ہے کہ وارث کے لئے وصیت میراث سے مؤخرہے توبعد اجرائے میراث جوباقی بچے اتنی چیزبذریعہ وصیت لے سکے گی نہ کہ سالم۔ نسأل اﷲ السلامۃ۔
Flag Counter