Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
115 - 135
فائدہ۱۲: زوجہ کے لئے یہاں دووصیتیں ہیں۔

وصیت منفعت کہ مکانوں میں رہے ظروف استعمال کرے یہ وصیت انہیں اعیان میں ہے جن کی وصیت شاہ محمداجنبی کے لئے ہے توثلث کل مال بعداداء الدین کے جتنا حصہ مکانات واسباب کاآئے اس میں نافذنہ ہوگی کہ وصیت اجنبی وصیت وارث سے مقدم ہے کما فی الفائدۃ الاولٰی (جیساکہ پہلے فائدہ میں ہے۔ت) اوریہاں اگریہ وہم گزرتاکہ وصیت رقبہ کرکے اس کے لئے وصیت منفعت کردینے سے اول کے لئے صرف رقبہ کی وصیت رہ جاتی ہے منفعت میں اس کاکچھ حق نہیں رہتا کما فی الفائدۃ الثانیۃ(جیساکہ دوسرے فائدہ میں ہے۔ت) وصیت اجنبی کہ مقدم ہے اپنے محل نفاذ میں مقدم ہوگی نہ کہ اس شَے میں جس کی اس کے لئے وصیت ہی نہیں یعنی منفعت کہ اس میں اجنبی کے لئے وصیت معدوم ہے معدوم کی تقدیم کیا معنی، تو اس کاجواب ہماری تقریر سابق سے واضح، وصیت منفعت بھی بمنزلہ وصیت رقبہ ہے ثابت ہوتو اس کی مزاحم ہوتی ہے کما فی الفائدۃ الرابعۃ (جیساکہ چوتھے فائدہ میں ہے۔ت) اورمنفعت میں اس کاحق نہ رہنا اسی بناپرہوتاہے کہ یہ مانع آتی ہے کما فی الفائدۃ الثالثۃ (جیساکہ تیسرے فائدہ میں ہے۔ت) اوروصیت وارث جب وصیت اجنبی سے مؤخرہے تواس کے مقابل مضمحل ہوگی اوراس کے رقبہ میں کالعدم، نہ کہ اس کی مانع ومزاحم، پھربقدرثلث نفاذوصیت اجنبی کے بعد مرتبہ ارث کا ہے کما فی الفائدۃ الاولٰی (جیساکہ پہلے فائدہ میں ہے۔ت) اورجوکچھ ارثاً ملک زوجہ ہوگا اس میں اسے وصیت منفعت کی حاجت بھی نہیں ان دونوں کے بعد جوحصہ مکانات واسباب کابچا اس میں زوجہ کی وصیت نفاذپائے گی اوراس میں سے موقع محفل حضرات طیبات امامین شہیدین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کہ جس قدر ظروف کی شاہ محمد کوحاجت ہوگی اس وقت خاص پراُتنے ظروف زوجہ کواستعمال کے لئے نہ دئیے جائیں گے موصی نے اس وقت شاہ محمد کے لئے ان کااستعمال لکھاہے یہ اگرچہ شاہ محمدکے لئے وصیت بالمنفعۃ نہیں کما فی الفائدۃ الخامسۃ (جیساکہ پانچویں فائدہ میں ہے۔ت) مگروصیت زوجہ سے اتنے وقت اخراج کے لئے کافی ہے،
لما تقدم عن الہدایۃ والکافی انہ انما لم یکن للموصی لہ بالعین حق فی المنفعۃ مع ملکہ للرقبۃ للایصاء بہا لغیرہ وتجرید الرقبۃ فی الوصیۃ لہ فلم یثبت لہ فوق مااثبت الموصی اماھنا فقد اثبت لہ الانتفاع فی الوقت الخاص فکان معزولاعما اوصی بہ لغیرہ وکان کأن یقول اوصیت لھا بالمنفعۃ الاوقت کذا ولواقتصر علی ھذا لم یکن للزوجۃ الانتفاع فی الوقت المستثنٰی وکان ذٰلک للاجنبی الموصی لہ بحکم الملک فاذا صرح بکونہ لہ فیہ فبالاولٰی۔
اس دلیل کے ساتھ جو ہدایہ وکافی کے حوالہ سے گزرچکاکہ عین کے موصی لہ کے لئے رقبہ میں ملکیت کے باوجودمنفعت میں کوئی حق نہیں، اس لئے وصیت میں اس کے لئے رقبہ کی تخصیص اورمنفعت کی وصیت کسی اورکے لئے کی گئی ہے لہٰذاموصی کے مقصود سے زائد اس کے لئے کچھ ثابت نہ ہوگا لیکن یہاں تو اس کے لئے خاص وقت میں انتفاع کااثبات ہے، توجس چیزکی وصیت اس کے غیرکے لئے ہے اس میں وہ معزول ہوگا۔ گویاموصی یوں کہے میں نے عورت کے لئے نفع اٹھانے کی جووصیت کی سوائے فلاں وقت کے، اگراسی پراقتصارکرتاتوبھی بیوی کومستثنٰی وقت میں انتفاع کاحق نہ ہوتا اوریہ اجنبی شخص کے لئے بطورملک ثابت ہوتا جب اس نے اس کی تصریح کردی توبدرجہ اولٰی یہ حکم ہوگا۔(ت)

اورپُرظاہرکہ اس کے بعد زوجہ کے لئے وصیت استعمال سے یہ مقصود موصی نہیں کہ محفل امامین رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے وقت استعمال شاہ محمد کومنع کردے یااس وقت کی ضروری اشیاء سے  صرف نصف حاجت روائی شاہ محمد کے لئے رکھے نصف درجہ کودے بلکہ مقصود یہی ہے کہ اس وقت خاص جن اشیاء کی حاجت ہوشاہ محمد استعمال کرے باقی اوقات میں زوجہ اپنے صرف میں رکھے اورمقاصد موصی پرنظرلازم ہے کما فی الفائدۃ السادسۃ (جیساکہ چھٹے فائدہ میں ہے۔ت)
وصیت زیور، جس کی نسبت اگرچہ وصیت نامہ میں کوئی تصریح معاوضہ نہیں مگر زوجہ کہتی ہے کہ میرے مہر میں دئیے ہیں اوراس کایہ کہنادعوٰی نہیں بلکہ اقرارہے مہرمثل تک اس کاقول بلابینہ معتبرتھا کما فی الفائدۃ السابعۃ(جیساکہ ساتویں فائدہ میں ہے۔ت) اوروصیت نامہ میں زیورکی خالص وصیت اس کے نام لکھی ہے یہاں نہ کوئی دوسرا وارث ہے کہ زوجہ کامعارض ہو اس سے کہے کہ تیراحق دین میں ہے نہ عین میں کمافی الفائدۃ الثامنۃ (جیساکہ آٹھویں فائدہ میں ہے۔ت) یاکہے تیرے لئے وصیت بے میری اجازت کے باطل ہے۔ نہ زیورکے کسی جز کو شاہ محمدکے لئے وصیت ہے نہ اس کی وصیت کہ ثلث کل مال کی مقدار تک حق تقدم رکھتی ہے اسے اس زیورکے کسی ذرّہ کی مستحق بناسکتی ہے کما فی الفائدۃ التاسعۃ (جیساکہ نویں فائدہ میں ہے۔ت) اگرچہ وصیت محضہ للزوجہ ہوجب بھی اجنبی کے لئے صرف حساب ثلث میں ملحوظ ہوگانہ کہ اس کاکوئی حبہ اسے ملے کما فی الفائدۃ العاشرۃ (جیساکہ دسویں فائدہ میں ہے۔ت) نہ کل زیور زوجہ کے لئے بعوض مہرماننا شاہ محمد کے حساب ثلث پرکوئی اثرڈال سکتاہے۔ اگرزیور مہرمثل سے کم یابرابر ہے جب تو ظاہر کہ مہرمثل کی مقدار تک زوجہ کا قول مسلم اور وہ شاہ محمد کی وصیت پر مقدم اور اگر بالفرض مہر مثل سے زائد ہو جب بھی یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ سب زیور بعوض مہرحق زوجہ ماننے میں شاہ محمد کاحصہ ثلث مکانات واسباب میں کم ہوجائے گا فرض کیجئے کہ زیور ۳۲۲ روپے کا ہے اورمہرمثل ۲۰۲ کااورمکانات واسباب جن کی وصیت شاہ محمدکے لئے ہے ۱۲۰۰ کے تواگرکل زیوربحق مہرزوجہ کے لئے ماناجائے تووہ ثلث جس میں وصیت اجنبی ہوگی صرف مکانات واسباب کاثلث رہاجبکہ اس کے سوا اورکوئی متروکہ نہ ہو شاہ محمد ان میں سے صرف ۴۰۰کے قدربحکم وصیت مقدمہ پائے گا اوراگرفقط مہرمثل تک زوجہ کومہرمیں دیں  توبعدادائے مہرمتروکہ ۱۳۲۰ بچے گا ۱۲۰۰ کے مکانات اسباب اور۱۲۰ کاباقی زیور جس کاثلث ۴۴۰ تومکانات واسباب سے ۴۰ روپے کے قدرشاہ محمدکے حق مقدم میں بڑھ جائیں گے یہ وہم اس وقت ہوسکتاہے کہ بحال کمی مہرمثل کل زیور زوجہ کومرتبہ مہرمثل تک تقدم ہے اورزیادہ ان مہرمثل بعوض مہرمثل ہونا محاباۃ ہے اور وہ زوجہ کے لئے وصیت ہے اورزوجہ کے لئے وصیت خود اس کی میراث سے بھی مؤخرہےکمافی الفائدۃ الاولٰی( جیساپہلے فائدہ میں میں ہے۔ت) تووصیت اجنبی سے دودرجہ مؤخرہے جب تک وصیت مقدمہ اجنبی ادانہ ہولے زیور زائدازمہرمثل ضرورمتروکہ ہی ٹھہرکر حساب ثلث میں محفوظ رہے گا اورشاہ محمد کومکانات واسباب کے حصہ مقدمہ میں کچھ نقصان نہ پہنچے گا بہرحال اس کے اس قول سے کسی کاکچھ ضررنہیں تواس میں اس کاکوئی مخاصم نہیں پھرقاضی کس وجہ سے اس کی تکذیب کرسکتاہے کما فی الفائدۃ الحادیۃ عشرۃ(جیساکہ گیارہویں فائدہ میں ہے۔ت) زوجہ اگر اس بیان میں سچی ہے فبہا اوراگر اس نے غلط کہاتو یہ اسی کے حق میں مضرہوا اسے صاف اختیارتھا کہ مہرکادعوی جداکرتی جس میں مہرمثل تک اس کاقول معتبررہتا اوریہ زیوربحکم وصیت جدا لیتی کہ اس میں اس کامعارض نہ تھا مگر اس نے ایسانہ کیا بلکہ اسی زیورہی کواپنے مہرمیں دیاجانابتایاتویہ اس کااپنے ہی حق میں اضرارہوا، ولہٰذا نہ دعوٰی بلکہ اقرارہوا اوربعداقرار حاجت تفتیش کیامعنی کما فی الفائدۃ المذکورۃ(جیساکہ مذکورہ بالافائدہ میں ہے۔ت) اور سب پرعلاوہ یہ کہ ادھرزوجہ نے یہی زیوراپنے مہرکے عوض بتائے ان سے جداکوئی دعوی مہرنہ رکھا ادھرشاہ محمدنے وہ تمام وکمال زیور اس کے تسلیم کرکے اسے سپرد کردئیے اب خواہ ان سب کو اس کاوہ حق مہرماناجو وصیت شاہ محمد پرمقدم رہتایا بعض کوحق مہربعض کو اوراس کے لئے وصیت یاکل کو وصیت جو وصیت شاہ محمد سے مؤخررہتی مگرجب یہ اسے نافذکرچکا اپنے حق کو ساقط کردیا جیسے وارث کہ زائد از ثلث میں وصیت اس کے حق ارث سے مؤخرہے مگروہ اجازت دے دے تو وہ مؤخرہی مقدم ہوجاتی اوراس قدرمیں اجازت دہندہ کاحق ارث ساقط ہوجاتاہے یہاں تک کہ اگر وصیت کل مال کی تھی اورسب ورثہ عاقلین بالغین نے اجازت دے دی کل مال موصی لہ کا ہوجائے گا اورکوئی وارث کچھ نہ پائے گا توعالم خاتون کا مہراورکل زیوراس کی ملک ہونا اورشاہ محمد کاضرباً یااستحقاقاً اس سے کچھ معلق ہونایہ سب مسائل طے شدہ اورفریقین کے متفق علیہ ہیں جن میں انہیں کوئی نزاع نہیں اور وہ ان کے خالص حقوق تھے جن کے ابقاء اسقاط کا انہیں اختیار مطلق تھاتواب قاضی مفتی کسی کواصلاً حق نہیں کہ ان طے شدہ امورکوزیربحث لائے ان کے لئے کوئی تفتیش اپنی طرف سے قائم کرے فریقین میں ایک کودوسرے پر اس بارے میں کوئی دعوٰی نہیں یہ خود مدعی بنے اوراس متفق علیہ کونزاعی قراردے کما فی الفائدۃ المذکورۃ ایضا (جیساکہ یہ بھی فائدہ مذکورہ میں ہے۔ت)
تفریعات

(۱۹) فتوی ۱ کاقول بعد اس کے عالم خاتون کامہرجس قدر عدالت کی رائے میں ثابت ہواداکریں گے نافہمی ہے۔

(۲۰) فتوی۱ کاکہناہے اگرثابت ہوجائے کہ یہ زیورمہر کے عوض دئیے گئے اقرارمیں تفتیش ہے۔

(۲۱) فتوی۱ کی اس پرتفریع کہ توان میں شاہ محمد خاں کاکچھ حق نہیں مفہوم غلط ہے شاہ محمد خاں کازیورمیں کسی طرح کچھ حق نہیں اگرچہ مہرکے عوض دیاجاناثابت نہ بھی ہو۔

(۲۲) فتوی۱ نے اس مفہوم باطل ہی پرقناعت نہ کی بلکہ آگے اس ظلم صریح کی تصریح کردی کہ لیکن اگران زیورات کامہرمیں دیاجانا ثابت نہ ہو توزیورات کے تیسرے حصہ میں شاہ محمدخاں کاحق ہوگا اوردوحصے عالم خاتون کے، انا ﷲ وانّا الیہ راجعون(بیشک ہم اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں اوراسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت) شاہ محمدخاں وارث نہیں زیورکی اس کے لئے وصیت نہیں، وصیت نہ ہونا درکنارموصی نے صراحۃً زیورکو اس کی وصیت سے جداکردیاکہ بعد ذکرزیور کہا ماسوااس کے میری جائداد الخ مگریہ فتوٰی کہتاہے کہ موصی کودینے نہ دینے سے کیاہوتاہے ہم جودیتے ہیں ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم(بلندی وعظمت والے اﷲ تعالٰی کی توفیق کے بغیر نہ لڑائی سے بچنے کی طاقت ہے اورنہ ہی نیکی کرنے کی۔ت)
 (۲۳) فتوی۷ نے اورکمال کیازوجہ کاوہ قول اقرار مان کرپھراگرمگرکودخل دیاکہ اگردین مہر تمام زیور سے حسب اقرار زوجہ اداہوا ہے توزیورچھوڑ کرایک ثلث شاہ محمد کودیاجائے گا۔
Flag Counter