Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
114 - 135
فائدہ ۵ : یہیں سے ظاہرہواکہ جس کے لئے وصیت رقبہ ہواسے وصیت منفعت کی حاجت نہیں کہ وہ بحکم ملک مختارانتفاع ہوگا اس کے ساتھ مطلقا یاکسی وقت خاص میں اختیار انتفاع کا ذکراسی لازم کااظہار ہوگانہ کہ اس کے لئے وصیت بالمنفعۃ جوبوجہ عدم حاجت لغووبے اثرہے جس طرح تنہاوارث غیرزوجین کے لئے وصیت کما تقدم عند الدر المختار وعن غنیۃ ذوی الاحکام (جیساکہ درمختار اورغنیہ ذوی الاحکام کے حوالے سے گزرچکاہے۔ت)
فائدہ ۶: وصیت میں مقصد موصی پرنظرلازم ہے۔ ہدایہ وکافی میں دربارہ موصی لہ بخدمۃ العبد ہے:
لیس للموصی لہ ان یخرج العبد من الکوفۃ الا ان یکون الموصی لہ واھلہ فی غیر الکوفۃ فیخرجہ الی اھلہ للخدمۃ ھنالک اذاکان یخرج من الثلث لان الوصیۃ انما تنفذ علی مایعرف من مقصود الموصی فاذا کانوا فی مصرہ فمقصودہ ان یمکنہ من خدمتہ فیہ بدون ان یلزمہ مشقۃ السفر واذا کانوا فی غیرہ فمقصودہ ان یحمل العبد الی اھلہ لیخدمھم۔۲؎
موصٰی لہ کویہ اختیارنہیں کہ وہ غلام کوکوفہ سے نکالے ہاں اگرموصی لہ اوراس کے اہل خانہ غیرکوفہ میں رہتے ہیں توغلام کونکال کرلے جاسکتاہے کیونکہ وصیت اس مقصود پرنافذہوتی ہے جوموصی سے معلوم ہو۔ اگرموصی لہ اور اس کے اہل خانہ موصی کے شہرمیں رہتے ہیں تواب موصی لہ کامقصود یہ ہے کہ وہ سفر کی مشقت کے لزوم کے بغیر اس کی خدمت کرسکے اوراگر وہ اس شہر کے غیرمیں رہتے ہیں تواب مقصود یہ ہوگا کہ موصی لہ اس غلام کووہاں اپنے اہل خانہ کے پاس لے جائے تاکہ یہ ان کی خدمت کرسکے۔(ت)
 (۲؎ الہدایۃ  کتاب الوصایا   باب الوصیۃ بالسکنی والخدمۃ الخ    مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۸۲۔۶۸۱)
فائدہ۷: دربارہ مہرمہرمثل تک عورت کاقول مع الیمین بلابینہ معتبرہے جبکہ زوجیت معروف ومعلوم ہو فتاوٰی خانیہ میں قبیل فصل رجوع عن الوصیۃ ہے۔
ان ادعت المرأۃ مقدار مھر مثلھا یدفع الیھا اذا کان النکاح ظاھرا معروفا ویکون النکاح شاھدالہا۔۱؎
اگرعورت نے مہرمثل کادعوی کیاتو اس کودیاجائے گا جبکہ نکاح ظاہرومعروف ہواورنکاح ہی اس کاشاہد ہوگا۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب الوصایا    فصل مسائل مختلفہ     نولکشورلکھنؤ۴/ ۸۴۶)
اسی کے باب الوصی پھرہندیہ میں ہے:
ان کان النکاح معروفا کان القول قول المرأۃ الٰی مھر مثلھا یدفع ذٰلک الیھا۔۲؎
اگرنکاح معروف ہوتوعورت کاقول مہرمثل کی حدتک مقبول ہوگا اوروہ اس کو دیاجائے گا۔(ت)
 (۲؎فتاوٰی قاضی خاں    کتاب الوصایا      باب الوصی فصل فی تصرفات الوصی الخ    ۴/ ۸۵۹)
فائدہ۸: مہربھی مثل سائردیون ہے اوردین کاتعلق مالیت سے ہے نہ عین سے ولہٰذا ورثہ کواختیار ہوتا ہے کہ دائن کادین اپنے پاس سے دے کرترکہ اپنے لئے بچالیں اگرچہ دین مستغرق ہوجس کے سبب ورثہ کے لئے ترکہ میں اصلاً ملک ثابت نہیں ہوتی۔ 

جامع الفصولین واشباہ میں ہے :
  واستغرقھا دین لایملکھا بالارث الا اذا ابرأ المیت غریمہ اواداہ وارثہ۳؎الخ
  اگرقرض پورے ترکہ کومحیط ہو تومیراث کے طورپرکوئی اس کامالک نہیں بنے گا سوائے اس قرض خواہ میت کوبری کردے یاکوئی وارث اس کواداکردے الخ(ت)
 (۳؎ الاشباہ والنظائر    الفن الثالث   القول فی الملک  ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۰۴)
اشباہ میں اس کے بعد فرمایا:
وللوارث استخلاص الترکۃ بقضاء الدین لومستغرقا۔۴؎
وارث کواختیارہے کہ قرض اداکرکے ترکہ کو واگزارکرالے جبکہ قرض پورے ترکہ پرحاوی ہو۔(ت)
 (۴؎الاشباہ والنظائر    الفن الثالث     القول فی الملک    ادارۃ القرآن کراچی     ۲/ ۲۰۵)
فائدہ۹: وصیت جہت موصی سے تملیک ہے تو اس کے بتائے سے تجاوزنہیں کرسکتی وصیت اگرحصہ شائعہ مثل نصف مال یاثلث متروکہ کی ہوتو توضرورترکہ باقیہ بعداداء الدین کے ہرجز میں شائع ہوگی مگراعیان معینہ کی وصیت صرف انہیں اعیان پرمقتصررہے گی ان کے غیر سے ایک حبہ نہ پاسکے گا یہاں تک کہ اگروہ اعیان ثلث مال یا اس سے بھی کم ہوں اورتمام وکمال بحکم وصیت اسے ملتے ہوں اوران میں سے کسی منازعت کے سبب کچھ کم ہوجائے تواس کی وصیت اسی کم میں نفاذپائے گی باقی ترکہ سے اس کی تکمیل نہ کی جائے گی کہ یہ ایجاب بلاموجب ہے اور وہ محض باطل ولہٰذا اگر ترکہ پندرہ سوروپے نقداورتین سوروپے کااسباب یازمین وغیرہ ہو اوراس تمام اسباب وزمین کی وصیت زیدکے لئے کی اوراپنے مال کے ۶/۱ کی وصیت عمرو کے لئے تومجموع ترکہ اٹھارہ سوہوا اورمجموع وصایاچھ سوکہ اس کاثلث ہے اورثلث تک وصیت بلااجازت نافذ ہے توچاہئے تھاکہ دونوں موصی لہ کی وصیت پوری نافذکرتے اسباب وزمین زیدکودے دیتے اور تین سوروپے کہ سدس مال ہے عمروکو مگرایسانہ کریں گے بلکہ عمرو کودوسوپچاس روپے نقد دیں گے اورپچیس کی قدرزمین واسباب اورباقی صرف پونے تین سوروپے کااسباب زیدپائے گا زرنقد سے اس کی وصیت پوری نہ کریں گے کہ زرنقد میں اس کاکوئی حق نہ تھا اس تقسیم کی وجہ وہی ہے کہ عمرو کے لئے سدس مال کی وصیت ترکہ کے ہرجزنقدوجنس وجائداد ہرشیئ کے ۶/۱ کی وصیت ہے تو اسے پندرہ سونقدکابھی سدس چاہئے اوراسباب  وزمین کابھی سدس۔ سدس نقد میں اس کا کوئی منازع نہیں وہ (ماصہ ) اسے دے دئیے ہیں سدس جائدادمیں زیداس کامنازع ہے وہ کہے گا کہ تمام وکمال بحکم وصیت میراہے عمروکہے گا اس میں سے بھی ۶/۱ میراہے تواس مال کا ۶/۵ زیدکے لئے بلانزاع ہے اور۶/۱ میں زیدوعمرو متنازع ہیں توبحکم انصاف وہ ان میں نصفانصف ہوکر اسباب وزمین کا ۱۲/۱ عمروپائے گا اور ۱۲/۱۱ زیداور اس کے سوازید کونقد سے کچھ نہ ملے گا۔
ردالمحتارمیں ہے:
لواوصی لرجل بسیف قیمتہ مثل سدس مالہ ولاٰخر بسدس مالہ ومالہ سوی السیف خمسمائۃ فللثانی سدسھا وللاول خمسہ اسداس السیف وسدس السیف بینھما لان منازعتھما فی سدس السیف فقط فینصف بینھما۱؎۔
اگرکوئی کسی کے لئے اپنی تلوارکی وصیت کرے جس کی قیمت اس کے کل مال کے چھٹے حصے کے برابرہے اوردوسرے شخص کے لئے اپنے کل مال کے چھٹے حصے کی وصیت کی جبکہ تلوار کے علاوہ موصی کامال پانچسودرہم ہے۔اس صورت میں دوسراشخص پانچ سودرہم میں سے چھٹاحصہ پائے گا اورپہلا شخص تلوارکی قیمت کے چھ حصوں میں سے پانچ (۶/۵) حصے لے گا، جبکہ تلوارکاچھٹاحصہ ان کے درمیان تقسیم ہوگا کیونکہ دونوں کی منازعت فقط اسی چھٹے حصے میں ہے لہٰذا ان کے درمیان نصف نصف ہوگا۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الوصایا    باب الوصیۃ     بثلث المال     داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۲۸)
فائدہ۱۰: وصیت اجنبی کہ ثلث تک نافذہے اس کے حساب ثلث کے لئے کل متروکہ بعدالدین ملحوظ ہوگا وہ چیزیں بھی جن کی اس کے لئے وصیت ہے اور وہ بھی جن کی اس کے لئے وصیت نہیں مگر اس کاحق ان اشیاء سے ہرگز متجاوزنہ ہوگا جن کی وصیت اس کے لئے ہے جیساابھی مسئلہ مذکورہ میں گزرا بالجملہ وصیت کاثلث تک نفاذوصیت معینہ کووصیت شائعہ نہ کردے گا اس کااثر صرف اس قدرہوگا کہ باقی بعددین جس قدرمال ہے جس کی وصیت کی ہے اور جس کی نہیں سب کاثلث لے کردیکھیں گے کہ جن اعیان مخصوصہ کی وصیت اس کے لئے کی ہے ان کی مالیت اس ثلث کی مقدار سے کم ہے یابرابریازائد، دوصورت اولٰی میں وہ تمام اعیان موصی لہ کودے دئیے جائیں گے اورصورت ثالثہ میں ان میں سے صرف اتنا حصہ پائے گا جوثلث کل باقی بعداداء الدین کی مقدار تک ہے نہ یہ کہ جس چیز کی اس کے لئے وصیت نہ کی اس کابھی ثلث محض بلااستحقاق اس کو دے دیاجائے یہ سخت جہالت فاحشہ ہے کتب مذہب کے صدہانصوص اس کے اوپرناطق، اور یہی مسئلہ کہ ابھی ردالمحتارسے گزرا، کافی اورادنٰی خادم فقہ پر یہ امرخود بدیہیات واضحہ سے ہے کمالایخفی (جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)
فائدہ۱۱: اقرارکے بعد کسی تفتیش کی حاجت نہیں، نہ حقوق العبادمیں بلادعوی قاضی کواختیارحکم، نہ اسے ایسی بات کی تکذیب پہنچتی ہے جس میں کوئی معارض ہوکہ وہ قطع خصومت کے لئے مقررہواہے نہ کہ انشاء خصومت کے واسطے۔
ہدایہ میں فرمایا:
الاقرار موجب بنفسہ۲؎
 (اقرار خودموجب ومثبت ہے۔ت)
 (۲؎ الہدایۃ    کتاب الدعوی    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۳/ ۲۰۱)
تنویرمیں ہے :
القضاء فصل الخصومات وقطع المنازعات۔۱؎
قضاء توجھگڑوں کافیصلہ کرنااورتنازعات کو ختم کرناہے(ت)
(۱؎ الدرالمختارشرح تنویرالابصار    کتاب القضاء    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۷۱)
درمختارمیں ہے:
بعد دعوی صحیحۃ من خصم علی خصم حاضروالاکان افتاء۔۲؎
ایک خصم کے دوسرے حاضرخصم پرصحیح دعوٰی کے بعد ورنہ یہ افتاء ہوگا(ت)
 (۲؎الدرالمختار    کتاب القضاء    فصل فی الحبس     مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۷۸)
ردالمحتارمیں فواکہ بدایہ سے ہے:
اتفق ائمۃ الحنفیۃ والشافعیۃ علی انہ تشترط لصحۃ الحکم واعتبارہ فی حقوق العباد الدعوی الصحیحۃ۔۳؎
اس پرائمہ حنفیہ شافعیہ کااتفاق ہے قضاء کے صحیح ہونے اورحقوق العباد میں اس کے معتبرہونے کے لئے صحیح دعوی ہوناشرط ہے(ت)
(۳؎ ردالمحتار    کتاب القضاء             داراحیاء التراث العربی بیروت۴/ ۲۹۸)
Flag Counter