فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
113 - 135
فائدہ۲: جب ایک شخص کے لئے وصیت رقبہ اوراس کے بعد متصلاً خواہ برسوں کے فصل سے وصیت منفعت کی جائے توموصی لہ اول صرف مالک رقبہ ہوتاہے اوراسی قدرمیں اس کے لئے وصیت مستفادہوتی ہے منفعت میں اس کاکوئی حق نہیں ہوتا مثلاً مکان کی وصیت زیدکے لئے اور اس کے دس برس بعد سکونت مکان مذکورکی وصیت عمروکے لئے کردی توزیدصرف رقبہ مکان پائے گا سکونت تاحیات عمرویاجب تک کے لئے موصی نے کہاصرف حق عمرو رہے گی اوریہ ٹھہرے گا کہ زیدکے لئے خالی رقبہ مکان کی وصیت تھی۔
ہدایہ میں فرمایا :
اسم الرقبۃ لایتناول الخدمۃ وانما یستخدمہ الموصی لہ بحکم ان المنفعۃ حصلت علی ملکہ فاذا اوجب الخدمۃ لغیرہ لایبقی للموصی لہ فیہ حق۔۲؎
رقبہ کااسم خدمت کوشامل نہیں۔ موصی لہ تو اس سے خدمت اس وجہ سے لیتاہے کہ منفعت اس کی ملکیت پر حاصل ہے، پس جب خدمت اس نے کسی اور کے لئے ثابت کردی تو اب موصی لہ کے لئے اس میں کوئی حق نہ رہا۔(ت)
(۲؎ الہدایۃ کتاب الوصایا باب الوصیۃ بالسکنی الخ مطبع یوسفی لکھنؤ۴/ ۶۸۳)
اسی طرح کافی میں فرمایا اوراتنااوربڑھایا:
وکذا اسم الدار لایتناول السکنی واسم النخیل الایتناول الثمرۃ۔۳؎
اسی دارکااسم سکونت کواوردرختوں کااسم پھل کو شامل نہیں ہوتا۔(ت)
(۳؎ الکافی شرح الوافی)
عنایہ میں فرمایا:
وصیۃ الرقیۃ والخدمۃ فان الموصول والمفصول فیھما فی الحکم سواء۔۴؎
خدمت ورقبہ کی وصیت چاہے اکٹھے ہویا الگ الگ ہووہ حکم میں برابرہے(ت)
(۴؎ العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الوصایا باب السکنی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۹/ ۴۱۳)
فائدہ۳: وصیت شیئ اگرچہ وضعاً تملیک منفعت شے نہیں مگرالتزاماً ضرورمفیدتملیک منفعت شے ہے ولہٰذا اگرپہلے عمروکے لئے وصیت منفعت کی اس کے بعد شیئ کی وصیت زیدکے لئے کی اگردونوں وصیتیں متصلا کیں جب تومنفعت والے منفعت اوررقبہ والے کورقبہ کہ ایساکلام متصل دلیل توزیع وتقسیم ہوتاہے ولہٰذا اگرکہاکہ یہ انگشتری زیدکودینا اوراس کانگ عمروکویایہ مکان زیدکودیں اوراس کاعملہ عمرو کوتوبالاتفاق صاحبین زیدکے لئے خالی انگشتری بے نگ اورزمین بلاعمارت ہوگی اورعملہ اورنگ تنہاعمروکاحالانکہ انگشتری نگ کوبھی شامل تھا اورمکان میں عملہ بھی داخل تھا،
کافی میں ہے:
ان اوصی بھذہ الامۃ لفلان وبحملھا لاخراوبھذہ الدار لفلان وببنائھا لاخراوبھذا الخاتم لفلان وبفصہ لاٰخر فان وصل فلکل واحد مااوصی (الی قولہ) لان ذٰلک بمنزلۃ دلیل التخصیص والاستثناء فیتبین بہ انہ اوجب لصاحب الخاتم الحلقۃ خاصۃ دون الفص الاتری انہ لواوصی بالجاریۃ واستثنی حملا صح الاستثناء۔۱؎
اگریوں وصیت کی لونڈی فلاں کے لئے اوراس کاحمل فلان کے لئے یہ مکان فلاں کے لئے اور اس کی عمارت فلاں کے لئے یایہ انگوٹھی فلاں کے لئے اوراس کانگینہ فلاں کے لئے ہے اگریہ وصیتیں متصلاً کیں توہرایک کووہی ملے گا جس کی وصیت اس کے لئے کی ہے(اپنے اس قول تک) اس لئے کہ تخصیص واستثناء کی دلیل ہے۔ اس سے ظاہرہوگیاکہ موصی نے انگوٹھی والے کے لئے حلقہ خاص کیاہے بغیرنگینے کے۔ کیاتم نہیں دیکھتے کہ اگرلونڈی کی وصیت کی اورحمل کومستثنٰی کردیاتو استثناء صحیح ہے۔(ت)
(۱؎ الکافی شرح الوافی )
اوراگروصیت رقبہ وصیت منفعت کے بعدکلام مفصول میں کی اوراس میں منفعت کا نام نہ بھی لیاجب بھی مالک رقبہ زیدہوگا اورمنفعت عمروزیدمیں نصف نصف ہوجائے گی۔
بدائع امام ملک العلماء مسعودپھرعالمگیریہ میں ہے:
لوابتدأبالتبع فی ھذہ المسائل ثم بالاصل بان اوصی بخدمۃالعبد لانسان ثم بالعبد لاٰخراواوصی بسکنی ھذہ الدار لانسان ثم بالدار لاٰخرا اوبالثمرۃ لانسان ثم بالشجرۃ لاٰخر فان ذکر موصولا فلکل واحد منھما ماسمی لہ بہ وان ذکر مفصولا فالاصل للموصی لہ بالاصل والتبع بینھما نصفان۔۱؎
اگران مسائل میں ابتداء تابع سے کی پھراصل کی وصیت کی مثلاًپہلے خدمت کی وصیت کسی شخص کے لئے کی پھرخود غلام کی وصیت کسی دوسرے کے لئے کردی یاسکونت کی وصیت کسی کے لئے کرکے پھر اسی گھرکی وصیت کسی دوسرے کے لئے کردی یاپھل کی وصیت کسی کے لئے کرکے پھردرخت کی وصیت کسی دوسرے کے لئے کردی، اگروصیتوں کاذکرمتصلاً کیا ہے تب توہرایک کووہی ملے گاجس کااس نے نام لیااوراگردونوں وصیتوں کے ذکرمیں فاصلہ کیاتوپھرجس کے لئے اصل کی وصیت ہے اس کواصل ملے گا اورتابع ان دونوں میں نصف نصف تقسیم ہوگا۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۱۲۵)
تواگروصیت رقبہ اصلاً مفیدتملیک منفعت نہ ہوتی توبحال فصل تنصیف منفعت کی وجہ نہ تھی ہاں وصیت رقبہ کے بعد دوسرے کے لئے وصیت منفعت، اول کے لئے استحقاق منفعت کے لئے مانع ہوکر اس کے لئے تملیک مجرد رقبہ رہ جاتی ہے، اور جب مانع نہ ہوگا دونوں ثا بت ہوں گی، یہ وضعاً اوروہ التزاماً، کافی میں عبارت مذکورہ آنفا کے بعد فرمایا:
ان تمام اشیاء میں ملک اصل کا استحقاق تب ہوگا جب کوئی مانع نہ ہو اوریہاں مانع موجودہے اوروہ ہے دوسرے کے لئے وصیت۔(ت)
(۲؎ الکافی شرح الوافی)
فائدہ۴: وصیت منفعت بمنزلہ وصیت رقبہ ہے جس شیئ کی منفعت کسی کے لئے وصیۃً قراردی گویا اسے خود وہ شیئ اس کی حیات یاایک زمانہ معین تک وصیۃً دی اوراگرایک شیئ کارقبہ زیداورمنفعت عمروکے لئے رکھی توگویا اس شیئ کی دونوں کے لئے وصیت کی زیدکے لئے مطلق اورعمرو کے لئے وقت محدود انتفاع تک ولہٰذا صاحب منفعت حساب ثلث وضرب حصص میں صاحب رقبہ کاہمسرہوتاہے اورتنگی ثلث کے وقت اس کامزاحم ہوکراس کی وصیت کو گھٹاتا ہے جب اس کی مدت ختم ہوجاتی ہے صاحب رقبہ اس وقت اپنی وصیت کی تکمیل پاتاہے، کافی میں فرمایا:
جب تک خدمت کاموصی لہ اپناحق پوراوصول نہیں کرلیتااس وقت تک وہ بمنزلہ رقبہ کی وصیت کی ہے۔(ت)
(۱؎ الکافی شرح الوافی )
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
لوکان لہ ثلثۃ اعبد فاوصی برقبۃ احدھم لرجل وقیمتہ ثلثمائۃ و بخدمۃ الثانی لاٰخر وقیمتہ خمسمائۃ وقیمۃ الثالث الف جازلکل واحد ثلثۃ ارباع وصیتہ یعطی لصاحب الرقبۃ ثلثۃ ارباعھا ویخدم لصاحب الخدمۃ ثلثۃ ایام وللورثۃ یوما لان الوصایا جاوزت الثلث لان ثلث المال ستمائۃ والوصایا کانت ثمانمائۃ وکان ثلث المال ثلثۃ ارباع الوصایا کذا فی محیط السرخسی، واذا مات صاحب الخدمۃ استکمل صاحب الرقبۃ عبدہ کلہ وکذٰلک ان مات العبد الذی کان یخدم ولوکانت قیمۃ العبید سواء کان لصاحب الخدمۃ نصف خدمۃ العبد ولصاحب الرقبۃ نصف رقبۃ الاٰخر کذا فی المبسوط۔۱؎
اگرکسی شخص کے تین غلام ہیں، اس نے ایک غلام کے رقبہ کی ایک شخص کے لئے وصیت کی جس کی قیمت تین سودرھم ہے، اور دوسرے غلام کی خدمت کی وصیت کسی اورشخص کے لئے کی جس کی قیمت پانچ سودرہم ہے جبکہ تیسرے غلام کی قیمت ایک ہزاردرھم ہے تودونوں میں سے ہرایک کے لئے تین چوتھائی (۴/۳) وصیت جائزہوگی چنانچہ پہلے موصٰی لہ کواس کی وصیت کے غلام کاتین چوتھائی ملے گا اورصاحب خدمت کی وصیت کاغلام تین روز اس کی اورایک روزوارثوں کی خدمت کرے گا کیونکہ وصیتیں تہائی مال سے بڑھ گئیں، تہائی مال توفقط چھ سودرھم ہے جبکہ وصیتیں آٹھ سودرہم ہوچکی ہیں تو اس طرح کل مال کاتہائی حصہ وصیتوں کاتین چوتھائی (۴/۳) ہوگیا۔ محیط میں یوں ہی ہے۔ اگرصاحب خدمت مرگیاتو صاحب رقبہ اپناوصیت کاغلام پورالے لے گا۔ اسی طرح اگر وہ غلام مرجائے جو خدمت کرتاہے تب بھی یہی حکم ہوگا۔ اگرغلاموں کی قیمت برابرہوتوصاحب خدمت کے لئے نصف خد مت اورصاحب رقبہ کے لئے نصف رقبہ ہوگا۔ مبسوط میں یوں ہی ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السابع نورانی کتب خانہ کراچی ۶/ ۱۲۶)