فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
112 - 135
تفریعات
(۱۳) یہیں سے ظاہرکہ فتوی ۷ کہ اس احتمال کی کہ متوفی نے زیورات مذکورہ اگرمدعیہ کومرض الموت سے پہلے تملیکا دے دئیے ہیں اوروصیت نامہ کی تحریر اس کابیان ہے تووہ زیورات متوفی کے ترکہ سے خارج ہیں یہاں کوئی گنجائش نہیں۔
(۱۴) تملیک مضاف الی مابعد الموت اگرچہ حالت صحت میں ہو وصیت ہے کہ فتوی ۷ کایہاں مطلق تملیک کہنااورشق مقابل کواگرمرض الموت میں وصیت کی ہے مرض سے مقیدکرناضیق بیان ہے، ہدایہ میں فرمایا:
کل مااوجبہ بعد الموت فھو من الثلث وان اوجبہ فی حال صحتہ اعتبارا بحال الاضافۃ دون حال العقد۔۲؎
ہروہ تملیک جس کاایجاب موت کے بعد کیاہو تووہ تہائی مال میں نافذہوگی اگرچہ اس کاایجاب حالت صحت میں کیاہوحالت اضافت کااعتبارکرتے ہوئے نہ کہ حال عقد کا۔(ت)
(۲؎الہدایۃ کتاب الوصایا باب العتق فی مرض الموت مطبع یوسفی لکھنؤ ۴/ ۶۶۹)
(۱۵) فتوی ۵کاقول بعد وفات متوفی کے مدعیہ کاکوئی حق رہائش مکان ونان نفقہ وغیرہ کا نہیں۔ نہ فقط وصیت نامہ بلکہ سوال سائل کوبھی نہ سمجھنے پرمبنی ہے، سائل نے یہ نہ پوچھاتھاکہ جس طرح حیات میں زوجہ کانفقہ وسکنی شوہرپرہے آیا بعد وفات شوہربھی یہ حق باقی رہتے ہیں جس کاجواب نفی میں دیاجائے وہ تو اس حق سکنی کوپوچھتاہے جس کی اس کے لئے موصی نے وصیت کی ہے اس کاانکار کرنااوراپنی طرف سے اس میں نان نفقہ دلادینا کیامعنی رکھتاہے۔
(۱۶) یوں ہی مستفتی نے وصیت مذکورہ دربارہ ظروف کودریافت کیاتھاکہ زوجہ کے لئے جائزاور اپناحصہ پانے کے بعد بھی نافذہے یانہیں فتوی ۵ نے وصیت نامہ وسوال سائل ومسئلہ وصیت بالمنفعۃ سب سے ذہول فرماکرلکھ دیاکہ اس میں کوئی اثرنہیں۔
(۱۷) اس سے عجیب ترفتوی ۱کاقول ہے کہ عالم خاتون کورہائش کاحق حاصل نہیں اس باب میں واحدبخش کی وصیت لغووبے اثررہے گی، فتوی ۵ نے تووصیت سے ذہول کیاحیات کے نفقہ وسکنٰی کے مثل کسی حق بعدالوفاۃ سے استفسارسمجھا مگرفتوی اولٰی نے صراحۃً وصیت مان کر محض بلاوجہ شرعی اسے لغووبے اثرکردیا، یہ عجیب منطق ہے، کیاشرعاً وصیت بالسکنی باطل ہے یاخاص زوجہ تنہاوارثہ کے لئے باطل ہے اورجب کچھ نہیں تو اسے لغوکہناہی لغونہیں صریح باطل ہے۔
(۱۸) سوال ۶کوفتوی ۱ بھی مثل فتوی ۵ نہ سمجھاکہ استفسار اس وصیت کے جواز سے ہے جس کا جواب اثبات میں دیناواجب تھایایہاں بھی اپنی اسی منطق کی بناپروصیت کولغوٹھہرالیاہے۔ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ(ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اورسلامتی کاسوال کرتے ہیں۔ت)
افادہ خامسہ جلیلہ مشتمل برفوائد جزیلہ
فائدہ، اصل یہ ہے کہ ترکہ میں تجہیزوتکفین کے بعد سب سے مقدم دین ہے پھراجنبی کے لئے ثلث تک وصیت پھروارث کی میراث پھروارث منفردکے لئے وصیت اوراجنبی کے لئے ثلث سے زائدکی وصیت ہے یہ دونوں مرتبہ واحدہ میں ہیں ثلثہ پیشیں کی تقدیم اورباہم ترتیب معروف ومشہور ہے اورمیراث کاوصیۃ للوارث اورمافوق الثلث وصیۃ للاجنبی پرتقدم ہے اگروہ وارث کل مال بذریعہ ارث پاسکتاہے توثلث وصیت کے بعد کل میراث ہی ٹھہرے گا اس کی وصیت اپنے نفاذ کامحل ہی پائے گی یونہی اجنبی کی وصیت قدرزائد علی الثلث میں معطل رہ جائے گی یعنی جبکہ وارث اجازت نہ دے ورنہ وصیت ثلث کے مثل ارث مجیزپر تقدم پائے گی اوراگربذریعہ میراث صرف بعض کامستحق ہے اور وہ نہیں مگرزوجین کہ ربع یانصف سے زائدکے مستحق نہیں تو ثلث وصایاکے بعد
باقی کاربع یانصف انہیں ارثاً پہنچے گا پھرجوبچااس میں ان کی وصیت اوراجنبی کی زیادہ ازثلث وصیت حصہ رسد نفاذ پائے گی اگرچہ ان کے خواہ اجنبی خواہ ہرایک کے لئے کل مال کی وصیت ہو بالجملہ وصیت زائدللاجنبی حصہ میراث میں نافذنہ ہوگی اوروصیت للوارث نہ اس میں نافذ ہونہ ثلث اجنبی میں اس مراعات ترجیح پرہرایک کی وصیت ملحوظ رہے گی یہ ہے ان دونوں کی باہم تساوی اور میراث کاان پرتقدم۔ مثلاً میت نے صرف ایک زوجہ وارث چھوڑی اورکل مال کی وصیت اس کے لئے جداکی اورزیدکے لئے جداکہ ہرایک موصی لہ بجمیع المال ہوااس صورت میں ترکہ بارہ سہم ہوکرپانچ سہم زوجہ کوملیں گے اورسات زیدکو۔ اس لئے کہ اولاً زیدکوثلث دیاکہ میراث پرمقدم ہے ۴ہوکر، باقی ۸کاربع یعنی ۲زوجہ نے ارثالئے، ۶بچے، زیدکی وصیت کل مال یعنی پورے ۱۲سہام کی تھی وہ حصہ میراث۱۲/۲ میں نافذنہیں ۱۲/۱۰بچے جن میں سے ۱۲/۴ پاچکاہے باقی ۱۲/۶رہے اورزوجہ کی وصیت بھی پورے ۱۲سہام کی تھی وہ نہ اس ۱۲/۴ میں جاری ہوسکتی ہے جوزیدنے ابتداءً پائے نہ ان ۱۲/۲ میں جوخود زوجہ نے ارثالئے تو اس کی وصیت بھی ۱۲/۶رہی دونوں برابرہوئے تو۶باقی ان میں نصف نصف ہوکرزوجہ کے ۵زیدکے ۷ہوئے، قس علیہ۔
اقول: ولعل السرفی تقدیم ارث الوارث علی الوصیۃ لہ ان الارث جبری فبمجرد مامات المورث اوفی اٰخرجزء من اجزاء حیاتہ علی القولین فیہ لمشائخ بلخ والعراق انتقل الملک فی قدر المیراث الی الوارث غیرمتوقف علی شیئ بخلاف الوصیۃ فانھا تتوقف علی قبولہ فنفاذھایعقب القبول وقبولہ یعقب الموت والارث یقارن الموت اویتقدمہ فتاخرت ضرورۃ اما الوصیۃ للاجنبی فالمال باق فیھا الی الثلث علی ملک الموصی نظرالہ من الشارع کما نصوا علیہ واشار الیہ فی الھدایۃ فلایجری فیہ الارث مالم یردالموصی لہ فاذا قبل فقد تقدم وملکہ من دون ان یلحقہ ملک الوارث۔
میں کہتاہوں شایدوارث کی میراث کو اس کے حق میں وصیت سے مقدم کرنے میں رازیہ ہے کہ میراث جبری ہے، محض مورث کی موت یا اس کی زندگی کے آخری جزء میں جیساکہ مشائخ بلخ وعراق کے قول ہیں بقدرمیراث ملک وارث کی طرف منتقل ہوجاتی ہے بخلاف وصیت کے کہ وہ قبول پرموقوف رہتی ہے چنانچہ وصیت کا نفاذ قبول اورقبول موت کے بعد ہوتاہے جبکہ میراث موت کے ساتھ مقترن یا اس سے مقدم ہوتی ہے تووصیت میراث سے بداہۃً مؤخرہوئی، رہی اجنبی کے لئے وصیت تو اس میں مال ایک تہائی تک شارع کی طرف موصی کی ملک پرباقی رہتاہے جیساکہ اس پرمشائخ نے نص کی ہے اوراسی کی طرف ہدایہ نے اشارہ فرمایاہے تواس میں اس وقت تک میراث جاری نہیں ہوگی جب تک موصی لہ اس کوردنہ کردے اگر وہ اس وصیت کوقبول کرلے تواس کی ملکیت مقدم ہوگی بغیراس کے اس کے ساتھ کسی وارث کاحق ملحق ہو۔(ت)
اگرکوئی اوروارث موجودنہ ہوخاوندبیوی کے لئے یابیوی خاوندکے لئے وصیت کرے تو یہ وصیت صحیح ہوگی، لیکن جوان دونوں کاغیرہے وہ بطورفرض یابطور ردکل مال کاوارث ہوجائے گالہٰذا وہ وصیت کامحتاج نہیں،شرنبلالیہ(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الاقرار باب اقرارالمریض مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۳۶)
اسی کے وصایا میں ہے:
وانما قیدوابالزوجین لان غیرھما لایحتاج الی الوصیۃ لانہ یرث الکل برد او رحم۔۲؎
زوجین کی قیدمشائخ نے اس لئے لگائی کہ ان کاغیروصیت کامحتاج نہیں ہوتا کیونکہ وہ بطور رَدیابطوررشتہ داری کل مال کاوارث بن جاتاہے۔(ت)
(۲؎الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۳۱۹)
ردالمحتارمیں ہے:
ترک امرأۃ واوصی لھابالنصف ولاجنبی بالنصف یعطی للاجنبی اولاالثلث وللمرأۃ ربع الباقی ارثا والباقی یقسم بینھما علٰی قدر حقوقھما تاتارخانیۃ۔۱؎
کسی شخص نے بیوی چھوڑدی اوراس کے لئے اپنے نصف مال کی وصیت کی جبکہ نصف مال کی وصیت کسی اجنبی کے لئے کی توپہلے اجنبی کو تہائی مال دیں گے پھرباقی سے چوتھا حصہ بیوی کو میراث دیاجائے اورجوباقی بچا وہ ان دونوں میں ان کے حقوق کے مطابق تقسیم کیاجائے گا، تاتارخانیہ(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۱۔۴۲۰)
فتاوٰی خانیہ وفتاوٰی ہندیہ میں ہے:
اذامات الرجل وترک امرأۃ ولیس لہ وارث غیرھا واوصی للاجنبی بجمیع مالہ ولامرأتہ بجمیع مالہ یاخذ الاجنبی ثلث المال بلامنازعۃ وللمرأۃ ربع مابقی وھو السدس بحکم المیراث ویبقی نصف المال یکون بینھما وبین الاجنبی نصفین۔۲؎
اگرکوئی مردمرااور ایک بیوی چھوڑی جس کے علاوہ کوئی اوروارث موجودنہیں، اور اس نے ایک اجنبی شخص کے لئے کل مال کی وصیت کی اوربیوی کے لئے بھی کل مال کی وصیت کی تواجنبی شخص تہائی مال بغیرکسی منازعت کے لے گا پھرباقی میں سے چوتھا حصہ بیوی کوبطورمیراث جوکل کاچھٹاحصہ بنتاہے، باقی کل نصف بچ گیا جوبیوی اوراجنبی پربرابر برابرتقسیم ہوگا۔(ت)
(۲؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الوصایا الباب السادس نورانی کتب خانہ کراچی ۶/ ۱۱۷)
امام اجل نسفی کافی شرح وافی کتاب الوصایا باب المتفرقات میں زوجہ موصی لہا کی نسبت فرماتے ہیں:
جس حصہ کی مستحق وہ بطورمیراث ہے اس کی مستحق بطوروصیت نہیں ہوگی۔(ت)
(۳؎ الکافی شرح الوافی کتاب الوصایا باب المتفرقات)
اس کے ایک ورق بعد زوج موصی لہ کی نسبت فرمایا:
حق الزوج کان فی النصف ایضا بالوصیۃ ولکن بطل فی السدس لانہ اخذ الثلث بحکم الارث شائعا فخرج السدس عن محل الوصیۃ فبطلت وصیتہ فی ذلک ضربا و استحقاقا عند الکل فبقی حقہ فی الثلث۱؎۔
خاوند کاحق نصف میں بھی بطوروصیت تھالیکن وہ چھٹے حصے میں باطل ہوگیاکیونکہ وہ ایک تہائی بطورمیراث مشترکہ مال میں سے لے چکاہے لہٰذا وہ چھٹاحصہ وصیت کے محل سے نکل گیاتواس میں سب کے نزدیک ضرب واستحقاق کے اعتبارسے وصیت باطل ہوگئی لہٰذا اس کا حق تہائی میں باقی رہا۔(ت)
(۱؎ الکافی شرح الوافی کتاب الوصایا باب المتفرقات)
نیزاسی میں عبارت اولٰی کے بعد فرمایا:
ان اوصی لکل واحد من الزوجۃ ولاجنبی بکل مالہ لہ سبعۃ و لھا خمسۃ لان الوصیۃ للاجنبی یقدم علی الارث فیعطی لہ الثلث من ستۃ ولہا ربع مابقی بحکم الارث بقی ثلاثۃ بینھما نصفان عند ابی حنیفۃ رحمہ اﷲ فحق الاجنبی کان فی کل المال وقداستوفی سھمین فلایضرب بذٰلک ولایضرب ایضا بما اخذت بحکم الارث وذٰلک سھم فانما یضرب بثلاثۃ والمرأۃ لاتضرب بالثلث الذی اخذالاجنبی اولالان الوصیۃ للاجنبی بقدر الثلث وصیۃ قویۃ فتبطل وصیتھا بذلک القدر فلاتضرب المرأۃ بذٰلک ولابالسھم الذی اخذت ارثا وانما یضرب بثلاثۃ فاستویا فی الضرب فی الثلاثۃ الباقیۃ فتخرج المسئلۃ من اثنی عشر۔۱؎
اگربیوی اوراجنبی میں سے ہرایک کے لئے اپنے کل مال کی وصیت کی تواجنبی کے لئے سات اوربیوی کے لئے پانچ حصے ہوں گے کیونکہ اجنبی کے لئے وصیت میراث سے مقدم ہوتی ہے، چنانچہ اس کوچھ میں سے ایک تہائی دیاجائے گا پھربیوی کوباقی کاچوتھائی بطورمیراث ملے گا باقی تین بچے جوان دونوں کے درمیان امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک نصف نصف ہوں گے کیونکہ اجنبی کاحق کل مال میں تھا جبکہ وہ دوحصے وصول کرچکاہے تواب ان کو وہ شامل نہیں کرے گا اوراس کوبھی شامل نہیں کیاجائے گاجوبیوی بطورمیراث لے چکی جوکہ ایک حصہ ہے چنانچہ وہ فقط تین حصوں میں شریک ہوگا اورعورت اس تہائی میں شریک نہ ہوگی جواجنبی پہلے لے چکا ہے کیونکہ وصیت تہائی مال تک اجنبی شخص کے لئے مضبوط وصیت ہے لہٰذا عورت کی وصیت اتنی مقدار میں باطل ہو جائے گی چنانچہ عورت نہ تو اس حصہ میں شراکت کرے گی اورنہ اس حصہ میں جس کوبطورمیراث حاصل کرچکی۔ شراکت صرف تین حصوں میں رہ گئی لہٰذا ان تین باقی حصوں میں وہ دونوں برابرکے شریک ہیں اس لئے مسئلہ بارہ سے بنے گا۔(ت)