Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
111 - 135
افادہ ثالثہ

عالم خاتون بھی ضرور موصی لہا ہے مکانات واثاث البیت کے باب میں اس کے لئے وصیت المنفعۃ ہوناتوبدیہی اورنظربرسیاق وسباق وصیت نامہ، اس زیورکی بھی اس کے لئے وصیت ہے ابتداء وصیت نامہ میں ہے مجھ کو اپنی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کاانتظام ضروری ہے کہ پس ماندگان میں تکرارنہ ہو اس کاانتظام یہ ہے کہ زیورات ذیل زوجہ کو ملے گاالخ پھرمکانات واثاث البیت کے وصیت بنام شاہ محمدخاں کی جس کاحاصل یہ تقسیم ہوئی کہ وہ زیورعالم خاتون کے اورمکانات واثاث البیت شاہ محمدخاں کے۔ آخرمیں لکھایہ جملہ شرائط بعدمیرے قابل تعمیل ہوں گے جب تک میں حیات ہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں بموجب بالاتقسیم ہوں گے صاف واضح ہوگیاکہ دونوں کے لئے تملیک بعدالموت کررہا ہے تو اس کازیورمذکورکی نسبت کہنامیری زوجہ کے ہیں ایسا ہی ہے جیسامکانات کوکہامالک شاہ محمدخاں ہے اوروارث کے لئے وصیت بلاشبہہ جائزہے جبکہ اورکوئی وارث نہ ہو،
ردالمحتاربیان  شرائط وصیت میں ہے:
وکونہ غیروارث ای ان کان ثمۃ وارث اٰخر والاتصح کمالواوصی احدالزوجین للاٰخرولاوارث غیرہ۔۱؎
اوراس کاغیروارث ہونا، یعنی جب وہاں کوئی اوروارث ہوورنہ صحیح ہے، جیساکہ زوجین میں ایک دوسرے کے لئے وصیت کرے اوراس کے علاوہ کوئی اوروارث نہ ہو(ت)
 (۱؎ ردالمحتار کتاب الوصایا  داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۴۱۶)
درمختارمیں ہے:
لالوارثہ الاباجازۃ ورثتہ اولم یکن لہ وارث سواہ کما فی الخانیۃ حتی لو اوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اٰخر تصح الوصیۃ، ابن کمال۲؎۔
وارث کے لئے وصیت جائزنہیں مگراس وقت دیگرورثاء اجازت دے دیں یاکوئی اوروارث موجودہی نہ ہوجیساکہ خانیہ میں ہے، یہاں تک اگرخاوند نے بیوی کے لئے بیوی نے خاوند کے لئے وصیت کی اوروہاں کوئی دوسرا وارث موجودنہیں تووصیت صحیح ہوگی، ابن کمال۔(ت)
 (۲؎ الدرالمختار     کتاب الوصایا     مطبع مجتبائی دہلی        ۲/ ۳۱۹)
تفریعات

(۸) فتوی ۵ کاقول مدعیہ وارث شرعی ہے اس کے حق میں وصیت نہ سمجھی جائے اس لئے کہ وارث کے واسطے وصیت جائزہے۔ مسئلہ وارث واحدکے حکم سے غفلت ہے۔

(۹) طرفہ یہ کہ خود فتوی۵ نے سند میں عبارت درمختارلالوارثہ الخ(وارث کے لئے جائزنہیں۔ت) نقل کی جس کے آخرمیں موجود یعنی عندوجودوارث اٰخر۱؎(دوسرے وارث کی موجودگی میں۔ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی    ۲/ ۳۱۹)
(۱۰) زیوربعد موت عوض مہر میں دئیے جانے کولکھنابھی وصیت ہوا لکونہ ایجابا بعد الموت(موت کے بعد ایجاب ہونے کی بناپر) توفتوی۵ کاکہناکہ بلکہ یہ زیورات حق مہرکے عوض سمجھے جائیں اوراسے منافی وصیت جانناعجیب ہے۔

(۱۱) استفتاء مرتبہ ڈسٹرکٹ ججی خانپور کے سوال میں آتاہے کہ جوزیورات مدعیہ کوملے ہیں ان کی نسبت وہ کہتی ہے کہ مجھ کو حق مہر میں شوہردے گیاان سے بھی ہرگز مفہوم نہ ہواکہ یہ دیاجاناصحت میں تملیک فی الحال تھا جب وہ لکھ گیاکہ میرے بعد یہ زیور میری زوجہ کے ہیں تو ضرور وصیت ہی ہوئی اگرچہ بعوض مہردینامرادہو اوراس صورت میں عورت کاکہناکہ مجھ کوحق مہرمیں شوہردے گیا بلاشبہہ صادق ہے توفتوی۵ کاقول کہ بلکہ زیورات مہرکے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے محض نامفید مقصودہے۔

(۱۲) ہم واضح کرچکے ہیں کہ وصیت نامہ کاصریح مفاد تملیک بعدالموت ہے وہ نص کرچکاکہ جب تک میں حیات ہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں تقسیم ہوں گے توفتوی۵ کاقول کہ خودعبارت وصیت نامہ کامحمل قوی یہ ہے، عجیب ہے۔
افادہ رابعہ

وصیت جس طرح رقبہ شیئ کی صحیح ہے یوں ہی تنہامنفعت کی، یونہی یہ بھی کہ ایک کے لئے رقبہ کی وصیت کرے دوسرے کے لئے منفعت کی پہلی صورت میں متروکہ ملک وارث ہوگا اوراس کی منفعت ملک موصی لہ اوردوسری صورت میں پہلاموصی لہ رقبہ شیئ کامالک ہوگا اوردوسرا اس کی منفعت کا۔ بہرحال وہ شیئ بغرض انتفاع موصی لہ بالمنفعت کے قبضہ میں رہے گی ورثہ یاموصی لہ بالرقبہ کواس کی بیع کااختیارنہ ہوگا جب تک موصی لہ بالمنفعۃ کو اس سے انتفاع کاحق باقی رہے، مثلاً سال بھر کے لئے وصیت منافع کی توسال بھرتک اورموصی لہ کی زندگی تک تو اس کی حیات تک۔
ہدایہ میں ہے:
تجوزالوصیۃ بخدمۃ عبدہ وسکنی دارہ سنین معلومۃ وتجوزبذٰلک ابدافان خرجت رقبۃ العبد من الثلث یسلم الیہ لیخدمہ وان کان لامال لہ غیرہ خدم الورثۃ یومین والموصی لہ یوما بخلاف الوصیۃ بسکنی الداراذاکانت لاتخرج من الثلث حیث تقسم عین الدار اثلاثا للانتفاع لانہ یمکن القسمۃ بالاجزاء وھواعدل للتسویۃ بینھما زمانا وذاتا ولواقتسموا الدارمھایاۃ تجوز ایضا لان الحق لھم، ولیس للورثۃ ان یبیعوا مافی ایدیھم من ثلثی الدار لان حق الموصی لہ ثابت فی سکنی جمیع الدار ولہ حق المزاحمۃ فیما فی ایدیھم اذا خرب مافی یدہ والبیع یتضمن ابطال ذٰلک فمنعوا عنہ۱؎۔(ملخّصًا)
اپنے غلام کی خدمت اورگھرکی سکونت کی وصیت معین سالوں کے لئے جائزہے اوردائمی وصیت بھی جائزہے، پھراگر غلام کی گردن یعنی اس کی قیمت موصی کے تہائی مال سے نکل سکتی ہے توغلام موصی لہ کوسونپ دیاجائے گاتاکہ اس کی خدمت کرے، اوراگرموصی کاسوائے اس غلام کے کوئی اورمال نہیں تووہ غلام دودن وارثوں کی اوایک دن موصٰی لہ کی خدمت کرے گابخلاف گھر کی سکونت سے متعلق وصیت کے کہ اگرگھر تہائی مال سے نہیں نکل سکتا تواس سے نفع اٹھانے کے لئے تہائیوں کے اعتبارسے خود گھرکوتقسیم کرلیاجائے گا کیونکہ گھرکے اجزاء کی تقسیم ممکن ہے اوریہ تقسیم زمان وذات کے اعتبارسے زیادہ عدل پرمبنی ہے، اوراگر انہوں نے باریوں کے اعتبارسے تقسیم کرلیاتب بھی جائزہے کیونکہ یہ انکااپناحق ہے، وارثوں کویہ اختیارنہیں کہ وہ اپنے زیرقبضہ دوتہائی گھرکوفروخت کریں کیونکہ موصٰی لہ کے لئے تمام گھر میں سکونت کاحق ثابت ہے، جب موصی لہ کے زیرقبضہ تہائی حصہ خراب ہوجائے تواس کے وارثوں کے زیرقبضہ دوتہائی مکان میں مزاحمت کاحق ہے جبکہ بیع اس حق کے ابطال کو متضمن ہے لہٰذا وارثوں کوا س سے روکاجائے گا۔ملخصا(ت)
 (۱؎ الہدایۃ    کتاب الوصایا    باب الوصیۃ بالسکنی الخ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴/ ۸۰۔۶۷۹)
اسی میں ہے :
ولواوصی لہ بخدمۃ عبدہ ولاٰخر برقبتہ وھو یخرج من الثلث فالرقبۃ لصاحب الرقبۃ والخدمۃ علیھا لصاحب الخدمۃ لانہ اوجب لکل منھا شیئا معلوما، ثم لما صحت الوصیۃ لصاحب الخدمۃ فلولم یوص فی الرقبۃ بشیئ لصارت الرقبۃ میراثا للورثۃ مع کون الخدمۃ للموصی لہ فکذا اذا اوصی بالرقبۃ لانسان اخراذ الوصیۃ اخت المیراث من حیث ان الملک یثبت فیھما بعدالموت۲؎۔(ملخصًا)
اگرایک شخص کے لئے غلام کی خدمت اور دوسرے کے لئے اس کے رقبہ کی وصیت کی درآنحالیکہ وہ تہائی مال سے نکل سکتاہے تورقبہ صاحب رقبہ کے لئے جبکہ اس پرخدمت صاحب خدمت کے لئے ہوگی کیونکہ موصی نے ہرایک کے لئے وصیت میں کچھ معین شیئ ثابت کردی، پھرجب صاحب خدمت کے لئے وصیت صحیح ہوجائے اوررقبہ میں وہ کسی کے لئے وصیت نہ کرے تو رقبہ وارثوں کی میراث ہوگا باوجودیکہ خدمت موصی لہ کے لئے ہوگی۔ اوریہی حکم ہوگااگر اس نے رقبہ کی وصیت کسی دوسرے انسان کے لئے کردی کیونکہ وصیت میراث کی بہن ہے اس حیثیت سے کہ ان دونوں میں ملک موت کے بعد ثابت ہوتی ہے ۔ ملخصاً(ت)
 (۲؎الہدایۃ    کتاب الوصایا    باب الوصیۃ بالسکنی الخ    مطبع یوسفی لکھنؤ  ۴/ ۶۸۲)
اسی طرح اورکتب جلیلہ میں ہے اوریہیں سے ظاہرہواکہ اگردویادس مکانوں کے سکنی کی زیدکے لئے وصیت کی تواگرچہ وہ ان میں سے ایک ہی میں سکونت کرے گا جس کااسے اختیارہوگا کہ ان میں سے جس مکان میں چاہے رہے مگروہ سب مکان اس کے حق کے لئے مدت حق تک محبوس رہیں گے ورثہ یاموصی لہ بالرقبہ کوان کی بیع کا اختیارنہ ہوگاکہ اس کاحق ہرمکان میں ثابت ہے اورہرمکان کی نسبت محتمل ہے وہی باقی رہے اورسب کسی آفت سے منہدم ہوجائیں تو اگر ان میں بعض کومالکان رقبہ بیچ سکیں توموصی لہ بالمنفعۃ کاحق ضائع ہونے کااحتمال ہے۔
وانظر الٰی قول الہدایۃ حق المزاحمۃ فیما فی ایدیھم۱؎ وثم لم تثبت لہ الوصیۃ الا فی الثلث فکیف وقد اوصی لہ بکل۔
ہدایہ کے قول پرنظر کروکہ موصی لہ کووارثوں کے زیرقبضہ گھرمیں مزاحمت کاحق ہے اورپھر نہیں ثابت ہوئی اس کے لئے وصیت مگرتہائی مال میں توکیساحال ہوگا جبکہ اس نے کل مال کی وصیت کردی ہے۔(ت)
 (۱؎ الہدایۃ    کتاب الوصایا    باب الوصیۃ بالسکنٰی والخدمۃالخ    مطبع یوسفی لکھنؤ    ۴/ ۶۸۰)
اوراس کے لئے ہرگزشرط نہیں کہ وہ اپنی ملک میں کوئی شے ایسی نہ رکھتا ہو جس سے یہ منفعت حاصل کرسکے جو اپناذاتی مکان رکھتاہو اس کے لئے وصیت یاسکنی کی ممانعت نہیں نہ یہ امرمانع نفاذوصیت ہو، وھذا ظاھر جّدا(اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)
Flag Counter