فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
110 - 135
افادہ ثانیہ
جس طرح الفاظ مذکورہ سے شاہ محمدخاں کو وصی سمجھنا باطل ہے یوں ہی ان مکانوں کی وصیت تجہیزوتکفین وایصال ثواب کے لئے ٹھہرانا حلیہ صواب سے عاری وعاطل ہے وہ تومکانات کوشاہ محمدخاں کی ملک کرچکااوراختیار بیع رہن کاملک پرمتفرع ہونابدیہی۔ وہ یہ نہیں کہتاکہ شاہ محمد پر لازم ہے کہ ان کو بیع یا رہن کرکے روپیہ میری تجہیز وتکفین وفاتحہ میں اٹھا دے بلکہ یہ کہتا ہے کہ شاہ محمد ان کامالک ہے اسے بیع ورہن کااختیارہے ہاں اگربیع یارہن کرے تو اس صورت میں کہتاہے کہ روپیہ میری ارواح پربخش دے گا۔ اس جملہ کو اگراس کے ظاہر پررکھیں توخبرہے جس کاحاصل شاہ محمدخاں اورموصی کی دوستی کابیان ہے کہ مجھے اس سے یہ امیدہے ولہٰذا میں اسی کو اپنے مال کامالک کرناچاہتاہوں جس طرح آخرمیں کہاکہ کل اشیائے مندرجہ بالا کامالک شاہ محمدخاں ہے جس نے میری خدمت ازحدکی ہے بعدانتقال میری تجہیزوتکفین کاانتظام کرے گا اورمیری منزلت اخیرکوپوراانجام دے گا اوراگرخبر بمعنی امرلیں توحاصل یہ ہوگاکہ شاہ محمدخاں اگربیع یارہن کرے توروپیہ میری ارواح پربخشدے، یہ ایصال ثواب کی وصیت نہیں ہوسکتا بعد اس کے کہ مکانات ملک موصی لہ کرچکا، پرائی ملک میں اسے وصیت کاکیااختیاررہا، وصیت ایجاب ہے اورملک غیر میں اس کے کہے سے کوئی بات واجب نہیں ہوسکتی مالک کو اختیارہے کہ مانے یانہ مانے،
ایضاح پھرنہایہ شرح ہدایہ پھرنتائج الافکارمیں ہے:
الوصیۃ مااوجبھا الموصی فی مالہ بعد موتہ اومرضہ الذی مات فیہ۱؎۔
وصیت وہ ہے کہ موصی اپنے مال میں اس کا ایجاب کرے اس کی موت کے بعد یا ایسی بیماری میں جس کے اندروہ مرا۔(ت)
(۱؎ نتائج الافکار(تکملہ فتح القدیر) کتاب الوصایا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۴۱)
تفریعات
(۱) فتوٰی ۶ کا ادعاکہ وصیت نامہ پرغورسے معلوم ہوتاہے کہ متوفی نے شاہ محمدکے حق میں کچھ بھی وصیت نہ کی بلکہ صرف اپنا وصی مقررکیاہے، محض باطل ہے۔
(۲) فتوی ۶ کا اس ادعاپرجملہ مذکورہ میری ارواح بخش دے گاسے استدلال کہ وصیت بحق شاہ محمد متوفی ہوتی تویہ کہنابے معنی ہوجاتاخود بے معنی اورصحیح وباطل کاقلب کردیناہے جیساکہ تنبیہ میں واضح ہوا۔ اس نے مطلقاً کہاہے کہ مالک محمدشاہ خاں مذکورہے اور اس کے بعد وہ الفاظ کہ بعد فروخت یا رہن الخ جملہ مستقلہ ہیں کہ اس جملہ کی قیدوشرط نہیں ہوسکتے۔
بحرالرائق متفرقات البیوع جلد۶ میں ہے:
فی بیوع الذخیرۃ اشتری حطبا فی قریۃ شراء صحیحا وقال موصولا بالشراء من غیرشرط فی الشراء، احملہ الی منزلی، لایفسد العقد لان ھذا لیس بشرط فی البیع بل ھو کلام مبتدأ بعد تمام البیع فلایوجب فسادہ اھ فعلی ھذا لواستاجرقریۃ اوارضا للزراعۃ ثم قال بعدتمامھا ان الحرث علی المستأجر لاتفسد لانہ لم یکن شرطا فیھا وانما یکون شرطا لوقال علی ان الحرث علیہ فلیحفظ ھذا فانہ یخرج علی کثیر من المسائل۔۲؎
بیوع ذخیرہ میں ہے کسی نے ایک قریہ میں ایندھن خریدا صحیح خریداری کے ساتھ پھر اس سے متصل بلاشرط کہااس کومیرے گھرتک لے چلو تو عقد فاسدنہ ہوگا کیونکہ یہ بیع میں شرط نہیں بلکہ بیع مکمل ہوجانے کے بعدنیاکلام ہے جوموجب فسادنہیں اھ اسی پرمبنی ہے یہ مسئلہ کہ کسی نے زراعت کے لئے دیہات یازمین کرایہ پرلی پھربیع کے مکمل ہونے کے بعد کہا کہ کاشت کرنا کرایہ دار کے ذمہ ہوگاتو اجارہ فاسد نہ ہوگا، کیونکہ یہ اجارہ میں شرط نہیں وہ توتب ہوتی کہ یوں کہتااس شرط پرکہ کاشتکاری کرایہ دارکے ذمہ ہوگی، اس کومحفوظ کرلیناچاہئے کیونکہ اس سے بہت سے مسائل کی تخریج ہوسکتی ہے۔(ت)
(۲؎ بحرالرائق کتاب البیوع باب المتفرقات ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۶/ ۱۸۸)
اوراگربفرض غلط اس کے معنی یہ قراردے لیجئے کہ شاہ محمد کی تملیک کو اس شرط سے مشروط کرتاہے یعنی میں نے شاہ محمدخاں کو وصیۃً ان مکانات کامالک کیااس شرط پرکہ اگر وہ بیع یا رہن کرے توروپیہ میری فاتحہ میں اٹھائے، تواوّلاً ہم ثابت کرچکے کہ تملیک بلاعوض میں ایسی شرط باجماع ائمہ حنفیہ باطل ہوگی۔
ثانیاً ہم پوچھتے ہیں اس صورت میں بعد موت موصی کے مکانات ملک موصی سے خارج ہوگئے ملک موصی لہ میں داخل ہوئے یانہیں، اگرکہتے ہو ہاں تومقصود حاصل کہ مالک پر اس کی ملک میں جبرکیامعنی، اوراگرکہتے ہونہیں تو کیوں، حالانکہ موصی نے وصیت کی اورموصی لہ قبول کرچکااوروصیت بعد قبول ناقل ملک ہے۔
اشباہ میں ہے:
الموصی لہ یملک الموصی بہ بالقبول۱؎۔
جس کے لئے وصیت کی گئی وہ وصیت والی چیز کوقبول کرنے سے اس کامالک ہوجاتاہے۔(ت)
(۱؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث القول فی الملک ادارۃ القرآن کراچی ۲/ ۲۰۳)
اوریہ کہنامحض نادانی ہوگاکہ وصیت تومشروط تھی جب تک شرط نہ پائے جائے گی، یہ شرط فی الوصیۃ بالشرط اورتعلیق الوصیۃ بالشرط میں فرق نہ کرنے سے ناشیئ ہوگا یہاں اگرہے تواول ہے نہ ثانی کہ سرے سے مبطل وصیت ہے کہ وصیت تملیک ہے اورتملیکات تعلیق بالخطرقبول نہیں کرتیں،
درمختارمیں ہے:
کل ماکان من التملیکات اوالتقییدات یبطل تعلیقہ بالشرط۔۲؎
جوکچھ تملیکات یاتقییدات میں سے ہے اس کوشرط کے ساتھ معلق کرناباطل ہے(ت)
معہٰذا وہ کیاشرط تھی کہ نہ پائی گئی آیا روپیہ صرف فاتحہ کرنانہ ہوا، تویہ توبحال بیع ورہن شرط تھا بیع ورہن خود ہی نہ پائے گئے، رہابیع ورہن کرناتویہ شرط ہی نہ کئے گئے تھے شرط لازم کی جاتی ہے اوربیع ورہن کااس نے اختیار بتایاہے نہ کہ ایجاب۔
(۳) فتوی۶ کاقول کہ اسلئے شاہ محمدخاں کوبحیثیت وصیت تیسرا حصہ جائدادکاملے گا اس لئے کہ بحق واحدبخش خیرات کردے نہ اس لئے کہ وہ خود اس کامالک بن جائے، بنائے فاسد علی الفاسدہے، بلکہ بلاشبہہ وہ وصیت بحق شاہ محمد ہے اس لئے کہ وہ خود اس کامالک کرچکا موصی نے جابجا جس کی صریح تصریح کی مگرفتوی کہتاہے کہ موصی خود اپنی مرادنہ سمجھا، مرادیہ ہے جوہم کہتے ہیں۔
(۴) بفرض باطل ایساہوتابھی تویہ الفاظ کہ میری ارواح کوبخش دے گا موصی نے صرف مکانات کی نسبت لکھے ہیں باقی وصیت کی نسبت نہیں فتوی۶ کاتومطلقاً سب جائدادپریہی حکم لگادینااور پوراثلث خیرات کے ٹھہرادیناصریح ظلم یاعدم فہم ہے نسأل اﷲ العفو والعافیۃ(ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اورعافیت مانگتے ہیں۔ت)
(۵) یہی خطا فتوی۲ کو آڑے آئی لکھازوجہ کاحق متروکہ متوفی سے سدس ہے باقی موصی لہ کاہے اورﷲ اسباب خیر میں صرف کرے جب باقی موصی لہ کاہوچکاپھروجوہ خیرمیں صرف کرنے کا اس پرایجاب کیامعنی، اگروہ کرے گاتبرع ہوگا اورتبرع پرجبرنہیں
ماعلی المحسنین من سبیل۱؎
(احسان کرنے والوں پرکوئی راہ نہیں۔ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۹ / ۹۱ )
(۶) بلکہ فتوی۲ کی غلطی فتوی۶ سے بڑھ کرہے اس نے توشاہ محمد کے لئے وصیت مانی ہی نہ تھی تو اسے گنجائش ملی کہ خیرات کے لئے وصیت ٹھہرادے اگرچہ یہ سرتاپاغلط تھا اس نے اس سے عجیب ترراہ اختیارکی کہ تمام باقی بعد فرض الزوجہ کی وصیت شاہ محمدکے لئے مانی پھر اسی پرخیرات کاحکم لگادیا یعنی شیئ واحد کی وصیت عمروکے لئے بھی ہے اوربعینہٖ اس شیئ کی وصیت اﷲ عزوجل کے لئے بھی ہے حالانکہ یہ بداہۃً محال ہے۔
(۷) فتوٰی ۲ نے اس مطلب پرعبارات یہ نقل کیں:
(۱) اوصی بثلث مالہ ﷲ تعالٰی۲؎۔
اﷲ تعالٰی کے لئے اس نے اپنے تہائی مال کی وصیت کی(ت)
( ۲؎ردالمحتار کتاب الوصایا ۲/ ۳۲۲)
(۲) لواوصی بالثلث وجوہ الخیر۔۳؎
اگراس نے نیکی کے کاموں کے لئے تہائی کی وصیت کی(ت)
(۳؎ الفتاوی الہندیۃ الباب الثانی ۶/ ۹۷ )
(۳) لاتصح من ممیزالافی تجھیزہ۴؎۔
باتمیزصغیرکی وصیت صحیح نہیں مگرصرف اس کی تجہیزمیں۔(ت)
(۴؎ الدرالمختار کتاب الوصایا ۲/ ۳۱۹)
اورنہ دیکھاکہ جب میں باقی کی وصیت عمرو کے لئے مان چکا توان عبارات کاکیامحل رہا۔ نسأل اﷲ العفووالعافیۃ۔