فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
109 - 135
افادات والتفریعات
(افادے اورتعریفیں)
افادہ اولٰی
شاہ محمدخاں مکانات واثاث البیت کاضرور موصٰی لہ ہے آغاز وصیت نامہ میں ہے وہ مکانات زیرحفاظت شاہ محمدخاں کے رہیں گے اورمالک بھی یہی رہے گا اگرصرف ''زیرحفاظت'' کہتا شاہ محمدخاں وصی ہوتا مگراس فقرہ نے کہ مالک بھی رہے گا ظاہرکردیاکہ مقصودوصیت ہے نہ کہ وصایت۔ پھرکہامالک وقابض شاہ محمدخاں مذکور ہے، پھرکہا غرضکہ مالک شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے اس ''وغیرہ'' کی یوں تشریح کی ہے علاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن وغیرہ جملہ سامان خانہ داری کامالک بھی شاہ محمدخاں رہے گا۔ پھرکہاکل اشیاء مندرجہ بالا کامالک شاہ محمدخاں ہے۔ غرض جابجا تملیک کی تصریح کی اورپرظاہرکہ یہ تملیک بلامعاوضہ بروجہ تبرع واحسان ہے اورآخرمیں کہا یہ جملہ شرائط بعد میرے قابل تعمیل ہوں گے جب تک میں حیات ہوں کسی کا تعلق نہیں، بعد میں بموجب بالا تقسیم ہوں گے، صاف واضح کردیاکہ یہ تملیک مضاف الیہ مابعد الموت ہے توقطعاً وصیت ہوئی۔
وصیت شریعت میں ایسی تملیک کوکہتے ہیں جو بطورتبرع موت کے مابعد کی طرف منسوب ہوتی ہے۔(ت)
(۱؎ العنایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الوصایا باب صفۃ الوصایا الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۹/ ۳۴۲)
ہاں وصیت نامہ میں مالک وقابض شاہ محمدخاں مذکورہے کے بعد یہ لکھاہے کہ اس کواختیار ہے کہ اس کوفروخت کرے یارہن کرے بعد فروخت یارہن یازربیع میری تجہیزوتکفین اور میری ارواح پر بخش دے گا اسے منافی تملیک سمجھنا صریح غلط ہے وہ خود اس کے متصل ہی کہتاہے یعنی غرضکہ مالک شاہ محمدخاں مکانا ت وغیرہ کا ہے خود اسی کلام کی تفسیرتملیک سے کررہاہے تواسے تملیک سے جداکرنا توجیہ القول بمالایرضی بہ قائلہ (قول کی ایسی توجیہ کرناجس پر قائل راضی نہ ہو۔ت) ہے اورجب مالک شاہ محمد خاں ہواتوجملہ مذکورہ کسی طرح وصیت یعنی اسے وصی بنانے کامفیدنہیں ہوسکتاکہ وصی وہ ہے جسے موصی مال میں تصرف کااختیاردے نہ وہ جسے ایک مال کامالک کرکے پھر اس سے درخواست کرے کہ وہ اپنامال بیچ کر اس کے کام میں خرچ کردے یہ سوال ہوانہ کہ ایضا ظاہرہے کہ وصایت مثل وکالت دوسرے کواپنی جگہ قائم کرناہے بلکہ وصایت عین وکالت ہے فرق اس قدرکہ وکالت حیات میں ہوتی ہے اوروصایت بعد موت۔
خانیہ پھرردالمحتارمیں ہے :
انت وکیلی بعد موتی یکون وصیا انت وصیی فی حیاتی یکون وکیلا لان کلامنھما اقامۃ للغیر مقام نفسہ فینعقد کل منھما بعبارۃ الآخر۔۱؎
تومیرے مرنے کے بعد میراوکیل ہے تووہ وصی بن جائے گا۔ اورتومیری زندگی میں میراوصی ہے تواس سے وہ وکیل بن جائے گا کیونکہ ان دونوں میں ہرایک کسی غیر کواپنا قائمقام بناناہے لہٰذا ان میں سے ہرایک دوسرے کی عبارت کے ساتھ منعقدہوجائے گا۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الاوصیاء باب الوصی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۴۴۷)
مال اگراپنی ملک پررکھ کر اس سے کسی تصرف کے لئے کہتاتوضرور اسے اپنی جگہ قائم کرنا ہوتااورجب مال اس کی ملک کرچکاتو اب موصی کااس میں کیا مقام رہا جس پر اسے قائم کرتاہے ولوجہ اجلی وصایت باب ولایت واطلاقات سے ہے یعنی دوسرے کواختیار دینااسے نافذالتصرف بنانا،
ولوالوجیہ پھرادب الاوصیاء میں ہے :
ایصاء المیت نقل الولایۃ الی الوصی۔۲؎
میت کاوصیت کرنا اپنی ولایت کو وصی کی طرف منتقل کرناہے۔(ت)
(۲؎ آداب الاوصیاء علی ہامش جامع الفصولین فصل فی الایصاء اسلامی کتب خانہ کراچی ۲/ ۸۶)
ردالمحتارمیں ہے :
ان فی الوکالۃ والاذن للعبد اطلاقا عماکانا ممنوعین عنہ من التصرف فی مال المؤکل والمولٰی۔۳؎
اس لئے کہ وکالت اوراپنے غلام کواذن دینے میں اس چیز کی اجازت دیناہے جس سے پہلے اس کے لئے ممانعت تھی یعنی مؤکل اورمولا کے مال میں تصرف کرنا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب البیوع مایبطل بالشرط الفاسدالخ داراحیاء التراث العربی بیروت۴ /۲۳۔۲۲۲)
توضرورہے کہ اس کے اختیار دینے سے اسے اختیار ملے اور جس مال کاآدمی خود مالک ہوگیا اس کااختیار خود اس کی مالکیت اسے دے گی اگرچہ شیئ کی مالکیت دوسرے کے دئیے سے ہو جیسے ہبہ کہ موہوب لہ بعد ملک جو اس میں تصرفات کرے گا اپنے اختیار ذاتی سے کرے گا نہ کہ واہب کی نیابت سے اگرچہ موہوب لہ پرملک واہب کے دئیے سے ملی تو جس طرح تملیک عین بلاعوض فی الحیاۃ یعنی ہبہ سے حصول اختیارات کے باعث موہوب لہ واہب کاوکیل نہ ہوجائے گایوں ہی تملیک عین بلاعوض بعد الممات یعنی وصیت مال سے حصول اختیارات کے سبب موصی لہ موصی کاوصی نہیں ہوسکتا۔ وھذا ظاھر جدا(اوریہ خوب ظاہرہے۔ت)
وبوجہ اخصر یہ تملیک ہے اورکوئی اطلاق تملیک نہیں تویہ اطلاق نہیں اورہروصایت اطلاق ہے تویہ وصایت نہیں وھوالمطلوب قیاس ثانی کاصغری پہلے کانتیجہ ہے اورکبری کاثبوت ردالمحتار سے گزرا اورقیاس اول کاصغری بدیہی ہے اورکبری کاثبوت اس عبارت درمختار سے ہے۔
جوکچھ تملیکات وتقییدات میں سے ہے وہ اس کی تعلیق شرط کے ساتھ باطل ہے ورنہ صحیح ہے، لیکن اسقاطات والتزامات جن پرقسم کھائی جاتی ہے ان میں شرط کے ساتھ تعلیق مطلقا صحیح ہے جبکہ اطلاقات، ولایات اورترغیبات میں بشرط مناسب جائزہے، بزازیہ۔(ت)
تنبیہ : قاعدہ فقہیہ یہ ہے کہ اگر مملک بالکسر کہ تملیک بلاعوض کے ساتھ مملَک بالفتح کی کسی مصلحت میں خرچ یااستعمال کرناذکر کرے تو اسے مشورہ ٹھہراتے ہیں مُملَک پر اس کی پابندی ضرورنہیں ہوتی کہ جب وہ مالک ہوگیا اسے اختیارہے جہاں چاہے اُٹھائے مثلاً یہ کپڑا میں نے تجھے دیا کہ تو اسے پہنے یا یہ مکان تجھے ہبہ کیاکہ تو اس میں سکونت کرے۔
یہ ایجاب سے صحیح ہوجاتاہے جیسے کہا کہ میں نے ہبہ کیا، میں نے بخوشی بخشا، میں نے یہ طعام تجھے دے دیا اورمیراگھرتیرے لئے ہبہ ہے کہ تو اس میں رہائش رکھے۔(ت)
(۲؎ الدرالمختارشرح تنویرالابصار کتاب الہبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۵۹۔۱۵۸)
درمختار میں ہے:
لان قولہ تسکنھا مشورۃ فقد اشار علیہ فی ملکہ بان یسکنہ فان شاء قبل مشورۃ وان شاء لم یقبل۔۱؎
کیونکہ اس کاقول کہ ''تو اس میں رہائش رکھے'' ایک مشورہ ہے جو واہب نے موہوب لہ کی ملکیت میں دیا اگرچاہے تومشورہ قبول کرلے ورنہ نہیں۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۹)
ردالمحتارمیں ہے:
کقولہ ھذا الطعام لک تاکلہ اوھذا الثوب لک تلبسہ بحر۲؎۔
جیسے واہب کاقول کہ یہ کھانا تیرے لئے ہے کہ تو اس کوکھائے یایہ کپڑے تیرے لئے ہے کہ تو اس کوپہنے، بحر۔(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الہبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۵۰۹)
اوراگرخود اپنی یا اس چیزیاصالح استحقاق شخص ثالث کی کوئی مصلحت ذکرکرے تواسے شرط فاسد قراردے کرتملیک کوصحیح اورشرط کوباطل کرتے ہیں ۔ مثلاً یہ غلام میں نے تجھے ہبہ کیا اس شرط پرکہ مہینہ بھر میری یازید کی خدمت کرے، یا اس شرط پرکہ تواسے آزاد کردے۔
درمختارمیں ہے:
حکمھا انھا لاتبطل بالشروط الفاسدۃ فھبۃ عبد علی ان یعتق تصح و تبطل الشرط۔۳؎
ہبہ کاحکم یہ ہے کہ وہ شرط فاسدہ سے باطل نہیں ہوتا، چنانچہ غلام کاہبہ اس شرط پرکہ موہوب لہ اس کو آزاد کردے صحیح ہے اورشرط باطل ہوجائے گی۔(ت)
(۳؎ الدرالمختار کتاب الہبہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۱۵۸)
نہ یہ کہ زید اپنی مصلحت ذکرکرے توسرے سے تملیک ہی اڑادیں اوراسی ذکرمصلحت کو اس کے بطلان کاقرینہ ٹھہرادیں۔ یوں ہوتاتویہ کہناکہ میں نے زیدکو اس غلام کامالک کیا اس شرط پرکہ مہینہ بھربعد مجھے واپس کردے ہبہ نہ ہوتا عاریت قرارپاتا حالانکہ یہ باجماع ائمہ حنفیہ باطل ہے۔
عالمگیریہ میں ہے:
قال اصحابنا جمیعا رحمھم اﷲ تعالٰی اذاوھب ھبۃ وشرط فیھا شرطا فاسدا فالھبۃ جائزۃ والشرط باطل کمن وھب لرجل أمۃ فاشترط علیہ ان یردھا علیہ بعد شھر کذا فی السراج الوھاج۔۱؎
ہمارے تمام اصحاب رحمہم اﷲ تعالٰی نے فرمایاکہ جب کسی نے ہبہ کیااوراس میں کوئی فاسدشرط لگادی تو ہبہ جائزاورشرط باطل ہے۔ جیسے کسی نے لونڈی اس شرط پرہبہ کی کہ ایک ماہ بعد موہوب لہ، وہ لونڈی واہب کولوٹادے گا، سراج وہاج میں یوں ہی ہے۔(ت)
(۱؎ الفتاوی الہندیہ کتاب الہبہ الباب الثامن نورانی کتب خانہ پشاور ۴/ ۳۹۶)