Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
108 - 135
قال فی الجوھرۃ  فی شرحہ ولایجوز مازاد علی الثلث یعنی اذاکان ھناک وارث یجوز ان یستحق جمیع المیراث اما اذاکان لایستحق المیراث امااذاکان لایستحق جمیع المال کالزوج والزوجۃ فانہ یجوز ان یوصی بمازاد علی ذٰلک ولایمنع من ذٰلک استحقاقھما مایرثانہ لانھما یستحقان سھما من المیراث لایزاد علیہ بحال فمازاد علی ذٰلک فھو مال المریض لاحق فیہ لاحد فجاز ان یوصی بہ و علی ھذا قال محمد رحمہ اﷲ اذاترکت المرأۃ زوجا ولم تترک وارثا غیرہ واوصت لاجنبی بنصف مالھا فالوصیۃ جائزۃ ویکون للزوج ثلث المال وللموصی لہ النصف وبقی السدس لبیت المال وانما کان للزوج الثلث لانہ لایسحق المیراث الابعد اخراج الوصیۃ فیحتاج الی ان یخرج الثلث اولاللموصی لہ لانہ یستحقہ بکل حال فیبقی الثلثان یستحق الزوج نصفہ میراثا یبقی الثلث، السدس للموصی لہ تکملۃ للنصف ویبقی السدس لایستحق لہ فیکون لبیت المال وکذا اذااوصت بذٰلک لزوجھا کان المال کلہ لہ نصفہ میراثا ونصفہ وصیۃ لانہ لایستحق الوصیۃ قبل المیراث بخلاف الاجنبی لان الزوج وارث وانما جازت لہ الوصیۃ لانہ لاوارث لھا تقف صحۃ الوصیۃ علی اجازتہ، وعلی ذٰلک اذا ترک زوجۃ لاوارث لہ غیرھا واوصی لرجل بجمیع مالہ کان لھا السدس وللموصی لہ خمسۃ اسداس لانھا لاتستحق من المیراث شیئا حتی یخرج الثلث للوصیۃ فاذا خرج الثلث استحقت ربع الباقی وما بقی بعد ذٰلک یکون للموصی لہ بالجمیع واصلہ من اثنی عشرللموصی لہ اربعۃ وھو الثلث یبقی الثلثان ثمانیۃ للزوجۃ ربعھا اثنان، یبقی ستۃ تعودللموصی لہ فیکون لہ عشرۃ من اثنی عشرو ذٰلک خمسۃ اسداسھا۱؎۔
جوہرہ میں اس کی شرح میں کہاتہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں اگر وہاں کوئی ایساوارث موجود ہوجوکل مال کاوارث بن سکتاہے لیکن جوکل مال کامستحق نہیں بن سکتا جیسے خاوند اوربیوی تووہ تہائی مال سے زائد کی وصیت کرسکتاہے۔ اورزوجین جس حصہ میراث کے مستحق ہیں وہ اس سے مانع نہیں کیونکہ وہ میراث کے ایک خاص حصہ کے وارث ہوتے ہیں اس پرکسی حال میں اضافہ نہیں ہوتا، جو اس سے زائد ہے وہ مریض کامال ہے اس میں کسی کاحق نہیں لہٰذا جائزہے کہ وہ اس کی وصیت کرجائے۔ امام محمدعلیہ الرحمۃ نے فرمایا اگرکوئی عورت خاوند کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑے اورکسی اجنبی شخص کے لئے نصف مال کی وصیت کرجائے تووصیت جائزہوگی۔ اس صورت میں شوہر کوایک تہائی اوروصیت والے شخص کو نصف مال ملے گا۔ باقی رہا چھٹاحصہ وہ بیت المال کاہے۔ اورشوہرکے لئے کل کاتہائی حصہ اس لئے ملے گا کہ شوہر وصیت کامال نکالنے کے بعد ہی میراث کامستحق ہوگا۔ چنانچہ پہلے وصیت والے شخص کے لئے کل مال سے تہائی حصہ بطوروصیت نکالنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ شخص ہرحال میں اس کامستحق ہے باقی دوتہائی مال بچاتو شوہراس دوتہائی میں سے نصف یعنی ایک تہائی کابطور میراث مستحق ہوگا۔ باقی ایک ثلث بچ گیا اس میں سے وصیت والے شخص کوچھٹا حصہ دیں گے تاکہ کل کانصف مکمل ہوجائے اورایک چھٹاحصہ باقی بچا جس کاکوئی مستحق نہیں لہٰذا وہ بیت المال کاہے، یونہی اگراس عورت نے شوہرکے لئے نصف مال کی وصیت کی توتمام مال شوہرکاہوجائے گا نصف بطورمیراث اورنصف بطوروصیت، کیونکہ شوہرمیراث سے پہلے وصیت کامستحق نہیں ہوتابخلاف اجنبی کے اس لئے کہ شوہروارث ہے۔ بیشک شوہرکے لئے یہ وصیت جائز ہے کیونکہ کوئی ایساوارث موجودنہیں جس کی اجازت پروصیت کاصحیح ہوناموقوف ہو۔ اوراسی کی بنیادپر اگرکسی کابیوی کے سوا کوئی وارث نہ ہواور وہ اجنبی شخص کے لئے اپنے کل مال کی وصیت کرجائے توبیوی کوچھٹا حصہ (۶ /۱) ملے اور جس کے لئے  وصیت کی گئی اس کوپانچ حصے   (۶ /۵)ملیں گے کیونکہ بیوی میراث میں سے کسی شیئ کی اس وقت تک مستحق نہیں ہوگی جب تک وصیت کے لئے کیونکہ بیوی میراث میں سے کسی شیئ کی اس وقت تک مستحق نہیں ہوگی جب تک وصیت کے لئے ایک تہائی مال ترکہ سے نکال نہ لیاجائے جب ایک تہائی مال ترکہ سے نکال نہ لیاجائے جب ایک تہائی مال نکل گیاتوبیوی باقی (جوکہ دوتہائی ہے) کے چوتھے حصے کی مستحق ہوگی، پھربیوی کے حصہ کے بعد جوبچ گیاوہ اس شخص کودے دیاجائے گا جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی ہے، اس میں کل مال کی وصیت کی گئی ہے، اس میں کل مال کے بارہ حصے بنائے جائیں گے جن میں سے وصیت والے کوایک تہائی یعنی چارحصے دیں گے باقی دوتہائی یعنی آٹھ حصے بچے جن کا چوتھائی یعنی دوحصے بیوی کے ہیں باقی چھ حصے وصیت والے شخص کی طرف لوٹ جائیں تو اس طرح اس کے کل حصے بارہ میں سے دس ہوجائیں گے جوکہ چھ میں پانچ (۶ /۵) بنتے ہیں۔(ت)
(۱؎ الجوہرۃ النیرۃ    کتاب الوصایا    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۲ /۹۰۔۳۸۹)
بعدازاں سوالات عدالت کانمبروار جواب بتفصیل ہے یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی ہے اور موافق اس تفصیل کے جو مجمل جواب میں گزرچکی ہے شرعاً صحیح ونافذہے وصیت بحق شاہ محمد زائد علی الثلث ہے عالم خاتون زوجہ نے اگر اس کوقبول نہیں کیاتواس کانفاذ حسب ذیل تقسیم ہوکرہوگا۔ زیورات اگرمتوفی نے مہرمیں دئیے ہوں تو زیورات پروصیت کابارہوگا بلکہ تمام زیورات اس کوملیں گے۔
ورنہ زیورات میں سے مدعیہ کو ۳ /۲سہام، مدعاعلیہ کو ۳ /۱ سہام اوردیگرجائداد ومکانات وظروف وغیرہ میں سے مدعیہ ۱۲ /۲ اورمدعاعلیہ کو۱۲ /۱۰ سہام ملیں گے کیونکہ اول ثلث اس کابطور وصیت مدعاعلیہ کوملے گا پھرربع باقی ماندہ۸ /۲ یعنی سدس کل ۱۲ /۲ مدعیہ کوملے گا بعدازاں باقیماندہ یعنی نصف ۱۲ /۶ مدعاعلیہ کوملے گا جوزیورات قیمتی (سماعہ عہ) بروئے وصیت مدعیہ کودئیے گئے ہیں اگروہ مہر میں دئیے گئے ہیں تو ان میں مدعاعلیہ کابروئے وصیت کچھ حق نہیں ہے اوراگرمحض بطوروصیت دئیے گئے ہیں توان میں مدعاعلیہ کابروئے وصی بالثلث حق ثلث ہوگا اوراس صورت میں تمام زیورات میں ۳ /۱  سہام مدعاعلیہ کواور ۳ /۲  مدعیہ کو ملیں گے۔ لیکن اس شق ثانی پر نفاذوصیت سے بیشتر مدعیہ کامہرکل مال سے اداکیاجائے گا اگرمدعاعلیہ نے تجہیزوتکفین متوفی کی اپنے مال سے بلا اطلاق وبلااجازت مدعیہ کی ہے چونکہ یہ صرف تبرع ہے لہٰذا اس خرچ کابارصرف مدعاعلیہ کے مال  پر ہے اورمدعیہ پر اس کامطلق بارنہ ہوگا اوراگر باجازت مدعیہ اپنے مال سے تجہیز وتکفین کیہے یامتوفی کے ترکہ میں سے تو اس کابارمتوفی کے تمام ترکہ پر ہوگا جوہر دومدعاعلیہ اورمدعیہ کے متعلق ہوگا۔ حق سکنی مکانات اورحق استعمال ظروف وغیرہ کے جو موصی نے عالم خاتون زوجہ کو وصیت کی ہے اس وصیت کے بار سے ثلث مال جوبطور وصیت شاہ محمدکواول ملے گا بری رہے گا البتہ علاوہ ثلث مال کے جو شاہ محمدکوبعداخراج ثلث ملے گا اس میں مدعیہ کو تانکاح ثانی حسب وصیت حاصل رہے گاکیونکہ زوجہ کی وصیت اجنبی کی وصیت بالثلث کے مزاحم نہیں ہوسکتی ہاں زائد علی الثلث کے مساوی ہے لہٰذازائد علی الثلث یعنی ۱۲/۶ میں اس کانفاذ اس طرح ہوگا کہ رقبہ کی وصیت شاہ محمد کے لئے اور منفعت کی وصیت مدعیہ کے لئے قراردی جائے گی جوحصہ مدعیہ کااور مدعاعلیہ کا جائدادمنقولہ یاغیرمنقولہ میں ہے اس کے متعلق ہرایک فریق کواختیارہے کہ وہ فریق ثانی سے بشرطیکہ وہ رضامند بھی ہو قیمت لے ورنہ حسب سہامات مذکورتقسیم کرالے شرعاً قیمت لینے کے متعلق کسی فریق پر جبرنہیں ہوسکتا۔
الحاصل : تعین حصص مدعیہ ومدعی کے متعلق جواب علمائے ریاست صحیح ہے اورمستشارالعلماء لاہور صحیح نہیں ہے زیورات کے متعلق شرعی بایں تفصیل ہے کہ متوفی نے زیورات مذکورہ اگرمدعیہ کو مرض الموت سے پہلے تملیکاً دے دئیے ہیں اوروصیت نامہ کی تحریر اس کابیان ہے تووہ زیورات متوفی کے ترکہ سے خارج ہیں ان پرکوئی بارحتی کہ تجہیزوتکفین اوروصیت کابھی نہیں ہوگا اوراگرمرض موت میں وصیت کی ہے تواگربعوض دین مہرہوتو البتہ اس صورت میں تجہیزوتکفین کے بار سے حسب حصہ زیورات مستثنٰی نہ ہوں گے بشرطیکہ مدعاعلیہ نے بلااجازت مدعیہ اپنے مال سے خرچ نہ کیاہو لیکن وصیت بالثلث کے بارسے مستثنٰی ہوں گے یعنی بعدخرچ تجہیزوتکفین باقیماندہ مال سے تمام زیورات مدعیہ کوملیں گے، اوراگربعوض دین مہرنہ ہوتوبعد تجہیزوتکفین اول دین مہراداکیاجائے گا، بعدازاں بحکم وصیت بالثلث زیورات میں سے بھی ۳ /۱ یعنی ۳ /۲ ثلث مدعاعلیہ کوملے گا باقیماندہ ۳ /۲ حصہ زیورات مدعیہ کو ملیں گے، پس حکم عدم جواز وصیت صحیح نہیں اورنیزحکم بعدم جواز وصیت بالمنفعت بھی صحیح نہیں بلکہ اس کانفاذ علاوہ ثلث کے ہوگا، صورت موجودہ میں علماء انجمن مستشارالعلماء کادعوی بطلان وصیت اورجواز ردعلی الزوجین کے متعلق صحیح نہیں ہے کیونکہ رَد علی الزوجین کاتعلق اس صورت کے ساتھ جس جگہ حقوق متقدمہ سے باقیماندہ کو بیت المال  کےلیے قرار دیا ہے اور جس صورت میں حقوق تمام  ترکہ  کو مستغرق ہوں اوربیت المال تک نوبت نہ پہنچے جیساکہ وہاں بیت المال کے لئے کچھ نہیں باقی رہا توردعلی الزوجین کاحکم ہرگزنہیں ہوسکتاکیونکہ بحکم مقدمہ خامسہ ردعلی الزوجین کے جوازکاحکم ہرگزنہیں ہوسکتا بیت المال کے فساد کے ساتھ مشروط ہے اگربیت المال منتظم موجودہوتوردعلی الزوجین نہیں ہوسکتا لہٰذ حکم ردعلی الزوجین حکم تفویض بیت المال سے بھی مؤخرہوا صورت موجودہ میں، اور فرض زوجہ تمام باقیماندہ ترکہ کومستغرق ہیں باقی ماندہ ترکہ کاکوئی فرد ان حقوق متقدمہ کے بعد باقی نہیں رہتا، پس نہ تفویض بیت المال کاحکم ہوسکتاہے نہ ردعلی الزوجین کا۔ پس یہ بحث اس جگہ نہایت تعجب انگیز ہے، چنانچہ اس کی تشریح اورتردید اپنی تحریر مندرجہ مسل کافی طورپرکردی ہے اپنی دوسری تحریر میں ایک نوٹ لکھتے ہیں جن کاخلاصہ یہ ہے کہ واحد بخش نے شاہ محمد کوحفاظت جائداد کی وصیت کی ہے، نہ تملیک کی، لہٰذا وہ وصی ہے نہ موصی لہ چونکہ اس کی تردید علمائے ریاست نے کافی طورپر فرمائی ہے لہٰذا ہم کو اس کے متعلق کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے فقط واﷲ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
نقل جواب ۸

میں نے حضرات علمائے کرام کے فتاوٰی معہ کاغذات متعلقہ مسل مقدمہ کو غورسے پڑھا اوربارباربغرض تنقیح امرمتنازعیہ فیہ حوالہ جات کتب فقہ میں تدبرکیاچنانچہ حسب ذیل فیصلہ پر آگاہ ہوا، بتوفیقہ تعالٰی اس میں توکلام نہیں کہ ردعلی الزوجین میں فقہائے متاخرین کااختلاف ہے یعنی فقہائے متقدمین قطعاً ردعلی الزوجین کے قائل نہیں ہیں اورفقہائے متاخرین ردمذکور کے قائل ہیں نیزاس میں کلام نہیں کہ فتوی متاخرین کے قول پرہے چنانچہ صاحب ردالمحتارفرماتے ہیں :
قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا الفساد بیت المال وفی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ وکذا البنت والابن من الرضاع یصرف الیھما وقال فی المستصفی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمد بن یحٰیی بن سعد التفتازانی افتی کثیر من المشائخ  بالرد علیہما اذا لم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام وظلم الحکام فی ھذہ الایام۲؎ الٰی اٰخرہ۔
قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پررد کافتوٰی دیاجائے گا، زیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں سے کسی ایک کے فرضی حصہ کو وصول کرنے کے بعد جوکچھ بچ جائے وہ اسی پررد کردیاجائے گا یونہی رضاعی بیٹی اور رضاعی بیٹے کی طرف لوٹایاجائے گا۔ مستصفٰی میں کہا آج کے زمانے میں فتوی زوجین پررد کرنے کے ساتھ ہے، محقق احمدبن یحیٰی بن سعد تفتازانی نے کہابہت سے مشائخ نے فتوٰی دیا ہے کہ زوجین پررَد کیاجائے گا جبکہ ان کے علاوہ اقارب میں سے کوئی موجودنہ ہو، کیونکہ ان دونوں میں پیشوا خراب اورحکام ظالم ہوچکے ہیں الخ۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الفرائض    باب العول    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۵۰۲)
اب بحث طلب بات رہ جاتی ہے کہ فقہائے متاخرین جن کے قول پرفتوی ہے ذوی الارحام مول الموالات، مقرلہ بالنسب علی الغیر، موصی لہ بجمیع المال ان چاروں کے نہ ہونے کی صورت میں ردمذکورکے قائل ہیں، صاحب درمختار کی عبارت مندرجہ ذیل سے صاف معلوم ہوتاہے کہ متاخرین ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ہی کے درجہ میں اورانہیں کے ساتھ ردعلی احدالزوجین کے قائل ہیں۔
چنانچہ وہ فرماتے ہیں :
والرد ضدہ (ای ضد العول) کما مر وحینئذ فان فضل عنہا ای عن الفروض والحال انہ لاعصبۃ ثمۃ یرد الفاضل علیھم بقدر سھامھم اجماعا لفساد بیت المال الاعلی الزوجین فلایرد علیھما وقال عثمان رضی اﷲ عنہ یردعلیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت جزم فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی فراجعہ قلت وفی الاشباہ انہ  یرد علیھما فی زماننا لفساد بیت المال وقدمناہ فی الولاء۔۱؎
ردضد ہے عول کی، جیساکہ گزرا، تواب جب فروض سے کچھ بچ جائے درانحالیکہ کوئی عصبہ وہاں موجودنہ ہوتو  وہ بچاہوامال بالاتفاق ذوی الفروض پر ان کے حصوں کے مطابق رد کیاجائے گا سوائے زوجین کے، حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ زوجین پربھی رَد کیاجائے گا، ایساہی مصنف وغیرہ نے کہاہے۔ میں کہتاہوں اختیارمیں جزم کیا ہے کہ یہ راوی کاوہم ہے توتم اسی کی طرف رجوع کرو۔ میں کہتاہوں اشباہ میں ہے ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پررد کیاجائے گا۔ اس کاذکرپہلے ہم کتاب الاولیاء میں کرآئے ہیں۔(ت)
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الفرائض    باب العول    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۳۶۱)
اگرفقہائے متاخرین کے نزدیک ردعلی الزوجین کادرجہ موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہوتاتو حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ اورمصنف صاحب اشباہ کے اختلاف کویہاں یعنی ردعلی ذوی الفروض النسبیہ کے ساتھ ملاکر بیان کی کیاضرورت تھی حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے قول پرجودلیل کتاب روح الشروح سے منقول ہے اس سے یہی صاف ظاہرہے کہ حضرت عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ ردعلی الزوجین اور ردعلی ذوی الفروض النسبیہ ایک ہی درجہ پررکھتے ہیں کیونکہ اس میں رد کو عول پرقیاس کیاگیاہے اورظاہرہے کہ عول میں ذوی الفروض النسبیہ اوراحدالزوجین برابرہیں توپھر ردمیں بھی ان کوبرابرہوناچاہئے متاخرین کی طرف سے ردعلی الزوجین کی دلیل میں فساد بیت المال بیان کیاجاتاہے اس سے یہ شبہہ ہوتاہے کہ جب ترکہ کے بیت المال میں جانے کا موقعہ ہوتو اس کے فاسد ہوجانے کے باعث ردعلی الزوجین ہوناچاہئے اورجب بیت المال میں جانے کاموقعہ موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہے تو رد علی الزوجین بھی موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہوناچاہئے لیکن درمختار کی عبارت مسطورہ بالاسے معلوم ہوتاہے کہ اس میں رد علی ذوی الفروض النسبیہ کی دلیل سے ہی فسادبیت المال ہی کوپیش کیاہے توچاہئے کہ ردعلی ذوی الفروض النسبیہ بھی موصی لہ بجمیع المال کے بعد ہی ہو اور اس کاتوکوئی قائل بھی نہیں ہے۔ حاشیہ ضیاء السراج وغیرہ سے جوجزئیات علماء نے نقل کئے ہیں وہ سب متقدمین کے مذہب پرمبنی ہیں جوزیادہ تر مروج اورمشہورہے، اسی لئے ردالمحتار میں فرماتے ہیں :
اقول : ولم نسمع ایضا فی زماننا من افتی بشیئ من ذٰلک ولعلہ لمخالفتہ للمتون فلیتأمل لکن لایخفی ان المتون موضوعۃ لنقل ماھو المذھب وھژذہ المسئلۃ مما افتی بھا المتاخرون علی خلاف اصل المذھب۔۱؎
میں کہتاہوں ہم نے اپنے زمانے میں سنابھی نہیں کہ کسی نے ایسافتوٰی دیاہوشاید متون سے اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے۔ پس تأمل چاہئے، لیکن پوشیدہ نہیں کہ متون نقل مذہب کے لئے وضع کئے گئے ہیں، اور یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے جن میں متاخرین نے اصل مذہب کے خلاف فتوٰی دیاہے۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الفرائض     باب العول    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۵۰۲)
بہرکیف اگرکسی صاحب کوکوئی ایسی صریح روایت مل جائے کہ فقہائے متاخرین موصی لہ بجمیع المال کے نہ ہونے کی صورت میں ردعلی الزوجین کے قائل ہیں توخاکسار اوردیگراراکین مستشار العلماء کواپنی رائے بدل دینے میں کوئی عذر نہیں ہوسکتا لیکن حضرات مفتیان نے ابھی تک اس امرکوپایہ ثبوت تک نہیں پہنچایا وہ روایات وجزئیات جن سے معلوم ہوتاہے کہ موصی لہ بجمیع المال کے ہوتے ہوئے ردعلی الزوجین نہیں ہوگا وہ بتمامہا فقہائے متقدمین کے قول پرمبنی نہیں ہے اوراس قول کے موافق اگرموصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہوتو بھی ردعلی الزوجین نہیں ہوسکتا مجھے کسی ایسی روایت کاعلم نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہوکہ موصی لہ بجمیع المال موجودنہ ہوتوردعلی الزوجین ہوگاورنہ نہیں ، اورمیرے خیال میں یہ کسی کابھی مذہب نہیں، بہرصورت جزئیات مندرجہ فتاوٰی متعلقہ مسئلہ ہذا جن سے موصی لہ بجمیع المال کوردعلی الزوجین پرمقدم رکھاگیاہے وہ مذہب متقدمین پرمبنی ہیں نہ متاخرین پرجومتاخرین پرجومفتی بہ مذہب ہے اوراگریہ امرقطعاً ثابت ہوجائے کہ وہ مذہب متاخرین پرمبنی نہیں تو حضرات علماء ریاست کافتوی صحیح ہے مگربنظرامعان صاف معلوم ہوتاہے کہ اس امرکوکسی مفتی نے صاف نہیں کیالہٰذا خاکسار کافیصلہ اس مسئلہ میں وہی ہے جس کو انجمن مستشارالعلماء لاہورنے اپنے فتوٰی میں لکھ دیاہے اورجس کے ساتھ یہی متفق ہیں اس مسئلہ میں اس سے زیادہ بحث فضول ہے اورفیصلہ عدالت کے لئے کافی ہے فقط واﷲ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب۔فقط
الجواب: 

(جواب امام احمدرضاخاں علیہ الرحمۃ)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
الحمدﷲ رب العٰلمین وبہ ثم برسولہ نستعین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبارک علیہ وعلٰی اٰلہ وصحبہ اجمعین۔
تمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہے جوکل جہانوں کاپروردگارہے اوراسی سے پھراس کے رسول سے ہم مددچاہتے ہیں اﷲ تعالٰی اپنے رسول پردورود، سلام اوربرکتیں فرمائے اورآپ کی تمام آل واصحاب پر۔(ت)
الحمدﷲ یہاں فتوٰی پرفیس نہیں لی جاتی
ان اجری الا علی رب العٰلمین۱؎
 (میرا اجرتواسی پرہے جوسارے جہان کا رب ہے۔ت) منی آرڈر واپس کردیا،
 (۱؎ القرآن الکریم     ۲۶/ ۱۰۹ )
سوالات اوران کے متعلق آٹھ فتوے ملاحظہ ہوئے، مفتیوں کے نام نہ لکھناعجیب نہ تھا ایک فتوی میں دوسرے کاجوذکرتھا وہ لکھ کرمحوکردیاگیایابیاض چھوڑی ہے یہاں اس سے کوئی بحث نہیں بعونہ عزوجل تحقیق سے کام  ہے مگراتنی گزارش مناسب ہے بحمدہ تعالٰی یہاں مسائل میں نہ کسی دوست کی رعایت ہے،
ہمارے رب عزوعلانے نہ فرمایا:
یاایھا الذین اٰمنوا کونوا قوامین بالقسط شھداء ﷲ ولوعلی انفسکم۔۲؎
اے ایمان والو! انصاف پرخوب قائم ہوجاؤ اﷲ کے لئے گواہی دیتے ہوئے چاہے اس میں تمہارا اپنانقصان ہو۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم ۴ /۱۳۵)
نہ کسی مخالف سے ضد اورنفسانیت۔ 

کیاہمارے مولٰی تبارک وتعالٰی نے نہ فرمایا:
لایجرمنکم شناٰن قوم علی ان لا تعدلوا اعدلوا ھواقرب للتقوٰی۔۱؎
اورتم کو کسی قوم کی عداوت اس پرنہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم    ۵ /۸)
مولٰی سبحانہ وتعالٰی کی عنایت پھرمصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی اعانت سے امیدواثق ہے کہ لایخافون لومۃ لائم سے بہرئہ وافی عطافرمایاہے، وﷲ الحمد، اسی بنا پر بہت افسوس کے ساتھ گزارش کہ آٹھوں فتووں میں اصلاً ایک بھی صحیح نہیں اکثرسراپاغلط ہیں اوربعض مشتمل براغلاط۔ اب ہم بتوفیق اﷲ تعالٰی اوّلاً کچھ مسائل کاافادہ کریں اورہرافادہ پرجوفوائد متفرع ہوئے اس کے ساتھ لکھیں جن سے وضوح احکام کے ضمن میں یہ بھی واضح ہوکہ ان فتووں نے کہاں کہاں کیاغلطیاں کیں اوران کے علاوہ کیاکیا ضروری باتیں ان کی نظر سے رہ گئیں۔ مفتی صاحبوں نے انصاف فرمایاتو یہ امرباعث ناراضی نہ ہوگابلکہ وجہ شکرکہ مقصود بیان حق واظہاراحکام ہے کہ کسی کے طعن والزام، اوریہ امرقدیم سے معمول علمائے اسلام۔
ثانیاً پانچوں سوالات حال کے جواب دیں۔

ثالثاً ساتوں سوالات سابق کے جواب لکھیں جوان مفتیوں سے کئے گئے اورجواب غلط وناقص ہے، یہ اس لئے کہ محکمہ قضاء نے جن امورکی نسبت تحریرفرمادیاہے کہ فتاوٰی مصدرہ میں جوسوال زیربحث آکرطے ہوچکے ہیں ان کے ذکرکی ضرورت نہیں ان میں بھی اظہارحق ہوکہ قابل اطمینان بات صاف نہ ہوئی تھی اس کاحق ہمیں خود ہی تھا اور اس تحریر دارالقضا کے بعد بدرجہ اولٰی کہ علاوہ امورمستفسرہ کے اگرکوئی اورامربھی قابل اصدار فتوٰی معلوم ہوتو اطلاع بخشیں۔
رابعاً حکم اخیرلکھیں کہ اس مقدمہ میں دارالقضاء کوکیاکرناچاہئے۔
وماتوفیقی الاباﷲ علیہ توکّلت والیہ انیب
 (اورمیری توفیق اﷲ تعالٰی ہی کی طرف سے ہے۔میں نے اسی پربھروساکیااوراسی کی طرف رجوع کرتاہوں۔ت)
 ( ۲؎القرآن الکریم    ۵ /۵۴)
Flag Counter