| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
نقل جواب۷ حامداً ومصلیاً نے کاغذ مندرجہ مسل مقدمہ استفتاء عدالت وصیت نامہ فتوٰی علمائے لاہور، فتوٰی علمائے ریاست دیکھے جواب استفتاء چندمقدمات کی تمہید پرموقوف ہے جومسلم فقہ میں مبین ومبرہن ہے۔ تمہید، میت کے ترکہ میں سے سب سے مقدم جمیع مال سے خرچ تجہیزوتکفین ہے اس کے بعد مابقی میں سے ادائے دیون اس کے بعد مابقی میں سے تنفیذوصیت بالثلث اس کے بعد مابقی کی تقسیم علی فرائض اﷲ، وصیت زائد علی الثلث اس وقت ناجائزہے جبکہ متضمن ابطال حق ورثہ ہو، اوراگرورثہ مال متروکہ کے متعلق نہ ہومثلاً کوئی وارث موجودنہ ہو، یاوار موجودہو اور ابطال حق نہ ہو، یاورثہ اپنے اضرار اورابطال حق کو قبول کرلیں تو وہ وصیت زائد علی الثلث جائزونافذہوگی۔
قال فی الجوھرۃ لان الامتناع لحقھم فیجوز باجازتھم ۱؎، وقال العلامۃ ابوالسعود فلولم یکن وارث ولوحکما صحت الوصیۃ بالکل لان المانع من الصحۃ تعلق حق الوارث۲؎، وقال فی فتح القدیر فالوصیۃ بالزیادۃ علی الثلث تتضمن ابطال حقھم وذٰلک لایجوز من غیر اجازتھم۔۳؎
جوہرہ میں کہا اس لئے کہ ممانعت وارثوں کے حق کی وجہ سے ہے لہٰذا ان کی اجازت سے جائزہوجائے گی۔ علامہ ابوالسعود نے کہااگرکوئی وارث موجودنہ ہو۔ اگرچہ حکمی طورپرتوکل مال کے ساتھ وصیت صحیح ہوگی کیونکہ صحیح ہونے سے رکاوٹ توحق وارث کا اس سے متعلق ہونا ہے۔ فتح القدیر میں کہاتہائی سے زائد کی وصیت وارثوں کے حقوق کے ابطال کومتضمن ہے اور وہ ان کی اجازت کے بغیرجائزہیں ہے۔(ت)
(۱؎ الجوہرۃ النیرۃ کتاب الوصایا مکتہ امدادیہ ملتان ۲ /۳۸۹) (۲؎ فتح المعین کتاب الوصایا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ /۵۲۸) (۳؎ نتائج الافکار(تکملہ فتح القدیر) کتاب الوصایا المکتبۃ النوریۃ الرضویۃ سکھر ۹ /۳۴۶)
اگر زائد علی الثلث اجنبی کووصیت کی اورصرف احدالزوجین وارث موجودہے اوراس نے اس وصیت کوقبول نہ کیا تو اس کااثر صرف اسی قدر ہوگاکہ اول ثلث بطوروصیت نکال کرباقیماندہ تمام مال میں سے ربع یانصف حصہ احدالزوجین نکالاجائے گا اورمابقی بعداحدالزوجین کل یاجز موصی لہ کوبقدروصیت دیاجائے گااوربعدازاں اگرکچھ باقی رہے گاتوبیت المال میں داخل کیاجائے گا تووصیت بثلث المال اس مال کی وصیت سے مقدم ہے جومال ثلث کے بعد باقی رہاہے اور اس کی بھی یہی وصیت کی گئی ہے زوجین کےلئے عدم جواز وصیت کابھی مشروط بایں شرط ہے کہ کوئی دوسراوارث موجودہو۔ اوراگردوسراکوئی وارث موجودنہ ہوتو احدالزوجین کی وصیئت للآخرصحیح ونافذہے، حاصل یہ کہ زوجین کی وصیت سے مانع مزاحمت حق ورثہ ہے اگریہ نہ ہوتو پھرکوئی مانع نہیں خواہ وہ وصیت بالرقبہ ہویابالمنفعت۔
قال فی ردالمحتار والاتصح کما لو اوصی احدالزوجین للاٰخر ولاوارث غیرہ۔۱؎
ردالمحتارمیں کہاورنہ صحیح ہے جیساکہ خاوندبیوی میں سے کوئی ایک دوسرے کے لئے وصیت کرے اوراس کے علاوہ وارث موجودنہ ہو۔(ت)
(۱؎ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۱۶)
ردعلی الزوجین کاحق بیت المال سے اضعف ہے لفساد بیت المال۔اشباہ میں ہے :
انہ یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال۔۲؎۔
ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسد ہوجانے کی وجہ سے زوجین پررَد کیاجائے گا۔(ت)
(۲؎ الدرالمختاربحوالہ الاشباہ کتاب الفرائض باب العول مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۱)
ردالمحتامیں ہے :
قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفساد بیت المال۳؎۔
قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پرردکافتوی دیاجائے گا۔(ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۵۰۲)
پس اگربیت منتظم ہے تومستحقین سے باقیماندہ مال بیت المال میں داخل کیاجائے گا اور اگربیت المال نہیں ہے یاہے اورمنتظم نہیں ہے اوراندیشہ ہے کہ وکیل بیت المال سے اس مال کوبیت المال میں داخل نہ کرے اوراپنے اوراپنے خدام کے صرف میں لائے تواس صورت میں ضرورۃً زوجین پر حسب فتوٰی متاخرین ردکیاجائے گا اوربعدتمہید مقدمہ مذکورہ اس استفتاء کاصحیح جواب یہ ہے کہ واحدبخش متوفی کے جمیع مال متروکہ میں سے سب سے اول اس کی تجہیزوتکفین کاخرچ نکالاجائے گاجس میں رواجی صدقات وخیرات داخل نہیں بشرطیکہ مدعاعلیہ نے یہ خرچ اپنے ذاتی مال میں سے بلااجازت مدعیہ کونہ کیاہو، اوراگرایساکیاہو توتبرع ہوکر اس کابار اس کی ذات پر رہے گا، نہ مدعیہ پر، بعدازاں اگرمتوفی نے مدعیہ کو دین مہرمیں زیورات کی وصیت کی ہے چنانچہ اس کااعتراف ہے اور مدعاعلیہ نے بھی زیورات اس کوتسلیم کرکے قبول کرلیاہے توزیورات اس کودین مہرمیں دیئے جائیں گے اوراگر بالفرض دین مہرمیں نہیں دیئے بلکہ محض وصیت کی تواس صورت میں باقیماندہ تمام مال میں سے دین مہر زوجہ اداکیاجائے گا بعدازاں وصیت جاری کی جائے گی صورت موجودہ میں واحدبخش نے تین وصیتیں کی ہیں جواس تمام مال کومستغرق ہیں ایک وصیت زوجہ کوکی ہے جوصرف زیورات کے متعلق ہے خواہ یہ وصیت محضہ ہو یاوصیت اداء دین مہرکے لئے ہوجیساکہ زوجہ کااقرار اوردوسری وصیت زوجہ کو ہے جومکان کے سکنی اورظروف کے استعمال کے متعلق ہے اورتیسری وصیت باقی ماندہ تمام مال کی شاہ محمدخاں کو کی ہے جس کومدعیہ نے قبول نہیں کیاہے اوروہ وصیت ثلث مال سے زائد کی ہے پس صورت موجودہ میں بعد خرچ تجہیزوتکفین وادائے دین مہرکے لئے ہوجیساکہ زوجہ کااقرارہے اوردوسری وصیت زوجہ کو ہے جومکان کے سکنی اورظروف کے استعمال کے متعلق ہے اورتیسری وصیت باقیماندہ تمام مال کی شاہ محمدخاں کوکی ہے جس کو مدعیہ نے قبول نہیں کیاہے اوروہ وصیت ثلث مال سے زائد کی ہے پس صورت موجودہ میں بعد خرچ تجہیزوتکفین وادائے دین مہر اس طرح نفاذ وصیت کیاجائے گا کہ اگردین مہر تمام زیور سے حسب اقرار زوجہ اداہواہے توزیورچھوڑکر باقیماندہ خواہ مکانات ہیں یاظرف وغیرہ ایک ثلث یعی ۱۲/۴ اول شاہ محمدکودیاجائے گا اورباقیماندہ میں سے چوتھائی حصہ ۸ /۲ جو زوجہ کا ہے یعنی سدس کل ۱۲ /۲ اس کودیاجائے گا پھرباقیماندہ ۱۲/ ۶ بھی بعدم المزاحم شاہ محمد کو دیاجائے گا اورتصحیح سہامات کی بارہ سے ہوگی تمام جائدادمنقولہ اورغیرمنقولہ علاوہ زیورات بارہ سہام ہوکر، اول چارسہام بحکم وصیت بالثلث شاہ محمدکودئے جائیں گے بعدازاں باقی ماندہ آٹھ سہام میں سے دوسہام جو ربع مابقی ہے اورسدس کل ہے عالم خاتون زوجہ کودئیے جائیں گے، بعدازاں چھ سہام باقیماندہ بھکم وصیت زائدعلی الثلث لعدم المزاحم شاہ محمدکودئیے جائیں گے، پس شاہ محمدکواس مال میں سے ۱۲ /۱۰ سہام ملین گے اورعالم خاتون زوجہ کو اس مال میں سے جس کی وصیت شاہ محمدکوکی ہے ۱۲ /۲ سہام دئیے جائیں گے۔ روایات ذیل ملاحظہ ہوں :
قال العلامۃ السعود فی فتح المعین ولواوصت بکل مالھا لزوجھا کان الکل لہ، نصفہ بطریق الارث ونصفہ بطریق الوصیۃ قھستانی عن قاضیخان وکذا یستحق الزوج الکل اذا اوصت لہ بالنصف، ثم قال، وانما قیدوا بالزوجین لان غیرھما لایحتاج للوصیۃ لانہ یرث الکل برد او رحم ۱؎،
علامہ ابوالسعود نے فتح المعین میں فرمایا اگرعورت نے اپنے شوہر کے لئے کل مال کی وصیت کی تو تمام مال شوہرکا ہوگا نصف بطورمیراث اورنصف بطوروصیت۔ قہستانی میں بحوالہ قاضیخان منقول ہے یونہی خاوندکل مال کامستحق ہوگاجبکہ عورت نے اس کے لئے نصف مال کی وصیت کی ہو، پھرکہاکہ مشائخ نے زوجین کے ساتھ قیدلگائی ہے کیونہ ان دونوں کے علاوہ جو ورثاء ہیں انہیں وصیت کی محتاجی نہیں اس لئے وہ رد یارشتہ داری کی وجہ سے کل کے وارث بن جاتے ہیں۔
(۱؎ فتح المعین کتاب الوصایا ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۳ /۲۹۔۵۲۸)
قال العلامۃ ابن عابدین فی ردالمحتار فاذا اوصی بما زاد عل الثلث ولم یکن الاوارث یردعلیہ واجازھا فالبقیۃ لہ وان اجاز من لایرد علیہ ففرضہ فی البقیۃ وباقیھا لبیت المال، فلواوصی بثلثی مالہ واجازت الزوجۃ فلھا ربع الثلث واحد من اثنی عشر مخرج الثلثین وربع الباقی،ولبیت المال ثلثۃ ولزید ثمانیہ وان لم تجزواوصی لہا ایضا اولافقد اوضحہ فی الجوھرۃ فراجعھا ۲؎۔
علامہ ابن عابدین نے ردالمحتارمیں کہا اگرتہائی سے زائد کی وصیت کی اور اس کاصرف ایک ایساوارث موجودہے جس پرردکیاجاتاہے اوراس نے وصیت کی اجازت دے دی تو باقی مال اس کاہے۔ اوراگرایسے وارث نے اجازت دی جس پررَد نہیں کیاجاتا تو اس کافرضی حصہ باقی سے نکال کرجوبچ گیاوہ بیت المال میں رکھاجائے گا۔ اگرکسی نے دوتہائی مال کی وصیت کی اوراس کی بیوی نے اجازت دے دی توبیوی کو ایک تہائی کاچوتھا حصہ ملے گا جوکہ بارہ میں سے ایک بنتاہے اوربارہ مخرج ہے دوتہائی اورباقی کی چوتھائی کا۔ چنانچہ بارہ میں سے بیت المال کے لئے تین اور زیدجس کے لئے وصیت کی گئی تھی کے لئے آٹھ حصے ہوں گے۔ اوراگربیوی نے اجازت نہ دی حالانکہ یہ پہلے اس کے لئے بھی وصیت کرچکا ہے تواس کو جوہرہ میں خوب واضح کیاہے اسی کی طرف رجوع کرو،
(۲؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۱۷)