| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
نقل جواب ۶ یہ فقہ کامسلم الثبوت ہے کہ مصارف تجہیزوتکفین شرعی اورادائے قرض کے بعد جس قدرجائداد منقولہ غیرمنقولہ باقی بچے اس کے تیسرے حصہ میں وصیت جاری اورنافذہوسکتی ہے اوراگرمتوفی نے تیسرے حصے سے زیادہ کی وصیت کی تھی تواس زائد علی الثلث پرنافذہونا وارثوں کی اجازت پر موقوف رہتاہے یعنی اگروہ نفاذ کی اجازت دیں تونافذہوگی ورنہ نافذنہ ہوگی،
کتاب ہدایہ میں ہے :
ولاتجوز بمازاد علی الثلث الا ان یجیزھا الورثۃ بعد موتہ وھم کبار لان الامتناع لحقھم وھم اسقطوہ ۔۱؎ تہائی مال سے زائد کی وصیت جائزنہیں مگر یہ کہ دیگرورثاء موصی کی موت کے بعد اس کی اجازت دے دیں اوروہ ورثاء بالغ ہوں، کیونکہ ممانعت ان کے حق کی وجہ سے ہے اورانہوں نے اپناحق ساقط کردیاہے۔(ت)
(۱؎ الہدایہ کتاب الوصایا مطبع یوسفی لکھنؤ ۴ /۶۵۱)
چونکہ مسئلہ زیرکتب زیربحث میں متوفی واحدبخش کی بیوہ موجودہے جو اس کی وارث ہے اس لئے جس قدر وصیت ترکہ کے ۳ /۱ حصہ سے زیادہ ہے بغیراجازت عالم خاتون بیوہ متوفی کے نافذ نہیں ہوسکتی، ادائے وصیت کے بعد جس قدرجائداد بچے اس میں سے ۴ /۱ حصہ یعنی چہارم حصہ کی جواصلی ترکہ کا ۶ /۱ یعنی چھٹاحصہ ہوتاہے، عالم خاتون بیوہ واحدبخش کاحق ہے
کتاب سراجی میں ہے :
یبدأ بتکفیہ وتجھیزہ بلاتبذیر ولاتقتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذ وصایا من ثلث مابقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ۔۲؎
ابتداء میت کی تجہیز وتکفین سے کی جائے گی نہ تواس میں فضول خرچی اورنہ ہی ضرورت سے کمی کی جائے گی، پھرجوباقی بچا اس تمام سے میت کے قرضے اداکئے جائیں گے، پھرقرض کی ادائیگی کے بعد بچ جانے والے مال کی تہائی سے میت کی وصیتیں نافذ کی جائیں گی، پھرجوباقی بچا اسے کتاب وسنت اوراجماع کے مطابق وارثوں میں تقسیم کیاجائے گا۔(ت)
(۲؎ السراجی مقدمۃ الکتاب مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ۳ و ۴)
نیزکتاب مذکورمیں ہے :
للزوجات حالتان الربع للواحدۃ فاعدۃ عند عدم الولد اوولد الابن وان سفل۳؎۔
بیویوں کی دوحالتیں ہیں، اگرمرحوم خاوند کی اولادیا اس بیٹے کی اولاد نیچے تک کوئی نہ ہو تو ان کوکل مال کاچوتھائی حصہ ملتاہے چاے ایک بیوی ہویامتعدد۔(ت)
(۳؎السراجی فصل فی النساء مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی ص۱۱)
جب ترکہ میں سے ۳ /۱ حصہ یعنی تیسرے حصہ من حیث الوصیۃ اور ۶ /۱ یعنی چھٹاحصہ عالم خاتون کے من حیث الارث دے دیاگیا تواب واحدبخش کے ترکہ میں سے ۱ /۳ یعنی آدھا ترکہ باقی رہ جاتاہے اب سوال یہ ہے کہ باقی ترکہ کس کو دیاجائے، شاہ محمد کویاعالم خاتون کو؟ یہ مسلم الثبوت مسئلہ ہے کہ اگرحصہ داروں کوجس میں کوئی عصبہ نہ ہو ان کے مقرری حصہ دینے کے بعد ترکہ میں سے کچھ بچ جائے تو وہ بھی حصہ داران پربحصہ رسدی ردکردیاجائے لیکن حصہ دار دوقسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ حصہ دارجومتوفی کے برادری کے ہیں مثلاً متوفی کی دختر، اس کی ماں، اس کی ہمشیرہ وغیرہ۔ دوسرے وہ حصہ دارہیں کہ جن سے صرف نکاح کاتعلق ہے یعنی وہ متوفی کاشوہر ہے اگرمتوفی عورت ہو یاوہ متوفی کی بیوہ ہواگرمتوفی مردہوائمہ متقدمین کایہ مذہب ہے کہ وہ بچاہواترکہ پہلے ہی قسم کے حصہ داران پررَد کیاجائے گا اوردوسرے قسم کے حصہ داران پریعنی شوہریابیوہ پر اس کارد نہیں ہوگا اوردرصورتیکہ صرف دوسرے ہی قسم کے حصہ دارہوں ہوگے اور بچاہواترکہ بہ ترتیب ان کو دے دیاجائے گا جورد کے درجہ کے بعد والے ہیں مثلاً ذوی الارحام کو اور ذوی الارحام بھی نہ ہوں تومولی الموالات اور مولی الموالات بھی نہ ہوں تو مقر لہ النسب پر غیر کو ، مقر لہ النسب پر غیر بھی نہ ہوں توموصی لہ بالزائد علی الثلث کو، موصی لہ بالزائد علی الثلث بھی نہ ہو یا اسے دے کربھی کچھ بچ رہے توبیت المال کودیں گے، علمائے علاقہ بہاولپور نے بزارمیں جونقل فرمائے ہیں وہ اس مذہب متقدمین کے موافق ہیں مگرائمہ متاخرین فرماتے ہیں کہ بچاہوا ترکہ جس طرح پہلے قسم کے حصہ داران پربحصہ رسدی ردہوسکتاہے اسی طرح دوسرے قسم کے حصہ داران پربھی رد ہوسکتاہے اوراگرمتوفی کاکوئی رشتہ دارموجودنہ ہوتوجوکچھ بچاہواترکہ ہو وہ احدالزوجین یعنی شوہر کودرصورتیکہ متوفی عورت ہویاعورت کودرصورتیکہ متوفی مرد ہودے دیں گے۔ یہی قول حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے منقول ہے، اور اسی قول متاخرین پرفتوٰی دیاگیاہے، پس اس مفتی بہ قول کے موافق واحدبخش متوفی کے ترکہ میں ہے جو ۴ /۳ یعنی آدھی جائداد عالم خاتون کوبحیثیت رَد کے ملے گی اور ۶ /۱ اس کو بحیثیت میراث کے پہلے ہی مل چکی ہے توظاہرہے کہ عالم خاتون کو اس کے شوہر کے ترکہ میں سے ۶ /۴ یا ۳ /۲ مل جائے گی اورشاہ محمدموصی لہ صرف وصیت کی حیثیت سے ۳ /۱ حقداررہے گا،اب ہم وہ روایتیں نقل کئے دیتے ہیں جن سے متاخرین کے ردعلی الزوجین کاقائل ہوناہواورپھراس کا مفتی بہ ہوناثابت ہو۔
کتاب درمختارمیں ہے:
فان فضل عنھا ای عن الفروض والحال انہ لاعصبۃ ثمۃ یرد ذٰلک الفاضل علیھم بقدرسھامھم اجماعاً لفساد بیت المال الاعلی الزوجین فلایردعلیھما، وقال عثمان رضی اﷲ عنہ یردعلیھما ایضا قالہ المصنف وغیرہ قلت وجز فی الاختیار بان ھذا وھم من الراوی فراجعہ قلت وفی الاشباہ انہ یردعلیھما فی زماننا لفساد بیت المال۔۱؎
اگرمیت کاترکہ فروض سے بچ جائے درانحالیکہ کوئی عصبہ موجودنہ ہوتووہ بچاہوامال پھر ذوی الفروض پران کے حصوں کے مطابق لوٹادیاجائے گاکیونکہ بیت المال میں فسادآچکا ہے، مگرزوجین پررَدنہیں کیاجائے گا، عثمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایاکہ زوجین پربھی رد کیاجائے گا۔ مصنف وغیرہ نے یونہی کہاہے، میں کہتاہوں اختیار میں یقین کیاہے کہ یہ راوی کاوہم ہے تواس کی طرف رجوع کر۔ میں کہتاہوں اشباہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسدہوجانے کی وجہ سے زوجین پر ردکہاجائے گا۔(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الفرائض باب العول مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۱)
کتاب ردالمحتارمیں ہے :
قولہ وفی الاشباہ الخ قال فی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفسادبیت المال وفی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یردعلیہ وکذا البنت والابن من الرضاع یصرف الیھما وقال فی المستصفی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وھو قول المتاخرین من علمائنا وقال الحدادی الفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمدبن یحٰیی بن سعد التفتازانی افتی کثیرمن المشائخ بالرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما ۱؎۔
مصنف کاقول ''الاشباہ میں ہے'' قنیہ میں کہاکہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فساد کی وجہ سے زوجین پر رَدکافتوٰی دیاجاتاہے۔ زیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں ایک کے فرضی حصہ قبول کرنے کے بعد جوبچ جائے وہ اسی پررَدکردیاجائے گا۔ یونہی رضاعی بیٹی اور رضاعی بیٹے کی طرف رَد کردیاجائے گا۔ مستصفٰی میں کہاکہ آج کے دورمیں زوجین پرردکافتوی ہے اوریہ ہی ہمارے متاخرین علماء کاقول ہے، حدادی نے کہا آج کے دورمیں زوجین پر رَدکا فتوٰی ہے۔ محقق احمدبن یحیٰی بن سعد تفتازانی نے کہاکہ بہت سے مشائخ نے زوجین پررَدکافتوی دیاہے جبکہ ان کے علاوہ دیگر اقارب معدوم ہوں۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۵۰۲)
مندرجہ بالا روایتوں سے ردعلٰی الزوجین کامذہب متاخرین نیزاسی کامفتی بہ ہونا بوضاحت ثابت ہوگیا اوراب معلوم ہوگیاکہ علماء علاقہ بہاولپور کی منقولہ روایتیں متقدمین کے مذہب کے موافق ہیں مگر مفتی بہ متاخرین کاقول ہے اراکین مستشار العلماء کومعلوم تھا کہ عام اورمشہور قول عدم الردعلی الزوجین کے موافق عالم خاتون کو صرف ۶ /۱ حصہ مل سکتاہے لیکن کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ایک عام اور مشہورقول کے واسطے قول بالرد علی الزوجین کوجس پرفتوی بھی دیاگیا ہے چھوڑدیں اورخاص کرجبکہ وہ بالکل معقول بھی ہوکیونکہ بعض صورتوں میں جبکہ تمام حصے داروں کے مقرری حصے دینے سے متوفی کاترکہ قاصرہو جس کو علم الفرائض کی اصطلاح میں عول کہتے ہیں تو سب حصے داروں کے حصوں میں سے رسدی طورپر کم کرلیتے ہیں اوراس میں زوجین کومستثنٰی کرتے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ جب متوفی کے ترکہ میں سے کچھ بچ جائے تو اس بچے ہوئے کے دینے سے زوجین کومستثنٰی کردیں اوران کوکچھ بھی نہ دیں خاص کر جبکہ متوفی کاکوئی رشتہ داربھی موجودنہ ہوغرض قول بالردعلی الزوجین کوجومعقول بھی ہے اورمفتی بہ بھی ہے جیساکہ مندرجہ بالا روایتوں سے ثابت ہوتاہے چھوڑدینا اورقول بعدم الردعلی الزوجین پرعمل کرنا خصوصاً جبکہ متوفی کاکوئی رشتہ دار موجودنہ ہو روایت اوردرایت دونوں کے برخلاف ہے۔
نوٹ : وصیت نامہ پرغور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ واحدبخش متوفی نے شاہ محمدخاں کے حق میں کچھ بھی وصیت نہیں کی ہے بلکہ اس کوصرف اپناکارپرداز اوروصی مقررکیاہے چنانچہ وہ اسی وصیت نامہ میں لکھتاہے کہ بعد فروخت یاکہ رہن زررہن یازربیع میرے تجہیزوتکفین اورمیری ارواح پربخش دے گا اب اگروصیت بحق شاہ محمدہوگی توواحدبخش کایہ کہناکہ بعد فروخت یا رہن زررہن یازربیع میری تجہیزوتکفین اورمیری ارواح پربخش دے گا بے معنی ہوجاتاہے کیونکہ اگرشاہ محمدخاں موصی ہوتا تووہ وصیت کاخود مالک ہوتا اورجوچاہتا وہ کرتا اس لئے شاہ محمد خاں کوبحیثیت وصیت کے تیسراحصہ جائدادکاملے گا وہ اس لئے ملے گا ہ وہ بحق واحدبخش کردے یانہ، اس لئے کہ وہ خود اس کامالک بن جائے ھذا واﷲ اعلم بالصواب۔