Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
105 - 135
جواب شر ع شریف

شرعاً یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اور اس سے جوازی وصیت پریہ اثرپیدا ہواکہ حق الارث  شرعی مدعیہ کے ماسوائے مدعاعلیہ کوملے جو موصی لہ ہے جیساکہ جواب سوال۲ میں ہرایک کاحق ظاہرکیاجائے گامدعیہ نے اس وصیت پراعتراض کیا اس شرعاً جائدادمتوفی میں سے مدعیہ وارث شرعیہ کو ۶ /۱  حصہ ملناچاہئے مدعیہ وارث شرعی ہے اس کے حق میں وصیت نہ سمجھی جائے اس لئے کہ وارث شرعی کے واسطے وصیت ناجائزہے بلکہ یہ زیورات حق مہر کے عوض سمجھے جائیں جیساکہ خودمدعیہ کاقول ہے اور خودعبارت وصیت نامہ کی متحمل قوی یہ ہے اورحق مہردین ہوتاہے اس ئے وصیت اورارث دونوں سے مقدم ہے مدعاعلیہ موصی لہ کاتعلق ان زیورات کے ساتھ نہ سمجھاجائے ماسوائے زیورات کے کل جائداد میں ہرفریق کواپنااپنا حصہ ملے گا جیساکہ بالاتشریح ہوچکی ہے اخراجات تجہیزوتکفین کابارحصہ مدعاعلیہ پرجو اس نے اپنے اختیار سے اپنے مال سے خرچ کیاہے، صرف خرچ کرنے دفن میت کاچھ سات روپیہ تک آخردس روپیہ تک اس کابار فریقین پر ہے اس قدرسے زیادہ خرچ کابارخرچ کرنے والے  پرہے،بعد وفات متوفی کے مدعیہ کاحق سوائے چہارم مابقی من الدین والوصیۃ کے کوئی حق رہائش مکان ونان نفقہ وغیرہ کانہیں ہے صورت متنازعہ میں مال متوفی منقولہ وغیرمنقولہ سےاگرمدعیہ کو( ۶ /۱)  حصہ تقسیم کرکے بطورتملیک قطعی دے دیاجائے توحق سے اس کے پورے ہوچکے اس میں کوئی اثرنہیں ہے۔ شرعاً ظروف وغیرہ کابھی بلحاظ سوال نمبر۲۔  ۶ /۱ حصہ مدعیہ کوتقسیم کرکے دے دیاجائے فوت ہونے متوفی کے بعد مال متروکہ متوفی کاعلی حسب حصص شرعی جبراً تملیک ورثاء باقیماندہ کے ہوجاتاہے بعد فوتیدگی صرف تقسیم کرنے متروکہ کے حاجت ہوتی ہے اس صورت میں مدعیہ کواختیارہے اگرچاہے ہرحصہ سے ۶ /۱حصہ بجنسہٖ لے سکتی ہے اگرباختیار خود اپنے حصہ ۶ /۱ فریق ثانی سے لے لے توکچھ مضائقہ نہیں۔
الاٰن نکتب الروایات الفقھیۃ عن المعتبرات الحنفیۃ وفی فتاوی النوازل اوصی لرجل بکل مالہ ومات ولم یترک وارثا الاامرأتہ فان لم تجزفلھاالسدس والباقی للموصی لہ لان لہ الثلث بلااجازۃ فبقی الثلثان فلھا ربعھما وھو سدس الکل درمختار۱؎
اب ہم احناف کی معتبرکتابوں سے فقہی روایات تحریر کرتے ہیں۔ فتاوٰی نوازل میں ہے کوئی شخص کل مال کی وصیت کسی مردکے لئے کرکے مرگیا اورسوائے بیوی کے کوئی وارث نہیں چھوڑا، اگربیوی نے اس وصیت کی اجازت  نہ دی تو اس کوکل مال کاچھٹا حصہ ملے گا اورباقی موصی لہ کوملے گا کیونکہ وہ ثلث کابغیر اجازت حقدار  ہے باقی دوثلث بچے جن میں سے بیوی چوتھائی کی حقدار ہے جبکہ یہ چوتھائی کل کاچھٹاحصہ ہے، درمختار ۔
 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الوصایا    مطبع مجتبائی دہلی    ۲ /۳۱۹)
وعلی ھذا اذا ترک زوجۃ لاوارث لہ غیرھا واوصی لرجل بجمیع مالہ کان لھا سدس وللموصی لہ خمسۃ اسداس لانھا لاتستحق من المیراث شیئا حتی یخرج الثلث للوصیۃ فاذا اخرج الثلث استحقت ربع الباقی ومابقی بعد ذٰلک یکون للموصی لہ بالجمیع واصلہ من اثنی عشر للموصی لہ اربعۃ وھو الثلث یبقی الثلثان، ثمانیۃ للزوجۃ ربعھا اثنان یبقی ستۃ تعودللموصی لہ، فیکون لہ عشرۃ من اثنی عشر وذٰلک خمسۃ اسداسھا جوھرۃ النیرۃ۱؎ شرح قدوری ، وھٰکذا فی فتاوی الھندیۃ وردالمحتار والدرالمختار وھذہ الکتب من معتبرات الحنفیۃ، وان لم تجز واوصی لھا ایضا  اولافقد اوضحہ فی الجوھرۃ فراجعھا وردالمحتار فی قولہ لاالزیادۃ علیہ۲؎ الخ۔
اسی بنیاد پر اگرکسی نے بیوی کے علاوہ کوئی وارث نہ چھوڑا اورکسی مرد کے لئے کل مال کی وصیت کرگیا توبیوی کوکل مال کاچھٹا(۶/۱)حصہ اور وصیت والے مردکو باقی پانچ چھٹے (۶/۵) ملیں گے اس لئے کہ جب تک کل مال سے تہائی حصہ بطور وصیت نہ نکال لیاجائے اس وقت تک بیوی میراث میں سے کسی شیئ کی مستحق نہیں اور جب تہائی حصہ نکال لیاگیا توباقی کے چوتھائی کی مستحق ہوگی، پھرجوباقی بچ گیا وہ کل مال کی وصیت والے شخص کوملے گا، اس کی اصل بارہ سے ہے یعنی کل مال کے بارہ حصے بنائے جائیں گے جن سے ایک تہائی یعنی چارحصے بطوروصیت وصیت والے شخص کوملیں گے باقی دوتہائی یعنی دوحصے بیوی کوملیں گے پھرجوچھ باقی بچ گئے وہ وصیت والے شخص کی طرف لوٹ جائیں گے تو اس طرح وصیت والے شخص کوبارہ میں سے دس حصے مل گئے جوکہ چھ میں سے پانچ ۶/ ۵  ہوئے (جوہرہ نیرہ شرح قدوری) ایساہی فتاوٰی ہندیہ، ردالمحتار اور درمختارمیں ہے جوکہ فقہ حنفی کی معتبرکتابیں ہیں، اوراگربیوی نے اجازت نہ دی جبکہ اس نے پہلے اس کے لئے بھی وصیت کی تھی اس کی وضاحت جوہرہ میں ہے اسی کی طرف رجوع کرناچاہئے، یہ بات شامی میں ماتن کے قول ''لاالزیادۃ علیہ''کے تحت مذکورہے الخ(ت)
 (۱؎ الجوہرۃ النیرۃ    کتاب الوصایا    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۲ /۳۹۰)

(۲؎ ردالمحتار    کتاب الوصایا   داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۱۷)
اورصاحبان انجمن مستشارالعلماء لاہورنے نے اس صورت موجودہ میں ۳ /۱  حصہ یعنی سوم حصہ مدعاعلیہ کابتایا جوموصی لہ تھا اور۳ /۲  حصہ یعنی دوثلث حصہ مدعیہ کابتایا یہ اثربے غوری اورکمال بے توجہی  صاحبان کاہے، اورمحض رائے اپنی لکھ دی اوراس بارہ میں روایت ندارد ، دراصل مسئلہ شرعی اس طورپرنہیںہے بلکہ مسئلہ شرعی اس طورپرہے جومولوی صاحبان خانپورنے لکھاہے یعنی ۶ /۱  حصہ مدعیہ وراثہ کاہے اور۶ /۵  حصہ مدعا علیہ موصی لہ کاہے اور اسی مطلب پرروایات کتب معتبرہ مذہب حنفیہ ناطقہ ہیں اور میرابھی اتقان ان صاحبان سے ہے اوروجہ غلطی صاحبان انجمن کی یہ ہے کہ انہوں نے یہ قول دیکھاہے کہ فی زماننا، مذھب متاخرین کی ایک صورت خاص ہے اورصورت متنازعہ مغائراس کے ہے یعنی صورت خاص یہ ہے کہ متوفی کے حقداروں میں سے صرف ایک زوجہ اس کی موجودہے اور ماسوائے اس کے کوئی حقدارنہ ہوئے اورصورت متنازعہ میں زوجہ کے سوائے دوسرا حقدار بھی موجودہے جوموصی لہ بجمیع المال ہے تواس صورت خاص میں ۴ /۱  یعنی چہارم حصہ ارثی یعنی سہ ربع باقی ماندہ زوجہ کو بالردملناچاہئے کیونکہ اگرسہ ربع باقیماندہ اس کونہ دئیے جائیں تومذہب متقدمین کے مطابق بیت المال کے سوائے دوسری جگہ نہیں ہے سوبسبب فاسد ہونے بیت المال کے فتوٰی متاخرین کایہ ہے کہ یہ سہ ربع باقیماندہ بھی زوجہ متوفی پررَد کئے جائیں کہ وہ وارث شرعی ہے اوربیت المال سے فائق ہے اوریہ فتوٰی متاخرین کاعندالکل مسلم ہے اگرچہ آج تک اس کاردعمل نہیں ہوا، الامانحن فیہ میں جاری نہیں ہوسکتا،
کما مر وقال المحقق احمدبن یحٰیی بن سعد التفتازانی افتی کثیر من المشائخ بالردعلیہما اذالم یکن من الاقارب سواھما لفساد الامام وظلم الحکام فی ھذہ الایام۱ھ وفی المستصفی والفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عندعدم المستحق لعدم بیت المال اذالظلمۃ لایصرفونہ الی مصرفہ ۱ھ اقول ولم نسمع ایضا فی زماننا من افتی بشیئ من ذٰلک ولعلہ لمخالفتہ للمتون فلیتأمل، ردالمحتار ۱؎ فی قولہ وفی الاشباہ الخ فی کتاب الفرائض فی بیان الرد فی باب العول۔
جیساکہ گزرچکاہے محقق احمدبن یحیٰی بن سعد تفتازانی نے کہاکہ اکثرمشائخ نے زوجین پررَد کافتوی دیاہے جبکہ ان کے علاوہ دیگراقارب معدوم ہوں، کیونکہ ہمارے زمانے میں پیشوا خراب اورحکام ظالم ہوچکے وہ بیت المال کوصحیح مصرف میں خرچ نہیں کرتے ۱ھ اقول: (میں کہتاہوں) ہم نے یہ بھی نہیں سناکہ ہمارے زمانے میں کسی نے ایسافتوی دیاہے شاید اس کے مخالف متون ہونے کی وجہ سے۔ تواس میں تأمل چاہئے۔ یہ بات ردالمحتارکے کتاب الفرائض، بیان الردباب العول میں ماتن کے قول ''وفی الاشباہ الخ'' کے تحت مذکورہے۔
 (۱؎ ردالمحتار        کتاب الفرائض    باب العول   داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۵۰۲)
قال علمائنا رحمھم اﷲ تعالٰی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاوّل یبدأ بتکفینہ وتجھیزہ بلاتبذیر ولاتقتیر ثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذ وصایا من ثلث مابقی بعدالدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ سراجی ۱؎۔ ولالوارثۃ وقاتلہ مباشرۃ لاتسببا کما مرالاباجازۃ ورثتہ لقولہ علیہ السلام ولاوصیۃ الوارث الاان یجیزھا الورثۃ یعنی عندوجود وارث اٰخرکما یفیدہ اٰخرالحدیث وسنحققہ ۱۲درمختار۲؎۔
ہمارے علماء رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہم نے فرمایا کہ میت کے ترکہ کے ساتھ بالترتیب چارحقوق وابستہ ہوتے ہیں سب سے پہلے میت کے مال سے زیادتی یاکمی کئے بغیرتجہیزوتکفین کااہتمام کیاجائے گاپھرباقی بچے ہوئے تمام مال سے میت کے قرضے اداکئے جائیں گے۔ پھرقرض کی ادائیگی سے بچ جانے والے مال کے تہائی سے اس کی وصیت نافذکی جائے گی۔ پھرجوباقی بچ گیا اسے کتاب اﷲ، سنت اوراجماع کے مطابق وارثوں میں تقسیم کیاجائے گا(سراجی)۔ وارث اورقاتل المباشرۃ نہ کہ بالسبب کے لئے وصیت جائزنہیں مگریہ کہ دیگرورثاء اس کی اجازت دے دیں جیساکہ گزرچکا، نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت نہیں مگریہ کہ دوسرے ورثاء اس کی اجازت دے دیں یعنی جب کوئی دوسرا وارث موجود ہوجیساکہ حدیث کا آخر اس کافائدہ دیتاہے۔ ہم عنقریب اس کی تحقیق کریں گے(درمختار)۔(ت)
 (۱؎ السراجی     مقدمۃ الکتاب    مکتبہ ضیائیہ راولپنڈی    ص۳و۴)

(۲؎ الدالمختار    کتاب الوصایا         ۲ /۳۱۹)
Flag Counter