Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
104 - 135
(قولہ ثم بعدھم) ای اذا عدم من تقدم ذکرہ یبدأ بمن اوصی لہ بجمیع المال فیکمل لہ وصیتہ لان منعہ عما زاد علی الثلث کان لاجل الورثۃ فان لم یوجد احدمنھم فلہ عندنا ماعین لہ کملا سید ولایخفی ان المراد انہ یاخذ الزائد بطریق الاستحقاق بلاتوقف علی اجازۃ فلایرد ان اخذ الزائد لایشترط فیہ عدم الورثۃ اذ لواجازوا جاز۱۲شامی۔
ماتن کاقول ''پھران کے بعد'' یعنی مقدم الذکر تمام مفقود ہوں توابتداء اس شخص سے کی جائے گی جس کے لئے تمام مال کی وصیت کی گئی ہے اور اس کے لئے وصیت کی تکمیل ہوگی کیونکہ تہائی مال سے زائد کی وصیت وارثوں کی وجہ سے ممنوع تھی، جب ورثاء میں سے کوئی ایک بھی موجدنہیں تو ہمارے نزدیک وہ تمام وصیت والے کودیں گے جس کاتعین موصی نے اس کے لئے کیاہے(سید) اور پوشیدہ نہیں کہ اس سے مرادیہ ہے کہ وہ تہائی مال سے زائد بطوراستحقاق لے گا، کسی کی اجازت پرموقوف نہیں ہوگا، چنانچہ یہ اعتراض واردنہ ہوگا کہ زائد کے لینے کے لئے وارثوں کامعدوم ہوناشرط نہیں کیونکہ اگروہ اجازت دیں توزائد کالیناجائزہوتاہے ۱۲شامی(ت)
اس عبارت لایخفی (پوشیدہ نہیں۔ت) سے مخفی نہیں ہے بلکہ صاف ظاہرہے کہ موصی لہ بکل المال مستحق ہے اور وہ رد علی الزوجین پرمقدم ہے ھذا ماوعدناہ من قبل والحمدﷲ علی الوفاء (یہ وہ ہے جس کاوعدہ ہم نے ماقبل میں کیاتھا اس کے پوراکرنے پرتمام تعریفیں اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں۔ت) اور قولہ لم یثبت (اس کاقول کہ ثابت نہیں۔ت) کی تحقیق علامہ شامی رحمہ اﷲ سے کھل گیاکہ جب اقرارمذکور کومعنیً وصیت قراردیاگیا اورمقرلہ مذکور جمیع مال کامستحق بنابعداخراج اصل فرض احدالزوجین سے تویہ شان وصیت کا ہے پس اس میں کوئی شک نہ رہا کہ وصیت بجمیع المال کوتقدیم ہے ردعلی الزوجین پر۔ الاٰن حصص الحق (اب حق واضح ہوگیا۔ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الفرائض    باب العول    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۸۸)
قولہ ثم یوضع فی بیت المال ای ان لم یوجد موصی لہ بالزائد یوضع کل الترکۃ فی بیت المال اوالباقی ان وجد موصی لہ بمادون الکل۱۲شامی۲؎
ماتن کاقول ''پھربیت المال میں رکھاجائے گا'' یعنی جب ایساشخص نہ پایا جائے جس کے لئے تہائی سے زائد کی وصیت کی گئی ہے تو اس صورت میں کل مال اورتہائی سے زائد اورکل سے کم وصیت والے شخص کے ہوتے ہوئے باقی مال بیت المال میں رکھاجائے گا۱۲شامی(ت)
 (۲؎ردالمحتار    کتاب الفرائض    باب العول    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵ /۴۸۸)
باقی رہایہ امرکہ آیاردعلی الزوجین اورادخال الترکۃ فی بیت المال میں سے کون مقدم ہے سو متقدمین کے نزدیک بیت المال مقدم ہے کیونکہ اس نیک عصرمیں بیت المال صلاحیت میں تھے اور مصرفون مستحقوں میں خرچ ہوتے تھے اورمتاخرون کے نزدیک بسبب فساد بیت المال کے ردعلی الزوجین مقدم ہے بیت المال پراور الیوم فی زماننا ھذا مفتی بہ (اور آج کے ہمارے زمانے میں اسی پرفتوٰی دیاجاتاہے۔ت) یہ قول ہے اورہمارا مسلک بھی یہی ہے اورعمل ہمارابھی اسی  پر ہے۔
وفی القنیۃ ویفتی بالرد علی الزوجین فی زماننا لفسادبیت المال۱۲شامی۔۱؎
قنیہ میں ہے ہمارے زمانے میـں بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے زوجین پررد کافتوی دیاجائے گا۱۲شامی(ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الفرائض    باب العول        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۵۰۲)
صاف ظاہرہےکہ ردعلی الزوجین مقابل اورمربوط بیت المال سے ہے نہ کہ وصیت بکل المال سے وھدایۃ الانصاف من اﷲ الھادی (اورانصاف کی ہدایت ہدایت دینے والے اﷲ تعالٰی کی طرف ہے۔ت) بڑے تعجب کی بات ہے کہ اتنے درازعرصہ تک علمائے لاہور نے اپنے دعوی الرد علی الزوجین مقدم علی الوصیۃ لجمیع المال (زوجن پرَد اس شخص پرمقدم ہے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی۔ت) کی ضعیف جزئی بھی ثابت نہ کی، صرف نکمی تطویل سے اوراق لکھ لکھ کرتضییع اوقات عزیزہ کی فرمائی، صرف ردعلیہما کے مسئلہ معروفہ کولکھ بھیجاجن کا انکار بھی کسی کونہ تھا سو وہ مسئلہ ایسابے موقعہ فرمایاجس کی تردید سے کتاب مملوومشحون ہیں علمایان ریاست نے اپنے دعوی الوصیۃ بکل المال مقدم علی الزوجین(تمام مال کی وصیت مقدم ہے زوجین پرردکرنے سے۔ت) پر، پہلے ابتدائے مسئلہ میں اور اب اس تردید کے ضمن میں کیا صاف صاف واضح جزئیات اظہرمن الشمس ہدیہ ناظرین کئے ہیں، انصاف فرمایاجائے۔
تذییل :  ہم کومعلوم ہوتاہے کہ جن مفتی صاحبان لاہور نے پہلے استفتاء بھیجاتھا اب ہماری تردید پہلے کو ملاحظہ فرماکر وہ صاحبان موصوفہ توبنظرالانصاف خیرالادصاف لب بسکوت ہو رہے ہیں اب اس دوسری مرتبہ مولوی مفتی محمد مجیدصاحب کواشتعال آیاتوانہوں نے قلم اٹھایا اب یقین ہے کہ اس جواب کوملاحظہ فرماکر وہ بھی تسلیم فرمائیں گے اورتحسین کاتحفہ ہم داعیان بالخیر کی طرف ارزانی فرمائیں گے خداوندکریم کرے کہ ان کاشعلہ اس پانی سے مطفی ہوااوربجھ جائے،
ورجاء القبول والثواب من اﷲ تعالٰی وھو اعلم واحکم بالصواب۔
قبول وثواب کی امیدتعالٰی سے ہے درستگی کوخوب جاننے والا اورمضبوط وبہترحکم ولاہے(ت)محررہ بتاریخ ۱۶/اگست ۱۲ء
نقل جواب۵ :  متوفی کے اقرارنامہ میں یہ الفاظ ہیں مالک اور قابض شاہ محمد خاں مذکور ہے یعنی غرضیکہ مالک شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے یہ جملہ شرائط میرے قابل قبول ہوں گے جب تک میں حیات میں موجودہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں بموجب بالاتقسیم ہوں گی، ان لفظوں سے تملیک بعدالموت جس کووصیت کہتے ہیں ثابت نہیں ہوئی توشرعاً اس کاکیانام ہے بیان کیجئے :
سوالات عدالت

(۱)کیابروئے شرع شریف یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی، اوراگرہوئی تواس سے جوازی پرکیا اثرپڑتا ہے؟

(۲)چونکہ شاہ محمدمدعاعلیہ بالکل اجنبی ہے اوروصیت مدعیہ اس کے حق میں ہے ایسی وصیت مدعیہ کے اعتراض پرکس حد تک جائز رہ سکتی ہے یعنی جائداد مدعیہ کوکیاحصہ ملناچاہئے اورمدعاعلیہ کو کیاحصہ ملناچاہئے؟

(۳) جوخاص زیورات قیمتی سماعہ عہ بروئے وصیت مدعیہ کودلائے گئے ہیں اس میں سے مدعاعلیہ کو کوئی حصہ بروئے وصیت مل سکتاہے یاکہ ان زیورات کوحصہ بناکر باقی جائداد میں ہردوفریق کو وہ حصص ملیں گے جوبروئے سول۲اس کے پائے جائیں۔

(۴)اخراجات تجہیزوتکفین مدعاعلیہ نے کئے ہوں وہ مدعاعلیہ کوعلاوہ ملیں گے یاکہ اس کے اپنے حصہ میں چارج ہوں گے یاکہ مدعاعلیہ کے حصہ پران کابار ہوگا؟

(۵) مکان میں جوخوبصورت حق متوفی میں رہنے کے مدعیہ کوحق رہائش دیاگیا وہ شرعاً جائزہے اوراثرپذیر ہے جبکہ مدعیہ کے اعتراض پراس کی بروئے سوال ۲  ایک حصۃ مکان بتملیک قطعی دیدیاجائے؟

(۶) حق متوفی میں رہنے کی شرط پرمدعیہ کوکسی ظروف وغیرہ کابھی دیاجانادرج وصیت ہے کیایہ جائز ہے اوربلحاظ سوال ۳ اثرپذیرہوسکتاہے؟

(۷)جوحصہ جائدادمتوفی میں ہردو فریق کابروئے سوال ۲ قرارپائے وہ مکانات میں اورجائداد منقولہ ۲ وغیرمنقولہ کی قیمت مقررکرکے صرف نقدی رقم بموجب حصہ کے مدعیہ کودلائی جاسکتی ہیں۔
Flag Counter