فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
103 - 135
نقل جواب ۴
(تردید منجانب علمائے ریاست بہاولپور)
ہمارے ہاں بھی مسلم اورماعلیہ العمل یہی قول متاخرون کا ہے جو الیوم رد علی الزجین(آج کل زوجین پر رد۔ت) پرفتوٰی ہے اورسیدنا امیرالمومنین عثمان ذی النورین رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی حدیث اور ان سے بیان وجہ ردعلی الزوجین کااگرچہ درمختار میں اس کاماعلیہ اورشامی میں اس سے جواب نقلا عن روح الشروح کمال الوضوح (روح الشروح سے کامل وضاحت کے ساتھ نقل کرتے ہوئے۔ت) کے مُبیَّن ہے تاہم مع قطع النظر ان دونوں امروں کے ہم کو بالرأس والعین منظورہے مگرتاسف اس کم توجہی مفتی صاحب پرہے کہ ردعلی الزوجین کامحل الوقوع اورموقعہ ملحوظ نہ کرنااوربلاتامل اس کے موصی بجمیع المال سے مقدم رکھنا خلاف عقل اورنقل ہے اورسراسر تحکم وتعسف اوردعوی بلادلیل ہے فقہاء نے ردعلی الزوجین کی علت مرادایہ بیان فرمائی ہے کہ لفساد بیت المال (بیت المال کے فاسد ہونے کی وجہ سے۔ت) چنانچہ مفتی صاحب نے بھی خود تحریرکیاہے اوریہ تو ایک دفعہ بھی نہیں لکھا کہ لفساد الوصیۃ لجمیع المال (کل مال کی وصیت کے فاسد ہونے کی وجہ سے۔ت) اس سے صاف ظاہرہے کہ ردعلی الزوجین جوبناء علی مذہب المتاخرین قول مفتٰی بہ ہے اس کادرجہ صاف ظاہرہے کہ ردعلی الزجین جوبناء علی مذہب المتاخرین قول مفتٰی بہ ہے اس کادرجہ صرف بیت المال سے مقدم ہے چنانچہ بنات المعتق وذوی ارحامہ والبنت والابن من الرضاع (معتق کی بیٹیوں، اس کے ذوی الارحام، اس کی رضاعی بیٹی اوراس کے رضاعی بیٹے۔ت) کوبیت المال سے تقدیم ہے،
کما حققناہ الشامی۱؎ رحمہ اﷲ تحت قولہ فی الاشباہ نقل عن معراج الدرایۃ۔جیساکہ اس کی تحقیق علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے مصنف کے قول فی الاشباہ کے تحت معراج الدرایہ سے نقل فرمائی ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۰۲)
نہ یہ کہ ردعلی الزوجین کومستحقین پرتقدیم ہے بلکہ رد علی ذوی الفروض النسبیہ وذوی الارحام موصی لہ بکل المال(نسبی ذوالفرض پررد، ذوی الارحام اور وہ جس کے حق میں تمام مال کی وصیت کی گئی۔ت) جواہل استحقاق ہے یہ سارے فریق ردعلی الزوجین سے مقدم ہیں اب جزئ صریح اس امرکی کہ:
الموصی لہ بجمیع المال مقدم علی الرد علی الزوجین۔
جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی وہ زوجین پررَد سے مقدم ہے۔(ت)
ہدیہ ناظرین ہے،
وفی السراجی ثم الموصی لہ بجمیع المال ثم بیت المال۲؎ ان لم یکن احدالمذکورین فالمال کلہ للموصٰی لہ لان منعہ عن زیادۃ الثلث کان للمضرۃ بالورثۃ وقدانتفی بھا وان کان احدالزوجین فالباقی لہ وان کان وارث غیرھما فللموصی لہ الثلث۱۲شیخ الاسلام۱؎ ضیاء السراج السراجی ۔
سراجی میں ہے پھروہ جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی پھربیت المال، اگران میں سے کوئی موجودنہ ہوجن کاذکرکیاگیاہے توسارا مال اس شخص کودیں گے جس کے لئے کل مال کی وصیت کی گئی، اس لئے کہ اس کے لئے تہائی مال سے زائد کی ممانعت وارثوں کے ضرر کی وجہ سے تھی اور وہ یہاں منتفی ہے۔ اور اگر زوجین میں سے کوئی ہے توباقی اس کو دیں گے۔ اوراگران دونوں کے علاوہ کوئی وارث ہے توپھرجس کے حق میں کل مال کی وصیت ہے اس کوایک تہائی دیں گے ۱۲شیخ الاسلام ضیاء السراج السراجی۔
وفی المستصفٰی والفتوی الیوم علی الرد علی الزوجین عند عدمہ المستحق لعدم بیت المال ۱۲شامی تحت قولہ وفی الاشباہ والفتوی الیوم بالرد علیھما اذا لم یکن للباقی مستحق لان الظلمۃ لایصرفون مال بیت المال الی مصرفہ مستصفٰی۔۳؎
مستصفٰی میں ہے آج کل فتوٰی زوجین پرلوٹانے کے ساتھ ہے جبکہ کوئی اورمستحق موجودنہ ہو بیت المال کے نہ ہونے کی وجہ سے ۱۲شامی تحت قولہ وفی الاشباہ۔ اورفتوٰی آج کل زوجین پرلٹانے کاہے جبکہ باقی کاکوئی اورمستحق موجودنہ ہو اس لئے کہ ظالم حکمران بیت المال کے مال کو اس کے مصرف میں خرچ نہیں کرتے(مستصفٰی)(ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۵۰۲)
(۳؎ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۵۰۲)
جونقل مستصفٰی کامفتی صاحب نے شامی سے تحت قولہ وفی الاشباہ لکھاہے معلوم ہوتاہے کہ تمام قول کو اول سے آخرتک نہیں دیکھااگردیکھتے اورغورکرتے توعند عدم المستحق کی قیدضرور ساتھ لگاتے جو اس قول میں درج ہے اورہرجگہ رَد ہے صرف ناتمام جزئ نقل کرکے خوش ہورہے ہیں نقل میں ماقبل اورمابعد کے لحاظ چاہئے تاکہ نقل صحیح اورتمام ہونہ کہ ناقص اورغلط، ہاں اگر دیدہ ودانستہ دیکھ کرنہیں لکھا توسفسطہ اورمکابرہ ہے۔
ولیستوضح لک معنی المستحق ویاتیک تحقیقہ عنقریب ان شاء اﷲ تعالٰی۔اورتیرے لئے مستحق کے معنی کی وضاحت کرتے اوراس کی تحقیق آرہی ہے عنقریب ان شاء اﷲ تعالٰی۔(ت)
اب توجہ فرمائیے کہ یہ فریق ایک دوسرے کے عدیل اورردیف ہیں سوائے بیت المال کے سارے فریق ردعلی الزوج سے مقدم ہیں۔
ثم رد علی ذوی الفروض النسبیۃ بقدر حقوقھم ثم ذوی الارحام ثم بعدھم مولی الموالاۃ کما مر فی کتاب الولاء ولہ الباقی بعد فرض احدالزوجین ثم المقرلہ بنسب علی غیرہ لم یثبت فلوثبت حقیقۃ وزاحم الورثۃ ثم بعدھم الموصی لہ بمازاد علی الثلث ولوبالکل ثم یوضع فی بیت المال ۱۲درمختار۔۱؎
پھرنسبی ذوی الفروض پران کے حقوق کے مطابق ردکرنا پھرذوی الارحام پھران کے بعد مولی المولاۃ۔ جیساکہ کتاب الولاء میں گزرا۔ اوراس کو زوجین میں سے ایک کا فرضی حصہ نکالنے کے بعد جوباقی بچے گا وہ ملے گا۔ پھروہ خص جس کے لئے کسی غیرپرنسب کااقرار کیاگیاہو اورنسب ثا بت نہ ہوااور اگرحقیقۃً اس کانسب ثابت ہوگیا تو وہ وارثوں میں شریک ہوجائے گا۔ پھران کے بعد وہ شخص جس کے لئے تہائی سے زائد کی وصیت کی گئی ہو اگرچہ کل مال کی ہو پھربیت المال میں رکھا جائے گا۔(درمختار)۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۵۴۔۳۵۳)
قولہ ثم ذوی الارحام ای یبدأ بھم عند عدم ذوی الفروض النسبیۃ والعصبات فیاخذون کل المال اومابقی عن احدالزوجین لعدم الرد علیھما ۱۲ شامی۲؎۔
ماتن کاقول ''پھرذوی الارحام'' اس کامطلب یہ ہے کہ ذوی الارحام سے ابتداء ہوگی جبکہ نسبی ذوی الفروض اورعصبات نہ ہوں تو وہ ذوی الارحام کل مال لیں گے یا وہ مال لیں گے جو زوجین میں سے ایک کے فرضی حصہ وصول کرنے کے بعد باقی رہ جائے کیونکہ زوجین پردنہیں ہوتا ۱۲ شامی (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۸۷)
قولہ ولہ الباقی ای ان لم یوجد احد ممن تقدم فلہ کل المال الا ان وجد احد الزوجین فلہ الباقی عن فرضہ ۱۲ شامی۱؎۔
ماتن کاقول کہ ''اس کے لئے باقی ہے'' یعنی اگر ماقبل میں مذکور افراد میں سے کوئی موجود نہ ہوتو کل مال اسی کاہے مگرجب زوجین میں سےکوئی موجود ہو تو اس کے فرضی حصہ کے بعد باقی بچے گا وہ اس کوملے گا ۱۲شامی (ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۸۷)
قولہ ثم المقرلہ بنسب علی غیرہ فیعطی کل المال الا اذاکان احد الزوجین فیعطی مافضل بعد فرضہ۱۲شامی۔۲؎
ماتن کاقول کہ ''پھروہ جس کے لئے غیرپرنسب کااقرارکیاگیاہے'' یعنی اس کوکل مال دیاجائے گا مگرجب زوجین میں سے کوئی ایک موجود ہوتو اس کے فرض حصہ کے بعد جوباقی بچاہو اس کو ملے گا۱۲شامی (ت)
(۲؎ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۸۷)
قولہ لم یثبت ای یکون ھذا الاقرار وصیۃ معنیً ولذا صح رجوعہ عنہ ولاینتقل الی فرع المقرلہ و لااصلہ ۱۲شامی۳؎۔
ماتن کاقول کہ ''نسب ثابت نہیں ہوا'' یعنی یہ اقرار باعتبار معنی کے وصیت ہے اسی لئے اس سے رجوع کرناصحیح ہے اوریہ اقرار نہ تومقرلہ کی فرع کی طرف منتقل ہوگا اورنہ ہی اس کی اصل کی طرف ۱۲شامی(ت)
(۳؎ردالمحتار کتاب الفرائض داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۸۸)