فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔)
102 - 135
وھکذا فی فتاوٰی خلاصۃ ، ولامن صبی غیر ممیز اصلا ولوفی وجوہ الخیر خلافا للشافعی وکذا لاتصح من ممیزالافی تجھیزہ وامر دفنہ وعلیہ تحمل اجازۃ عمر رضی اﷲ عنہ لوصیۃ یافع رضی اﷲ عنہ یعنی المراھق درمختار ۱؎، علی حسب اظھارالسائل۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
ایسا ہی فتاوٰی خلاصہ میں ہے، اورنابالغ تمیزنہ رکھنے والے بچے کی وصیت بالکل نافذنہیں ہوتی اگرچہ نیکی کے کاموں کے لئے ہو بخلاف امام شافعی علیہ الرحمہ کے۔ اسی طرح تمیز رکھنے والے نابالغ کی وصیت بھی صحیح نہیں مگر تجہیزوتکفین میں اس کی وصیت صحیح ہے۔ حضرت عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ کاقریب البلوغ لڑکے کی وصیت کوجائزقراردینااسی تجہیزوتکفین پرمحمول ہے(درمختار)۔ یہ حکم سائل کے اظہار کے مطابق ہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
(۱؎ الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹)
بحقیقۃ الحال وصدق المقال (ہمہ) مستفتی نے بعد تکمیل استفتاء ہذا کے بیان کیاکہ متوفی نے چند زیورات معدودہ شخصہ معہودہ کی بابت اپنی زوجہ کے واسطے بھی وصیت کرگیاتھا یعنی کہہ گیاتھا کہ بعد وفات میری کے ان زیورات مذکورات کی مالک میری زوجہ ہے، پس اس کاجواب شرعاً یہ ہے کہ جس چیز کی نسبت متوفی نے اپنی زوجہ کے واسطے وصیت کی ہے وہ چیز سالم متوفی کی زوجہ کی حقیت ہے جوبذریعہ وصیت کے اپنے خاوند سے لے سکتی ہے،
والشاھد فیہ لو اوصی لزوجتہ اوھی لہ ولم یکن ثمۃ وارث اٰخر تصح الوصیۃ ابن کمال درمختار۲ ، ھذا ماعندی ولعل عند غیری ابلغ من ھذا۔
اس پردلیل یہ ہے کہ اگرمرد نے اپنی بیوی کے لئے یابیوی نے اپنے شوہرکے لئے وصیت کی درانحالیکہ وہاں کوئی اوروارث نہیں تو وصیت صحیح ہے، ابن کمال (درمختار)، یہ وہ ہے جومیرے پاس ہے ہوسکتاہے میرے غیرکے پاس اس سے بڑھ کر موجودہو۔(ت)
(۲؎ الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹)
استفتاء : ماقولکم رحمکم اﷲ(تمہاراکیاارشادہے؟ اﷲ تعالٰی تم پررحم فرمائے۔ت) اندریں صورت ایک شخص مسمی واحدبخش جوعرصہ سے مریض تھا اپنے مرض الموت میں مرنے سے دودن پہلے بدیں مضمون وصیت کی کہ چونکہ میں بیمارہوں اورحیات ناپائیدار پراعتبارنہیں ازاں بعد میں وصیت کرتاہوں کہ فلاں فلاں زیورات قیمتی (سماعہ عہ) میرے مرنے کے بعد میری زوجہ مسماۃ عالم خاتون کوبعوض حق المہردئیے جائیں اورماسوائے اس کے کل جائدادمیری کامالک مسمی شاہ محمدخاں ہوگا،بعد کرنے اس وصیت کے فوت ہوگیا اورواضح رہے کہ واحدبخش متوفی وصیت کنندہ کابغیرعالم خاتون کے جو اس کی زوجہ ہے اورکوئی وارث نہیں شاہ محمدموصی لہ ایک اجنبی آدمی ہے، اب دریافت طلب یہ امرہے کہ شرعاً ایسی وصیت کوکیاحکم ملتاہے، بوقت موجودگی وارث دیگراجنبی کے واسطے وصیت جائزہے یانہ؟ اگرجائزہے توجمیع مال سے یاثلث میں عورت کوشرعاً اس کے متروکہ سے کچھ حصہ ملے گایانہیں؟ اوراگرملے گا تو کیا ؟ بیّنواتوجروا۔
نقل جواب ۳ وباﷲ التوفیق
شرعاً بوقت موجودگی ورثہ میت بجمیع مال نافذنہیں ہوسکتی، ثلث سے جاری ہوگی ثلث یعنی مال متروکہ سے تیسرے حصہ سے زیادہ وصیت کرناناجائزہے جن جن زیورات کے بارہ میں مسمی واحدبخش متوفی بعوض حق المہر مسماۃ عالم خاتون زوجہ خود کے دینے کی وصیت کرگیا ہے وہ اس کافرض تھا اوراس کااداکرنا اس کوفرض تھا،
ویبدأ من ترکۃ المیت بتجھیزہ ثم دینہ۔ کنزالدقائق۔۱؎
ترکہ میت میں سے ابتداء اس کی تجہیزوتکفین سے کی جائے گی پھر اس کاقرض اداکیاجائے گا (کنزالدقائق)۔(ت)
میں کہتاہوں کہ اشباہ میں ہے کہ ہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسد ہوجانے کی وجہ سے زوجین پرمیراث کورَد کیاجائے گا۔ اس کاذکر ہم کتاب الولاء میں کرآئے، درمختار۔(ت)
(۴؎ الدرالمختار کتاب الفرائض مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۶۱)
قولہ وفی الاشباہ قال فی القنیۃ و یفتی بالرد علی الزّوجین فی زماننا لفساد بیت المال و فی الزیلعی عن النھایۃ مافضل عن فرض احد الزوجین یرد علی وکذا البنت والابن من الرضاع یصرف الیھما وقال فی المستصفٰی والفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وھو قول المتأخرین من علمائنا وقال الحدادی الفتوی الیوم بالرد علی الزوجین وقال المحقق احمد بن یحٰیی ابن سعد التفتازانی افتی کثیر من المشائخ بالرد علیھما اذا لم یکن من الاقارب سواھما لفسادالامام۔ ردالمحتار شرح الدرالمختار۔۱؎
اوراس کاقول کہ ''اشباہ میں ہے'' قنیہ میں فرمایاہمارے زمانے میں بیت المال کے فاسدہوجانے کی وجہ سے زوجین پررَد کافتوی دیاجائے گا، اورزیلعی میں نہایہ سے منقول ہے کہ زوجین میں سے کسی ایک فرضی حصہ کی وصولی کے بعد جوکچھ بچ جائے وہ اسی پرلوٹادیاجائے گا۔ اسی طرح رضاعی بیٹے اوربیٹی کی طرف میراث کو لوٹاجائے گا۔ اورمستصفی میں کہاآج کے دورمیں فتوٰی زوجین پررَد کرنے کے ساتھ ہے۔ یہی قول ہمارے متأخر علماء کاہے۔ حدادی نے کہاکہ آج کل فتوی زوجین پررَد کرنے کے ساتھ ہے۔ احمدبن یحیٰی بن سعد تفتازانی نے کہا بہت سارے مشائخ نے زوجین پررَد کافتوٰی دیا جبکہ ان کے علاوہ عزیزواقارب میں سے کوئی موجودنہ ہوکیونکہ حکمران بگڑچکے ہیں، ردالمحتار شرح الدرالمختار(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الفرائض باب العول داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۵۰۲)
عبارت کتب معتبرہ مرقومۃ الفوق سے ظاہرہے کہ جمیع مال سے ایک ثلث مسمی شاہ محمدخاں موصی لہ لے گا اوردوثلث مسماۃ عالم خاتون زوجہ متوفی کوملیں گے۔
واﷲ اعلم بالصواب عندہ ام الکتاب۔ ۲۰/رجب المرجب ۱۳۲۹ھ۔
(مفتی مولوی محمدمجیدصاحب لاہوری نے تحریرفرمایا)
مگرائمہ متاخرین یہ فرماتے ہیں کہ بچاہوا ترکہ جس طرح پہلی قسم کے حصے داران پربحصہ رسدی رَد ہوسکتا ہے اسی طرح دوسری قسم کے حصہ داران پربھی رَد ہوسکتاہے اگرمتوفی کاکوئی رشتہ دار موجودنہ ہوتو جوکچھ بچاہواترکہ ہو وہ احدالزوجین کودے دیں گے یعنی موصی لہ بکل المال کونہ دیں گے انتہٰی خلاصہ دو ورق کایہ دوسطریں ہیں