| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
سوال ۲ : زید اس طرح وصیت کرکے مرگیاہے کہ بعد مرنے میرے کے میری جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کامالک عمرو ہے میری تجہیزوتکفین بھی کرے گا اورﷲ میری ارواح کوبھی دے گا بعد وفات زیدکے عمرونے وصیت مذکورہ کوقبول کرکے ایفاء امورات میں لگ گیامتوفی کاوارث بجزایک زوجہ اورکوئی نہیں ہے اب زوجہ متوفی کہتی ہے کہ یہ تمام مال متروکہ شوہرخود صرف میراہی حق ہے میں دوسرے شخص کو دینانہیں چاہتی، پس شرع شریف میں یہ وصیت جائزہے یاکسی طرح اور، زوجہ کاحق مال متروکہ میں کیاہے اوروصیت کاحصہ کیاہے؟ بینواتوجروا۔
نقل جواب۱ مندرجہ سوال حالات میں مسمی واحد بخش کی متروکہ جائدادمیں سے پہلے اس کی تجہیزوتکفین شرعی کاجس میں رواجی صدقات وخیرات شامل نہیں ہیں خرچ اداکرنے کے بعد اس کی بیوہ مسماۃ عالم خاتون کاحق مہر جس قدرعدالت کی رائے میں ثابت ہواداکریں گے اس حق مہراداکرنے کے بعد جس قدرجائداد منقولہ یاغیرمنقولہ باقی بچے اس کے تین حصے کرکےدوحصہ مسمات عالم خاتون بیوہ واحدبخش کو اورایک حصہ شاہ محمدخاں کودیں گے۔ اس مختصرجواب کے بعد عدالت کے سولات کانمبروار جواب دیاجاتاہے:
(۱) یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اورشرعاً جائزہے۔ (۲) عالم خاتون مدعیہ کے اعتراض کرنے پرجائداد متروکہ کے جبکہ اس میں سے واحد بخش کی شرعی تجہیز وتکفین کا خرچ اورعالم خاتون کے حق مہرکی رقم نکالی جاچکی باقی کے تیسرے حصہ میں جائزہوگی اس سے زائد میں جائزنہیں ہوگی اس لئے اس باقیماندہ جائداد میں سے دوحصے عالم خاتون کو اورایک حصہ شاہ محمدخاں کودیں گے۔ (۳) زیورات قیمتی (سماعہ عہ) کی بابت اگریہ ثابت ہوجائے کہ یہ زیورات عالم خاتون کے حق مہر کے عوض میں دئیے گئے ہیں توپھر ان میں شاہ محمدخاں کاکچھ بھی حق نہیں ہے لیکن اگر ان تمام زیورت کے تیسرے حصہ میں اوردوسری صورت میں باقی ماندہ زیورات کے تیسرے حصے میں شاہ محمدخاں کاحق ہوگا اوردونوں صورتوں میں باقی دوحصے عالم خاتون کے حق ہوں گے۔ (۴) تجہیزوتکفین کاخرچ پہلے ہی سے نکال لیاجائے گا اس کابارکسی فریق کے حصے پرنہیں پڑے گا۔ (۵) مسماۃ عالم خاتون کورہائش کا حق شرعاً حاصل نہیں ہے اس بات میں واحدبخش کی وصیت لغو اوربے اثر رہے گی۔ (۶) ظروف وغیرہ کی تقسیم کی بھی یہی صورت ہوگی کہ ان کے تیسرے حصے میں شاہ محمدخاں کاحق ہے اوردوحصے مسمات عالم خاتون کاحق ہے لیکن یہ مناسب ہوگاکہ تمام ظروف شاہ محمدخاں کو دے دئیے جائیں اورعالم خاتون کاحق جوان ظروف میں ہے وہ واحد بخش کی جائداد غیرمنقولہ سے پوراکردیاجائے۔ (۷) فریقین یعنی عالم خاتون اورشاہ محمدخاں کا اصل حق توموجودہ جائداد متروکہ واحد بخش ہی میں ہے لیکن اگرکوئی فریق اپنے حصے کے بدلے اس کی قیمت لینے پر رضامند ہوجائے توعدالت کو لازم ہوگا کہ اس فریق کوقیمت دے دے لیکن کسی فریق کوخواہ وہ عالم خاتون ہویا شاہ محمدخاں اس کے حصے کی قیمت لینے پرمجبورکرنا شرعاً عدالت کے اختیارسے باہر ہے۔ نوٹ : متوفی کی اولادنہ ہونے کی صورت میں بعداداکرنے خرچ تجہیزوتکفین اوراداکرنے حق مہریاایسی ہی اورقرضوں کے جس قدرباقی بچے اس باقیماندہ ترکہ کے تیسرے حصہ میں سے وصیت اداکرنے کے بعد جوباقی بچے اس میں سے چہارم حصہ بیوہ کاحق ہوتاہے۔ لیکن اگر متوفی کاکوئی بھی قریبی یابعیدی رشتہ دار موجودنہ ہو جیساکہ موجودہ سوال کی صورت میں ہے توبعدادائے خرچہ تجہیزوتکفین اورادائے حق مہر ودیگرقرضوں اورادائے حصہ وصیت کے جس قدر باقی بچے وہ سب بیوہ کاحق ہوتاہے جیساکہ کتاب درمختاروردالمحتاروغیرہ میں صاف لکھاہواہے ہذاواﷲ اعلم بالصواب۔
نقل جواب۲ (نقل فتوی مولوی صاحب برانڈامولویان) ھوالملھم بالحق والصواب(یہ حق اوردرستگی کے ساتھ الہام کیاگیا۔ت)
نقل جواب۲ (نقل فتوی مولوی صاحب برانڈامولویان) ھوالملھم بالحق والصواب(یہ حق اوردرستگی کے ساتھ الہام کیاگیا۔ت)
شرعاً یہ وصیت صحیح اورنافذ ہے کیونکہ وصیت کنندہ عاقل بالغ ہے اورزوجہ کاحق مال متروکہ متوفی سے سدس ہے اورباقی عمروموصی لہ کاہے اورﷲ اسباب خیر میں بھی صرف کرے مثلاً تعمیرمسجد کی کرادے یا پل تیارکرادے یاطلبائے علم دین اسلام کودے، روایات کتب معتبرہ اس پردال صریح الدلالۃ اورواضح البیان ہے۔
شواھد : فی فتاوی النوازل اوصی لرجل بکل مالہ ومات ولم یترک وارثا الاامرأتہ فان لم تجز فلھا السدس والباقی للموصی لہ لان لہ الثلث بلااجازۃ فیبقی الثلثان فلھاربعھما وھو سدس الکل درمختار۱؎ قولہ فلھا ربعھما لان الارث بعد الوصیۃ ففرضھا ربع الثلثین الباقین شامی۲؎۔
دلائل: فتاوٰی نوازل میں ہے ایک شخص نے اپنے تمام مال کی کسی مرد کے لئے وصیت کی اورمرگیا درانحالیکہ سوائے ایک بیوی کے اس نے کوئی وارث نہیں چھوڑا، پھراگربیوی نے اجازت نہ دی تواس بیوی کوکل مال کاچھٹاحصہ اورباقی اس شخص کوملے گا جس کے لئے وصیت کی گئی اس لئے کہ وصیت والے مرد کو ایک تہائی توبلا اجازت ملے گا باقی دوتہائی بچاتو بس بیوی کودوتہائی میں سے چوتھا حصہ ملے گا اور وہ کل مال کاچھٹاحصہ بنتاہے (درمختار)۔ ماتن کاقول کہ ''بیوی کودوتہائی کاچوتھا حصہ ملے گا'' وہ اس لئے ہے کہ میراث وصیت کے بعد ہوتی ہے چنانچہ بیوی کافرضی حصہ باقی بچنے والے دوتہائی میں سے چوتھا ہوگا (شامی)۔
(۱؎ الدرالمختار کتاب الوصایا مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۱۹) (۲؎ ردالمحتار کتاب الوصایا داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۲۰)
کذٰلک لومات الرجل عن امرأتہ واوصی بمالہ کلہ لاجنبی واوصی بمالہ کلہ لاجنبی ولم تجز المرأۃ فللمرأۃ السدس وخمسۃ اسداسہ للموصی لہ لان الثلث صار مستحقا بالوصیۃ بقیت الشرکۃ فی ثلثی المال فللمرأۃ ربع ذٰلک والباقی للموصی لہ لان الوصیۃ مقدمۃ علی بیت المال ۱؎ فتاوٰی عالمگیری۱؎۔ وکذلک فی الفتاوی الخلاصۃ، اوصی بثلث مالہ ﷲ تعالٰی فھی باطلۃ وقال محمد رحمہ اﷲ تصرف لوجوہ البردرمختار۲؎۔ قولہ وقال محمد رحمہ اﷲ تصرف لوجوہ البر قدمنا عن الظھیریۃ انہ المفتی بہ ای لانہ وان کان کل شیئ ﷲ تعالٰی لکن المراد التصدق لوجھہ تعالٰی تصحیحا لکلامہ بقرینۃ الحال شامی۳؎، ولواوصی بالثلث فی وجوہ الخیر یصرف الی القنطرۃ اوبناء المسجد اوطلبۃ العلم کذا فی تاتارخانیۃ فتاوٰی عالمگیری۴؎،
اسی طرح اگرکوئی شخص ایک بیوی چھوڑکر مرااورتمام مال کی وصیت کسی اجنبی کے لئے کرگیا اورعورت نے وصیت کی اجازت نہیں دی تواس صورت میں عورت کو کل مال کاچھٹا (۶ /۱) ملے گا، اورباقی پانچ حصے (۶ /۵) وصیت والے شخص کو ملیں گے۔ اس لئے کہ وہ شخص وصیت کے سبب سے ایک تہائی کامستحق ہوگیا اوردوتہائی مال میں شرکت باقی رہی، چنانچہ عورت کو اسی کا چوتھاحصہ ملے گا اورباقی وصیت والے شخص کو ملے گا کیونکہ وصیت بیت المال پرمقدم ہے(فتاوائے عالمگیری)۔ اسی طرح فتاوٰی خلاصہ میں ہے اگرکسی نے اپنے تہائی مال کی اﷲ تعالٰی کے لئے وصیت کی تووہ باطل ہے۔ امام محمدعلیہ الرحمہ نے فرمایا کہ ''اس کو نیکی کے کاموں میں خرچ کیاجائے گا'' ہم بحوالہ ظہیریہ پہلے ذکرکرچکے ہیں کہ بیشک فتوٰی اسی پر ہے اس لئے کہ اگرچہ ہرشیئ اﷲ تعالٰی ہی کے لئے ہے لیکن اس سے مراد اﷲ تعالٰی ہی کے لئے ہے لیکن اس سے مراداﷲ تعالٰی کی رضاکے لئے صدقہ کرناہے تاکہ قرینہ حالیہ کی وجہ سے موصی کاکلام صحیح قرار دیاجاسکے(شامی)۔ اوراگرنیکی کے کاموں میں تہائی کی وصیت کی تو وہ مال پل،مسجد کی تعمیر اورطالبعلموں پرخرچ کیاجائے گا، یونہی تاتارخانیہ میں ہے(فتاوٰی عالمگیری)۔
(۱؎ الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۱۰۵) (۲؎ الدرالمختار کتاب الوصایا الباب الثالث مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۳۲۲) (۳؎ ردالمحتار کتاب الوصایا الباب الثالث داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۴۲۶) (۴؎ الفتاوی الھندیۃ کتاب الوصایا الباب الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۶ /۹۷)