| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۵(کتاب المداینات،کتاب الاشربۃ ، کتاب الرہن ، کتاب القسم ،کتاب الوصایا۔) |
مسئہ ۱۵۸ : ازکچہری چیف کورٹ ریاست بہالپور مرسلہ محمددین صاحب جج ۲۳رمضان المبارک ۱۳۳۲ھ (۱) آج یہ مسل پیش ہوئے فتاوئے مصدرہ میں جوسوال زیربحث اکثرطے ہوچکے ہیں ان کے اس حکم درمیانی میں تفصیل کے ساتھ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ذیل میں ان سوالات کاذکر کیاجاتاہے جن میں: (الف) ابھی تک اطمینان کی ضرورت ہے موصی اگر دوشخصوں کے حق میں وصیت کرے جن میں سے کچھ مال وارث کے نام اوردوسرا کچھ مال ایک شخص اجنبی کے نام جیساکہ اس مقدمہ کی صورت ہے توکیا ایسی وصیتیں جائزاورقابل نفاذہیں، اگرسوال اول کاجواب جواز وصایا متعددہ ہوتوپھر یہ دیکھنا ہے کہ پہلے کون سی وصیت کونافذکرنا چاہئے، آیا اس وصیت کوجوایک وارث کے حق میں کی گئی یا اس وصیت کوجوایک اجنبی شخص کے حق میں کی گئی ہے، اجنبی شخص کے حق میں چونکہ وصیت زائدعلی ثلث المال ہے اس لئے وارث کے اعتراض پراس وصیت کانفاذ ثلث المال تک محدود کرناپڑے گایاکس طرح، ایسی صورت میں اگربحق الوارث ناقابل نفاذقراردی جائے یا اس کانفاذ نفاذوصیت بحق وارث سے مقدم قراردیاجائے توثلث المال میں جمیع مال موصی کاثلث، نفاذ وصیت کے لئے شمارکیاجائے گا یازیورات کو جن کی نسبت متوفی نے شاہ محمدکے نام کوئی وصیت نہیں کی علیحدہ رکھ کر باقی ماندہ کے ثلث پروصیت نافذ ہوگی، دونوں صورتوں میں جوجائزقراردی جائے اس کی سند ہونی چاہئے بعد نفاذوصایا اورادائے فرض ورثاء کے جومال باقی ترکہ متوفی کابچ رہے اس کی تقسیم میں علماء میں بحث اوراختلاف ہے اس کااقتباس یہ ہے :
(۱) باقیماندہ مال اس اصول پر کہ نفاذوصیت لزائد علٰی ثلث المال
(ایک تہائی سے زائد مال کی۔ت) کااب کوئی مزاحم نہیں رہااب موصی لہ بزائد علٰی ثلث المال کوملناچاہئے۔ (۲)باقیماندہ مال کااب چونکہ کوئی حقدارنہیں رہا اورزوجہ موجودہے اس لئے ردعلی الزوجین کے فتوٰی کے مطابق زوجہ کودیاجائے۔ (۳)باقیماندہ کی تقسیم بعدادائے فرائض ودیون وفرائض وصایا کی جوترتیب ہوسکتی ہے وہ حسب ذیل مستحق بالترتیب ہوں گے : ذوی الفرائض۱، عصبات۲، ردذوی الارحام۳، مقرلہ۴، موصی لہ بمازاد علی الثلث۵، ردعلی الزوجین۶، بیت المال۷۔ اسی ترتیب کی روسے بمازادعلی الثلث کودیاجائے۔ فقرہ بالاکی صورت نمبر۲، ۳ میں علما کا اختلاف تقدم وتاخر ردعلی الزوجین اورموصی لہ بکل المال کے ہے اور اس حقوق کے متعلق بحث بھی فتاوی میں بہ تفصیل درج ہے، ایک جزئی سنداس قسم کی زیربحث ہے جس میں علماء متاخرین نے بیت المال کوبوجہ فسادوعدم وجود بیت المال کے ردعلی الزوجین سے متاخرکردیاہے، اور موصی لہ بکل المال کو ردعلی الزوجین پرمقدم رکھنے کے متعلق کوئی سند صریح اورجزیئ ظاہرنہیں کی گئی صرف مندرجہ ذیل استشہاد میں کی گئی جن کودوسرے علماء اسی متاخرین اورمتقدمین کی بحث میں لاکر رد علی الزوجین سے مؤخرخیال کرتے ہیں۔ملاحظہ ہوں فتاوٰی۔ یہ سوالات ہیں جوابھی تک تصفیہ طلب ہیں، نقول فتاوٰی علماء نے منسلکہ مسل معہ نقل استفتاء و نقل وصیت نامہ خدمت میں مولوی صاحب مولوی احمدرضاخاں صاحب بریلوی مرسل ہوں اورالتماس کی جائے کہ ان تمام فتاوٰی کوملاحظہ فرمائیں، اوران سوالات حل طلب کے متعلق اپنی رائے کامعہ استناد جواب تحریر فرماکربہت جلد مرحمت فرمائیں، مبلغ (صہ/) بذریعہ منی آرڈر مولوی صاحب کی خدمت میں بھجوادیئے جائیں، اوریہ بھی التماس ہوکہ علاوہ امورمستفسرہ کے اگرکوئی اورامربھی قابل اصدار فتوی معلوم ہوتواطلاع بخشیں، ملاحظہ فتاوٰی سے اختلاف علماء کے تمام جزئیات اورصورتیں واضح ہوں گی، ہرایک فتوٰی پرعلیحدہ علیحدہ نمبردئیے گئے ہیں مقدمہ چونکہ عرصہ سے دائرہے اس لئے نتیجہ کے بھجوانے کے لئے استدعاکی جاتی ہے کہ بہت جلدی عدالت ہذا میں بھجوایاجائے، تحریر۱۷/اگست۱۳۱۳ھ (مسماۃ عالمون بنام شاہ محمددعوٰی جائداد بروئے وراثت)
نقل وصیت نامہ ادا
میکہ واحد بخش ولددین محمدذات شیخ نومسلم پیشہ نان بائی عمرتخمیناً (صہ للعہ) سال حال مقیم خانپور ریاست بہاولپورکاہوں بجمعی حواس خمسہ وہوش عقل بلااجبار واکراہ احدیکہ اقرارکرتاہوں اورلکھ دیتاہوں اس بات پرکہ مظہربعارضہ بیماری تپ دق کے بیمار ہے اور یہ بیماری ایک ایسی بیماری ہے کہ اس سے نجات قسمت اورخدادادزندگی پرشفایابی حاصل ہوتی ہے اوراب مجھ کوایسے نازک وقت پراپنی جائداد منقولہ وغیرمنقولہ کا انتظام بھی کرناضرورہے تاکہ پسماندگان میرے میں کوئی تکرارمداربرپانہ ہو، پس اب میں اس طرح پراپنا انتظام کرتاہوں کہ چونکہ میراکوئی فرزندنرینہ یامدینہ نہیں ہے صرف ایک عورت نوجوان ہے جس پریہ بھروساکم ہے کہ بعد موتیدگی میرے کے وہ میرے حق میں رہے اوریہ ضرور ہے کہ میری جائداد بعد میرے تباہ وخراب ہوجائے اس کایہ انتظام ہے کہ زیورات ذیل کنٹھمالہ طلائی ۸یاپانچ لڑی قیمتی (یاعہ ۲۰) کڑیاں نقرہ ایک جوڑا قیمتی یک صدروپیہ، چندن ہارایک قیمتی مبلغ (صہ ) تولہ طلائی، اورایک عدد قیمتی (عہ ؎/ ) عطردان، ایک قیمتی مبلغ سے بازوبند نقرہ، ایک جوڑہ قیمتی سے کنگن نقرہ، دانوال ایک جوڑہ قیمتی مبلغ (عہ)کل جملہ مبلغ (ماعہ عہ) کے زیورات، مندرجہ بالا اپنی زوجہ مسماۃ عالم خاتون کوملے گا ان زیورات سے کسی کا تعلق اور واسطہ نہ ہوگا، میری زوجہ مسماۃ عالم خاتون مذکورہ بالاکے ہیں، ماسوائے اس کے میری جائداد غیرمنقولہ ازقسم مکانات رہائش بمقام نوشہرہ ہیں اوروہ پیداکردہ مظہرکے ہیں ان کاانتظام اس طورپر رہے گا کہ وہ مکانات زیرحفاظت شاہ محمدخاں ولد مسکرخاں ذات نانبوچی سکنہ خان پور کے اورمالک بھی یہی رہے گا اگرمظہر کی عورت مظہرکے حق میں رہ کرگزارہ کرے تو اس کوفقط حق آسائش کاحاصل رہے گاوہ یعنی تاحق مظہرآبادرہے گی، رہن اوربیع مسماۃ عالم خاتون زوجہ ام کواختیار ہرگزنہ ہوگا اوراگروہ کسی دوسری جگہ اپناعقد نکاح کرادے یاجدید خاوندکرے تواس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق اورواسطہ نہ ہوگا مالک اورقابض شاہ محمدخاں مذکورہے اور اس کو اختیارہے کہ اس کو فروخت کرے یارہن کرے بعد فروخت یارہن زررہن یازربیع میری تجہیزوتکفین اورمیری ارواح پربخش دے گا یعنی غرضکہ مالک شاہ محمدخاں مکانات وغیرہ کاہے اورعلاوہ اس کے اسباب خانہ داری ازقسم برتن گلی ومسی وکٹ وغیرہ دیگچہ ہامسی وتھالی کلاں مسی وکٹورہ کٹ وچارپائی ہائے وغیرہ جملہ سامان خانہ دارری کامالک بھی شاہ محمدخاں رہے گا، بموقع محفل امامین شہیدین شریفین شاہ محمدخاں جملہ برتن ہائے میں سے گلیم دری کلاں وغیرہ لے جائے اوراستعمال کرے سب کچھ شاہ محمدخاں کے اختیار میں ہوگا زوجہ ام مسماۃ عالم خاتون کوضرورت استعمال کے لئے دئیے جائیں گے بشرطیکہ وہ فروخت یابیع روپوش نہ کرے ورنہ کلہم اشیاء مندرجہ بالا کامالک شاہ محمد خاں ہے جس نے میری خدمت گزاری اور وفاداری ازحدکی ہے بعد انتقال میری بھی تجہیزوتکفین کاانتظام کرے گا اورمیری منزلت آخر کو پورا انجام دے گا۔ یہ جملہ شرائط بعد میرے قابل تعمیل ہوں گی جب تک میں حیات موجودہوں کسی کاتعلق نہیں بعد میں بموجب بالاتقسیم ہوں گے اورقابل عمل ہوں گی لہٰذا ایں چند حروف بطور وصیت نامہ لکھ دیتاہوں کہ سندرہے اوروقت حاجت کے کام آئے المرقوم ۲۲صفر۱۳۳۱ھ مطابق ۲۳فروری ۱۹۱۱ء
استفتاء
مسمی واحدبخش مرگیاہے صرف ایک بیوہ مسماۃ عالمون چھوڑگیاہے دیگرکوئی اس کاوارث نہیں مرنے سے قریب ایک یادوماہ یاپندرہ یوم وہ چہارپائی بند ہوگیا اس کوتپ دق کی بیماری تھی اسی بیماری میں وہ فوت ہوا، ہوش اس کو آخرتک رہی، مرنے سے ایک ہفتہ پہلے اس کے معالج نے یہ کہہ دیاتھا کہ وہ اب نہ بچے گا اوراس لئے اس کاعلاج کرنابھی چھوڑ دیاتھا، مرنے سے قریب تین چاریوم پہلے ۲۳فروری ۱۳۱۱ھ کو واحدبخش مذکور نے ایک وصیت تحریری تکمیل کی، اس وصیت کی ایک نقل شامل ہذا کی جاتی ہے یہ شاہ محمدموصی کانہ رشتہ دار نہ ہم قوم ہے، متوفی ایک نومسلم تھاجو اپنے آپ کووصیت میں شیخ نومسلم پیشہ نان بائی لکھتاہے، اسی شاہ محمد کے گھر میں وہ مراجس نے اس کی تجہیز وتکفین وغیرہ کی، اب دعوی جائداد متوفی کاباہم اس شاہ محمد کے اورعالم خاتون بیوہ موصی کے ہے، موخرالذکر مدعیہ ہے وہ مانتی ہے کہ شاہ محمد مدعاعلیہ نے پاس اس کو زیورات قیمتی (سماعہ عہ) (جس کاذکر وصیت میں ہے) بعد وفات موصی دے دئیے ہیں لیکن وہ کہتی ہے کہ شاہ محمد مدعاعلیہ کے پاس دیگر زیورات واثاث البیت ظروف وغیرہ مالیت (ماعہ ۱۴/) اوردومنزل مکانات قیمت آٹھ سوروپے ازترکہ شوہرش مذکور موجود ہیں، وہ بھی شرعاً تنہا مدعیہ کو ملناچاہئے مدعاعلیہ کاکوئی حق نہیں، وصیت کی تکمیل اورجوازی دونوں کو وہ تسلیم نہیں کرتی جوزیورات قیمتی سماعہ ورثہ مدعیہ کو ملے ہیں ان کی نسبت وہ یہ کہتی ہے کہ مجھ کو حق مہرمیں شوہردے گیاہے، شاہ محمد مدعاعلیہ کو وصیت کی تعمیل پراقرار ہے وہ کہتاہے کہ وصیت جائزہے اوریہ کہ مدعیہ حرام کاری کرتی ہے اس لئے بروئے وصیت مکانات میں نشست کی بھی حقدارنہیں رہی اوریہ کہ وصیت کومدعیہ نے وصیت اورنیز بعدوفات شوہر خودقبول کیاتھا سوال یہ ہیں :
(۱)کیابروئے شرع شریف یہ وصیت مرض الموت میں ہوئی اوراگرہوئی تواس سے جوازی وصیت پرکیا اثرپڑتاہے؟ (۲)چونکہ شاہ محمدمدعاعلیہ بالکل اجنبی ہے اوروصیت اس کے حق میں ہے ایسی وصیت مدعیہ کے اعتراض پرکس حد تک جائز رہ سکتی ہے یعنی جائدادمتوفی میں مدعیہ کوکیا حصہ ملناچاہئے؟ (۳) جوخاص زیورات قیمتی سماعہ عہ بروئے وصیت مدعیہ کودلائے گئے ہیں کیاان میں سے مدعاعلیہ کوکوئی حصہ بروئے وصیت مل سکتاہے یایہ کہ ان زیورات کوچھوڑ کرباقی جائداد میں ہردوفریق کو وہ حصص ملیں گے جوبروئے سوال ۲ ان کے پائے جائیں۔ (۴) جواخراجات تجہیز وتکفین مدعاعلیہ نے کئے ہوں مدعاعلیہ کوعلاوہ ملیں گے یاکہ اس کے اپنے حصے پرچارج ہوں گے یعنی یایہ کہ مدعاعلیہ کے حصہ پران کابارہوگا؟ (۵)مکان میںجوبصورت حق متوفی میں رہنے کے مدعیہ کو حق رہائش دیاگیاہے کیاوہ شرعاً جائزہے اوراثرپذیر ہے جبکہ مدعیہ کے اعتراض پراس کوبروئے سوال ۲ایک حصہ مکان تملیک قطعی دے دیاجائے۔ (۶) حق متوفی میں رہنے کی شرط پرمدعیہ کے ظروف وغیرہ کابھی دیاجانادرج وصیت ہے کیایہ چیزہے اوربلحاظ سوال ۲اثرپذیرہوسکتاہے؟ (۷) جوحصہ جائداد متوفی میں ہردوفریق کاسوال ۲قرارپائے وہ مکانات میں اورجائداد منقولہ میں جداجدا دیاجاسکتاہے یاکہ بالکل جائداد منقولہ غیرمنقولہ کی قیمت مقررکرکے صرف نقدی رقم بموجب حصہ کے مدعیہ کودلائی جاسکتی ہے۔۱۷جنوری