Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
99 - 160
یوہیں اگرباہم کسی طرح کی شکررنجی یاکسی بندہ کے حق میں کچھ کمی ہو جیسے صحابہ رضوان اﷲ تعالٰی علیہم اجمعین کے مشاجرات کہ:
ستکون لاصحابی زلۃ یغفرھا اﷲ تعالٰی لھم لسابقتھم معی۱؎۔
عنقریب میرے ساتھیوں سے کچھ لغزشیں ہوں گی جنہیں ان کی پیش قدمی کے باعث اﷲ تعالٰی معاف فرمادے گا۔(ت)
 (۱؎ الجامع الصغیر     حدیث ۳۳۵۶                دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۱/ ۲۰۱)
تومولٰی تعالٰی وہ حقوق اپنے ذمہ کرم پر لے کر ارباب حقوق کوحکم تجاوزفرمائے گا اور باہم صفائی کراکر آمنے سامنے جنت کے عالیشان تختوں پربٹھائےگاکہ:
ونزعنا ما فی صدورھم من غلّ اخوانا علٰی سرر متقٰبلین۲؎۔
ان کے سینوں کو کینوں اور کدورتوں سے ہم پاک صاف کردیں گے پھر وہ بھائی بھائی ہوکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے تخت نشین ہوں گے۔(ت)
 (۲؎ القرآن الکریم     ۱۰/ ۶۲)
اسی مبارک قوم کے سروروسردار حضرات اہل بدررضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین جنہیں ارشاد ہوتاہے:
اعملوا ماشئتم فقد غفرت لکم۳؎۔
جوچاہوکرو کہ میں تمہیں بخش چکا۔
 (۳؎ صحیح البخاری     کتاب المغازی     باب فضل من شہدبدرا         قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲/ ۵۶۷)
انہیں کے اکابرسادات سے حضرت امیرالمومنین عثمان غنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ ہیں جن کے لئے بارہا فرمایاگیا:
ماعلی عثمٰن ماعمل بعد ھذہ ماعلی عثمٰن ماعمل بعد ھذہ۴؎۔
آج سے عثمان کچھ کرے اس پرمواخذہ نہیں، آج سے عثمان کچھ کرے اس پرمواخذہ نہیں۔
 (۴؎ جامع الترمذی     ابواب المناقب     مناقب عثمان ابن عفان         امین کمپنی دہلی         ۲/ ۲۱۱)
فقیرغفراﷲ تعالٰی کہتاہے حدیث:
اذا احب اﷲ عبداً لم یضرہ ذنب رواہ الدیلمی فی مسند الفردوس ۵؎ و الامام القشیری فی رسالتہ وابن النجار فی تاریخہ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
جب اﷲ تعالٰی کسی بندے سے محبت کرنے لگے تو اسے کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا، محدث دیلمی نے اسے مسند الفردوس میں، امام قشیری نے اپنے رسالہ میں اور ابن نجار نے اپنی تاریخ میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے حوالہ سے اسے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے روایت کیا۔(ت)
 (۵؎ الفردوس بمأثور الخطاب     حدیث ۲۴۳۲                دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۲/ ۷۷)

(الدرالمنثور         بحوالہ القشیری وابن نجار تحت آیۃ ان اﷲ یحب التوابین الخ     منشورات مکتبۃ آیۃ العظمٰی قم ایران ۱/ ۲۶۱)
کاعمدہ محمل یہی ہے کہ محبوبان خدا اول توگناہ کرتے ہی نہیں     ع
ان المحب لمن یحب مطیع
(بے شک محبت کرنے والا جس سے محبت کرتاہے اس کافرمانبردار مطیع ہوتاہے۔ت)
وھذا مااختارہ سیدنا الوالد رضی اﷲ تعالٰی عنہ
 (اور اسی کو ہمارے والدگرامی (اﷲ تعالٰی ان سے راضی ہو) نے پسندفرمایا۔ت ) اور احیاناً کوئی تقصیر واقع ہو تو واعظ وزاجرالٰہی انہیں متنبہ کرتا اور توفیق انابت دیتاہے پھر
التائب من الذنب کمن لاذنب لہ۱؎
 (گناہوں سے توبہ کرنے والا اس آدمی کی طرح ہوجاتاہے جس نے کوئی گناہ کیاہی نہ ہو۔ت) اس حدیث کاٹکڑا ہے
وھذا مامشی علیہ المناوی فی التیسیر
 (یہ وہی ہے جس پر علامہ مناوی نے تیسیر میں روش اختیارفرمائی۔ت) اور بالفرض ارادئہ الٰہیہ دوسرے طورپرتجلی شان عفو ومغفرت واظہار مکان قبول ومحبوبیت پرنافذ ہوا تو عفومطلق وارضائے اہل حق سامنے موجود، ضرر ذنب بحمداﷲ تعالٰی ہرطرح مفقود،
والحمدﷲ الکریم الودود، وہذا مازدتہ بفضل المحمود
 (سب تعریف اس خد اکے لئے جو بزرگ وبرتر، معزز اور بندوں کودوست رکھنے والا اور ان کامحبوب ہے، یہ وہ ہے جس کا میں نے اﷲ تعالٰی ستودہ صفات کے فضل وکرم سے اضافہ کیاہے۔ت)

فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ کے گمان میں حدیث مذکور ام ہانی رضی اﷲ تعالٰی عنہا
ینادی مناد من تحت العرش یااھل التوحید، الحدیث۲؎
 (عرش کے نیچے سے ایک نداکرنے والا نداکرے گا اے توحید پرستو، الحدیث۔ت) میں اہل توحید سے یہی محبوبان خدا مراد ہیں کہ توحید خالص تام کامل ہرگونہ شرک خفی واخفی سے پاک ومنزہ انہیں کاحصہ ہے بخلاف اہل دنیا جنہیں عبدالدینار عبدالدرہم عبد طمع عبدہوٰی عبدرغب فرمایاگیا۔
 (۱؎ الفردوس بماثور الخطاب         حدیث ۲۴۳۲    دارلکتب العلمیۃ بیروت     ۲/ ۷۷)

(۲؎ المعجم الاوسط         حدیث ۱۳۵۸    مکتبۃ المعارف الریاض     ۲/ ۲۰۰)
وقال اﷲ تعالٰی افرأیت من اتخذ الٰھہ ھواہ۱؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: (اے محبوب!) کیا آپ نے دیکھا جس نے اپنی خواہش کواپنامعبود بنارکھاہے۔(ت)
(۱؎ القرآن الکریم     ۴۵/ ۲۳)
اور بیشک بے حصول معرفت الٰہی اطاعت ہوائے نفس سے باہرآناسخت دشوار، یہ بندگان خدا نہ صرف عبادت بلکہ طلب وارادت بلکہ خود اصل ہستی ووجود میں اپنے رب جل مجدہ کی توحید کرتے ہیں
لاالٰہ الا اﷲ
 (اﷲ تعالٰی کے سواکوئی سچامعبود نہیں۔ت) کے معنی عوام کے نزدیک
لامعبود الااﷲ
 (اﷲ تعالٰی کے سوا کوئی ایسانہیں جس کی عبادت کی جائے۔ت)، خواص کے نزدیک
لامقصود الااﷲ
 (اﷲ تعالٰی کے سوا مقصود ومطلوب نہیں۔ت)، اہل ہدایت کے نزدیک
لامشھود الااﷲ
 (اﷲ تعالٰی کے کے سواکوئی ایسانہیں جس کی وحدانیت کی گواہی دی جائے اور جس کی بارگاہ میں مخلوق حاضر ہونے والی ہو۔ت) ان اخص الخواص ارباب نہایت کے نزدیک
لاموجود الااﷲ
 (اﷲ تعالٰی کے سواحقیقتاً کوئی موجود نہیں۔ت) تواہل توحید کاسچانام انہیں کوزیبا، ولہٰذا ان کے علم توحید کہتے ہیں:
جعلنا اﷲ تعالٰی من خدامھم و تراب ا قدامھم فی الدنیا ولاٰخرۃ وغفرلنا بجاھھم عندہ انہ اھل التقوٰی واھل المغفرۃ اٰمین!
اﷲ تعالٰی ہمیں ان کے خادموں میں شامل فرمائے اور دنیاوآخرت میں ان کے قدموں کی مٹی بنادے اور ان کے اس مرتبہ عالیہ کے طفیل جو ان کا اس کی بارگاہ میں ہے ہمیں بخش دے بیشک وہی اس لائق ہے کہ اس سے خوف رکھاجائے اور وہی بخش دینے کی اہلیت رکھتاہے۔ اے اﷲ! میری دعا قبول ومنظور فرما۔(ت)
امیدکرتاہوں کہ اس حدیث کی یہ تاویل تاویل امام غزالی قدس سرہ العالی سے احسن واجود، وباﷲ التوفیق۔

پھر ان صورتوں میں بھی جبکہ طرزیہی برتی گئی کہ صاحب حق کو راضی فرمائیں اور معاوضہ دے کر اسی سے بخشوائیں تو وہ کلیہ ہرطرح صادق رہا کہ حق العبد بے معافی عبدمعاف نہیں ہوتا۔ غرض معاملہ نازک ہے اور امرشدید اور عمل تباہ امل بعید، اور کرم عمیم اوررحم عظیم، اور ایمان خوف ورجا کے درمیان۔
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم وصلی اﷲ تعالٰی علٰی شفیع المذنبین نجاۃ الہالکین مرتجی البائسین محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین والحمد ﷲ رب العٰلمین، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اور ہمیں اﷲ تعالٰی ہی کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے ، اور گناہوں سے کنارہ کش ہونے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قدرت اس کی توفیق وعنایت کے بغیرکسی میں نہیں، وہ بلندمرتبہ بزرگ وبرتر ذات ہے، اﷲ تعالٰی کی بے پایاں رحمتیں ہوں گنہگاروں کیلئے سفارش کرنے والی ذات پر، تباہ حالوں کے وسیلہ نجات پر اور ناامید ہونے والوں کے مرکز امیدپریعنی ہمارے آقاومولٰی حضرت محمدمصطفی صلی اﷲتعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم پر، ان کی سب اولاد اور ساتھیوں پر، سب تعریف اﷲ تعالٰی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کاپروردگارہے اور اﷲ تعالٰی پاک بلند وبالا سب سے بڑا عالم ہے اور اس عظمت والی ذات کاعلم نہایت درجہ کامل اور محکم ومضبوط ہے۔(ت) ۱۴/جمادی الاولٰی ۱۳۱۰ھ
رسالہ

اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد

ختم ہوا
Flag Counter