Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
98 - 160
قال المناوی فی التیسیر ظاھرہ وان کان المقتول عاصیا ومات بلاتوبۃ ففیہ ردّ علی الخوارج والمعتزلۃ۴؎اھ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ اقول:  بل لامحمل لہ سواہ فانہ ان لم یکن عاصیا لم یمر القتل بذنب وان کان تاب فکذالک فان التائب من الذنب کمن لاذنب لہ۔
علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا اس کاظاہر مفہوم یہ ہے کہ اگرچہ مقتول گنہگار ہو اور بغیر توبہ مرجائے۔ پس اس میں خارجیوں اور معتزلہ کاردہے اھ، مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے حاشیہ پر لکھا کہ جس کی عبارت یہ ہے میں کہتاہوں بلکہ اس کے علاوہ اس کا اور کوئی محمل نہیں اس لئے کہ اگرمقتول گنہگار نہ ہوتو پھرقتل کاگناہ پرگزرنہ ہوگا(گناہ ہی نہ ہوتو اس پرگزرکیسا) اور اگر اس نے توبہ کرلی توپھر بھی یہی حکم ہے اس لئے کہ گناہوں سے توبہ کرنے والا اس شخص کی طرح ہوجاتاہے کہ جس کاکوئی گناہ ہی نہیں۔ت)
 (۴؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر     تحت حدیث قتل الصبر الخ         مکتبۃ الامام الشافعی الریاض     ۲/ ۱۹۳)
احادیث مطلق ہیں اور مخصص مفقود وحدث عن البحر ولاحرج اورہم نے سنی المذہب کی تخصیص اس لئے کی کہ حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لو ان صاب بدعۃ مکذبا بالقدر قتل مظلوما صابرا محتسبا بین الرکن والمقام لم ینظراﷲ فی شیئ من امرہ حتی یدخلہ جہنم۔ رواہ ابوالفرج فی العلل۱؎ من طریق کثیر من سلیم تاانس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فذکرہ۔
اگرکوئی بدمذہب تقدیرہرخیروشرکامنکر خاص حجراسود ومقام ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درمیان محض مظلوم وصابر ماراجائے اور وہ اپنے اس قتل میں ثواب الٰہی ملنے کی نیت بھی رکھے تاہم اللہ عزوجل اس کی کسی بات پر نظر نہ فرمائے یہاں تک کہ اسے جنہم میں داخل کرے، والعیاذباﷲ تعالٰی۔ (ابوالفرج نے العلل میں کثیر بن سلیم تاانس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی سند سے روایت کیا اور فرمایا کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا، پھرپوری حدیث کوذکرکیا۔ت)
 (۱؎ العلل المتناہیۃ  باب دخول المبتدع النار  حدیث ۲۱۵ نشرالکتب الاسلامیہ لاہور  ۱/ ۱۴۰)
چہارم مدیون جس نے بحاجت شرعیہ کسی نیک جائز کام کے لئے دین لیا اور اپنی چلتی ادا میں گئی نہ کی نہ کبھی تاخیرناروارکھی بلکہ ہمیشہ سچے دل سے ادا پرآمادہ اور تاحد قدرت اس کی فکرکرتا رہا پھر بمجبوری ادانہ ہوسکا اورموت آگئی تومولٰی عزوجل اس کے لئے ا س دین سے درگزرفرمائے گا اور روزقیامت اپنے خزانہ قدرت سے ادافرماکر دائن کوراضی کردے گا اس کے لئے یہ وعدہ خاص اسی دین کے واسطے ہے نہ تمام حقوق العباد کے لئے۔
احادیث احمدوبخاری وابن ماجہ حضرت ابوہریرہ اور طبرانی معجم کبیر میں بسند صحیح حضرت میمون کردی اور حاکم مستدرک اور طبرانی کبیر میں حضرت ابوامامہ باہلی اور احمد وبزار وطبرانی وابونعیم بسندحسن حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرصدیق اور ابن ماجہ وبزارحضرت عبداﷲ بن عمرو اور بیہقی مرسلاً قاسم مولائے حضرت امیرمعاویہ رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے راوی
واللفظ لمیمون رضی اﷲ تعالٰی عنہ: قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من ادان دینا ینوی قضائہ اداہ اﷲ عنہ یوم القٰیمۃ۱؎۔
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جو کسی دین کامعاملہ کرے کہ اس کے ادا کی نیت رکھتاہو اﷲ عزوجل اس کی طرف سے روزقیامت ادافرمائے گا۔
 (۱؎ المعجم الکبیر         حدیث ۱۰۴۹        ۲۳/ ۴۳۲ و حدیث ۷۹۴۹     ۸ /۲۹۰    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت)

(السنن الکبرٰی للبیہقی     کتاب البیوع     باب ماجاء فی جواز الاستقراض     دارالفکر بیروت ۵/ ۳۵۴)

(کنزالعمال         بحوالہ طب عن میمونہ     حدیث ۱۵۴۲۷         موسسۃ الرسالہ بیروت     ۶/ ۲۲۱)
حدیث ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لفظ مستدرک میں یہ ہیں حضوراقدس صلوات اﷲ وسلامہ علیہ فرماتے ہیں:
من تداین بدین وفی نفسہ وفاؤہ ثم مات تجاوزاﷲ عنہ وارضی غریمہ بماشاء۲؎۔
جس نے کوئی معاملہ دین کیا اور دل میں ادا کی نیت رکھتاتھا پھرموت آگئی اﷲ عزوجل اس سے درگزر فرمائے گا اور دائن کو جس طرح چاہے راضی کرے گا۔ نیک وجائز کی قیدحدیث عبداﷲ بن عمرو رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ظاہر کہ اس میں ضرورت جہاد وضرورت تجہیزوتکفین مسلمان و ضرورت نکاح کو ذکر فرمایا بلکہ بخاری تاریخ اورابن ماجہ سنن اور حاکم مستدرک میں راوی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان اﷲ تعالٰی مع الدائن حتی یقضی دینہ مالم یکن دینہ فیما یکرہ اﷲ۔۳؎
بیشک اﷲ تعالٰی قرضدار کے ساتھ ہے یہاں تک کہ اپنا قرض اداکرے جب تک کہ اس کادین اﷲتعالٰی کے ناپسندکام میں نہ ہو۔
 (۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب البیوع     ان اﷲ مع الدائن الخ         دارالفکر بیروت     ۳/ ۲۳)

(۳؎المستدرک للحاکم     کتاب البیوع     ان اﷲ مع الدائن الخ         دارالفکر بیروت     ۳/ ۲۳)

(کنزالعمال     بحوالہ تخ، ھ، ک     حدیث ۱۵۴۳۰             مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۶/ ۲۲۱)
بمجبوری رہ جانے کی قیدحدیث ابن صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے ثابت کہ رب العزت جل وعلا روزقیامت مدیون سے پوچھے گا تونے کاہے میں یہ دین لیا اور لوگوں کا حق ضائع کیا، عرض کرے گا اے رب میرے! توجانتاہے کہ میرے اپنے کھانے پینے پہننے ضائع کردینے کے سبب وہ دین نہ رہ گیا بلکہ
اتی علی اما حرق واما سرق واما وضیعۃ
آگ لگ گئی یاچوری ہوگئی یاتجارت میں ٹوٹا پڑا یوں رہ گیا،
مولٰی عزوجل فرمائے گا:
صدق عبدی فانا احق من قضی عنک۱؎۔
میرابندہ سچ کہتاہے سب سے زیادہ میں مستحق ہوں کہ تیری طرف سے ادافرمادوں۔
 (۱؎ مسند امام احمدبن حنبل     عن عبدالرحمن بن ابی بکر     المکتب الاسلامی بیروت     ۱/ ۱۹۸)

(الترغیب والترہیب     بحوالہ احمدوالبزاروالطبرانی وابی نعیم     مصطفی البابی مصر     ۲/ ۶۰۲)
پھرمولٰی سبحٰنہ وتعالٰی کوئی چیز منگاکر اس کے پلہ میزان میں رکھ دے گا کہ نیکیاں برائیوں پر غالب آجائیں گی اور وہ بندہ رحمت الٰہی کے فضل سے داخل جنت ہوگا۔
پنجم اولیائے کرام صوفیہ صدق ارباب معرفت
قدست اسرارہم ونفعنا اﷲ ببرکاتہم فی الدنیا والآخرۃ
(ان کے راز پاک کردئیے گئے، اﷲ تعالٰی ہمیں دنیااورآخرت میں ان کی برکتوں سے فائدہ پہنچائے۔ت) کہ بنص قطعی قرآن روزقیامت ہرخوف وغم سے محفوظ وسلامت ہیں۔
قال تعالٰی الا انّ اولیاء اﷲ لاخوف علیھم ولاھم یحزنون۲؎۔
اﷲ تعالٰی نے ارشاد فرمایا: (لوگو!) آگاہ ہوجاؤ یقینا اﷲ تعالٰی کے دوست (ہرخوف اورغم سے محفوظ ہوں گے) نہ انہیں کوئی ڈرہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(ت)
(۲؎ القرآن الکریم     ۱۰/ ۶۲)
توان میں بعض سے اگربتقاضائے بشریت بعض حقوق الٰہیہ میں اپنے منصب ومقام کے لحاظ سے کہ حسنات الابرار سیئات المقربین کوئی تقصیر واقع ہو تومولٰی عزوجل اسے وقوع سے پہلے معاف کرچکاکہ:
قداعطیتکم من قبل ان تسألونی وقداجبتکم من قبل ان تدعونی وقد غفرت لکم من قبل ان تعصونی۳؎۔
میں نے تمہیں عطافرمادیا اس سے پہلے کہ تم مجھ سے کچھ مانگو، او رمیں نے تمہاری درخواست قبول کرلی قبل اس کے کہ تم مجھے پکارو، اور یقینا تمہاری نافرمانی کرنے سے پہلے میں نے تمہیں معاف کردیا۔(ت)
 (۳؎ مفاتیح الغیب     التفسیر الکبیر    تحت آیۃ سورۃ القصص وماکنت بجانب الغربی الخ     المطبعۃ البہیۃ لمصریۃ ۲۴/ ۲۵۷)
Flag Counter