Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
97 - 160
اس وقت کی نظرمیں اس کاجلیل وعدہ جمیل مژدہ صاف صریح بالتصریح یاکالتصریح تصریح پانچ فرقوں کے لئے وارد ہوا:

اوّل حاجی کہ پاک مال، پاک کمائی، پاک نیت سے حج کرے، اور اس میں لڑائی جھگڑے اورعورتوں کے سامنے تذکرہ جماع اورہرقسم کے گناہ ونافرمانی سے بچے، اس وقت تک جتنے گناہ کئے تے بشرط قبول سب معاف ہوجاتے ہیں،پھر اگر حج کے بعد فوراً مرگیا تو اتنی مہلت نہ ملی کے حقوق اﷲ عزوجل یابندوں کے اس کے ذمہ تھے انہیں ادایاادا کی فکرکرتا توامیدواثق ہے کہ مولٰی تعالٰی اپنے تمام حقوق سے مطلقاً درگزرفرمائے یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ وغیرہا فرائض کہ بجانہ لایاتھا ان کے مطالبہ پربھی قلم عفوالٰہی پھرجائے اور حقوق العباد ودیون ومظالم مثلاً کسی کاقرض آتاہو، مال چھینا ہو، براکہاہو ان سب کو مولٰی تعالٰی اپنے ذمہ کرم پرلے لے اصحاب حقوق کو روزقیامت راضی فرماکر مطالبہ وخصومت سے نجات بخشے، یوہیں اگر بعد کو زندہ رہا اور بقدر قدرت تدارک حقوق اداکرلیا یعنی زکوٰۃ دے دی نماز روزہ کی قضاادا کی جس کاجومطالبہ آتاتھا دے دیا جسے آزار پہنچاتھا معاف کرالیا جس مطالبہ کا لینے والا نہ رہا یامعلوم نہیں اس کی طرف سے تصدق کردیا بوجہ قلت مہلت جو حق اﷲ عزوجل یابندہ کا اداکرتے کرتے رہ گیا اس کی نسبت اپنے مال میں وصیت کردی، غرض جہاں تک طرق برائت پر قدرت ملی تقصیر نہ کی تو اس کے لئے امید اور زیادہ قوی کہ اصل حقوق کی یہ تدبیر ہوگئی اور اثم مخالفت حج سے دھل چکاتھا، ہاں اگربعد حج باوصف قدرت ان امورمیں قاصررہا تویہ سب گناہ ازسرنو اس کے سرہوں گے کہ حقوق تو خود باقی ہی تھے ان کی ادامیں پھرتاخیر وتقصیر گناہ تازہ ہوئے اور وہ حج ان کے ازالہ کو کافی نہ ہوگا کہ حج گزرے گناہوں کودھوتاہے آئندہ کے لئے پروانہ بیقیدی نہیں ہوتا بلکہ حج مبرور کی نشانی ہی یہ ہے کہ پہلے سے اچھاہوکر پلٹے
فانّا ﷲ وانا الیہ راجعون ولاحول ولاقوۃ الا باﷲ العلی العظیم
 (بے شک ہم اﷲ تعالٰی کے لئے ہیں اور یقینا اسی کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں، گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی طاقت اﷲ تعالٰی بزرگ وبرتر کی توفیق کے بغیر کسی میں نہیں۔ت) مسئلہ حج میں بحمداﷲ تعالٰی یہ وہ قول فیصل ہے جسے فقیرغفراﷲ تعالٰی لہ نے بعد تنقیح دلائل ومذاہب واحاطہ اطراف وجوانب اختیارکی نفیس تحقیق بعونہ تعالٰی فقیر غفراﷲ تعالٰی لہ نے بعد ورود اس سوال کے ایک تحریر جداگانہ میں لکھی، یہاں اس قدرکافی ہے وباﷲ التوفیق (اﷲ تعالٰی ہی کے کرم سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ت)
احایث ابن ماجہ اپنی سنن میں کاملاً اور ابوداؤد مختصراً اور امام عبداﷲ بن امام احمد زوائد مسند اور طبرانی معجم کبیر اور ابویعلٰی مسند اور ابن حبان ضعفاء  اور ابن عدی کامل اور بیہقی سنن کبرٰی وشعب الایمان وکتاب البعث والنشور اور ضیاء مقدسی بافادہ تصحیح مختارہ میں حضرت عباس بن مرداس اور امام عبداﷲ بن مبارک بسندصحیح اور ابویعلٰی وابن منیع بوجہ آخر حضرت انس بن مالک اور ابونعیم حلیۃ الاولیا اور امام ابن جریر طبری تفسیر اور حسن بن سفیان مسند اور ابن حبان ضعفاء میں حضرت عبداﷲ بن عمرفاروق اعظم اور عبدالرزاق مصنف اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت عبادہ بن صامت اور دارقطنی وابن حبان حضرت ابوہریرہ اور ابن مندہ کتاب الصحابہ اور خطیب تلخیص المتشابہ میں حضرت زید جدعبدالرحمن بن عبداﷲ بن زیدرضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے بطرق عدیدہ والفاظ کثیرہ ومعانی متقاربہ راوی:
وھذا حدیث الامام عبداﷲ بن المبارک علی سفٰین الثوری عن الزبیر بن عدی عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال وقف النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعرفات وقد کادت الشمس ان تغرب فقال یابلال انصت لی الناس فقام بلال فقال فقال انصتوا لرسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فنصت الناس فقال یامعاشرالناس اتانی جبریل اٰنفا فاقراٰنی من ربی السلام وقال ان اﷲ عزوجل غفر لاھل عرفات واھل المعشر وضمن عنھم التبعات فقام عمر بن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقال یارسول اﷲ ھذالنا خاصۃ قال ھذا لکم ولمن اتی من بعدکم الٰی یوم القٰیمۃ فقال عمر بن الخطاب کثر خیراﷲ وطاب۱؎۔
 (یہ حدیث امام عبداﷲ بن مبارک نے امام سفیان ثوری سے انہوں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے۔ت) یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے عرفات میں وقوف فرمایا یایہاں تک کہ آفتاب ڈوبنے پرآیا اس وقت ارشاد ہوا اے بلال! لوگوں کومیرے لئے خاموش کر، بلال نے کھڑے ہوکر پکارا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے خاموش ہوجاؤ، لوگ ساکت ہوئے۔ حضور پرنورصلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ نے فرمایا اے لوگو! ابھی جبریل نے حاضرہوکر مجھے میرے رب کا سلام وپیام پہنچایا کہ اﷲعزوجل نے عرفات ومشعرالحرام والوں کی مغفرت فرمائی اور ان کے باہمی حقوق کا خود ضامن ہوگیا۔ امیرالمومنن عمررضی اﷲتعالٰی عنہ نے کھڑے ہوکر عرض کی یارسول اﷲ کیایہ دولت خاص ہمارے لئے ہے؟فرمایا تمہارے لئے اور جوتمہارے بعد قیامت تک آئیں سب کے لئے عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے کہا اﷲ عزوجل کی خیرکثیروپاکیزہ ہے انتہی(ت)
 (۱؎ الدرالمنثور         بحوالہ ابن مبارک عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ     مکتبہ آیۃ العظمی قم ایران     ۱/ ۳۱۔۳۳۰)
والحمدﷲ رب العٰلمین
 (اور سب تعریف اﷲ تعالٰی کے لئے ہے جوتمام جہانوں کاپروردگار ہے۔ت) 

دوم شہید بحرکہ خاص اﷲ عزوجل کی رضاچاہنے اور اس کابول بالاہونے کے لئے سمندرمیں جہاد کرے اور وہاں ڈوب کر شہید ہوحدیثوں میں آیا کہ مولٰی عزوجل خود اپنے دست قدرت سے اس کی روح قبض کرتا او ر اپنے تمام حقوق اسے معاف فرماتا اور بندوں کے سب مطالبے جو اس پرتھے اپنے ذمہ کرم پرلیتاہے۔
احادیث ابن ماجہ اور طبرانی معجم کبیر میں حضرت ابوامامہ اور ابونعیم حلیہ میں حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی پھُپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب اور شیرازی کتاب الالقاب میں حضرت عبداﷲ ابن عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین سے راوی:
واللفظ لابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یغفر لشھید البر الذنوب کلھا الاالدین، و یغفر لشھید البحر الذنوب کلھا والدّین۱؎۔
 (حضرت ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے الفاظ ہیں۔ت) یعنی حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جوخشکی میں شہیدہو اس کے سب گناہ بخشے جاتے ہیں مگرحقوق العباد۔ اور جودریا میں شہادت پائے اس کے تمام گناہ و حقوق العباد سب معاف ہوجاتے ہیں۔
 (۱؎ المعجم الکبیر         حدیث ۷۷۱۶            المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۸/ ۲۰۱)

(سنن ابن ماجہ   کتاب الجہاد         باب فضل الغزوالبحر     ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۲۰۴)
اللھم ارزقنا بجاھہ عندک صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وبارک اٰمین
 (اے اﷲ! حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس بلند پایہ رتبہ کے طفیل جو ان کا تیری بارگاہ میں ہے ہمیں یہ دولت نصیب فرماآمین۔ت)
سوم شہیدصبریعنی وہ مسلمان سنی المذہب صحیح العقیدہ جسے ظالم نے گرفتار کرکے بحالت بیکسی و مجبور ی قتل کیا، سولی دی،پھانسی دی کہ یہ بوجہ اسیری قتال ومدافعت پرقادرنہ تھا بخلاف شہید جہاد کہ مارتامرتا ہے اس کی بیکسی وبیدست پائی زیادہ باعث رحمت الٰہی ہوتی ہے کہ حق اﷲ وحق العبد کچھ نہیں رہتا ان شاء اﷲ تعالٰی (اگراﷲ تعالٰی چاہے۔ت)
احادیث بزار ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے بسندصحیح راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قتل الصبر لایمر بذنب الا محاہ۲؎۔
قتل صبرکسی گناہ پرنہیں گزرتا مگریہ کہ اسے مٹادیتاہے۔
 (۲؎ کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الحدود باب قتل الصبر حدیث ۱۵۴۵     موسسۃ الرسالہ بیروت ۲/ ۲۱۴)
نیزبزار ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قتل الرجل صبرا کفارۃ لما قبلہ من الذنوب۳؎۔
آدمی کابروجہ صبرماراجانا تمام گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہے۔
 (۳؎کشف الاستار عن زوائد البزار کتاب الحدود باب قتل الصبر    حدیث ۱۵۴۴    موسسۃ الرسالہ بیروت    ۲/ ۲۱۳)
Flag Counter