غرض حقوق العباد بے ان کی معافی کے معاف نہ ہوں گے ولہٰذا مروی ہوا کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
الغیبۃ اشد من الزنا
غیبت زنا سے سخت ترہے ۔ کسی نے عرض کی: یہ کیونکر؟ فرمایا:
الرجل یزنی ثم یتوب فیتوب اﷲ علیہ وان صاحب الغیبۃ لایغفر لہ حتی یغفر لہ صاحبہ۔ رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والطبرانی فی الاوسط۲؎ عن جابر بن عبداﷲ وابی سعیدالخدری والبیھقی عنھما وعن انس رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
زانی توبہ کرے تواﷲ تعالٰی قبول فرمالے اور غیبت والے کی مغفرت نہ ہوگی جب تک وہ نہ بخشے جس کی غیبت کی ہے (ابن ابی الدنیا نے ذم الغیبۃ(غیبت کی برائی میں) میں اور امام طبرانی نے الاوسط میں حضرت جابربن عبداﷲ اور حضرت ابوسعیدخدری سے اور امام بیہقی نے ان دونوں کے علاوہ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے اس کی روایت فرمائی۔ت)
پھریہاں معاف کرالینا سہل ہے قیامت کے دن اس کی امیدمشکل کہ وہاں ہرشخص اپنے اپنے حال میں گرفتار نیکیوں کاطلبگار برائیوں سے بیزارہوگا پرائی نیکیاں اپنے ہاتھ آتے اپنی برائیاں اس کے سر جاتے کسے بری معلوم ہوتی ہیں، یہاں تک کہ حدیث میں آیاہے کہ ماں باپ کابیٹے پرکچھ دین آتاہوگا اسے روزقیامت پیٹیں گے کہ ہمارادین دے وہ کہے گا میں تمہارابچہ ہوں، یعنی شاید رحم کریں وہ تمنا کریں گے کاش اور زیادہ ہوتا۔
الطبرانی عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال سمعت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول انہ یکون للوالدین علٰی ولد ھمادین فاذا کان یوم القٰیمۃ یتعلقان بہ فیقول انا ولد کما فیودان او یتمنیان لوکان اکثر من ذٰلک ۱؎۔
طبرانی میں ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے کہ والدین کابیٹے پر دین ہوگا قیامت کے روز والدین بیٹے پرلپکیں گے توبیٹا کہے گا میں تمہارابیٹا ہوں تووالدین کو حق دلایاجائے گا اور تمناکریں گے کاش ہماراحق اورزائدہوتا۔(ت)
جب ماں باپ کایہ حال تواوروں سے امیدخام خیال، ہاں کریم ورحیم مالک ومولٰی جل جلالہ وتبارک وتعالٰی جس پررحم فرماناچاہے گا تو یوں کرے گا کہ حق والے کوبے بہا قصورجنت معاوضہ میں عطا فرماکر عفو حق پرراضی کردے گا ایک کرشمہ کرم میں دونوں کابھلا ہوگا نہ اس کی حسنات اسے دی گئیں نہ اس کی سیأت اس کے سررکھی گئیں نہ اس کا حق ضائع ہونے پایا بلکہ حق سے ہزاروں درجے بہتر افضل پایارحمت حق کی بندہ نوازی ظالم ناجی مظلوم راضی،
(پھر اﷲ تعالٰی ہی کے لئے حمدوثناہے جس کی ذات بہت زیادہ پاکیزہ اور بابرکت ہے۔ت)
حدیث میں ہے:
بینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جالس اذ رأیناہ اضحک حتی بدت ثنایاہ فقال لہ عمر مااضحکک یارسول اﷲ بابی انت وامّی۔
یعنی ایک دن حضورپرنورسیدالعالمین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تشریف فرماتھے ناگاہ خندہ فرمایا کہ اگلے دندان مبارک ظاہرہوئے، امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے عرض کی یارسول اﷲ میرے ماں باپ حضورپرقربان کس بات پرہنسی آئی؟
ارشاد فرمایا:
رجلان من امتی جثیا بین یدی رب العزۃ فقال احدھما یارب خذلی مظلمتی من اخی فقال اﷲ تعالٰی للطالب کیف تصنع باخیک ولم یبق من حسناتہ شیئ قال یارب فیحمل من اوزاری، وفاضت عینا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بالبکاء ثم قال ان ذٰلک الیوم عظیم یحتاج الناس ان یحمل عنھم من اوزارھم فقال اﷲ للطالب ارفع بصرک فانظر فرفع فقال یارب اری مدائن من ذھب وقصورا من ذب مکللۃ باللؤلؤ لای نبی ھذا اولای صدیق ھذا اولای شھید ھذا قال لمن اعطی الثمن قال یارب ومن یملک ذٰلک قال انت تملکہ قال بماذا قال بعفوک عن اخیک قال یارب فانی قد عفوت عنہ قال اﷲ تعالٰی فخذ بید اخیک فادخلہ الجنۃ فقال رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عند ذٰلک اتقوا اﷲ واصلحوا ذات بینکم فان اﷲ یصلح بین المسلمین یوم القٰیمۃ۔ رواہ الحاکم فی المستدرک۱؎ والبیھقی فی کتاب البعث والنشور وابویعلٰی فی مسندہ وسعید بن منصور فی سننہ عن انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
دومردمیری امت سے رب العزت جل جلالہ کے حضورزانوؤں پرکھڑے ہوئے، ایک نے عرض کی: اے رب میرے! میرے اس بھائی نے جو ظلم مجھ پرکیا ہے اس کاعوض میرے لئے لے۔ رب تعالٰی نے فرمایا: اپنے بھائی کے ساتھ کیاکرے گا اس کی نیکیاں تو سب ہوچکیں، مدعی نے عرض کی: اے رب میرے ! تومیرے گناہ وہ اٹھالے۔ یہ فرماکر حضوررحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی آنکھیں گریہ سے بہہ نکلیں، پھرفرمایا: بیشک وہ دن بڑا سخت ہے لوگ اس کے محتاج ہوں گے کہ ان کے گناہوں کاکچھ بوجھ اور لوگ اٹھائیں۔ مولٰی عزوجل نے مدعی سے فرمایا: نظراٹھاکر دیکھ۔ اس نے نگاہ اٹھائی کہا اے رب میرے! میں کچھ شہر دیکھتاہوں سونے اور محل سونے کے سراپا موتیوں سے جڑے ہوئے یہ کس نبی کے ہیں یا کس صدیق یا کس شہید کے۔ مولٰی تبارک وتعالٰی نے فرمایا: اس کے ہیں جو قیمت دے کہا: اے رب میرے!بھلا ان کی قیمت کون دے سکتاہے؟ فرمایا: تو۔ عرض کی: کیوں کر؟ فرمایا: یوں کہ اپنے بھائی کو معاف کردے۔ کہا: اے رب میرے ! یہ بات ہے تو میں نے معاف کیا۔ مولٰی جل مجدہ نے فرمایا: اپنے بھائی کاہاتھ پکڑلے اور جنت میں لے جا۔ حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے بیان کرکے فرمایا کہ اﷲ تعالٰی سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو کہ مولٰی عزوجل قیامت کے دن مسلمانوں میں صلح کرائے گا۔(حاکم نے مستدرک میں امام بیہقی نے کتاب البعث والنشور میں ابویعلٰی نے مسند اورسعید بن منصور نے اپنی سنن میں حضرت انس بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اس کو روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ مستدرک للحاکم کتاب الاھوال دارلفکر بیروت ۴/ ۵۷۶)
(الدرالمنثور بحوالہ ابن ابی الشیخ وابی یعلی والحاکم مکتبۃ العظمی قم ایران ۳/ ۱۶۱)
جب مخلوق روزقیامت بہم ہوگی ایک منادی رب العزۃ جل وعلا کی طرف سے نداکرے گا اے مجمع والو! آپس کے ظلموں کاتدارک کرلو اور تمہاراثواب میرے ذمہ ہے۔ (امام طبرانی نے حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسندحسن اس کو روایت کیاہے۔ت)
اور ایک حدیث میں ہے حضوروالا صلوات اﷲ تعالٰی وسلامہ علیہ نے فرمایا:
ان اﷲ یجمع الاولین والاٰخرین یوم القٰیمۃ فی صعید واحد ثم ینادی مناد من تحت العرش یااھل التوحید ان اﷲ عزوجل قدعفا عنکم، فیقوم الناس فیتعلق بعضھم ببعض فی ظٰلامات ثم ینادی منادیا اھل التوحید لیعف بعضکم عن بعض وعلیّ الثواب۔ رواہ ایضا۱؎ عن ام ھانی رضی اﷲ تعالٰی عنھا۔
یعنی بیشک اﷲ عزوجل روزقیامت سب اگلوں پچھلوں کوایک زمین میں جمع فرمائے گا پھر زیرعرش سے منادی نداکرے گا اے توحید والو! مولٰی تعالٰی نے تمہیں اپنے حقوق معاف فرمائے لوگ کھڑے ہوکر آپ کے دنیاوی مظلموں میں ایک دوسرے سے لپٹیں گے منادی پکارے گا اے توحید والو! ایک دوسرے کو معاف کردو اور ثوا ب دنیا میرے ذمہ ہے۔ (اسے بھی طبرانی نے سیدہ ام ہانی رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت کیا۔ت)