(۳۳) بہلانے کے لئے جھوٹا وعدہ نہ کرے بلکہ بچے سے بھی وعدہ وہی جائزہے جس کو پورا کرنے کاقصد رکھتاہو۔
(۳۴) اپنے چندبچے ہوں توجوچیز دے سب کوبرابر ویکساں دے، ایک کودوسرے پربے فضیلت دینی ترجیح نہ دے۔
(۳۵) سفر سے آئے تو ان کے لئے کچھ تحفہ ضرور لائے۔
(۳۶) بیمار ہوں توعلاج کرے۔
(۳۷) حتی الامکان سخت وموذی علاج سے بچائے۔
(۳۸) زبان کھلتے ہی اﷲ اﷲ پھر پورا کلمہ
لاالٰہ الااﷲ
بھرپورکلمہ طیبہ سکھائے۔
(۳۹) جب تمیزآئے ادب سکھائے کھانے، پینے، ہنسنے، بولنے، اٹھنے، بیٹھنے،چلنے، پھرنے، حیا، لحاظ، بزرگوں کی عظیم، ماں باپ، استاز اور دختر کوشوہرکے بھی اطاعت کے طرق وآداب بتائے۔
(۴۰) قرآن مجید پڑھائے۔
(۴۱) استاذ نیک، صالح، متقی، صحیح العقیدہ، سن رسیدہ کے سپرد کردے، اور دختر کونیک پارسا عورت سے پڑھوائے۔
(۴۲) بعد ختم قرآن ہمیشہ تلاوت کی تاکید رکھے۔
(۴۳) عقائد اسلام وسنت سکھائے کہ لوح سادہ فطرت اسلامی وقبول حق پرمخلوق ہے اس وقت کابتایا پتھر کی لکیرہوگا۔
(۴۴) حضوراقدس رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی محبت وتعظیم ان کے دل میں ڈالے کہ اصل ایمان وعین ایمان ہے۔
(۴۵) حضورپرنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے آل واصحاب واولیاء وعلماء کی محبت وعظمت تعلیم کرے کہ اصل سنت وزیورایمان بلکہ باعث بقائے ایمان ہے۔
(۴۶) سات برس کی عمر سے نماز کی زبانی تاکید شروع کردے۔
(۴۷) علم دین خصوصاً وضو، غسل، نمازوروزہ کے مسائل توکل، قناعت، زہد، اخلاص، تواضع، امانت، صدق، عدل، حیا، سلامت صدورولسان وغیرہا خوبیوں کے فضائل حرص وطمع ، حب دنیا، حب جاہ، ریا، عجب، تکبر، خیانت، کذب، ظلم، فحش، غیبت، حسد، کینہ وغیرہا برائیوں کے رذائل پڑھائے۔
(۴۸) پڑھانے سکھانے میں رفق ونرمی ملحوظ رکھے۔
(۴۹) موقع پرچشم نمائی تنبیہ تہدید کرے مگر کوسنانہ دے کہ اس کا کوسنا ان کے لئے سبب اصلاح نہ ہوگا بلکہ اور زیادہ افساد کا اندیشہ ہے۔
(۵۰) مارے تو منہ پرنہ مارے۔
(۵۱) اکثراوقات تہدیدوتخویف پرقانع رہے کوڑاقمچی اس کے پیش نظررکھے کہ دل میں رعب رہے۔
(۵۲) زمانہ تعلیم میں ایک وقت کھیلنے کابھی کہ طبیعت نشاط پرباقی رہے۔
(۵۳) مگرزنہارزنہاربُری صحبت میں نہ بیٹھنے دے کہ یارِبدمارِبد سے بدترہے۔
(۵۴) نہ ہرگز ہرگزبہادر دانش، مینابازار، مثنوی غنیمت وغیرہاکتب عشقیہ وغزلیات فسقیہ دیکھنے دے کہ نرم لکڑی جدھر جھکائے جھک جاتی ہے صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ لڑکیوں کو سورہ یوسف شریف کا ترجمہ نہ پڑھایاجائے کہ اس میں مکرزنان کاذکرفرمایا ہے، پھربچوں کو خرافات شاعرانہ میں ڈالنا کب بجاہوسکتاہے۔
(۵۵) جب دس برس کاہونماز مارکرپڑھائے۔
(۵۶) اس عمر سے اپنے خواہ کسی کے ساتھ نہ سلائے جدابچھونے جداپلنگ پراپنے پاس رکھے۔
(۵۷) جب جوان ہوشادی کردے، شادی میں وہی رعایت قوم ودین وسیرت وصورت ملحوظ رکھے۔
(۵۸) اب جو ایسا کام کہنا ہو جس میں نافرمانی کا احتمال ہو اسے امروحکم کے صیغہ سے نہ کہے بلکہ برفق ونرمی بطورمشورہ کہے کہ وہ بلائے عقوق میں نہ پڑجائے۔
(۵۹) اسے میراث سے محروم نہ کرے جیسے بعض لوگ اپنے کسی وارث کو نہ پہنچنے کی غرض سے کل جائداد دوسرے وارث یاکسی غیر کے نام لکھ دیتے ہیں۔
(۶۰) اپنے بعد مرگ بھی ان کی فکر رکھے یعنی کم سے کم دوتہائی ترکہ چھوڑجائے ثلث سے زیادہ خیرات نہ کرے۔
یہ ساٹھ ۶۰ حق توپسرودخترسب کے ہیں بلکہ دوحق اخیر میں سب وارث شریک، اور خاص پسر کے حقوق سے ہے کہ اسے لکھنا، پیرنا، سپہگری سکھائے۔ سورہ مائدہ کی تعلیم دے۔ اعلان کے ساتھ اس کاختنہ کرے۔ خاص دختر کے حقوق سے ہے کہ اس کے پیداہونے پرناخوشی نہ کرے بلکہ نعمت الٰہیہ جانے، اسے سیناپرونا کاتنا کھاناپکانا سکھائے، سورہ نور کی تعلیم دے، لکھنا ہرگز نہ سکھائے کہ احتمال فتنہ ہے، بیٹیوں سے زیادہ دلجوئی رکھے کہ ان کا دل بہت تھوڑا ہوتاہے، دینے میں انہیں اور بیٹوں کو کانٹے کی تول برابررکھے، جو چیز دے پہلے انہیں دے کربیٹوں کو دے، نوبرس کی عمر سے نہ اپنے پاس سلائے نہ بھائی وغیرہ کے ساتھ سونے دے، اس عمر سے خاص نگہداشت شروع کرے، شادی برات میں جہاں گاناناچ ہو ہرگز نہ جانے دے اگرچہ خاص اپنے بھائی کے یہاں ہوکہ گاناسخت سنگین جادوہے۔ اور ان نازک شیشوں کوتھوڑی ٹھیس بہت ہے، بلکہ ہنگاموں میں جانے کی مطلق بندش کرے گھر کو ان پر زنداں کردے بالاخانوں پرنہ رہنے دے، گھرمیں لباس وزیور سے آراستہ کرے کہ پیام رغبت کے ساتھ آئیں، جب کفوملے نکاح میں دیرنہ کرے، حتی الامکان بارہ برس کی عمرمیں بیاہ دے، زنہار کسی فاسق اجرخصوصاًبدمذہب کے نکاح میں نہ دے۔
یہ اسی حق (۸۰) ہیں کہ اس وقت کی نظرمیں احادیث مرفوعہ سے خیال میں آئے ان میں اکثر تو مستحبات ہیں جن کے ترک پراصلاً مواخذہ نہیں۔ اوربعض آخرت میں مطالبہ ہو، مگردنیامیں بیٹے کے لئے باپ پرگرفت وجبرنہیں، نہ بیٹے کو جائزکہ باپ سے جدال ونزع کرے سواچند حقوق کے کہ ان میں جبر حاکم وچارہ جوئی واعتراض کودخل ہے۔
اول نفقہ کہ باپ پرواجب ہو اور وہ نہ دے تو حاکم جبراً مقرر کرے گا، نہ مانے تو قید کیاجائے گا حالانکہ فروع کے اور کسی دین میں اصول محبوس نہیں ہوتے۔
فی ردالمحتار عن الذخیرۃ لایحبس والد وان علافی دین ولدہ وان سفل الافی النفقۃ لان فیہ اتلاف الصغیر۱؎۔
فتاوٰی شامی میں ذخیرہ کے حوالے سے نقل کیاہے والد اپنے بیٹے کے قرض کے سلسلے میں قیدنہیں کیاجاسکتا خواہ سلسلہ نسب اوپر تک بلحاظ باپ اور نیچے تک بلحاظ بیٹاچلاجائے البتہ نان نفقہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں والد کوقید کیاجائے گا کیونکہ اس میں چھوٹے کی حق تلفی ہے۔(ت)
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطلاق باب النفقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۲۷۱)
دوم رضاعت کہ ماں کے دودھ نہ ہو تو دائی رکھنا، بے تنخواہ نہ ملے تو تنخواہ دینا، واجب نہ دے توجبراً لی جائے گی جبکہ بچے کا اپنا مال نہ ہو، یوہیں ماں بعد طلاق ومرورعدت بے تنخواہ دودھ نہ پلائے تو اسے بھی تنخواہ دی جائے گی
کما فی الفتح وردّ المحتار وغیرھما
(جیسا کہ فتح اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے۔ت)
سوم حضانت کہ لڑکا سات برس، لڑکی نوبرس کی عمر تک جن عورتوں مثلاً ماں نانی دادی ہیں خالہ پھپھی کے پاس رکھے جائیں گے، اگر ان میں کوئی بے تنخواہ نہ مانے اور بچہ فقیر اور باپ غنی ہے توجبراً تنخواہ دلائی جائے گی
کمااوضحہ فی ردالمحتار
(جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی وضاحت کی گئی ہے۔ت)
چہارم بعد انتہائے حضانت بچہ کو اپنی حفظ وصیانت میں لیناباپ پرواجب ہے اگرنہ لے گا حاکم جبرکرے گا
کما فی ردالمحتار عن شرح المجمع
(جیسا کہ شرح المجمع سے ردالمحتار میں نقل کیاگیاہے۔ت)
پنجم ان کے لئے ترکہ باقی رکھنا کہ بعد تعلق حق ورثہ یعنی بحالت مرض الموت مورث اس پرمجبور ہوتاہے یہاں تک کہ ثلث سے زائد میں اس کی وصیت بے اجازت ورثہ نافذ نہیں۔
ششم اپنے بالغ پسرخواہ دختر کو غیرکفو سے بیاہ دینا یامہرمثل میں غبن فاحش کے ساتھ مثلاً دختر کامہرمثل ہزار ہے پانسو پرنکاح کردیایا بہو کا مہرمثل پانسو ہے ہزارباندھ لینا یاپسر کانکاح کسی باندی سے یادختر کاکسی ایسے شخص سے جو مذہب یانسب یاپیشہ یاافعال یامال میں وہ نقص رکھتاہو جس کے باعث اس سے نکاح موجب عار ہو ایک بار تو ایسانکاح باپ کاکیاہوا نافذ ہوتاہے جبکہ نشہ میں نہ ہومگر دوبارہ اپنے کسی نابالغ بچے کا ایسانکاح کرے گا تواصلاً صحیح نہ ہوگا
کماقدمنا فی النکاح
(جیسا کہ بحث نکاح میں ہم نے اسے پہلے بیان کردیاہے۔ت)
ہفتم ختنہ میں بھی ایک صورت جبرکی ہے کہ اگر کسی شہر کے لوگ چھوڑدیں سلطان اسلام انہیں مجبورکرے گا نہ مانیں گے تو ان پر جہاد فرمائے گا
کما فی الدرالمختار
(جیسا کہ درمختار میں ہے۔ت)
واﷲ تعالٰی اعلم۔
رسالہ
مشعلۃ الارشاد فی حقوق الاولاد
ختم ہوا
رسالہ
اعجب الامداد فی مکفرات حقوق العباد(۱۳۱۰ھ)
(بندوں کے حقوق کاکفارہ اداکرنے والے امور کے بارے میں انتہائی حیران کن امداد)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
مسئلہ ۱۶۸: حق العباد بھی کسی طرح معاف ہوسکتاہے بغیر اس کے معاف کے جس کا حق ہے صاف ارقام فرمائیے اور حق العباد کس قدرہیں؟ بیّنواتوجروا(بیان فرمائیے اجرپائیے۔ت)
الجواب : حق العبد ہروہ مطالبہ مالی ہے کہ شرعاً اس کے ذمہ کسی کے لئے ثابت ہو اورہروہ نقصان وآزار جو بے اجازت شرعیہ کسی قول فعل ترک سے کسی کے دین، آبرو، جسم، مال یاصرف قلب کو پہنچایاجائے۔ تو یہ دوقسمیں ہوئیں، اول کودیون، ثانی کو مظالم، اور دونوں کو تبعات اور کبھی دیون بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں قسم میں نسبت عموم خصوص من وجہ ہے یعنی کہیں تودین پایاجاتاہے مظلمہ نہیں، جیسے خریدی چیز کی قیمت، مزدور کی اجرت، عورت کا مہروغیرہا دیون کہ عقود جائزہ شرعیہ سے اس کے ذمہ لازم ہوئے اور اس نے ان کی ادا میں کمی وتاخیر ناروانہ برتی یہ حق العبد اس کی گردن پرہے مگرکوئی ظلم نہیں، اور کہیں مظلمہ پایاجاتاہے دین نہیں جیسے کسی کومارا، گالی دی، براکہا، غیبت کی کہ اس کی خبر اسے پہنچی، یہ سب حقوق العبد وظلم ہیں مگر کوئی دین واجب الادانہیں، اور کہیں دین اور مظلمہ دونوں ہوتے ہیں جیسے کسی کامال چرایا، چھینا، لوٹا، رشوت سود جوئے میں لیا، یہ سب دیون بھی ہیں اورظلم بھی۔ قسم اول میں تمام صورعقود ومطالبہ مالیہ داخل، دوسری میں قول وفعل وترک کو دین آبروجان جسم مال قلب میں ضرب دینے سے اٹھارہ انواع حاصل، ہرنوع صدہا صورتوں کوشامل، توکیونکر گناسکتے ہیں کہ حقوق العباد کس قدرہیں، ہاں ان کاضابطہ کلیہ بتادیاگیاہے کہ ان دوقسموں سے جو امرجہاں پایاجائے اسے حق العبد جانے پھر حق کس قسم کاہو جب تک صاحب حق معاف نہ کرے معاف نہیں ہوتا، حقوق اﷲ میں توظاہر کہ اس کے سوا دوسرا معاف کرنے
والا کون ومن یغفر الذنوب الااﷲ۱؎
کون گناہ بخشے اﷲ کے سوا۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳/ ۱۳۵)
الحمدﷲ کہ معافی کریم غنی قدیر رؤف رحیم کے ہاتھ ہے
والکریم لایأتی منہ الاالکرم
(کریم سے سوائے کرم کے کچھ اورصادرنہیں ہوتا۔ ت) اور حقوق العباد میں بھی ملک دیان عزجلالہ نے اپنے دارالعدل کایہی ضابطہ رکھاہے کہ جب تک وہ بندہ معاف نہ کرے معاف نہ ہوگا اگرچہ مولٰی تعالٰی ہمارا اور ہمارے جان ومال وحقوق سب کامالک ہے اگروہ بے ہماری مرضی کے ہمارے حقوق جسے چاہے معاف فرمادے توبھی عین حق وعدل ہے کہ ہم بھی اسی کے اور ہمارے حقوق بھی اسی کے مقرر فرمائے ہوئے، اگر وہ ہمارے خون ومال وعزت وغیرہا کومعصوم ومحترم نہ کرتا تو ہمیں کوئی کیساہی آزارپہنچاتا نام کوبھی ہمارے حق میں گرفتارنہ ہوتا۔ یوہیں اب اس حرمت و عصمت کے بعد بھی جسے چاہے ہمارے حقوق چھوڑدے ہمیں کیامجال عذرہے مگر اس کریم رحیم جل وعلا کی رحمت کہ ہمارے حقوق کااختیارہمارے ہاتھ رکھاہے بے ہمارے بخشے معاف ہوجانے کی شکل نہ رکھی کہ کوئی ستم رسیدہ یہ نہ کہے کہ اے مالک میرے! میں اپنی داد کو نہ پہنچا۔
حدیث میں ہے حضورپرنورسیدالمرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
الدواوین ثلٰثۃ فدیوان لایغفراﷲ منہ شیئا ودیوان لایعبأ اﷲ بہ شیئا ودیوان لایترک اﷲ منہ شیئا فاما الدیوان الذی لایغفراﷲ منہ شیئا فالاشراک باﷲ عزوجل واما الدیوان الذی لایعبأ اﷲ بہ شیئا فظلم العبد نفسہ فیما بینہ وبین ربہ من صوم یوم ترکہ اوصلاۃ ترکہا فان اﷲ تعالٰی یغفر ذٰلک ان شاء ویتجاوزان شاء و اما الدیوان الذی لایترک اﷲ منہ شیئا فمظالم العباد بینھم القصاص لامحالۃ۔ رواہ الامام احمد فی المسند والحاکم فی المستدرک۱؎ عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہا۔
یعنی دفترتین ہیں، ایک دفترمیں اﷲ تعالٰی کچھ نہ بخشے گا اورایک دفتر کی اﷲ تعالٰی کوکچھ پروا نہیں اور ایک دفترمیں اﷲ تعالٰی کچھ نہ چھوڑے گا، وہ دفتر جس میں اصلاً معافی کی جگہ نہیں وہ توکفرہے کہ کسی طرح نہ بخشاجائے گا اور وہ دفتر جس کی اﷲ عزوجل کو کچھ پروانہیں وہ بندے کاگناہ ہے خالص اپنے اور اپنے رب کے معاملہ میں کہ کسی دن کاروزہ ترک کیایاکوئی نماز چھوڑدی اﷲ تعالٰی چاہے تو اسے معاف کردے اوردرگزرفرمائے اور وہ دفتر جس میں سے اﷲ تعالٰی کچھ نہ چھوڑے گا وہ بندوں کاآپس میں ایک دوسرے پر ظلم ہے کہ اس میں ضروربدلہ ہوناہے (امام احمد نے مسند میں اور حاکم نے مستدرک میں ام المومنین سیدعائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے اس کی روایت فرمائی۔ت)
(۱مسنداحمدبن حنبل حدیث ۲۵۵۰۰ داراحیاءالتراث العربی بیروت ۷/۳۴۲)
( المستدرک للحاکم کتاب الاھوال باب جعل اﷲ القصاص بین الدواب المکتب الاسلامی بیروت ۴/ ۷۶۔۴۷۵)
یہاں تک کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
لتؤدن الحقوق الٰی اھلھا یوم القٰیمۃ حتی یقادللشاۃ الجلحاء من الشاۃ القرناء تنطحھا۔ رواہ الائمۃ احمد فی المسند ومسلم ۲؎ فی صحیحہ والبخاری فی الادب المفرد والترمذی فی الجامع عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
بیشک روزقیامت تمہیں اہل حقوق کو ان کے حق اداکرنے ہوں گے یہاں تک کہ مُنڈی بکری کابدلہ سینگ والی بکری سے لیاجائے گا کہ اسے سینگ مارے(ائمہ کرام نے اس کوروایت کیا مثلاً امام احمد نے مسندمیں، امام مسلم نے صحیح مسلم میں، اما م بخاری نے الادب المفرد میں اور امام ترمذی نے جامع میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۲؎ صحیح مسلم کتاب البر والصلۃ باب نصرالاخ ظالماً اومظلوماً قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۲۰)
(مسنداحمدبن حنبل عن ابی ہریرہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۰۱)
ایک روایت میں فرمایا:
حتی الذرۃ من الذرۃ۔ رواہ الامام احمد۳؎
بسندصحیح۔ یہاں تک کہ چیونٹی سے چیونٹی کاعوض لیاجائے گا۔ (اسے امام احمد نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیاہے۔ت)
(۳؎ مسندامام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/ ۳۶۳)
پھروہاں روپے اشرفیاں توہیں نہیں کہ معاوضہ حق میں دی جائیں طریقہ ادایہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں صاحب حق کو دی جائیں گی اگر اداہوگیا غنیمت ورنہ اس کے گناہ اس پررکھے جائیں گے یہاں تک کہ ترازوئے عدل میں وزن پوراہو۔ احادیث کثیرہ اس مضمون میں وارد،
ازاں جملہ حدیث صحیح مسلم وغیرہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ: ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال اتدرون من المفلس قالوا المفلس فینا من لادرھم لہ ولامتاع فقال ان المفلس من امتی من یأتی یوم القٰیمۃ بصلٰوۃ وصیام وزکوٰۃ ویأتی قدشتم ھذا وقد قذف ھذا واکل مال ھذا وسفک دم ھذا وضرب ھذا فیعطی ھذا من حسناتہ وھذا من حسناتہ فان فنیت حسناتہ قبل ان یقضی ماعلیہ اخذ من خطایاھم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار۱؎۔ والعیاذباﷲ سبحٰنہ وتعالٰی۔
یعنی حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایاجانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ نے عرض کی ہمارے یہاں تو مفلس وہ ہے جس کے پاس زرومال نہ ہو۔ فرمایا میری امت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے، زکوٰۃ لے کر آئے اور یو ں آئے کہ اسے گالی دی اسے زنا کی تہمت لگائی اس کامال کھایا اس کاخون گرایا اسے ماراتو اس کی نیکیاں اسے دی گئیں پھراگرنیکیاں ختم ہوچکیں اور حق باقی ہیں تو ان کے گناہ لے کر اس پرڈالے گئے پھرجہنم میں پھینک دیا۔ اﷲ تعالٰی پاک اور بلند وبرترذات کی پناہ۔(ت)
(۱؎ صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب تحریم الظلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۲۰)