حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔ مگرولد کاحق بھی والد پرعظیم رکھاہے کہ ولدمطلق اسلام، پھر خصوص جوار، پھر خصوص قرابت، پھر خصوص عیال، ان سب حقوق کاجامع ہوکر سب سے زیادہ خصوصیت خاصہ رکھتاہے، اور جس قدر خصوص بڑھتاجاتاہے حق اشدوآکد ہوتاجاتاہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۳۱/ ۱۴)
علمائے کرام اپنی کتب جلیلہ مثل احیاء العلوم وعین العلوم ومدخل وکیمیائے سعادت وذخیرۃ الملوک وغیرہا میں حقوق ولد سے نہایت مختصر طور پر کچھ تعرض فرمایا مگر میں صرف احادیث مرفوعہ حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف توجہ کرتاہوں فضل الٰہی جل وعلا سے امید کہ فقیر کی یہ چندحرفی تحریر ایسی نافع وجامع واقع ہو کہ اس کی نظیر کتب مطولہ میں نہ ملے اس بارہ میں جس قدر حدیثیں بحمداﷲ تعالٰی اس وقت میرے حافظہ ونظر میں ہیں انہیں بالتفصیل مع تخریجات لکھے تو ایک رسالہ ہوتاہے اور غرض صرف افادہ احکام لہٰذا سردست فقط وہ حقوق کہ یہ حدیثیں ارشاد فرمارہی ہیں کمال تلخیص واختصار کے ساتھ شمار کروں، وباﷲ التوفیق:
(۱) سب سے پہلا حق وجوداولاد سے بھی پہلے یہ ہے کہ آدمی اپنا نکاح کسی رذیل کم قوم سے نہ کرے کہ بُری رگ ضرور رنگ لاتی ہے۔
(۲) دیندارلوگوں میں شادی کرے کہ بچہ پرناناوماموں کی عادات کابھی اثرپڑتاہے۔
(۳) زنگیوں حبشیوں میں قرابت نہ کرے کہ ماں کاسیاہ رنگ بچہ کو بدنمانہ کردے۔
(۴) جماع کی ابتداء بسم اﷲ سے کرے ورنہ بچہ میں شیطان شریک ہوجاتاہے۔
(۵) اس وقت شرمگاہ زن پرنظر نہ کرے کہ بچہ کے اندھے ہونے کااندیشہ ہے۔
(۶) زیادہ باتیں نہ کرے کہ گونگے یاتوتلے ہونے کاخطرہ ہے۔
(۷) مردوزن کپڑااوڑھ لیں جانوروں کی طرح برہنہ نہ ہوں کہ بچہ کے بے حیا ہونے کااندیشہ ہے۔
(۸) جب بچہ پیداہو فوراً سیدھے کان میں اذان بائیں میں تکبیر کہے کہ خلل شیطان وام الصبیان سے بچے۔
(۹) چھوہارا وغیرہ کوئی میٹھی چیزچباکر اس کے منہ میں ڈالے کہ حلاوت اخلاق کی فال حسن ہے۔
(۱۰) ساتویں اور نہ ہوسکے توچودھویں ورنہ اکیسویں دن عقیقہ کرے، دختر کے لئے ایک پسر کے لئے دو کہ اس میں بچے کاگویارہن سے چھڑاناہے۔
(۱۱) ایک ران دائی کو دے کہ بچہ کی طرف سے شکرانہ ہے۔
(۱۲) سر کے بال اُتروائے۔
(۱۳) بالوں کے برابرچاندی تول کرخیرات کرے۔
(۱۴) سرپرزعفران لگائے۔
(۱۵) نام رکھے یہاں تک کہ کچے بچے کابھی جو کم دنوں کاگرجائے ورنہ اﷲ عزوجل کے یہاں شاکی ہوگا۔
(۱۶) برانام نہ رکھے کہ بدفال بدہے۔
(۱۷) عبداﷲ، عبدالرحمن، احمد، حامدوغیرہ باعبادت وحمد کے نام یاانبیاء واولیاء یااپنے بزرگوں میں جو نیک لوگ گزرے ہوں ان کے نام پرنام رکھے کہ موجب برکت ہے خصوصاً نام پاک محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کہ اس مبارک نام کی بے پایاں برکت بچہ کے دنیاوآخرت میں کام آتی ہے۔
(۱۸) جب محمدنام رکھے تو اس کی تعظیم وتکریم کرے۔
(۱۹) مجلس میں اس کے لئے جگہ چھوڑے۔
(۲۰) مارنے بُراکہنے میں احتیاط رکھے۔
(۲۱) جومانگے بروجہ مناسب دے۔
(۲۲) پیار میں چھوٹے لقب بیقدرنام نہ رکھے کہ پڑا ہوانام مشکل سے چھوٹتاہے۔
(۲۳) ماں خواہ نیک دایہ نمازی صالحہ شریف القوم سے دوسال تک دودھ پلوائے۔
(۲۴) رذیل یابدافعال عورت کے دودھ سے بچائے کہ دودھ طبیعت کو بدل دیتا ہے۔
(۲۵) بچے کانفقہ اس کی حاجت کے سب سامان مہیاکرنا خود واجب ہے جن میں حفاظت بھی داخل۔
(۲۶) اپنے حوائج وادائے واجبات شریعت سے جوکچھ بچے اس میں عزیزوں قریبوں محتاجوں غریبوں سب سے پہلے حق عیال واطفال کاہے جو ان سے بچے وہ اوروں کوپہنچے۔
(۲۷) بچہ کوپاک کمائی سے روزی دے کہ ناپاک مال ناپاک ہی عادتیں ڈالتاہے۔
(۲۸) اولاد کے ساتھ تنہاخوری نہ برتے بلکہ اپنی خواہش کو ان کی خواہش کے تابع رکھے جس اچھی چیز کو ان کا جی چاہے انہیں دے کر ان کے طفیل میں آپ بھی کھائے زیادہ نہ ہوتو انہیں کوکھلائے۔
(۲۹) خدا کی ان امانتوں کے ساتھ مہرولطف کابرتاؤ رکھے۔ انہیں پیارکرے بدن سے لپٹائے کندھے پر چڑھائے۔
(۳۰) ان کے ہنسنے کھیلنے بہلنے کی باتیں کرے ان کی دلجوئی، دلداری، رعایت ومحافظت ہروقت حتی کہ نمازوخطبہ میں بھی ملحوظ رکھے۔
(۳۱) نیامیوہ پھل پہلے انہیں کودے کہ وہ بھی تازے پھل ہیں نئے کو نیامناسب ہے۔
(۳۲) کبھی کبھی حسب ضرورت انہیں شیرینی وغیرہ کھانے، پہننے، کھیلنے کی اچھی چیز کہ شرعاً جائزہے دیتارہے۔