Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
93 - 160
وعلامہ حسن شرنبلالی درمراقی الفلاح شرح متن خودش نورالایضاح ذکرکردش وعلامہ سیداحمد طحطاوی درحاشیہ مراقی رحمۃ اﷲ علیہم اجمعین سبحٰن اﷲ چوں امامت فاسق بفسق واحدا رانوبت باینجا رسیدست ایں کسے کہ وجوہ عدیدہ ازفسق جمع کردہ کہ ازانہا بعضے روئے بسوئے کفر آوردہ والعیاذباﷲ ہیچ محل آں باشد کہ امام کردن او روا دارند یادرحرمت اقتدایش نزاعی آرند گیرم کہ نماز پس فاسق وجہ حلت دارد  اما کسیکہ درنفس اسلامش خلاف راگنجایشے باشد کیست کہ امامت او  را حلال انگارد  الاتری ان فی تقدیمہ تعظیمہ وھو حرام عند الشرع بالقطع معہذا علماء ما از امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ روایت کردہ اند کہ امامت متکلمان جائزنیست اگرچہ باعتقاد صحیح باشند کما نقلہ الامام الاجل الھندوانی والزاھدی صاحب القنیۃ والمجتبٰی والامام البخاری صاحب الخلاصۃ والامام العلامۃ المحقق حیث اطلق فی الفتح  وہمیں معنی فتواے امام اجل شمس الائمہ حلوائی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ بخط مبارکش یافتہ اند کما نص علیہ فی الخلاصۃ وایں روایت راہمہ ائمہ ممدوحین بقبول وتقریر گرفتہ اند ودرتوضیح مراد وتنقیح مفاد طرق عدیدہ رفتہ محط کلام اکثرے آنست کہ اینجا مرادبمتکلم کسے ست کہ درفنون کلامیہ زائد برحاجت توغل دارد ودرتکثیر شکوک وشقاشق عقلہ عمرعزیز ضایع برد افاد ذٰلک الامام الھندوانی وعلامہ عبدالغنی نابلسی درحدیقہ ندیہ شرح محمدیہ گوید المروی عن ابی یوسف رحمہ اﷲ تعالٰی ان امامۃ المتکلم وان کان بحق لاتجوز  محمول علی الزائد علی قدر الحاجۃ  والمتوغل فیہ کما قیل من طلب الدین بالکلام تزندق ولایرید المتکلم علی قانون الفلاسفۃ  لانہ لایطلق علٰی مباحثھم علم الکلام  لخروجہ عن قانون الاسلام  و ھو من اجزاء الحد، کما فی البزازیۃ۱؎، پس امامت متفلسفان اولٰی واجدربعدم جوازست کمالایخفٰی،
علامہ حسن شرنبلالی نورالایضاح کی شرح مراقی الفلاح میں اور علامہ سید احمد طحطاوی نے حاشیہ مراقی میں بھی اسی طرح فرمایا سبحان اﷲ جب اس شخص کی امامت درست نہیں جس میں ایک فسق پایاجاتا ہو تو اس شخص کو امام بنانا کس طرح درست ہوگا جس میں کئی وجہ سے فسق پایاجاتا ہے اور بعض وجہیں کفرتک پہنچاتی ہیں (نعوذباﷲ من ذلک) کیاکچھ گنجائش ہے کہ علماء ایسے شخص کے امام بنانے کوجائز  رکھیں یا اس کی اقتداء کے ناجائز ہونے میں کچھ اختلاف کریں یہ درست ہے کہ فاسق کے پیچھے نماز ہونے کی ایک صورت ہے لیکن جس شخص کے اسلام ہی میں اختلاف پایا جاتا ہو  اس کی امامت کو کون حلال گمان کرے گا کیا تجھے خبرنہیں کہ اسے امام بنانے میں اس کی تعظی ہے اور وہ شرعاً قطعی طور پر حرام ہے اس کے  باوجود  ہمارے علماء امام ابویوسف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ متکلمین کی امامت جائزنہیں اگرچہ ان کا عقیدہ صحیح ہو جیسے کہ امام اجل ہندوانی زاہدی صاحب قنیہ ومجتبٰی امام بخاری صاحب خلاصہ او ر ابن ہمام صاحب فتح القدیر نے نقل کیا، امام ا لائمہ شمس الائمہ حلوائی کے فتوٰی میں جوان کے خط مبارک سے پایاگیا یہی بات لکھی ہے جیسے کہ خلاصہ میں ہے اس روایت کوتمام ائمہ کاملین نے قبول کیا اور اس کی مراد مختلف طریقوں سے بیان فرمائی ہے، اکثر اس طرف گئے ہیں کہ اس جگہ متکلم سے مراد وہ شخص ہے جو علم کلام کے مختلف فنون میں ضرورت سے زیادہ انہماک رکھتاہو اور شکوک وشبہات کی کثرت میں عمرعزیز کوضائع کردے، یہ مطلب امام ہندوانی نے بیان فرمایا، علامہ عبدالغنی نابلسی حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں کہ امام ابویوسف سے جو یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ متکلم اگرچہ صحیح عقائد رکھتاہو اس کی امامت ناجائز ہے اس کامطلب یہ ہے کہ جو شخص ضرورت سے زیادہ علم کلام میں توجہ اور توغل رکھتاہو اس کے پیچھے نمازناجائزہے جیسے کہاگیاہے کہ جس نے کلام کے ذریعے علم دین کو طلب کیا وہ زندیق ہوگیا متکلم سے امام ابویوسف کی مراد وہ شخص نہیں جوفلاسفہ کے قانون پرکلام کرتاہو کیونکہ فلسفیوں کی بحثوں کوعلم کلام نہیں کہاجاتا کیونکہ وہ تو قانون اسلام ہی سے خارج ہیں اور یہ اجزاء حد میں سے ہے، جیسا کہ بزازیہ میں ہے جب علم کلام میں غلوکرنے والوں کے پیچھے نمازناجائزہے توفلسفے کے دعویداروں کے پیچھے بطریق اولٰی ناجائزہوگی جیسا کہ مخفی نہیں۔
 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الصلٰوۃ     باب الامامۃ         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۳۰۴)

(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الصلٰوۃ        الفصل الخامس     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱/ ۱۴۹) 

(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیۃ     النوع الثانی من الانواع الثلٰثہ الخ     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۱ /۳۳۲)
بالجملہ شرع مطہر زنہارنہ پسندد کہ سیدموصوف را باوصف چنیں فضائل واستحقاق کل از منصب امامت بہ آرند وایں کس راباآنہمہ معاصی ومناہی وذواہی وتباہی بجایش بردارند لاجرم ہرکہ بایں کار واجب الانکار پردازد  شریک آں متفلسف باشد در اثم  ومعاونش در ایذا  وظلم مستخف بشان سیادت وعلم  ومورد بسیاری ازشنائع مذکورۃ الصدر کمالایخفی علی المنشرح الصدر  واﷲ الھادی فی کل ورد وصدر حضرت حق جل وعلافرماید
لاتعاونوا علی الاثم والعدوان۱؎
وہمدگرمکنید برگناہ وستم ۔
الحاصل شریعت مطہرہ ہرگز پسند نہیں کرے گی کہ سید موصوف کو اتنے فضائل اور مستحق ہونے کے باوجود منصب امامت سے برطرف کردیاجائے اور اس شخص کو تمام گناہوں ممنوع حرکتوں کے باوجود ان کی جگہ مقرر کردیاجائے یقینا جو شخص یہ ناپسندیدہ کام کرے گا  وہ گناہ اور اس کی امداد، ایذا، ظلم، شان سیادت اور علم کی توہین اور بہت ساری سابقہ قباحتوں میں فلسفے کے اس دعویدار کاشریک ہوگا جیسے کہ صاحب شرح صدرپرمخفی نہیں، اﷲ تعالٰی فرماتاہے
لاتعاونوا علی الاثم والعدوان
گناہ وظلم میں ایک دوسرے کی امداد نہ کرو۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۵/۲)
وحاکم وعقیلی وطبرانی وابن عدی وخطیب بغدادی باسانید خود ہا ازعبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما روایت کنند کہ جناب سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم می فرمایند من استعمل رجل من عصابۃ وفیھم من ھو ارضی ﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین۲؎ یعنی ہرکہ مردی را ازجماعتی برکارے از کارہائے ایشاں نصب کرد ودر ایشاں کسے ست کہ پسندیدہ ترستازوے نزد خدا پس تحقیق اوخیانت کرد خدا ورسول ومسلماناں را  واخرج ابویعلٰی عن حذیفۃ بن الیمان رضی اﷲ تعالٰی عنہ یرفعہ الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایما رجل استعمل رجلا علی عشرۃ انفس وعلم ان فی العشرۃ افضل ممن استعمل فقد غش اﷲ وغش رسول وغش جماعۃ المسلمین۱؎۔
حاکم، عقیلی، طبرانی، ابن عدی اور خطیب بغدادی نے اپنی سندوں سے عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : من استعمل رجلا من عصابتہ وفیھم من ھو ارضی اﷲ منہ فقد خان اﷲ ورسولہ والمؤمنین جو شخص ایک جماعت میں سے کسی آدمی کو ان کے کسی کام  پرمقرر کرتاہے حالانکہ ان لوگوں میں اس سے زیادہ مقبول بارگاہ الٰہی آدمی موجود ہے تو اس نے اﷲ ورسول اور مسلمانوں کی خیانت کی ابویعلٰی نے حذیفہ بن یمان سے روایت کی کہ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص  دس آدمیوں کی جماعت پر ایک شخص کو مقرر کیا حالانکہ اسے علم ہے کہ ان دس آدمیوں میں مقررشدہ آدمی سے افضل موجودہے تو اس نے اﷲ ورسول اورمسلمانوں سے خیانت کی،
 (۲؎ المستدرک للحاکم     کتاب الاحکام     دارالفکر بیروت     ۴ /۹۲)

(الضعفاء الکبیر    ترجمہ ۲۹۵ حسین بن قیس     دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۲۴۸)

(۱؎ کنزالعمال    بحوالہ ع عن حذیفہ     حدیث ۱۴۶۵۳     مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۶ /۱۹)
علامہ مناوی رحمہ اﷲ تعالٰی درشرح تیسیر شرح جامع صغیر زیرحدیث اول گوید من استعمل رجلا من عصابۃ ای نصبہ علیھم  امیرا وقیما  او عریفا  او اماما للصلٰوۃ۲؎ امام بخاری درتاریخ وابن عساکر ازابوامامہ باہلی وطبرانی درمعجم کبیر ازمرثد غنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہما راویندکہ سیدعالم صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماید (وھذ حدیث ابی امامۃ) ان سرکم ان تقبل صلٰوتکم فلیؤمکم خیارکم۳؎ اگرشمارا خوش آید کہ نماز شمارمقبول شود باید کہ شمارا بہترین شما امامت کند دارقطنی وبیہقی ازعبداﷲ ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما روایت دارند، سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماید اجعلوا ائمتکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم۱؎ بہتران خودراامام کنید کہ ایشاں سفیر شمایند میان شما وپروردگار شما عزوجل وفی الباب عن واثلۃ بن الاسقع رضی اﷲ تعالٰی عنہ اخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر۔
علامہ مناوی تیسیر شرح جامع صغیر میں سابقہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ من استعمل رجلا من عصابتہ یعنی جس شخص نے کسی آدمی کو ایک جماعت کا امیریامحافظ یانمائندہ یانماز کا امام بنادیا حالانکہ اس سے زیادہ مقبول الٰہی موجود تھے تو وہ خائن ہے، امام بخاری نے تاریخ میں، ابن عساکر نے ابوامامہ باہلی سے اور طبرانی نے معجم کبیر میں مرثد غنوی رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ان سرکم ان تقبل صلٰوتکم فلیؤمکم خیارکم اگرتمہیں  پسند  ہے کہ تمہاری نماز مقبول ہو تو  ایسا شخص امام بنے جو تم میں سے افضل ہو، دارقطنی اور بیہقی حضرت عبداﷲ ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اجعلوا ائمتکم خیارکم فانھم وفدکم فیما بینکم وبین ربکم
اپنے بہترین آدمی کو امام بناؤ کیونکہ وہ تمہارے اور تمہارے رب کے درمیان نمائندے ہیں۔ اس بارے میں طبرانی نے معجم کبیر میں واثلہ بن الاسقع سے بھی روایت کی ہے۔
(۲؎ التیسیرشرح الجامع الصغیر     تحت حدیث من استعمل رجلا الخ   مکتبۃ الامام الشافعی ریاض     ۲ /۳۹۶)

(۳؎ کنزالعمال     بحوالہ ابن عساکر     حدیث ۲۰۴۳۳    موسسۃ الرسالہ بیروت     ۷ /۵۹۶)

(کنزالعمال     بحوالہ طب         حدیث ۴۳۴ک۳۰    موسسۃ الرسالہ بیروت         ۷ /۵۹۷)

(المعجم الکبیر                 حدیث ۷۷۷       موسسۃ الرسالہ بیروت        ۲۰ /۳۲۸)

(۱؎ سنن الدارقطنی     باب تخفیف القرأۃ الحاجۃ     نشرالسنۃ ملتان     ۲ /۹۸)
الحاصل خلاصہ حکم آنست کہ ایں کس ازبدترین فسّاق وفجّارست وبوجوہ چنددرچند تعزیر شدید راسزوار وامامتش ممنوع وناروا بلکہ مسلماناں را از صحبتش احتراز اولٰی وزنہار رخصت نباشد کہ آں سیّد فقیہ را از امامت براندازند  و ایں متفلسف سفیہ رابجایش مقرر وموقر سازند کدمتصدی ایں کارشود خود واجب التعزیر وگنہ گار شود تقدیم کو  وامامت ازکجابلکہ ایں کس رامی شاید کہ ازشناعات مذکورہ خود باز آید داغ کفران  ازجبینش وفلسفہ ملعونہ راوداع گوید وبرفضل علم وبزرگی حقش ایمان آرد تکلکف وتفلسف و تشدق تصلف راقبیح پندارد  وشنیع انگارد واز سرنوکلمہ طیبہ اسلام خواند  وبعدازاں تجدیدنکاح بتقدیم رساند  فان ذٰلک ھو الاحوط کما یظھر بمراجعۃ الدرالمختار وغیرہ من اسفارالکملۃ، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم فقط۔
خلاصہ جواب: یہ شخص بدترین فاسق وفاجرہے اور بے شمار وجوہ کی بناء پر سخت سزاکا مستحق ہے اس کی امامت ناجائزاورممنوع ہے اور مسلمانوں کو اس کی صحبت سے پرہیز کرناچاہئے اورہرگز اجازت نہیں کہ اس سید فقیہ کوامامت سے برطرف کیاجائے اور فلسفے کے اس دعویدار بیوقوف کو اس کی جگہ مقررکیاجائے جو شخص اس کام کے درپے ہوگا خود اس کے لئے سزاضروری ہے بلکہ اس شخص کو چاہئے کہ مذکورہ بالا خربیوں سے باز آئے اور ناشکری کاداغ اپنے ماتھے سے دھوئے اور مردود فلسفے کو رخصت کرے او رعلم دین کی فضیلت اور اس کے حق کی بزرگی پرایمان لائے فلسفہ پرستی تکلف اوربیہودگی کوبراسمجھے اورناپسند رکھے اور ازسرنوکلمہ طیبہ اسلام  پڑھ کر اسلام کی تجدید اس کے بعد تجدیدنکاح کرے، اسی میں ا حتیاط ہے، جیسے کہ درمختار وغیرہ دیکھنے سے ظاہرہوجائے گا
واﷲ سبحانہ، وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم فقط۔
رسالہ

الحقوق لطرح العقوق

ختم ہوا
Flag Counter