| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
بالجملہ ضرور فلسفہ وضلال متفلسفہ از شمس ازھر وازامس اظہر پس در تحریمش ارتیاب نکند مگرمریض القلب ضعیف الایمان والعیاذ باﷲ وعلیہ التکلان بیاتا عنان بمطلب گردانیم متفلسف مذکور ایں حرام علماء راذریعہ تفاخر ووسیلہ تفضیل وباعث تقدیم درمناجات رب جلیل دانست پیداست کہ کدام تحسین بالاتر ازیں باشد وایں معنی العیاذباﷲ پہلو بکفرزند چنانکہ علماء درفروع کثیرہ تنصیص کردہ اند وامام عبدالرشید بخاری تلمیذ امام اجل ظہیری وامام فقیہ النفس قاضی خان رحمہم اﷲ تعالٰی درخلاصہ فرماید من قال احسنت لماھو قبیح شرعا اوجودت کفر ۱؎ یارب مگرمتفلسفان برخویشتن نمی بخشایند کہ ہرفعل محرم بس ناکردہ زبان بتکبروتفاخر مے کشایند کلابل ران علٰی قلوبھم ماکانوا یکسبون۲؎، ونسأل اﷲ العافیۃ۔
یعنی عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں توراۃ کا ایک نسخہ لائے اور عرض کی : یارسول اﷲ ! یہ توراۃ کاایک نسخہ ہے۔ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم خاموش رہے اور کوئی جواب نہ دیا، عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے پڑھنا شروع کردیا، سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کاچہرہ مبارک شدت غضب کی وجہ سے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف بدل رہاتھا، حضرت عمرفاروق کو اس کی خبرنہ تھی کہ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا : اے عمر! تجھے رونے والی عورتیں روئیں تم نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے چہرہ انور کی حالت نہیں دیکھ رہے۔ تب حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضور کے چہرہ انور کودیکھا اور فوراً کہا اﷲتعالٰی اور اس کے رسول کے غضب سے خد اکی پناہ ہم اﷲ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمدصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہوئے۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگرتم پر موسٰی علیہ السلام ظاہرہوتے اور تم مجھے چھوڑ کر ان کی اتباع کرتے توراہ راست سے بھٹک جاتے اوراگرموسٰی علیہ السلام دنیامیں ہوتے اورمیری نبوت کے ظہورکے زمانے کو پاتے تومیری پیروی کرتے۔ اب انصاف کی آنکھ کھولنی چاہئے کہ توراۃ کلام الٰہی ہے اور قرآن مجید نے اس کی تصدیق کی ہے لیکن صرف اس بناء پر کہ اس میں تحریف ہوچکی ہے اس کا پڑھنا سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی اس قدرناراضگی کاسبب بنا، یہ مردود فلسفہ جوکہ کفروضلالت سے بھراہوا اور جہالتوں کامجموعہ ہے اور جس نے دین کے خادموں کے لئے دین کاراستہ بند کیاہواہے اور فلسفیوں نے دین کی زنجیر اپنے گلے سے اتارپھینکی ہے وہ کب اس لائق ہے کہ اس کابہت بڑاثواب گمان کیاجائے اور عمریں اس پرصرف کردی جائیں اور اس کی محبت کودل میں جگہ دی جائے اس کے باوجود محفوظ رہیں اور شدید غضب کے مستحق نہ ہوں بخدا اس طرح نہیں ہوسکتا اگرچہ جھوٹے اسے پسند نہ کریں۔ امام احمد نے مسند میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمرفاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ سروردوجہاں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر عرض گزار ہوئے کہ انا نسمع احادیث من یہود تعجبنا افتری ان نکتب بعضھا ہم یہودیوں سے کئی ایسی باتیں سنتے ہیں جو ہمیں اچھی لگتی ہیں کیا ہمیں اجازت ہے کہ ہم ان میں سے کچھ باتیں لکھ لیاکریں، نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
امتھوکون انتم کماتھوکت الیھود والنصارٰی
کیا تم دین اسلام کے مکمل اور کافی ہونے میں متحیر ہوکہ دوسروں کی باتوں کی طرف توجہ دیتے ہو جیسے کہ یہودی اور عیسائی اپنے مذہب میں متحیر ہوگئے اور اﷲ تعالٰی کے دئے ہوئے پراکتفا نہ کرکے اِدھر اُدھر مصروف ہوگئے
لقد جئتکم بھا بیضاء نقیۃ
میں تمہارے پاس یہ واضح اور پاکیزہ شریعت لایاہوں کہ اس میں نہ تو شک وشبہہ کی گنجائش ہے اور نہ کسی او رچیز کی ضرورت
ولوکان موسٰی حیا ما وسعہ الا اتباعی
اگرموسٰی علیہ السلام دنیامیں ہوتے تو انہیں بھی میری پیروی کے سواچارہ نہ ہوتا۔ ظاہرہے کہ جو باتیں عمر فاروق رضی اﷲ تعالٰی عنہ ایسی شخصیت کوپسندآتی ہوں وہ ہرگز شریعت کے مخالف نہ ہوں گی، اس کے باوجود حضور نے منع فرمایا اور بتادیا کہ شریعت مطہرہ کے ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرور نہیں، یہ کس طرح جائزہوگا کہ صاف وشفاف دریا(شریعت مقدسہ) کو پس پشت ڈال کر یونان کے کافروں کادامن تھاماجائے اور گمراہی کے جنگل میں مصیبت کی موت مول لی جائے یہ وہی شخص کرسکتاہے جس نے اپنے آپ کو حقیر وذلیل بنادیاہو۔ الحاصل یہ فلسفے کانقصان اور فلسفے کے دعویداروں کی گمراہی گزشتہ دن اور سورج سے زیادہ ظاہرہے لہٰذا اس کی حرمت میں صرف وہی شخص شک کرے گا جس کادل بیمار اور ایمان کمزور ہو، نعوذباﷲ من ذالک۔ آئیے تاکہ اصل مطلب کی طرف توجہ دیں کہ مذکورہ بالا شخص، فلسفے کادعویدار اس چیز پرفخرکرتاہے کہ بناء بریں اپنے آپ کو فضیلت والا اورامامت کے زیادہ لائق سمجھتاہے جسے علماء نے حرام کہاہے واضح ہے کہ اس سے بڑھ کر اس حرام فعل کی تعریف وتحسین اورکیاہوسکتی ہے
نعوذباﷲ من ذٰلک
اس میں تو ایک پہلو کفر کابھی نکلتاہے چنانچہ علماء نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے، امام اجل ظہیری اور امام فقیہ النفس قاضیخاں کے شاگرد امام عبدالرشید بخاری رحمہم اﷲ تعالٰی فرماتے ہیں : خلاصہ میں ہے کہ
من قال احسنت لما ھو قبیح شرعا اجودت کفر
(جس شخص نے شرعی قبیح کے مرتکب کوکہا کہ تونے اچھاکیا تو وہ کافرہوگیا) بارالٰہا! شاید یہ فلسفے کے دعویدار اپنے اوپر رحم نہیں کرتے کہ حرام فعل کی بناء پرفخر اور تکبرکرتے ہیں، ہاں ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی سیاہی چھاچکی ہے۔
(۱؎ مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ احمدوبیہقی فی الشعب باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ مطبع مجتبائی دہلی ص۳۰) (مسنداحمد بن حنبل عن جابر رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۸۷) (شرح السنۃ للبغوی باب حدیث اھل الکتاب المکتب الاسلامی بیروت ۱۰ /۲۷۰) (۱؎ منح الروض الازہرشرح الفقہ الاکبر فصل فی الکفر صریحا وکنایۃ مصطفی البابی مصر ص۱۸۹) (۲؎ القرآن الکریم ۸۳ /۱۴)
بستم آنکہ فضل تفلسف رابرفضل تفقہ ترجیح دادن کہ ادعائے اولویت بامامت رامنشاء ومنزع ہمون تواند بودمتضمن تحقیر علم دین ست کما لایخفی وتحقیربروجہ صریح کفر قطعی ست اینجا چوں پائے تضمن درمیان ست نزاع لزوم والتزام عیان ست کمابیناہ فی مقام الحدید وﷲ الھادی الی المسلک السدید۔
بستم فلسفے کی فضیلت کو ترجیح دینا (فقہ کی فضیلت پر) کیونکہ امامت کے زیادہ لائق ہونے کے دعوٰی کی یہی وجہ ہوسکتی ہے اس میں ضمناً علم دین کی توہین ہے جیسے کہ ظاہر ہے اور علم دین کی صراحۃً توہین کفرہے یہاں چونکہ یہ بات ضمناً آگئی ہے اس لئے یہی کہاجائے گا کہ علم دین کی توہین لازم آئی ہے اس شخص نے اس کا التزام نہیں کیا(اس لئے کفرکاقول نہیں کیاجائے گا) جیسے کہ ہم نے ''مقامع الحدید'' میں بیان کیا۔
ایں بست وجہ است، نجیح ووجیہ مفید فقیہ ومبید سفیہ کہ برنہج ارتجال بحال استعجال سپردخاتمہ نمودہ شد ومانا کہ اگرغوری رود وجوہ دیگر منجلی شود اما ہمیں قدرپسند ست وتطویل ممل ناپسند حالامسلماناں نگہ کنند کہ شرع مطہر امامت فاسق رانہ پسندیدہ تا آنکہ بسیارے ازعلماء امامتش رامکروہ تحریمی قریب حرام وآناں راکہ بتقدیمش بردارند مبتلائے اثام گفتہ اند علامہ ابراہیم حلبی رحمہ اﷲ تعالٰی درشرح کبیر منیہ عبارت فتاوٰی الحجۃ نقل کردہ میفرماید فیہ اشارۃ الی انھم لو قدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم لعدم اعتنائہ باموردینہ وتساھلہ فی الاتیان بلوازمہ فلایبعد منہ الاخلال ببعض شروط الصلٰوۃ وفعل ماینافیھا بل ھو الـغالب بالنظر الی فسقہ ولذا لم تجز الصلٰوۃ خلفہ اصلاً عند مالک وروایۃ عن احمد۱؎، وہمیں است ارشاد امام زیلعی درتبیین الحقائق شرح کنزالدقائق۔
یہ بیس عمدہ او ربہترین وجہیں فقیہ کے لئے مفید اور بیوقوف کے لئے تباہ کن قلم برداشتہ فی البدیہ لکھ دی گئی ہیں، اگر مزید غورکیاجائے تو اور وجوہ بھی ظاہرہوسکتی ہیں تاہم انہیں پراکتفاء کیاجاتاہے زیادہ کی ضرورت نہیں۔ اب مسلمانوں کو غور کرناچاہئے کہ شریعت مقدسہ نے فاسق کی امامت کو پسند نہیں کیا حتی کہ بہت سے علماء نے اسے مکروہ تحریمی اور حرام کے قریب فرمایا ہے اور ایسے شخص کوامام بنانے والوں کو گناہ عظیم کامبتلا قراردیاہے، علامہ ابراہیم حلبی کبیر شرح منیہ میں فتاوٰی حجہ سے نقل کرکے فرماتے ہیں : اس میں اشارہ ہے کہ فاسق کو امام بنانے والے گنہ گار ہوں گے، کیونکہ اسے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ وہ اموردین کاچنداں خیال نہیں کرتا اور شریعت کے لازمی امورکے اداکرنے میں سستی سے کام لیتا ہے کچھ بعیدنہیں کہ وہ نماز کی بعض شرطوں کوبھی ترک کردے اور نماز کے مخالف کوئی کام کربیٹھے بلکہ اس کے فسق کے پیش نظر غالب یہی گمان ہے اسی لئے امام مالک کے نزدیک اس کے پیچھے نمازبالکل جائزنہیں۔ تبیین الحقائق شرح کنزالدقائق میں امام زیلعی کے ارشاد کابھی یہی مطلب ہے۔
(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۴۔۵۱۳)