| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
وعلامہ زین بن نجیم مصری رحمہ اﷲ تعالٰی دراشباہ والنظائر فرماید العلم قدیکون حراما وھو علم الفلسفۃ۲؎ الخ، علامہ ابن حجر مکی رحمہ اﷲ تعالٰی درفتاوٰی خودش فرمود وماکان منہ (ای من الطبیعی) علی طریق الفلاسفۃ حرام۳؎۔
علامہ زین بن نجیم مصری رحمہ اﷲ تعالٰی اشباہ والنظائر میں فرماتے ہیں : علم کاپڑھنا کبھی حرام ہوتاہے جیسے کہ فلسفہ، علامہ ابن حجر مکی رحمہ اﷲ تعالٰی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں: حکمۃ طبعیہ کاجوحصہ فلاسفہ کے طریقے پرہو اس کاپڑھنا حرام ہے،
(۲؎ الاشباہ والنظائر الفن الثالث ادارۃ القرآن کراچی ۲ /۲۵۸) (۳؎ فتاوٰی حدیثیہ مطلب یجوز علم التنجیم مطبعۃ الجمالیۃ مصر ص۳۵)
وبہمدران ست اما الاشتغال بالفلسفۃ والمنطق فقد افتی بتحریمہ ابن الصلاح وشنع علی المشتغل بھما واطال فی ذٰلک ویجب علی الامام اخراج اھلھما من مدارس الاسلام وسجنھم وکف شرھم قال وان زعم انہ غیر معتقد لعقائدھم فان حالہ یکذبہ۴؎ ببیں چساں روشن وسپید میگوید کہ فلسفہ حرام ست وبربادشاہ اسلام واجب کہ اہل آں را از مدارس اسلام بیروں کند وزنداں فرماید تاشرآنہا بمسلماناں نرسد ومرد متفلسف کہ دریں جہالات مسمی بعلم توغل دارد وعمر می گزارد اگردعوٰی کند کہ من بدل عقائد آنہا راجائے ندادہ ام خود حال اوبہر تکذیب اوبسند ست کہ اگر نہ پسند ست چراپائے بندست ہیچ دیدہ انساں ہرچیزے راکہ دشمن دارد باختیار خود باوے عمرگزارد وشبہا باوے سحرکند ومدتہا چنگ بدامنش زند وبحصولش غلغلہ تفاخر افگند وکُلُّہُ گو شہا برآسمان شکند حاش ﷲ ایں ہمہ علامات رضاوایثارست ورنہ بادشمن ساعتی بسربردن شوار ست یاغراب البین لیت بینی وبینک بعد المشرقین ایں ست تقریرکلامش برحسب مرامش رحمہ اﷲ تعالٰی وماذکرہ فی الفلسفۃ صحیح ومن ثم قال الاوزاعی رحمہ اﷲ تعالٰی تحریمھا ھو الصحیح الصواب واما ما ذکرہ فی المنطق الفلاسفۃ ھو الذی یحرم الاشتغال بہ ویدل لذلک قولہ کف شرھم وقولہ ومعتقد لعقائدھم ۱؎۱ھ ملتقطا وفیہ طول کثیر۔
اسی میں ہے : ابن صلاح نے فلسفے اور منطق کی حرمت کافتوٰی دیا اور انہیں پڑھنے والے پر سخت طعن وتشنیع کی اور اس بارے میں طویل گفتگو کی بادشاہ اسلام پر واجب ہے کہ ایسے لوگوں کواسلامی مدارس سے نکال کرقید کردے اور ان کے شر کے دروازے کوبند کردے اگرچہ ان کاخیال یہ ہوکہ ہم فلاسفہ کے عقائد کے قائل نہیں کیونکہ ان کی حالت خود انہیں جھٹلارہی ہے اگرفلاسفہ کے عقائد کوپسند نہیں کرتا توفلسفے کاپابند کیوں ہے کبھی ایسابھی دیکھا ہے کہ انسان ایک چیز کو ناپسند رکھنا جوپھر اپنی مرضی سے اپنی تمام عمر اس میں صرف کردے، راتیں اس کے پیچھے گزاردے اور مدتوں اس کے ساتھ وابستہ رہے اور اس کے حاصل کرنے پرفخر کرے ہرگز نہیں، یہ سب پسندیدگی کی علامتیں ہیں ورنہ دشمن کے ساتھ ایک لحظہ گزارنا بھی مشکل ہوتاہے جدائی کے کوسے (دین سے دورکرنے والے) کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق اورمغرب کافاصلہ ہوتا، علامہ نے فلسفہ کے متعلق جوفرمایا وہ صحیح ہے اسی لیے امام اوزاعی نے فرمایا فلسفے کاحرام ہونادرست ہے۔ رہامنطق کامسئلہ توفلاسفہ کامنطق پڑھنا حرام، علامہ کاکلام خود اس طرف اشارہ کررہی ہے (کیونکہ ان کے منطق میں ان کے مذہب کے مطابق مثالیں درج ہوتی تھیں کچھ دورنہیں تھا کہ ان کے باربار تکرار سے ذہن میں بیٹھ جائیں ۱۲)
(۴؎ الفتاوٰی الفقہیۃ باب الاستنجاء دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۰) (۱؎ الفتاوٰی الفقہیۃ باب الاستنجاء دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۵۰)
فقیرمیگویم واﷲ سبحٰنہ یغفرلی از اول دلیل برتحریم وتفلسف وتقبیح حالش حدیثی ست کہ امام عبدالرحمان دارمی درسنن خودش ازسیّدنا جابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما روایت کردہ ان عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بنسخۃ من التورٰۃ فقال یارسول اﷲ ھذہ نسخۃ من التورٰۃ فسکت فجعل یقرأ و وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتغیر فقال ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ثکلتک الثواکل ماتری مابوجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فنظر عمر الٰی وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال اعوذ باﷲ من غضب اﷲ وغضب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رضینا باﷲ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبیا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والذی نفس محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیدہ لوبدا لکم موسٰی فاتبعتموہ وترکتمونی، لضللتم عن سواء السبیل ولوکان حیا وادرک نبوتی لاتبعنی۱؎ ۔
فقیرکہتاہے کہ فلسفے کے حرام ہونے اور ا س کے برائی کی دلیل وہ حدیث ہے جو امام ابوعبدالرحمان دارمی نے سنن میں سیدناجابربن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کی ہے کہ :
ان عمربن الخطاب رضی اﷲ تعالٰی عنہ اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بنسخۃ من التورٰۃ فقال یارسول اﷲ ھذہ نسخۃ من التورٰۃ فسکت فجعل یقرأ و وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتغیر فقال ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ثکلتک الثواکل ماتری مابوجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فنظر عمر الٰی وجہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال اعوذ باﷲ من غضب اﷲ وغضب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم رضینا باﷲ ربا وبالاسلام دینا وبمحمد رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نبیا فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والذی نفس محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بیدہ لوبدا لکم موسٰی فاتبعتموہ ترکتمونی، لضللتم عن سواء السبیل ولوکان حیا وادرک نبوتی لاتبعنی۔
(۱؎ سنن الدارمی باب مایتقی من تفسیر حدیث النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حدیث ۴۴۱ نشرالسنۃ ملتان ۱ /۹۵)
یعنی عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ پیش سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نسخہ ازتوریت آورد وعرضداشت کہ یارسول اﷲ ایں نسخہ ایست ازتوریت سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پاسخ نداد وسکوت فرمود عمررضی اﷲ تعالٰی عنہ خواندن گرفت وچہرہ مبارک سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ازحالی بحالی گردید بجہت شدت غضب وعمرازیں معنی آگاہی نداشت تا آنکہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ گفت اے عمر ترابگریند زنان گریہ کنان نمی بینی حالتیکہ در روئے مبارک سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پیداست آنگاہ عمرنظر بالاکرد وجانب چہرہ اقدس دیدگوراً گفت بخداپناہ میبرم ازغضب خدا ورسول خدا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پسندیدم خدائے راپروردگار واسلام رادین ومحمدرانبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وازیں کلمہا غضب سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فردمے نشست پس سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود بخدائے کہ جان محمد بقبضہ قدرت اوست اگرظاہر شود شماموسٰی علیہ السلام وشما اتباع اوکنید ومرا بگزارید ہرآئینہ راہ راست گم کردہ باشید واگرموسٰی بدنیا بودے وزمانہ ظہورنبوتم دریافتی بدرستی کہ مراپیروی کردی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حالاچشم انصاف کشادنی ست توریت کہ کلام الٰہی ست وقرآن بہ تصدیقش نازل محض بوجہ اختلاط تحریفات کارش بجائے رسید کہ قرأتش چنداں موجب غضب سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایں فلسفہ ملعونہ بکفر و ضلال مشحونہ کہ جہلی چنداست برہم نسستہ وراہ دین برخدامش بستہ دربقہ یقین ازگلوئے شان گسستہ العزۃ ﷲ چہ جائے آں دارد کہ او را اجرعظیم پندارند وعمرہا نظربروے گمارند وتخم ودادش بدلہا کارند با اینہمہ سلامت روند غضب اشد رامستحق نشوند لا واﷲ لایکون ولوکرہ المبطلون باز احمد درمسند وبیہقی درشعب الایمان ازجابر رضی اﷲ تعالٰی عنہ چناں آوردہ اند کہ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ باقدس بارگاہ عالم پناہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم حاضر آمد وبعرض قدسی رساند کہ انا نسمع احادیث من یھود تعجبنا افتری ان نکتب بعضھا ما از یہود حدیثہا می شنویم کہ مارا خوش می آید آیا بروانگی باشد کہ چیزے ازانہا بنویسیم سیدعالم فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم امتھوکون انتم کما تھوکت الیہود و النصارٰی آیا متحیرید دردین اسلام وکمال وتمام واغنائے تام او کہ دراحادیث دیگراں طمع دارید چنانکہ یہودونصارٰی دردین خود متحیر شدند وبرعلم الٰہی قناعت ناکردہ درایں وآں فتادن ودرقیل وقال زدند لقد جئتکم بھا بیضاء ونقیۃ من ایں ملت وشریعت راسپید وروشن وصاف وپاکیزہ آوردہ ام کہ نہ ہیچ شبہہ رادر ودخلی نہ باوے سوئے چیزے دگرحاجتی ولوکان موسٰی حیا ماوسعہ الااتباعی۱؎ ۔وخود یہود واحادیث آنہا چہ لائق التفات باشد اگرموسٰی ہم بدنیا بودے اورانیز جزپیری من گنجائش نداشتی صلی اﷲ تعالٰی علیک وسلم ومعلوم ست کہ احادیثکہ ہمچو عمررا خوش آید رضی اﷲ تعالٰی عنہ زنہار مخالف ملت ومنافی شریعت نباشد با اینہمہ نہی نمودند وامت رابراستغناء بشرع مطہر ازہمہ اغیارش دلالت فرمودند فکیف کہ دامن کفار یونان گیرند وبحر صافی را پس پشت انداختہ درتیہ ضلالت بتلخی میرند لایاتی ذٰلک الاممن سفہ نفسہ 0۔