Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
90 - 160
پانزدھم آنکہ پیربالتخصیص علم دینی دارد وباعلما بد بودن وبدی نمودن نچنداں برست کہ بگفتن آید، سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماید لیس من امتی من لم یجل کبیرنا ویرحم صغیرنا ویعرف لعالمنا حقہ از امت من نیست آنکہ تعظیم نکند بزرگ مارا وشفقت ننماید خورد مارا وحق نشناسد عالم مارا اخرجہ احمد۱؎ فی المسند والحاکم فی المستدرک والطبرانی فی الکبیر عن عبادۃ بن الصامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن، وفرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ثلٰثۃ لایستخف بحقھم الا منافق ذوالشیبۃ فی الاسلام وذوالعلم وامام متقسط  سہ کساند کہ سبک نگیرد حق ایشاں را مگرمنافق یکے آنکہ دراسلام مویش سپیدشد، دوم عالم، سوم پادشاہ عادل اخرجہ الطبرانی ۲؎ عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ بطریق حسنھا الترمذی لغیر ھٰذا المتن۔
پانزدھم  وہ معمر بالخصوص علم دین سے بہرورہے اور علماء کے ساتھ براہونا اور ان کے ساتھ برائی کرنا اتنابرا ہے کہ بیان نہیں کیاجاسکتا سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لیس من امتی من لم یجل کبیرنا ویرحم صغیرنا ویعرف لعالمنا حقہ
وہ شخص میری امت میں سے نہیں جو ہمارے بڑے کی تعظیم نہیں کرتا او رہمارے بچے پرمہربانی نہیں کرتا اور ہمارے عالم کاحق نہیں  پہچانتا
 (امام احمد، حاکم، طبرانی فی الکبیر ازعبادہ بن صامت رضی اﷲ تعالٰی عنہ)
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلٰثۃ لایستخف بحقھم الامنافق ذوالشیبۃ فی الاسلام  وذوالعلم  وامام متقسط
تین شخص ہیں جن کے حق کو صرف منافق خفیف سمجھتاہے (۱) وہ مسلمان جس کے بال سفید ہوچکے ہوں (۲) عالم (۳) عادل بادشاہ (طبرانی نے اس حدیث کو ایسی سند سے روایت کیاجسے امام ترمذی نے ایک اور حدیث روایت کرتے ہوئے حسن قراردیا)
 (۱؎ مسنداحمدبن حنبل     عن عبادہ بن الصامت      المکتب الاسلامی بیروت     ۵ /۳۲۳)

(الترغیب والترہیب     بحوالہ احمدوالطبرانی والحاکم     الترغیب فی اکرام العلماء    المصطفٰی البابی مصر   ۱ /۱۱۴)

(۲؎ المعجم الکبیر   عن ابی امامۃ     حدیث ۷۸۱۹        المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۸ /۳۳۸)
شانزدھم آنکہ ایں ذی علم بالخصوص سیدست وتعظیم ایں نسل طاہر ونسب فاخر از اہم  واجبات وایذائے آناں و بدخواہی ایشاں ازاشد موبقات درحدیث ابوالشیخ ابن حبان ودیلمی آمدہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  فرمود من لم یعرف حق عترتی و الانصار والعرب فھم لاحدی ثلث اما منافق  واما ولد زانیۃ  واما اِمرُؤ  حملت بہ امہ لغیر طھر۔۱؎ ہرکہ نشناسد حق آل من وحق انصار واہل عرب آن بہریکے از سہ وجہ است یامنافق ست یاچہ زنا یامردی کہ ماد رش باودر ایام بے نیای بارور شدہ است۔
شانزدھم  بالخصوص وہ عالم سید ہیں او ران کی دشمنی سخت ہلاکت کاسبب ہے ابوالشیخ ابن حبان اور دیلمی کی روایت میں ہے :
من لم یعرف حق عترتی والانصاروالعرب فھم لاحدی ثلث اما منافق  واما ولد زانیۃ  واما اِمرُؤ  حملت بہ امہ لغیر طھر
جوشخص میری آل، انصار اور اہل عرب کاحق نہیں  پہچانتا وہ یا تومنافق ہے  یاحرامزادہ، یا اس عورت کا بچہ ہے جوبے نمازی کے دنوں میں حاملہ ہوئی ہو۔
 (۱؎ الفردوس بمأثور الخطاب   حدیث ۵۹۵۵   دارالکتب العلمیۃ بیروت   ۳ /۶۲۶)
واخرج ابن عساکر وابونعیم عن امیرالمؤمنین علی کرم اﷲ تعالٰی وجہہ  ایضا یرفعہ الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اٰذی شعرۃ منی فقد اذانی  ومن اذانی  فقد اٰذی اﷲ ۲؎، زاد ابونعیم فعلیہ لعنۃ اﷲ ملء السماء  وملءالارض۳؎ یعنی سید عالم فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہرکہ از من موئ (یعنی ادنٰی متعلقے) را ایذا داد پس بہ تحقیق مرا  آزار رسانید وہرکہ مرا آزار رسانید پس بدرستی کہ حق عزوجل را اذیت کرد  پس برونفرین خداست بُپری آسمان وبُپری زمین واحادیث درجلال عترت طاھرہ وتاکید حقوق آنہا خیمہ بسرحد تواتر زدہ است، و باﷲ التوفیق۔
ابن عساکر اور ابونعیم نے حضرت امیرالمومنین علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں
من اٰذی شورۃ منی فقد اذانی  ومن اذانی  فقد اٰذی اﷲ۲؎، زاد ابونعیم   فعلیہ لعنۃ اﷲ ملء السمآء  وملء الارض
یعنی سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : جس شخص نے میرے ایک بال (یعنی معمولی سا تعلق رکھنے) کو تکلیف دی بے شک اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اﷲ کو تکلیف دی اس پر زمین وآسمان کے بھرنے کے برابر خدا کی لعنت، آل پاک کی عترت اور ان کے حقوق کی تاکید کے متعلق حدیثیں حدِ تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں وباﷲ التوفیق۔
(۲؎ کنزالعمال بحوالہ ابن عساکر عن علی بن ابی طالب     حدیث ۳۴۱۵۴    موسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۲ /۹۵)

(۳؎کنزالعمال    بحوالہ کر وابن المغفل   حدیث ۳۵۳۵۲    موسسۃ الرسالہ بیروت   ۱۲ /۳۴۹)
ھفدھم آنکہ چوں سیدموصوف حسب تصریح سائل ہم بعلم وہم بتقوٰی وہم بسن دہم بنسب اجل وافضل ست مستحق بکرامت امامت وتعظیم تقدیم ہموں است کہ ایں ہرچہار از وجوہ احقیت ست کما صرح بہ فی تنویر الابصار وغیرہ عامۃ الاسفار پس منازعتش باوے صراحۃ برخلاف حکم شرع ست
ومن یتعد حدوداﷲ فقد ظلم نفسہ۱؎۔
ھفدھم جب سیدصاحب موصوف سائل کے کہنے کے مطابق علم وتقوٰی عمراورنسب میں اعلٰی اورافضل ہیں تو وہی امامت کی عزت وتعظیم کے لائق ہے اور یہ چاروں باتیں امامت کے زیادہ حقدار ہونے کاسبب ہیں جیسے کہ تنویرالابصار وغیرہ فقہ کی بڑی بڑی کتابوں میں تصریح ہے پس ایسے شخص کے ساتھ جھگڑا شریعت کے حکم کے خلاف ہے اور جو اﷲ تعالٰی کی قائم کی ہوئی حدوں سے پھاند گیا اس نے اپنے اوپرظلم کیا۔
 (۱؎ القرآن الکریم     ۶۵/ ۱)
ھژدھم آنکہ ایں کس میخواہد کہ علم خود را ذریعہ تحصیل دنیا کند  ودرحدیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آمدہ است من اکل بالعلم طمس اﷲ علی وجھہ و ردّہ علی عقبیہ وکانت النار اولٰی بہ یعنی ہرکہ علم راذریعہ جلب مال نماید حق عزوجل روئے اورامسخ فرماید واُو را برہردو پاشنہ اش، بازگرداند وآتش دوزخ باوسزاوارتر باشد اخرجہ الشیرازی۲؎ فی الالقاب عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
ھژدھم یہ شخص چاہتاہے کہ اپنے علم کو دنیا حاصل کرنے کاذریعہ بنائے۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث شریف میں ہے :
من اکل بالعلم طمس اﷲ وجہہ  وردّہ علی عقبیہ وکانت النار اولٰی بہ
جو شخص علم کودنیاکمانے کاذریعہ بناتاہے اﷲ تعالٰی اس کے چہرے کو بگاڑ دے گا اور اسے اس کی ایڑیوں پر واپس لوٹادے گا اور دوزخ کی آگ اس کے زیادہ لائق ہے (شیرازی نے القاب  میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی)۔
(۲؎ کنزالعمال   بحوالہ شیرازی فی الالقات     حدیث ۲۹۰۳۴    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۰ /۱۹۶)
ودر حدیث دیگر ست کہ فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  ومن ازداد  علما  ولم یزدد  فی الدنیا  زھدا لم یزدد من اﷲ الا بعدا ہرکہ در علم افزود ودر دنیا بے رغبتی نیفزود ازخدا نیفزود مگردوری اخرجہ الدیلمی ۱؎ عن علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ واحادیث دریں باب بسیارست۔
دوسری حدیث میں ہے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
من ازداد علما ولم یزدد فی الدنیا زھدا لم یزد من اﷲ الا بُعدا
جس شخص نے علم زیادہ حاصل کیالیکن دنیا سے بے رغبتی زیادہ نہ ہوئی اسے اﷲ تعالٰی سے دوری کے سوا کچھ نہ ملا(دیلمی ازحضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ) اس بارے میں بے شمار حدیثیں وارد ہیں۔
 (۱؎ الفردوس بمأثور الخطاب عن علی   حدیث ۵۸۸۷    دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۳ /۶۰۲)
نوزدھم آنکہ حرفے چند از فلسفہ مزخرفہ آموختن واندک فضلہ ازکفار سفسطہ بگدیہ اندوختن پیش او گرامی کاریست بدیع و منیع باعث فخر وشرف رفیع کہ بربنایش خود را  ازاں سید فقیہ افضل واولٰی تربامامت می انگارد حالانکہ ایں علوم فلاسفہ اعنی طبیعیات والٰہیات آنہا کہ مملو ومشحون ست ازضلالاتِ شنیعہ وبطالات فظیعہ  تا آنکہ  دروے انبارہا ست ازکفر وشرک وانکار ضروریات دین وخروارہا  از مضادّت قرآن ومحادّت فرمان انبیاء ومرسلین صلوات اﷲ وسلامہ علیہم اجمعین، وقد فصّلنا بعضھا عنقریب فی رسالتنا  سمّیناھا  ''مقامع الحدید علی خد المنطق الجدید'' اقمنا فیھا الطامۃ الکبرٰی علی المتھورین من متفلسفی الزمان  وباﷲ التوفیق و علیہ التکلان قطعاً  ازعلوم  محرمہ است فی الدر المختار اعلم ان تعلم العلم یکون فرض عین (الی ان قال) وحراما وھو علم الفلسفۃ والشعبدۃ والتنجیم والرمل وعلوم الطباعین والسحر ۱؎۔
نوزدھم  وہ شخص جس کے نزدیک ملمع شدہ فلسفہ سیکھنا اورکافروں کی بیہودگی کے باقیماندہ حصے کو  گداگری کے ذریعے جمع کرنا بہت بڑاکام ہے اور فخرو ناز کاباعث ہے جس کی بناپر اپنے آپ کو  اس سید فقیہ سے امامت کے زیادہ لائق سمجھتاہے حالانکہ فلسفیوں کے یہ علوم یعنی طبیعیات اور الٰہیات جو بدترین گمراہیوں سے پُرہیں حتی کہ ان میں کفرو شرک اور ضرورت دین کے انکار کے ڈھیرلگے ہوئے ہیں اور بہت سی باتیں قرآن مجید اور انبیاء ومرسلین کے ارشادات کے مخالف ہیں جیسا کہ ہم نے بعض باتوں کی تفصیل اپنے رسالے
"مقامع الحدید علی خدالمنطق الجدید"
 (جدید منطق کے منہ پرلوہے کے گرز) میں کی ہے ہم نے اس میں اس زمانے کے فلسفے کے دعویداروں پرقیامت قائم کردی ہے ان علوم کا (بغیرتردیدکے) پڑھنا قطعاً حرام ہے درمختارمیں ہے: بیشک علم کاپڑھنا فرض عین ہے، یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا اور کبھی علم کاپڑھنا حرام ہوتاہے جیسے کہ علم فلسفہ، شعبدہ، نجوم، رمل، حکمت، طبعیہ اور جادو۔
(۱؎ درمختار     مقدمۃ الکتاب   مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۶)
Flag Counter