مسئلہ ۱۳: مسئولہ مولوی نوشہ علی صاحب ربیع الاول ۱۳۱۷ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اکثرلوگ جب فصل آم آتی ہے توباغوں کوجاکر آم کھاتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کے آموں کی گٹھلیاں مارتے ہیں اور لہوولعب میں مشغول ہوتے ہیں، آیا یہ فعل ان کاکیسا ہے، جائزیاناجائز؟ اور برتقدیر عدم جواز کے حرام ہے یابدعت ہے یامکروہ؟ اور برتقدیر بدعت کے بدعت حسنہ ہے یاسیئہ؟
بیّنواالجواب بحوالۃ الکتب وتوجروایوم الحساب
(بحوالہ کتب جواب بیان فرمایئے اور روزحساب اجرپائیے۔ت)
الجواب: گٹھلیاں مارنا ناجائزوممنوع ہے مسندامام احمدوصحیح بخاری و مسلم وسنن ابی داؤدوسنن نسائی وسنن ابن ماجہ میں حضرت عبداﷲ بن مغفل مزنی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی:
قال نھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم عن الخذف وقال انہ لایقتل الصید ولاینکاء العدو وانہ یفقأ العین ویکسرالسن۱؎۔
یعنی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے غلایاگٹھلی کنکری پھینک کرمارنے سے منع کیا اور فرمایا اس سے نہ دشمن پروارہو سکے نہ جانور کاشکار، اس کانتیجہ یہی ہے کہ آنکھ پھوڑدے یادانت توڑدے۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الادب باب الخذف قدیمی کتب خانہ ۲/ ۹۱۹)
(صحیح مسلم کتاب الصید باب الخذف قدیمی کتب خانہ ۲/ ۱۵۲)
(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب الخذف آفتاب عالم پریس لاہور ۲/ ۳۵۸)
تیسیر میں ہے ''الخذف'' میں دوحروف ''خ'' اور ''ذ''' دونوں نقطے والے ہیں اور آخر میں حرف ''ف'' ہے اس پربھی نقطہ ہے اس کے معنی ہیں گٹھلی وغیرہ پھینکنا۔
(۲؎ التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت حدیث نہی عن الخذف مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲/ ۴۶۶)
اور صرف چھلکوں سے ہم عمرہم مرتبہ لوگ نادراً محض تطبیب قلب کی طورپرباہم مزاح دوستانہ کریں جس میں اصلاً کسی حرمت یاحشمت دینی کا ضررحالاً یامالاً نہ ہو تو مباح ہے۔
عالمگیری میں ہے:
قال القاضی الامام ملک الملوک، اللعب الذی یلعب الشبان ایام الصیف بالبطیخ بان یضرب بعضھم بعضا مباح غیرمستنکر کذا فی جواھر الفتاوی فی الباب السادس۳؎۔
قاضی امام ملک الملوک نے فرمایا وہ کھیل جو موسم گرما میں نوجوان خربوزوں کے ساتھ کھیلتے ہیں ایک دوسرے کوخربوزے مارتے ہیں یہ کھیل مباح ہے گناہ نہیں۔ جواہرالفتاوٰی کے چھٹے باب میں اسی طرح مذکور ہے۔(ت)
(۳؎ فتاوٰی ہندیہ کتاب الکراہیۃ الباب السابع عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۳۵۲)
عوارف المعارف شریف میں ہے:
روی بکربن عبداﷲ قال کان اصحاب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یتبادحون بالبطیخ فاذا کانت الحقائق کانواھم الرجال یقال بدح یبدح اذا رمی ای یترامون بالبطیخ ۱؎اھ ذکرہ قدس سرہ فی الباب الثلثین۔ واﷲ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔
بکربن عبداﷲ سے روایت ہے کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے صحابہ (بطور تفریح وکھیل کود) ایک دوسرے پرخربوزے پھینکاکرتے تھے جب حقائق یہ ہیں تو پھردرحقیقت وہی کامل مرد ہیں۔ جب کوئی چیزپھینکی جائے تو کہاجاتاہے بَدَحَ یَبْدَحُ یعنی صحابہ کرام ایک دوسرے پرخربوزے پھینکاکرتے تھےاھ اس کو صاحب عوارف المعارف نے تیسویں باب میں ذکر فرمایا۔ اﷲ تعالٰی پاک، بلندوبالا اور سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
(۱؎ عوارف المعارف الباب الثلاثون مکتبۃ المشہد الحسینی القاہرہ ص۱۴۲)
مسئلہ ۱۴ : ازپیلی بھیت بازار ڈرمنڈ گنج دکان خلیل الرحمن عطرفروش مرسلہ محمدمظہرالاسلام صاحب ۲۴رجب ۱۳۱۸ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ مندرجہ ذیل میں: بزرگان دین کے عرس میں شب کو آتشبازی جلانا اور روشنی بکثرت کرنا بلاحاجت اور جوکھانا بغرض ایصال ثواب پکایاگیا ہو اس کو لٹانا کہ جو لوٹنے والوں کے پَیروں میں کئی من خراب ہوکر مٹی میں مل گیاہو اس فعل کوبانیان عرس موجب فخراورباعث برکت قیاس کرتے ہیں، شریعت عالی میں اس کا کیاحکم ہے؟بیّنواتوجروا۔
الجواب : آتشبازی اسراف ہے اور اسراف حرام، کھانے کاایسالٹانابے ادبی ہے اور بے ادبی محرومی ہے، تضیعِ مال ہے، اور تضیع حرام، روشنی اگرمصالح شرعیہ سے خالی ہو تو وہ بھی اسراف ہے، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵: ازبنگالہ ضلع کمرلہ موضع حریمنگل مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۲ربیع الاول شریف
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تاش وشطرنج کھیلنا جائزہے یانہیں؟ بیّنواتوجروا عنداﷲ(بیان فرماؤ اﷲ کے ہاں سے اجروثواب پاؤ۔ت)
الجواب : دونوں (تاش وشطرنج) ناجائزہیں اور تاش زیادہ گناہ وحرام کہ اس میں تصاویر بھی ہیں،
شطرنج کامسئلہ بڑی تفصیل کے ساتھ درمختار وغیرہ میں موجود ہے اور صواب (درست اور حقیقت) یہ ہے کہ اس کی مطلقاً ممانعت ہے جیسا کہ فتاوٰی شامی میں اس کی وضاحت فرمائی گئی۔ اور اﷲ تعالٰی سب سے بڑا عالم ہے اور اس کا علم نہایت درجہ تام اور پختہ ہے۔(ت)
(۱؎ درمختار کتاب الحظروالاباحۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۴۷)
(۲؎درمختار کتاب الحظروالاباحۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۵۳)
مسئلہ ۱۶: ۲۸ربیع الآخرشریف ۱۳۲۰ھ مسئولہ شیخ شوکت علی صاحب
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص میرادوست آیا اور اس نے مجھ سے کہا چلو ایک جگہ عرس ہے، میں چلاگیا وہاں جاکردیکھا کہ بہت اشخاص ہیں اور قوالی اس طریقہ سے ہورہی ہے کہ ایک ڈھول او دوسارنگی بج رہی ہے اور چندقوال پیرانِ پیردستگیر کی شان میں شعرپڑھ رہے ہیں اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نعت کے اشعار اور اولیاء اﷲ کی شان میں اشعار گارہے ہیں اور ڈھول سارنگیاں بج رہی ہیں، یہ باجے مذکورہ توشریعت میں حرام ہیں کیا اس فعل سے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اور اولیاء اﷲ خوش ہوں گے اور یہ اشخاص مذکورہ حاضرین جلسہ گنہگارہوئے یانہیں؟ اور ایسی قوالی جائزہے یانہیں؟ او راگرجائزہے توکس طرح پر؟ بینواتوجروا فقط۔
الجواب : ایسی قوالی حرام ہے، حاضرین سب گنہگار ہیں، اور ان سب کاگناہ ایساکرنے والوں اور قوالوں پرہے اور قوالوں کابھی گناہ اس عرس کرنےو الے پربغیراس کے کہ عرس کرنے والے کے ماتھے قوالوں کاگناہ جانے سے قوالوں پرسے گناہ کی کچھ کمی آئے یا اس کے قوالوں کے ذمہ حاضرین کاوبال پڑنے سے حاضرین کے گناہ میں کچھ تخفیف ہو، نہیں بلکہ حاضرین میں ہرایک پراپناپوراگناہ اور قوالوں پراپناگناہ الگ اور سب حاضرین کے برابرجدا اور سب حاضرین کے برابر علیحدہ وجہ یہ کہ حاضرین کوعرس کرنے والے نے بلایا اُن کے لئے اس گناہ کا سامان پھیلایا اور قوالوں نے انہیں سنایا اگر وہ سامان نہ کرتا یہ ڈھول سارنگی نہ سناتے توحاضرین اس گناہ میں کیوں پڑتے اس لئے ان سب کا گناہ ان دونوں پرہوا پھرقوالوں کے اس گناہ کاباعث وہ عرس کرنے والا ہوا وہ نہ کرتا نہ بلاتا تو یہ کیونکر آتے بجاتے لہٰذا قوالوں کابھی گناہ اس بلانے والے پرہوا،