Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
89 - 160
ودرمسند الفردوس ازمعاویہ بن حیدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ مرویست کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی عنہ فرمود الحسد یفسد الایمان کما یفسد الصَّبِر العسل۳؎ حسدتباہ می کند ایمان راچنانکہ تباہ میکند صَبِر شہد را، وصَبِر بفتح صاد کسر باء عصارہ درختیست بہ تلخی معروف بازحسد نیست جزآنکہ از کسے زوال نعمتی خواہند کما عرفہ بذٰلک العلماء پس بخودی خودقیام بازالہ آں نمودن  پیداست کہ وبال ونکالش تابکجا رسیدنی ست۔
مسند الفردوس میں معاویہ ابن حیدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
الحسد یفسدالایمان کما یفسد الصَّبِرالعسل
حسدایمان کواسی طرح تباہ کردیتاہے جس طرح صَبِر شہد کوتباہ کردیتاہے۔ صَبِر، صاد پرفتحہ اورباء کے نیچے کسرہ ایک درخت کا انتہائی کڑوا نچوڑہے  پھر حسد اسے کہتے ہیں کہ کسی کی نعمت کے چھِن جانے کی آرزو کی جائے جیسے کہ علماء نے حسد کی تعریف کی ہے، پھر کسی کی نعمت کوختم کرکے خود اس کی جگہ پہنچنے کی خواہش کاوبال کہاں تک ہوگا۔
 (۳؎ کشف الخفاء    بحوالہ الدیلمی      عن معاویۃ بن حیدہ     حدیث ۱۱۲۹  دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۱ /۳۱۷)
سیزدہم آنکہ شارع صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بکمال رحمت وعنایتے کہ برحال مسلمانان دارد روا نداشتہ است کہ خطبہ برخطبہ مسلمانے کنند یاسوم برسوم وے نمایند  اخرج الائمۃ احمد والشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لایخطب الرجل علٰی خطبۃ اخیہ ولایسوم علی سومہ۱؎ ۔
سیزدھم نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کومسلمانوں کے ساتھ بےحد شفقت ہے اس کے باوجود آپ نے اس بات کو جائز نہ رکھا کہ ایک مسلمان نے کسی عورت کونکاح کاپیغام دے رکھا ہو تو دوسرا بھی دے دے یا ایک آدمی سوداکررہاہو دوسرابھی سودا کرنے لگ جائے (امام احمد، بخاری ومسلم از ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ) حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لایخطب الرجل علی خطبۃ اخیہ ولایسوم علی سومہ۔
 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب البیوع     ۱ /۲۸۷    و کتاب الشروط     ۱ /۳۷۶    قدیمی کتب خانہ کراچی)

(صحیح مسلم         کتاب النکاح     باب تحریم الجمع بین المرأۃ وعمتہا      قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۴۵۳)

(مسنداحمدبن حنبل     عن ابی ہریرۃ      المکتب الاسلامیۃ بیروت     ۲ /۵۰۸ و ۵۲۹)
وفی الباب عن عقبۃ بن عامر وعن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم یعنی یکے می خردوبائع ومشتری برچیزے تراضی کردہ اند دیگرے آیدوبہا افزاید وخودببردیایکے مرد  زنے را خواستگاری کردہ است ورائے برتزویج قرار بگرفتہ دیگرے برخیزد وسببے انگیزد ومخطوبہ اورابحبالہ خود کشید ایں ھمہ ممنوع ونارواست حالانکہ دریں صورتہا محض قرار دادست نہ حصول پس چساں حلال باشد کہ برمسلمانے دست تعدی دراز نمایند وازوے نعمت موجودہ  حاصلہ بربایند ایں خودستم صریح است ومصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود الظلم ظلمۃ یوم القٰیمۃ ستم تاریکیہاست روز قیامت اخرجہ البخاری ومسلم ۲؎ والترمذی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما وبسندہ است قول او سبحٰنہ وتعالٰی
الالعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین۱؎۔
والعیاذ باﷲ تعالٰی۔
اس سلسلہ میں عقبہ بن عامر اور ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے بھی روایت ہے یعنی ایک آدمی کوئی چیز خرید رہاہے خریدار اور فروخت کنندہ دونوں راضی ہوچکے ہیں ایک اور آدمی زیادہ قیمت دے کر وہ چیزلے جاتاہے یا ایک مرد نے کسی عورت کو نکاح کاپیغام دے رکھاہے اور دونوں رضامند ہوچکے ہیں ایک اور آدمی کسی طریقے سے اس عورت کے ساتھ نکاح کرلیتاہے یہ سب ناجائزاور ممنوع ہے حالانکہ ان صورتوں میں صرف رضامندی تھی کچھ حاصل نہ ہواتھا، جب یہ ناجائز ہے تو یہ کس طرح جائزہوگا کہ کسی کو ایک نعمت حاصل ہو اور اس پرزیادتی کرکے اس نعمت کو چھین لیاجائے، یہ صریح ظلم ہے۔ نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الظلم ظلمٰت یوم القٰیمۃ
قیامت کے روز کئی اندھیروں کے برابر ہوگا
 (بخاری، مسلم، ترمذی از ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما)
اس کے لئے اﷲ تعالٰی کایہ فرمان کافی ہے
الالعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین
ظالموں پرخدا کی لعنت۔
والعیاذباﷲ تعالٰی۔
 (۲؎ صحیح البخاری     ابواب المظالم     باب الظلم ظلمات یوم القٰیمۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۳۱)

(جامع الترمذی     ابواب البروالصلۃ     باب ماجاء فی الظلم    امین کمپنی دہلی         ۲ /۲۴)

(۱؎ القرآن الکریم     ۱۱ /۱۸)
چہاردھم آنکہ ایں مسلمان کہ باوے ایں چنیں بدیہا میرود بالخصوص پیروکبیر السن ست  وسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود لیس منّا من لم یرحم صغیرنا ویعرف شرف کبیرنا  از مانیست ہرکہ مہر نکند برخورد ما وبزرگی نشناسد بہرکلاں مااخرجہ احمد والترمذی والحاکم ۲؎ عن عبداﷲ بن عمروبن العاص رضی اﷲ تعالٰی عنھما بسند حسن بل صحیح وفرمودے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیس منّا من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقر کبیرنا  یعنی بر روش مانیست ہرکہ برخوردان رحم ومرپیراں راتوقیر نکند  اخرجہ الاولان وابن حبان عن ابن عباس۱؎ رضی اﷲ تعالٰی عنھما واسنادہ حسن وبنحوہ للطبرانی فی العجم الکبیر عن واثلۃ بن الاسقع رضی اﷲ عنہ وفرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لیس منّا من لم یرحم صغیرنا ولم یعرف حق کبیرنا ولیس منّا من غشنا ولایکون المؤمن مؤمنا حتی یحب للمؤمنین مایحب لنفسہ  یعنی ازمانیست ہرکہ برخورد سالاں شفقت ومرسال خورداں راحق نشناسد ونہ آنکہ مومناں راخیانت کند ومسلمان مسلماں نمی شود تا آنکہ ہمہ مومنین راہماں خواہد کہ ازبہرجان خود میخواہد  اخرجہ الطبرانی ۲؎ فی الکبیر عن ضمیرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ باسناد فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  ان من اجلال اﷲ تعالٰی اکرام الشیبۃ المسلم الحدیث، ازتعظیم خداست بزرگ داشتن مسلمان سپید موی اخرجہ ابوداؤد۳؎ عن ابی موسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
چہاردھم خاص طور پر یہ برائیاں جس مسلمان کے ساتھ کی جارہی ہیں بوڑھا اور معمّرہے، سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لیس منّا من لم یرحم صغیرنا ویعرف شرف کبیرنا
وہ ہم میں سے نہیں جو بچوں پرمہربانی نہیں کرتا اور بزرگوں کی عزت کونہیں پہچانتا
 (امام احمد،، ترمذی،حاکم ازعبداﷲ بن عمروبن عاص رضی اﷲ تعالٰی عنہما)
یہ بھی فرمایا :
لیس منّا من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقر کبیرنا
وہ شخص ہمارے طریقے پرنہیں جو بچوں پرمہربانی نہیں کرتا اور بڑوں کی عزت نہیں کرتا
 (امام احمد، ترمذی، وابن حبان از ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما وطبرانی از واثلہ بن الاسقع رضی اﷲ تعالٰی عنہ)
یہ بھی فرمایا :
لیس منّا من لم یرحم صغیرنا ولم یعرف حق کبیرنا ولیس منا من غشنا ولایکون المؤمن مؤمنا حتی یحب المؤمنین مایحب لنفسہ
وہ ہم میں سے نہیں جو بچوں پرشفقت نہیں کرتا او ربڑوں کاحق نہیں پہچانتا، اور وہ شخص جومومنوں کے ساتھ خیانت کرتاہے اور آدمی اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک دوسروں کے لئے وہی کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لئے پسند کرتاہے
 (طبرانی ازضمیرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ)
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
ان من اجلال اﷲ تعالٰی اکرام ذی الشیبۃ المسلم
اﷲ تعالٰی کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ سفیدبالوں والے مسلمان کی عزت کی جائے۔
 (ابوداؤد  از ابوموسٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ)
 (۲؎ مسنداحمد بن حنبل     عن عمروبن العاص     المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۱۸۵ و ۲۲۲)

(جامع الترمذی     ابواب البر والصلۃ     باب ماجاء فی رحمۃ الصبیان   قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۱۴)

(المستدرک للحاکم     کتاب الایمان     دارالفکر بیروت     ۱ /۶۲)

(۱؎ جامع الترمذی     ابواب البر والصلۃ     باب ماجاء فی رحمۃ الصبیان    امین کمپنی دہلی         ۲ /۱۴)

(مسنداحمدبن حنبل     عن ابن عباس     المکتب الاسلامی بیروت     ۱ /۲۵۷)

(المعجم الکبیر         حدیث ۱۲۲۷۵      المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۱۱ /۴۴۹)

(۲؎المعجم الکبیر       عن ضمرہ بن ابی ضمرۃ     حدیث ۸۱۵۳   المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت  ۲ /۳۰۹)

(۳؎ سنن ابی داؤد    کتاب الادب     باب تنزیل الناس منازلہم     آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۳۰۹)
Flag Counter