ھشتم آنکہ علماء فرمودہ اند ازحق اوستاذ برشاگرد آنست کہ برفراش او نہ نشیند اگرچہ اوستاذ حاضرنہ باشد، فی ردالمحتار حاشیۃ الدرالمختار عن منح الغفار عن الفتاوی البزازیۃ عن الامام الزندویستی قال حق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السواء وھو ان لایفتح الکلام قبلہ ولایجلس مکانہ وان غاب ولایرد علیہ کلامہ ولایتقدم علیہ فی مشیہ ۱؎ پس چگونہ روا باشد کہ اوستاذ را بزور ازمنصبش افگنند وخودبجایش برآمدہ لافہا زنند حالانکہ ازمجلس تا معاش واز منصب تافراش فرقے کہ ہست پیداست۔
ھشتم علماء فرماتے ہیں کہ استاذ کا شاگرد پر یہ بھی حق ہے کہ استاذ کے بستر پر نہ بیٹھے اگرچہ استاذ موجود نہ ہو، درمختار کے حاشیہ ردالمحتار میں منح الغفار سے انہوں نے فتاوٰی بزازیہ سے انہوں نے امام زندویستی سے نقل کیا کہ عالم کاحق جاہل پر اور استاذ کا حق شاگرد پربرابر ہے کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اس کی جگہ نہ بیٹھے اگر چہ وہ موجود نہ ہو اور اس کی بات کو رَد نہ کرے اور چلنے میں اس سے آگے نہ ہو، لہٰذا کس طرح جائز ہوگا کہ استاذ کو طاقت کے ذریعے اس کے مرتبے سے گراکر خود اس کی جگہ بیٹھاجائے اور لافیں ماری جائیں حالانکہ بیٹھنے کی جگہ اور معاش میں اسی طرح بستر اورمرتبے میں واضح فرق ہے(یعنی جب استاذ کی جگہ اور اس کے بستر پربیٹھنا نہیں چاہئیے تو اس کے ذریعہ معاش اور مرتبے کو چھیننا کس طرح درست ہوگا)
(۱؎ ردالمحتار مسائل شتّٰی داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۵۸۱)
نھم ہمچنیں فرمودہ اند کہ تلمیذ را در رفتن وسخن گفتن براوستاذ تقدم وسبقت نمی رسد کما سمعت اٰنفا پس چساں گوارا آید کہ اورا بالجبر پسترنمایند وخودپیشی وبیشی گرفتہ برمنصہ امامت برآیند۔
نھم اسی طرح علماء نے فرمایا ہے کہ شاگرد کو بات کرنے اور چلنے میں استاذ سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے جیسے کہ ابھی گزرا، پھر یہ کس طرح درست ہوگا کہ اوستاذ کو مجبور کرکے پیچھے ہٹادیاجائے اور خود منصب امامت سنبھال لیاجائے۔
دھم آنکہ سیدموصوف گو اوستاذ ایں کس مباش اما آخر مسلمانیست وایں کار کہ فلاں خواست بالبداہت موجب ایذائے اوست وایذائے مسلم بے وجہ شرعی حرام قطعی قال اﷲ
آنانکہ آزار دہند مردان مومن وزنان مومنہ رابے جرم پس بہ تحقیق کہ بہتان وگناہ آشکارا برخود بردا شتند ،
دھم سید موصوف اگرچہ اس شخص کے استاذ نہ ہوں آخرمسلمان توہیں اور یہ کام جو اس شخص نے اختیارکیاہے واضح ہے اس میں سیدصاحب کی تکلیف ہے اور مسلمان کو بغیر کسی شرعی وجہ کے تکلیف دینا قطعی حرام ہے اﷲ تعالٰی نے فرمایا :
وہ لوگ جوایماندار مردوں اور عورتوں کو بغیرکسی جرم کے تکلیف دیتے ہیں بے شک انہوں نے بہتان اور کھلاگناہ اپنے ذمّے لے لیا۔
(۲؎ القرآن الکریم ۳۳/ ۵۷)
سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماید من اٰذی مسلما فقد اذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ ہرکہ مسلمانے را آزار داد مرا اذیت رسانید وہرکہ مرااذیت رساند حق تعالٰی را ایذا کرد، اے وہرکہ اوسبحانہ را ایذا کرد پس سرانجام ست کہ بگیرد او را اخرجہ الطبرانی فی الاوسط۱؎ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن، وامام اجل رافعی ازسیّدناعلی کرم اﷲ وجہہ روایت کرد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود لیس منّا من غش مسلما اوضرہ اوماکرہ۲؎ ازگروہ مانیست آنکہ بدغا بدی مسلمانے خواہد یاباوضررے رساند یا باوے بمکرپیش آید واحادیث دریں باب بسیاراست بحیث لامطمع فی الاستفتاء۔
سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : من اذٰی مسلما فقد اٰذانی ومن اذانی فقد اذی اﷲ جس نے مسلمان کو تکلیف دی اس نے مجھے تکلیف دی اور جس نے مجھے تکلیف دی اس نے اﷲ تعالٰی کو تکلیف دی یعنی جس نے اﷲ تعالٰی کو تکلیف دی بالآخر اﷲ تعالٰی اسے عذاب میں گرفتار فرمائے گا۔ طبرانی نے اوسط میں حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بسندحسن روایت کیا۔ وامام اجل رافعی نے سیدنا علی کرم اﷲ وجہہ سے روایت کی مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ولیس منّا من غش مسلما اوضرہ اوماکرہ یعنی وہ شخص ہمارے گروہ میں سے نہیں ہے جو مسلمان کو دھوکادے یاتکلیف پہنچائے یا اس کے ساتھ مکرکرے، اس بارے میں بے شمار حدیثیں ہیں۔
(۱؎ المعجم الاوسط حدیث ۳۶۳۲ مکتبۃ المعارف ریاض ۴ /۳۷۳)
(۲؎ التدوین فی اجناد قزوین باب الشین زیارات حرف ش بیروت ۳ /۸۷)
یازدھم آنکہ ایں معنی موجب تذلیل آں مسلمان ست کما بیّن السائل ومصطفی فرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من اذلّ عندہ مؤمن فلم ینصرہ وھو یقدر علی ان ینصرہ اذلّہ اﷲ علٰی رؤس الاشہاد یوم القیٰمۃ یعنی ہرکہ پیش اوتذلل مسلما نے کردہ شود واوباوصف قدرت قیام بنصرت ننماید حق جل وعلا او را روزقیامت برملا ذلیل ورسوا فرماید اخرجہ الامام احمد۱؎ عن سھل بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ باسناد حسن العظمۃ ﷲ چوں سکوت برتذلیل مسلم باعث چنیں عذاب مولم ست قیاس می باید کرد کہ خود بہ تذلیلش پرداختن ودر وجہ اعزازی کہ او را پیش مسلماناں ست بے وجہ رخنہ انداختن چہ قدرموجب عتاب وغضب رب الارباب باشد والعیاذباﷲ۔
یازدھم یہ بات اس مسلمان کی بے عزتی کاسبب ہے جیسے کہ سوال کرنے والے نے بیان کیا اور نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
من اذلّ عندہ مؤمن فلم ینصرہ وھو یقدر علی ان ینصرہ اذلّہ اﷲ علی رؤس الاشہاد یوم القیامۃ
یعنی جس شخص کے سامنے کسی مسلمان کی بے عزتی کی جائے اور طاقت کے باوجود اس کی امداد نہ کرے تو قیامت کے دن اﷲ تعالٰی اسے برملا ذلیل ورسواکرے گا۔ اسے امام احمدنے سہیل بن حنیف رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسناد حسن کے ساتھ روایت کیا، تمام عظمتیں اﷲتعالٰی کے لئے ہیں۔ اندازہ کیاجاسکتاہے کہ مسلمان کی بے عزتی کو دیکھ کر خاموش رہنا ایسے عذاب کاباعث ہے توخود اسے ذلیل کرنے کے درپے ہونا اور جس مرتبہ کی وجہ سے اسے مسلمانوں کے نزدیک عزت حاصل ہو اس میں رخنہ اندازی کی کوشش کرنا کس قدرعذاب اور اﷲ تعالٰی کے غضب کاسبب ہوگا۔
(۱؎ مسنداحمد بن حنبل عن سہل بن حنیف المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۴۸۷)
دوازدھم آنکہ شناعت حسد خود نہ چنانست کہ محتاج بیان ست واگرہیچ نبودے جزآنکہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ است لایجتمع فی جوف عبدالایمان والحسد بہم نشود دردل بندہ ایمان وحسد اخرجہ ابن حبان فی صحیحہ۱؎ ومن طریقہ البیھقی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
دوازدھم حسد(یہ کوشش کرنا کہ کسی کامرتبہ چھن جائے) کی برائی محتاج بیان نہیں۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لایجتمع فی جوف عبدالایمان والحسد
آدمی کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔ اس ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور بیہقی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
وفرمودہ است صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ایاکم والحسد فان الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب او قال العشب دور باشید ازحسد کہ می خورد حسنات راچنانکہ میخورد آتش ہیزم رایا فرمود گیاہ را۔ اخرجہ ابوداؤد والبیہقی۱؎ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ، وابن ماجۃ وغیرہ عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ولفظہ الحسد یاکل الحسنات کما تاکل النار الحطب۲؎ الحدیث ۔
نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
ایاکم والحسد فان الحسد یاکل الحسنات کماتاکل النار الحطب وقال العشب
حسد سے دور رہو کیونکہ حسدنیکیوں کو اس طرح کھاجاتا ہے جس طر ح آگ ایندھن کو، یافرمایا گھاس کوکھاجاتی ہے
(ابوداؤد وبیہقی از ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ ابن ماجہ وغیرہ از انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما) ۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی الحسد آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۱۶)
(شعب الایمان حدیث ۶۶۰۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۵ /۲۶۶)
(۲؎ سنن ابن ماجہ ابواب الزھد باب الحسد ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۲۰)