Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
87 - 160
 علامہ مناوی رحمہ اﷲ تعالٰی درتیسیر شرح جامع صغیرمی آرد ؎

من علم الناس ذاک خیر اب	ذاک ابوالروح  لا ابوالنطف۲؎
علامہ مناوی جامع صغیر کی شرح تیسیر میں نقل فرماتے ہیں کہ جو شخص لوگوں کو علم سکھائے وہ بہترین باپ ہے کیونکہ وہ بدن کا نہیں  روح کاباپ ہے،
 (۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر   تحت حدیث انما انا لکم بمنزلۃ الوالد    مکتبۃ الامام الشافعی ریاض     ۱ /۳۶۱)
وخود پیداست کہ شامت عقوق ازکجا تا کجا ست تا آنکہ مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اورا درجنب اشراک باﷲ داشت واز سخت ترین کبائر انگاشت فقد اخرج الشیخان والترمذی عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم  الا  انبئکم باکبر الکبائر  ثلثا قلنا بلٰی یارسول اﷲ قال الاشراک باﷲ وعقوق الوالدین۳؎ الحدیث، وخود اگراحادیث ایں باب شمردن گیریم دفتری بالیست املاکرد۔
ظاہرہے کہ نافرمانی کی شامت کہاں تک ہے، حتی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اسے شرک کے پہلو میں شمارکیا اور بدترین کبیرہ گناہ خیال فرمایا۔ امام بخاری، مسلم اور ترمذی نے حضرت ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کیامیں تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتادوں؟یہ بات آپ نے تین دفعہ فرمائی۔ صحابہ نے عرض کی: فرمائیے۔ آپ نے فرمایا: اﷲ تعالٰی کے ساتھ شرک کرنا اور  والدین کی نافرمانی کرنا۔ اور اگر اس قسم کی حدیثیں گننا شروع کردی جائیں تو ان کے لئے دفتر درکاہوگا۔
(۳؎ صحیح البخاری    کتاب الشہادات     باب ماقیل فی شہادۃ الزور     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۶۲)

(صحیح مسلم      کتاب الایمان     باب الکبائر     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۶۴)

(جامع الترمذی     ابواب البروالصلۃ     ۲ /۱۲،     ابواب الشہادات     ۲ /۵۴    امین کمپنی )
ششم آنکہ ایں معنی باباق غلام از آقائے خودماناست طبرانی ازابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ روایت دارد کہ مولائے عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود من عَلَّمَ عبداً اٰیَۃً من کتاب اﷲ تعالٰی فھو مولاہُ ۱ ؎ ہرکہ بندہ  را آیتے ازکتاب خدعزوجل آموخت آقائے او شد ،
ششم:  یہ اسی طرح ہے جس طرح ایک غلام اپنے آقا سے بھاگ جائے ،طبرانی نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالی سے روایت کی کہ سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں "من علم عبد ا اٰیۃ من کتاب اللہ تعالی فھو مولاہ" جس نےکسی آدمی کو قرآن مجید کی ایک آیت پڑھائی وہ اس کا آقا ہے ۔
 (۱؎ المعجم الکبیر    حدیث ۷۵۲۸    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۸ /۱۳۲)
وازامیرالمومنین سیدنا علی کرم اﷲ تعالٰی می آرند کہ فرمود من عَلَّمنی حرفا فقد صیرنی عبدا ان شاء باع وان شاء اعتق۲؎ ہرکہ مراحرفے آموخت پس بہ تحقیق مرابندہ خود ساخت اگرخواہد فروشد  واگرخواہد آزاد کند، وامام شمس الدین سخاوی درمقاصد حسنہ از امیرالمومنین فی الحدیث شعبہ بن الحجاج رحمہ اﷲ تعالٰی مے آرد کہ گفت من کتبت عنہ اربعۃ احادیث اوخمسۃ فانا عبدہ حتی اموت۳؎ ہرکہ از وے  چار یا پنج حدیث نوشتم بندہ اش شدم تاآنکہ بمیرم بلکہ در لفظ دگر گفت ماکتبتُ عن احد حدیثاالاوکنت لہ عبدا ماحیی۱؎ یعنی ازہرکہ یک حدیث نوشتہ ام مدۃ العمر اورا بندہ ام ۔
امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں
من علمنی حرفا فقد صیرنی عبدا ان شاء باع وان شاء اعتق
جس نے مجھے ایک حرف سکھایا اس نے مجھے اپنا غلا م بنا لیا چاہے تو مجھے بیچ دے اور چاہے تو آزاد کردے ۔امام شمس الدین سخاوی حدیث کے امیر المومنین شعبہ بن حجاج رحمہ اللہ تعالی سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرما یا
"من کتبت عنہ اربعۃ احادیث اوخمسۃ فانا عبدہ حتی اموت "
جس سے میں نے چاریاپانچ حدیثیں لکھیں میں اس کاتاحیات غلام ہوں بلکہ انہوں نے فرمایا
"ماکتبتُ عن احد حدیثا الاوکنت لہ عبدا ماحیی"
جس سے میں نے ایک حدیث لکھی میں اس کاعمربھر غلام رہاہوں۔
 (۲؎ )

(۳؎ المقاصد الحسنۃ    تحت حدیث  ۱۱۵۵    دارالکتب العلمیہ بیروت     ص۴۲۱)

(۱؎ المقاصد الحسنۃ     تحت حدیث ۱۱۵۵    دارالکتب العلمیۃ بیروت     ص۴۲۱)
وایں احادیث وروایات آں زعم باطل رانیز ازبیخ برمی کند کہ تعلیم ابتدائی راقد رے ندانست وخود معلوم ست کہ اباق ازمولی کبیرہ ایست عظمی تاآنکہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آبق راکافر گفتہ است کما رواہ مسلم۲؎ عن جریر بن عبداﷲ البجلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ وناپذیراشدن نمازش دراحادیث کثیرہ واردست کحدیث مسلم۳؎ عنہ وحدیث الترمذی عن ابی امامۃ و حدیث الطبرانی  وابن خزیمۃ  وابن حبان عن جابر  وحدیث الحاکم  والمعجمین الاوسط والصغیر عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھم کلھم عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم والسردیطول۔
یہ حدیثیں اور روایتیں اس باطل خیال کو جڑ سے اکھیڑ دیتی ہیں کہ ابتدائی تعلیم کی کیاقدر ہے اور واضح ہے کہ آقا سے بھاگ جانا بہت بڑاگناہ ہے حتی کہ سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے بھاگنے والے غلام کو کافر فرمایا  ہے جیسے کہ امام مسلم نے جریر بن عبداﷲ بجلی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیابھاگنے والے غلام کی نمازوں کا نامقبول ہونا بہت سی حدیثوں میں وارد ہے جیسے کہ امام مسلم نے جریر بن عبداﷲ سے امام ترمذی نے ابوامامہ سے طبرانی، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے حضرت جابر سے حاکم معجم اوسط اور معجم صغیر نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی تمام  روایات کے نقل کرنے سے طوالت پیداہوگی۔
 (۲؎ صحیح مسلم    کتاب الایمان     باب تسمیۃ العبد الآبق کافراً     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۵۸)

(۳؎صحیح مسلم    کتاب الایمان     باب تسمیۃ العبد الآبق کافراً     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۵۸)
ھفتم خود رابراوستاذ فضل می نہد وایں خلاف مامورست اخرج الطبرانی فی الاوسط وابن عدی فی الکامل عن ابی ھریرۃ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تعلموا العلم  وتعلموا للعلم السکینۃ والوقار وتواضعوا لمن تعلمون منہ ۱؎ علم آموزید وبہر علم سکون ومہابت آموز وپیش استاذ کہ شمارا تعلیم کردہ است تواضع وفروتنی ورزید بخردان سعادتمند اگربر اوستاذ چربندہم ازبرکت وفیض اوستاذ دانند وبیشتر ازپیشتر روئے برخاک پالیش مالند، 

ع    کاخرای بادصبا ایں ہمہ آوردہ تست

وبیخرداں شریر دادند چوں سرپنجہ توانائی یابند برپدر پیر بسرہنگی شتابند وسراز خط فرمانش تابند زودبینی کہ چوں بہ پیری رسند کیفرکفران ازدست خود چشند کما تدین تدان ولعذاب الاٰخرۃ اشد وابقی۔
ھفتم  اپنے آپ کو استاذ سے افضل قرار دیتاہے اور یہ خلاف مامور ہے طبرانی نے اوسط میں اور ابن عدی نے کامل میں ابوہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں
تعلموا  العلم وتعلموا للعلم السکینۃ والوقار وتواضعوا لمن تعلمون منہ
علم سیکھو اور علم کے لئے ادب واحترام سیکھو، جس استاذ نے تجھے علم سکھایا ہے اس کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیارکرو  عقلمند اور سعادت مند اگر استاذ سے بڑے بھی جائیں تو اسے استاذ کا فیض اور اس کی برکت سمجھتے ہیں اور پہلے سے بھی زیادہ استاذ کے پاؤں کی مٹّی پرسرملتے ہیں ع

آخر اے بادصبا! سب تیراہی احسان ہے

بے عقل اور شریر اور ناسمجھ جب طاقت وتوانائی حاصل کرلیتے ہیں تو بوڑھے باپ پر ہی زورآزمائی کرتے ہیں اور اس کے حکم کی خلاف ورزی اختیار کرتے ہیں جلد نظرآجائے گا کہ جب خود بوڑھے ہوں گے تو اپنے کئے ہوئے کی جز ااپنے ہاتھ سے چکھیں گے، جیسا کرو گے ویسابھروگے، اورآخرت کاعذاب سخت اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔
 (۱؎ المعجم الاوسط    حدیث ۶۱۸۰        مکتبۃ المعارف ریاض     ۷ /۱۰۵)

(الکامل لابن عدی    ترجمہ عباد بن کثیر الثقفی     دارالفکر بیروت     ۴ /۱۶۴۲)
Flag Counter