دوم انکار حقوقش کہ صریح خرق اجماع مسلمین بلکہ کافہ عقلاء ست وھذا غیرالکفران فانہ ترک العمل وھذاجحد الاصل کما لایخفی وتخصیصش بتلمذ ابتدائے سودش ندہد کہ اجماع مطلق است و درحدیث مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آمدہ من لم یشکر القلیل لم یشکرالکثیر ۱؎ ہرکہ اندک راشکر نہ کند بسیار راسپاس نیارد اخرجہ عبداﷲ بن الامام فی الزوائد۲؎ باسناد لاباس بہ والبیھقی فی السنن عن نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وللحدیث تتمۃ وھو عند البیھقی اتم واوردہ ابن ابن الدنیا فی اصطناع المعروف مختصرا۔
دوم استاذ کے حقوق کا انکار جو کہ مسلمانوں بلکہ تمام عقل والوں کے اتفاق کے خلاف ہے، یہ بات ناشکری سے جدا ہے کیونکہ ناشکری تویہ ہے کہ احسان کے بدلے کوئی نیکی نہ کی جائے اور انکار یہ ہے کہ سرے سے احسان ہی کو نہ ماناجائے اور یہ کہنا کہ استاذ نے تو مجھے صرف ابتداء میں پڑھایا تھا اس شخص کے لئے کچھ مفید نہیں کیونکہ اس بات پراتفاق ہے اور حدیث شریف
"من لم یشکر القلیل لم یشکرالکثیر"
جس نے تھوڑے احسان کا شکریہ ادا نہیں کیا اس نے زیادہ کابھی شکرنہیں کیا۔ اس حدیث کو عبداﷲ بن امام نے زوائد میں باسناد (اس میں ہرج نہیں) روایت کیا۔ اور امام بیہقی نے سنن میں نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور اس حدیث کا تتمہ ہے کہ امام بیہقی کے نزدیک اتم ہے اس کو ابن ابی الدنیا نے اصطناع المعروف میں مختصر طوپر ذکرکیاہے۔
(۱؎ مسند احمدبن حنبل عن نعمان بن بشیر المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۲۷۸ و ۳۷۵)
(۲؎ شعب الایمان حدیث ۹۱۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶/ ۵۱۶)
سوم آنکہ ایں تحقیر نکوئے واحسان است کہ تعلیم ابتدائی رابجوئے تسنجید ومصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود لاتحقرن من المعروف شیئا ولو ان تلقی اخاک بوجہ طلیق زنہار ہیچ نکوئے راخوار مپندار اگرچہ ایں قدر کہ برادر خود را برائے کشادہ پیش آئی۔ اخرجہ مسلم ۳؎ عن ابی ذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
سوم اس شخص نے نیکی کو حقیرجانا اور ابتدائی تعلیم کے احسان کی کچھ قدر نہ کی۔ نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا : لاتحقرن من المعروف شیئا ولو ان تلقٰی اخاک بوجہ طلیق ہرگز کوئی شخص نیکی کو معمولی نہ سمجھے گو کہ اتنی ہو کہ تو اپنے بھائی کومسکراکر ملے۔ اسے مسلم نے ابوذر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۳؎ صحیح مسلم کتاب البروالصلۃ باب استحباب طلاقۃ الوجہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۹)
وفرمود صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یانساء المسلمات لاتحقرن جارۃ لجارتھا ولو فِرسَنَ شاۃٍ اے زنان مسلماناں ہرگز خورد وخوارنہ پندارد ہیچ زن ہمسایہ مرزن ہمسایہ خودرایعنی ہدیہ وتصدق اگرچہ سُمِ گوسپند باشد اخرجہ الشیخان۱؎ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ ودرحدیث دیگرآمدہ ولو بظلف محرق ۲؎ اگرچہ سمِ سوختہ بود وتخصیص زناں ازبہر آں ست کہ سخط وکفران در طبع ایشاں بیشتر ازمردان ست سبحٰن اﷲ مگر درا بتدائے کارتعلیم نصوح وتربیت روح کمتر وحقیر ترازسمِ سوختہ گوسپندست کہ اوراوقع ندرند وحقے نہ شمارند۔
آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا :
یانساء المسلمات لاتحقرن جارۃ لجارتھا ولو فِرسَنَ شاۃٍ
اے مسلمان عورتو! کوئی عورت بھی اپنی پڑوسن کے ہدیے کو حقیر نہ سمجھے اگر چہ بکری کا سُم ہی کیوں نہ ہو(بخاری ومسلم ازابوہریرہ) ایک اور حدیث میں ہے ولو بظلفِ محرق اگرچہ جلاہوا سُم ہی ہو۔ عورتوں کو خاص طور پر اس لئے فرمایا کہ ناپسندیدگی اور ناشکری میں عورتیں مردوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔ سبحان اﷲ! شاید اس شخص نے پرخلوص ابتدائی تعلیم اور روح کی پرورش کوجلے ہوئے سم سے بھی حقیر اور کم مرتبہ جانا کہ اسے کچھ اہمیت ہی نہیں دیتا اور نہ ہی اس کاکوئی حق شمارہوتاہے۔
(۱؎ صحیح البخاری کتاب الھبۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۴۹)
(صحیح مسلم کتاب الزکوٰۃ باب الحث علی النفاق قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۳۱)
(۲؎ سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ باب ردالسائل نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۳۵۸)
چہارم آنکہ ایں حقیر راجعست والعیاذباﷲ تعالٰی بسوئے تحقیرقرآن ومختصرات فقہ کہ ہرکہ اینہا آموخت گویا ہیچ نیاموخت العظمۃ ﷲ اگر کار بالتزام کشیدی خود کفرقطعی بودے حالانکہ نہ ازاں کہ حرام اشدوخبث ابعد باشد نسأل اﷲ العفو والعافیۃ علماء فرمود اند مردے صالح پسرش رامعلمی بمعلومے معین کرد ہمیں کہ فرزند سورہ فاتحہ آموخت پدر چارہزار دینار بشکر فرستاد معلم گفت ہنوز چہ دیدہ اند کہ اینہا بخشیدہ اند پدرگفت زیں باز پسرم رامعلم نباشی کہ عظمت قرآن در دل نداری، والعیاذ باﷲ سبحٰنہ وتعالٰی۔
چہارم خد اکی پناہ استاذ کی ابتدائی تعلیم کو حقیر جاننا قرآن مجید اور فقہ کی مختصرکتابوں کی بے ادبی کی طرف راجع ہے گویا کہ جس نے انہیں پڑھا اس نے کچھ بھی نہیں پڑھا اگروہ شخص اسے لازم پکڑتا تو معاملہ یقینا کفر کی حد تک پہنچ جاتا اب بھی یہ بات شدید حرام اور بدترین خبیث ہے۔ ہم اﷲ تعالٰی سے عفو وعافیت طلب کرتے ہیں۔ علماء فرماتے ہیں ایک نیک آدمی نے اپنے لڑکے کو ایک استاد کے سپرد کیا ابھی لڑکے نے سورہ فاتحہ پڑھی تھی کہ باپ نے چارہزار دینارشکریے کے طور پر بھیجے، استاد نے کہا ابھی آپ نے کیادیکھا ہے کہ اتنی مہربانی فرمائی، باپ نے کہا اس کے بعد میرے لڑکے کو ہرگزنہ پڑھانا کہ تمہارے دل میں قرآن مجید کی عزت ہی نہیں ہے۔
والعیاذباﷲ سبحٰنہ وتعالٰی۔
پنجم آنکہ باستاذ بمقابلہ برآمدواینہم زائد ناسپاسی ست زیرا کہ اوترک شکرست وایں ایتان خلاف الاتری ان من لم یذکر النعمۃ فقد کفرھا کما اثبتنا بالاحادیث ومن قابلھا باساءۃ فقد زاد وایں در رنگ عقوق باپدرست چراکہ اوستاذ را دروزان پدرنہادہ اند لہٰذا مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ انما انا لکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم۔ ہمیں ست کہ من شمارا بجائے پدرم علم می آموزم شمارا اخرجہ احمد والدارمی وابوداؤد ۱؎ والنسائی وابن ماجۃ وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
پنجم استاذ کامقابلہ کرنا یہ بھی ناشکری سے زائد ہے کیونکہ ناشکری تو یہ ہے کہ شکر نہ کیاجائے اور مقابلے کی صورت میں بجائے شکر کے اس کی مخالفت بھی ہے دیکھئے جو شخص احسان کو پیش نظر نہیں رکھتا اس نے احسان کی ناشکری کی ہے جیسے کہ ہم نے احادیث سے ثابت کیا جس نے احسان کے بدلے برائی کی اس لئے تو ناشکری سے بھی بڑا گناہ کیا اور یہ اسی طرح ہے کہ جیسے باپ کی نافرمانی کی جائے کیونکہ استاذ کو باپ کے برابر شمارکیاگیاہے، اسی لئے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
انما انا لکم بمنزلۃ الوالد اعلمکم
میں تمہارے لئے باپ کی حیثیت رکھتاہوں میں تمہیں علم سکھاتا ہوں۔ اسے امام احمد، دارمی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ اور ابن حبان نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب کراھیۃ استقبال القبلۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳)
(سنن النسائی باب النہی عن الاکتفاء فی استطابۃ باقل الخ نورمحمد کارخانہ کتب کراچی ۱ /۱۶)
(سنن ابن ماجہ باب الاستنجاء بالحجارۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ص۲۷)
بلکہ علماء گفتہ اند حق استاذ را برحق والدین مقدم دارد کہ ازیشاں حیات بدن ست وایں سب حیات روح ست فی عین العلم یبرالوالدین فالعقوق من الکبائر یقدم حق المعلم علی حقھما فھو سبب حیٰوۃ الروح۱؎۱ھ ملخصًا۔
بلکہ علماء فرماتے ہیں کہ استاذ کے حق کو والدین حق پرمقدم رکھناچاہئے کیونکہ والدین کے ذریعے بدن کی زندگی ہے اور استاذ روح کی زندگی کا سبب ہے۔ عین العلم میں ہے: والدین کے ساتھ نیکی کرنی چاہئے کیونکہ ان کی نافرمانی بہت بڑاگناہ ہے اور استاذ کے حق کو والدین کے حق پرمقدم رکھناچاہئے کیونکہ وہ روح کی زندگی کا ذریعہ ہے (ملخصاً)
(۱؎ عین العلم الباب الثامن امرت پریس لاہور ص۳۳۳ تا ۳۳۵)