| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ) |
مسئلہ ۱۶۶ : چہ می فرمایند علمائے دین اندریں مسئلہ کہ درضلع ہزارہ از اضلاع پنجاب دستور آنچنانست کہ اہل علم وتقوٰی را در مساجد بہرامامت معین می کنند کہ ہم بمسجد نشینند واذان گویند وامامت نمایند وہرکہ ازطلبہ علم آید او را درس قرآن عظیم وعلوم دینیہ دہند وچوں ایشاں را از اشتغال بحوائج خود ہا باز می دارند لاجرم تکفل معیشت آناں می کنند وحسب مقدور ہدایا ونذور بخدمت ایشاں می گزارند ہم بریں معمول مردے شریف النسب کبیرالسن عالم دین ورع متقی کہ از نسل پاک حضرات سادات ست بمسجدے از زمانہ دراز مقرر وکارہائے مذکورہ بحسن انتظام انجام میداد وطلبہ راقرآن وفقہ می آموخت مردے ازقوم گوجرکہ دریں دیار از اراذل واجلاف معدود شوند پیشہ آبادی ترک گرفتہ راہ تعلم پیش گرفت وبریں سیدقرآن خواند وکنز وقدوری وغیرہما کتب دینیہ نیزباز ہوائے فلسفہ درسرش جنبید وبربعضے مردمان چیزے ازطبیعیات والٰہیات آناں آنچناں کہ مقرر درس ہندیان ست خواند خود را عالمی کبیر گرفت وباستاذ اول کہ معلم علم دین بود بسرکشے برآمد و ازطمع او را معلوم کہ نصیب ائمہ می شود بروے ثابت شود از منصب امامت برآوردن وخود بجائے اوقیام کردن خواست وبربنائے حرفے چند کہ از علوم فلسفیہ آموختہ است خود را براں فقیہ فضل نہاد و اولٰی تربامامت وا نمود حالانکہ زنہار نہ درعلم دین ہمسنگ اوبود نہ در ورع وتقوٰی ہمرنگ او حتی کہ از حق استاذیش منکر شد ودر ابتدائ امرقرآن وغیرہ آموختن را وقعی نہ نہاد وموجب حقوق استاذی ندانست آیا ایں چنیں کس سزائے امامت است یانہ، و اگرباشد پس اولٰی بامامت آں سید ست یا ایں کس وبہرحال آیا رواباشد کہ آں پیر فقیہ شریف متقی رابے قصوری از منصب امامت برانداز واینکس رابحایش مقرر سازند ومعلوم ست کہ دریں اضلاع آنچنانکہ منصب امامت موجب اعزاز وکرامت ست ہمچناں درمعزولی ازاں تذلیل واہانت اگر کسے بورغلانیدن متصدی ایں کارشد شرعاً خاطی وآثم بود یا نہ؟ بیّنواتوجروا۔
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ ضلع ہزارہ میں رواج ہے کہ اہل علم وتقوٰی کو امامت کے لئے مقرر کرتے ہیں وہ مسجد میں رہتے ہیں، اذان کہتے ہیں امامت کراتے ہیں اور جو طالب علم آئے اسے قرآن مجید اور علوم دینیہ پڑھاتے ہیں، چونکہ وہ اپنی ضروریات پوراکرنے کی طرف توجہ نہیں دے سکتے اس لئے لوگ ان کی ضروریات پورا کرنے کا ذمہ لے لیتے ہیں اور حسب طاقت ہدیے اور نذرانے ان کی خدمت میں پیش کرتے ہیں اسی طریقے پر ایک شخص شریف النسب، معمر، عالم دین، متقی، پرہیزگار جو سادات کی نسل پاک سے ہے مدت سے ایک مسجد میں مقررتھا اور مذکورہ بالاکام اچھی طرح اداکرتاتھا، طلباء کو قرآن مجید اور فقہ پڑھاتاتھا گوجر قوم (جو لوگ اس علاقہ میں کم مرتبہ شمار کئے جاتے ہیں) کے ایک آدمی نے اپنا آبائی پیشہ ترک کرکے علم حاصل کرنا شروع کردیا اور انہی سیدصاحب سے قرآن مجید، کنز وقدوری وغیرہ کتب دینیہ پڑھیں پھر اسے فلسفے کاخبط(جنون سوار) ہواتو کچھ لوگوں نے طبعیات والٰہیات کاایک حصہ پڑھا جیسے کہ ہندوستان کے مدارس کاطریقہ ہے اور اپنے آپ کو بہت بڑا عالم سمجھنا شروع کردیا اور جس استاذ نے اسے علم دین پڑھایا تھا اس کامقابلہ شروع کردیاتھا اور آمدنی کی لالچ میں استاد کو برطرف کرواکرخود اس کی جگہ مقرر ہونے کی کوشش شروع کردی اور فلسفے کے چند مسائل پڑھ لینے کی وجہ سے اس فقیہ پراپنی فضیلت بگھارنے لگا اور اپنے آپ کو امامت کا زیادہ حقدار دکھانے لگا حالانکہ نہ علم دین میں اس کے برابر ہے نہ تقوٰی وپرہیزگاری میں، حتی کہ اس کے حق استاذی کاانکار کردیا اور ابتداء میں قرآن مجید وغیرہ پڑھنے کو کچھ اہمیت نہ دی اور نہ ہی اس بناء پر اس کے حق استاذی کو تسلیم کیا، آیا ایساشخص امامت کے لائق ہے یانہیں؟ اور اگرامامت کے لائق ہے توامامت کے لئے زیادہ بہتر وہ سیدصاحب ہیں یایہ شخص؟ بہرحال کیایہ جائزہے کہ اس معمرشریف (سید) فقیہ اور متقی کو بلاوجہ امامت سے ہٹادیں اوراس کی جگہ اس شخص کومقرر کردیں، اور یہ واضح ہے کہ اس علاقے میں جس طرح کسی کوامامت کے لئے مقرر کرنے میں اس کی عزت ہے اسی طرح اسے امامت سے برطرف کرنے میں اس کی توہین اور بے عزتی ہے اگرکوئی شخص بہکانے پر اس کام کے درپے ہوجائے توشرعاً گنہگار اور مجرم ہوگایا نہیں؟ بیان فرمائیں اور اﷲ تعالٰی سے اجرپائیں۔(ت)
الجواب اللّھم ھدایۃ الحق والصواب ہرکرا درکوچہ علم گزرے وبرفقہ وحدیث نظرے ست روشن تر از سپیدہ صبح می داند کہ آنکس بایں حرکات خودش دادِ ناحفاظیہا داد بوجوہ چنددرچند قدم از دائرہ شرع بیرون نہاد ویکے ناسپاسی اوستاذ کہ بلائیست بائل ودائست قائل وبرکات علم رامزیل ومبطل والعیاذ باﷲ سبحٰنہ وتعالٰی سیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ است لایشکراﷲ من لایشکر الناس خدائے را شکر نہ کند آنکہ مردمان راسپاس نیارد اخرجہ ابوداؤد والترمذی ۱؎ وصححہ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفرمودہ است صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من لم یشکر الناس لم یشکراﷲ ہرکہ مردمان را شکرنہ کرد خدائے عزوجل راسپاس نیاورد اخرجہ احمد فی المسند والترمذی ۲؎ فی الجامع والضیاء فی المختارۃ بسند حسن عن ابی سعید الخدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ وعبداﷲ بن احمد فی زوائد المسند عن النعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہ،
اے اﷲ! حق اورخالص صواب کی ہدایت فرما۔ جسے کوچہ علم میں گزر اور فقہ وحدیث پرنظرہے وہ صبح کی سفیدی سے بھی واضھ طور پرجانتاہے کہ اس شخص نے اپنی ان حرکتوں سے نالائقی کاحق اداکردیا ہے اور بے شمار وجوہ کی بناپر شریعت کے دائرے سے قدم باہر رکھ چکاہے : اوّل استاذ کی ناشکری جوکہ خوفناک بلااور تباہ کن بیماری ہے اور علم کی برکتوں کوختم کرنے والی (خداکی پناہ) دوجہان کے سردار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہے : وہ آدمی اﷲ تعالٰی کا شکربجانہیں لاتا جو لوگوں کا شکریہ ادانہیں کرتا (ابوداؤد وترمذی ازابوہریرہ) حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا
لم یشکرالناس لم یشکراﷲ
جس نے لوگوں کاشکریہ ادانہیں کیا اس نے اﷲ تعالٰی کاشکرادانہیں کیا۔ اس حدیث کوامام احمد نے مسند میں، امام ترمذی نے جامع میں، ضیا نے المختارہ میں سندحسن کے ساتھ ابوسعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اور عبداﷲ بن احمد نے زوائد المسندمیں نعمان بن بشیر سے روایت کیا۔
(۱؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی شکرالمعروف آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۶) (جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء فی الشکرالخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۷) (۲؎جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء فی الشکرالخ امین کمپنی دہلی ۲ /۱۷) (مسنداحمدبن حنبل عن ابی سعید الخدری المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۳۲ و ۴/ ۲۷۸)
حق عزوجل فرماید :
لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید o ۱؎۔
اﷲ تعالٰی فرماتاہے :
لئن شکرتم لازیدنکم و لئن کفرتم انّ عذابی لشدید o
اگر تم نے شکر اداکیا تو بے شک میں تمہیں او رزیادہ دوں گا اور اگر ناشکری اختیارکرو گے تو(جان لوکہ) بیشک میراعذاب سخت ہے۔
(۱؎ القرآن الکریم ۱۴ /۷)
ہرآئینہ اگرسپاس آرید بیشک بیفزایم وبیشتر بخشم شمار او اگر ناسپاسی ور زید پس بدرستیکہ عذاب من سخت ست وفرمود جلت عظمۃ
ان اﷲ لایحب کل مختال فخور o ۲؎
بدرستیکہ خدائے دوست نمی دارد ہربسیار واغل سخت ناسپاس را، وفرمود عزشانہ
ھل نجٰزی الا الکفور o ۳؎
ماکراسزامیدہم۔
نیزارشاد فرمایا :
ان اﷲ لایحب کل مختال فخور o
بے شک اﷲ تعالٰی ہراَترانے والے اور فخرکرنے والے کوپسند نہیں فرماتا، یہ بھی فرمایا :
ھل نجٰزی الاالکفور o
ہم ناشکرے ہی کو بدلہ دیں گے۔
(۲؎القرآن الکریم ۳۱ /۱۸) (۳؎القرآن الکریم ۳۴ /۱۷)
وسرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرمود من اولی معروفا فلم یجدلہ جزاء الاالثنا فقد شکرہ ومن کتمہ فقد کفر ہرکہ بادے احسانے کردہ شد واو را عوض نیافت جزآنکہ برائے محسن ثنائے نیک نمودہ پس بہ تحقیق کہ سپاس او نجاآورد وہرکہ پوشید پس بدرستیکہ کافر نعمت شد اخرجہ البخاری فی الادب المفرد وابوداؤد ۴؎ فی السنن والترمذی فی الجامع وابن حبان فی التقاسیم والانواع والمقدسی فی المختارۃ برواۃ ثقات عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنھما ولفظ ت من اثنی فقد شکر ومن کتم فقد کفر۵؎۔
سرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
من اولی معروفا فلم یجد لہ جزاءً الا الثناء فقد شکرہ و من کتمہ فقد کفر
جس کے ساتھ نیکی کی گئی وہ سوائے تعریف کے محسن کے لئے کچھ نہ کرسکا تو اس نے اس کا شکریہ ادا کردیا اور جس نے اس احسان کوچھپایا وہ کافر نعمت (ناشکرا) ہوا۔ (بخاری (ادب المفرد)، ابوداؤد، ترمذی،ابن حبان، مقدسی ازجابر بن عبداﷲ) ۔
(۴؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی شکرالمعروف آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۳۰۷) (الترغیب والترہیب الترغیب فی شکر المعروف مصطفی البابی مصر ۲ /۷۷) (۵؎ جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ امین کمپنی دہلی ۲ /۲۴)