Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
84 - 160
اقول : وفی مخالفتہ لما اختار الفقیہ نظر فان الکلام ھٰھنا فی البراءۃ من الحقوق المجھولۃ لصاحبھا اصلا وثمہ فیما اذا ظن مقدارا  وکان الواقع ازید وبینھما بون بین فان من جعل فی حل مطلقا لم یرد خصوص مافی علمہ امامن جعل فی حل من حق معلوم لہ فانما یذھب ذھنہ الی قدر مافی علمہ، واﷲ تعالٰی اعلم۔
اقول : (میں کہتاہوں) کہ فقیہ ابواللیث کے مختار کے خلاف ہونے میں کلام ہے کیونکہ خلاصہ میں اس بارے میں گفتگو ہے کہ ایک شخص کو حقوق کابالکل علم نہیں وہ انہیں معاف کردیتاہے اور فقیہ ابواللیث کی کلام اس میں ہے  کہ ایک شخص کے گمان میں حقوق کی ایک مقدار جبکہ وہ درحقیقت زیادہ تھے اور ان دونوں صورتوں میں بہت بڑافرق ہے کیونکہ جو شخص مطلقاً اپنے حقوق معاف کردیتاہے اس کا ارادہ یہ نہیں ہوتاکہ میں صرف وہ حقوق معاف کررہاہوں جومیرے علم میں ہیں اور جوشخص کسی معین حق کومعاف کرتاہے تو اس کا ذہن اسی طرف جاتاہے کہ جتنا مجھے علم ہے اسی قدرمعاف کررہاہوں۔واﷲ تعالٰی اعلم(ت)
نیزمنح الروض میں ہے :
ھل یکفیہ ان یقول اغتبتک فاجعلنی فی حل اَم  لابد ان یبین مااغتاب؟ ففی منسک ابن العجمی لایعلمہ بھا ان علم ان اعلامہ یثیر فتنۃ، ویدل علیہ ان الابراء عن الحقوق المجھولۃ جائز عندنا لکن سبق انہ ھل یکفیہ حکومۃ ودیانۃ۱؎۱ھ مافی منح الروض اقول : و فی جریان الخلاف المذکور ھٰھنا نظر فان الغیبۃ لاتصیر من حقوق العبد مالم تبلغہ واذا بلغتہ لم تکن من الحقوق المجھولۃ وقد قال فی المنح نفسہ یانصہ قال الفقیہ ابواللیث قد تکلم الناس فی توبۃ المغتابین ھل تجوز من غیر ان یستحل من صاحبہ؟ قال بعضھم یجوز وقال بعضھم لایجوز، وھو عندنا علی وجہین احدھما ان کان ذٰلک القول قد بلغ الی الذی اغتابہ فتوبتہ ان یستحل منہ وان لم یبلغ الیہ فلیستغفراﷲ سبحٰنہ ویضمران لایعود الی مثلہ، وفی روضۃ العلماء سألت ابامحمد رحمہ اﷲ تعالٰی فقلت لہ اذا تاب صاحب الغیبۃ قبل وصولہا الی المغتاب عنہ ھل تنفعہ توبۃ قال نعم فانہ تاب قبل ان یصیر الذنب ذنبا ای ذنبا یتعلق بہ حق العبد لانھا انہا تصیر ذنبا اذا بلغت الیہ، قلت فان بلغت الیہ بعد توبتہ؟ قال لاتبطل توبتہ بل یغفراﷲ تعالٰی لھما جمیعا المغتاب بالتوبۃ والمغتاب عنہ بما یلحقہ من المشقۃ، لانہ تعالٰی کریم ولایجمل من کرمہ رد توبتہ بعد قبولھا بل یعفو عنہما جمیعا ۱؎ انتھی الخ۔
کیایہ کافی ہے کہ ایک آدمی دوسرے سے کہے کہ میں نے تمہاری غیبت کی ہے مجھے معاف کردو، یایہ ضروری ہے کہ یہ بھی بتائے کہ میں نے تمہاری یہ غیبت کی ہے۔ ابن العجمی کے منسک میں ہے کہ اگریہ سمجھتاہے کہ غیبت کے تفصیلاً بتانے سے فتنہ پیداہوگا تو اس کااظہار نہ کرے، ہمارے نزدیک نامعلوم حقوق کے معاف کرنے کاجواز اس پردلالت کرتاہے لیکن یہ بات گزرچکی ہے کہ آیا فیصلے کے اعتبار سے کافی ہے یادیانت کے طور پر۱ھ (اعلٰحضرت قدس سرہ، فرماتے ہیں) اقول : (میں کہتاہوں کہ) یہاں گزشتہ اختلاف کے جاری ہونے میں کلام ہے کیونکہ غیبت اس وقت تک بندے کاحق نہیں بنتی جب تک اسے نہ پہنچ جائے، جب پہنچ جائے تونامعلوم حقوق میں سے نہ رہے گی، خود منح الروض میں ہے کہ فقیہ ابواللیث نے فرمایا : کہ غیبت کرنے والا صاحب غیبت (جس کی غیبت کی گئی) سے معافی مانگے بغیرتوبہ کرے تو توا س میں لوگوں نے مختلف باتیں کہی ہیں، بعض نے کہا جائزہے اور بعض نے کہاناجائزہے۔ ہمارے نزدیک اس کی دوصورتیں ہیں:
 (۱) وہ بات اس شخص تک پہنچ گئی جس کی غیبت کی گئی تھی تو اس کی توبہ یہ ہے کہ اس شخص سے معافی مانگے۔

(۲) اور اگرغیبت اس شخص تک نہیں پہنچی تواﷲ تعالٰی سے مغفرت کی دعامانگے اوراپنے دل میں یہ عہد کرے کہ پھر غیبت نہیں کروں گا۔

روضۃ العماء میں ہے کہ میں نے ابومحمد رحمہ اﷲ تعالٰی سے پوچھا کہ اگرغیبت اس شخص تک نہیں پہنچی جس کی غیبت کی گئی تھی توغیبت کرنے والے کے لئے توبہ فائدہ مند ہوگی؟ انہوں نے فرمایا : ہاں کیونکہ اس نے بندے کے حق کے متعلق ہونے سے پہلے توبہ کرلی ہے ، غیبت بندے کاحق اس وقت ہوگی جب اس تک پہنچ جائے گی، میں نے کہا کہ  اگرتوبہ کے بعد اس شخص تک غیبت پہنچ جائے فرمایا کہ اس کی توبہ باطل نہیں ہوگی بلکہ  اﷲ تعالٰی دونوں کو بخش دے گا غیبت کرنے والے کو توبہ کی وجہ سے اور جس کی غیبت کی گئی اسے اس تکلیف کی وجہ سے جو اسے غیبت سن کرہوئی ہے کیونکہ اﷲ تعالٰی کریم ہے اس کے متعلق یہ نہیں کہاجاسکتا کہ وہ کسی کی تو بہ قبول فرماکر  رد فرمابلکہ دونوں کو بخش دے گا انتہی الخ۔(ت)
 (۱؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر     بحث التوبۃ وشرائطہا    مصطفی البابی مصر     ص ۱۶۰)

(۱؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر     بحث التوبۃ وشرائطہا    مصطفی البابی مصر     ص ۱۵۹)
فقیرکہتاہے غفراﷲ تعالٰی لہ ایسے حقوق عظیمہ شدیدہ جن کی تفصیل بیان ہو تو صاحب حق سے معافی کی امید نہ ہو ظاہراً مجرد اجمالی الفاظ سے معاف نہ ہوسکیں کہ وہ دلالۃً مخصوص ہیں مگر اگر ان الفاظ سے معافی چاہی کہ ''دنیا بھر میں سخت سے سخت جوحق متصور ہو  وہ سب میرے لئے فرض کرکے معاف کردے'' اور اس نے قبول کیا تو اب ظاہراً تمام حقوق بلاتفصیل بھی معاف ہوجائیں گے،
للنص علی التعمیم مع التنصیص بالتخصیص علی کل حق شدید عظیم  والصریح یفوق الدلالۃ کما نصوا علیہ۱؎ فی غیرما مسألۃ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
کیونکہ اس نے کہہ دیاہے کہ مجھے ہرحق معاف کردے او رساتھ ہی یہ بھی کہہ دیاہے کہ ہربڑے سے بڑا حق میرے بارے میں فرض کرکے معاف کردے اور تصریح دلالت پرفوقیت رکھتی ہے جیسے کہ علماء نے بہت سے مسائل میں تصریح کی ہے۔ واﷲ سبحٰنہ، وتعالٰی اعلم۔(ت)
 (۱؎ ردالمحتار         کتاب الدعوٰی    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۴ /۴۳۹)
مسئلہ ۱۶۵ : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعد حقوق والدین کے استاد کے حقوق کس قدر ہیں، جس استاد نے کچھ علم دینی اور دنیوی کی تعلیم حاصل کی ہو اور ان علوم کے فیضان سے منافع دنیاوی اس کو  ونیز  دینی حاصل ہوئے ہوں ایسے استاد کے کچھ حقوق از روئے آیہ شریفہ وحدیث صحیح سے بیان فرمائیے گا۔
الجواب : عالمگیری میں نیز امام حافظ الدین کردری سے ہے :
قال الزند ولیستی حق العالم علی الجاھل وحق الاستاذ علی التلمیذ واحد علی السواء و ھو ان لایفتتح بالکلام قبلہ ولایجلس مکانہ وان غاب  ولایرد  علی کلامہ  ولایتقدم علیہ فی مشیہ۲؎۔
یعنی فرمایا امام زندویستی نے کہ عالم کا حق جاہل اور استاد کاحق شاگرد پریکساں ہے اور وہ یہ کہ اس سے پہلے بات نہ کرے اور اس کے بیٹھنے کی جگہ اس کی غیبت (عدم موجودگی) میں بھی نہ بیٹھے اور چلنے میں اس سے آگے نہ بڑھے۔
(۲؎ فتاوٰی ہندیۃ     کتاب الکراھیۃ     الباب الثلاثون     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۷۳)
اسی میں غرائب سے ہے  :
ینبغی لرجل ان یراعی حقوق استاذہ وآدابہ لایضن بشیئ من مالہ۱؎۔
آدمی کوچاہئے کہ اپنے استاذ کے حقوق وآداب کا لحاظ رکھے اپنے مال میں کسی چیزسے اس کے ساتھ بخل نہ کرے یعنی جوکچھ اسے درکار ہو بخوشی خاطر حاضرکرے اور اس کے قبول کرلینے میں اس کا احسان اور اپنی سعادت جانے،
 (۱؎فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ     الباب الثلاثون فی المتفرقات     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۳۷۸)
اسی میں تاتارخانیہ سے ہے :
یقدم حق معلمہ علی حق ابویہ وسائر المسلمین ویتوضع لمن علّمہ خیرا ولو حرفا ولاینبغی ان یخذلہ ولایساثر علیہ احد فان فعل ذٰلک فقد فصم عروۃ من عری الاسلام  و من اجلالہ ان لایقرع  بابہ  بل ینتظر خروجہ ۲ ؎۱ھ مختصر۔
یعنی استاد کے حق کو اپنے ماں باپ اور تمام مسلمانوں کے حق سے مقدم رکھے اور جس نے اسے اچھاعلم سکھایا اگرچہ ایک ہی طرف پڑھایا ہو اس کے لئے تواضع کرے اور لائق نہیں کہ کسی وقت اس کی مدد سے باز رہے، اپنے استاد پر کسی کو ترجیح نہ دے، اگر ایسا کرے گا تو اس نے اسلام کی رسیوں سے ایک رسّی کھول دی، استاذ کی تعظیم یہ ہے کہ وہ اندر ہو اور یہ حاضر ہو تو اس کے دروازہ  پرہاتھ نہ مارے بلکہ اس کے باہر آنے کا انتظار کرے اھ مختصراً۔
 (۲؎فتاوٰی ہندیہ     کتاب الکراھیۃ     الباب الثلاثون فی المتفرقات     نورانی کتب خانہ پشاور    ۵ /۷۹۔۳۷۸)
قال اﷲ تعالٰی  :
ان الذین ینادونک من وراء الحجرات اکثرھم لایعقلون  ولو انھم صبروا حتی تخرج الیھم لکان خیرا لھم  واﷲ غفوررحیم۳؎۔
 (اﷲ تعالٰی نے فرمایا) بیشک اے حبیب! جو لوگ حجروں سے باہرکھڑے ہوکر تمہیں بلاتے ہیں ان میں سے اکثر بیوقوف ہیں وہ صبرکرتے حتی کہ تم خود بخود باہرآجاتے  تو ان کے لئے بہترتھا اﷲ تعالٰی بخشنے والامہربان ہے۔(ت)
 (۳؎ القرآن الکریم     ۴۹/ ۴ و ۵)
عالم دین ہرمسلمان کے حق میں عموماً اور استاد علم دین اپنے شاگر کے حق میں خصوصاً نائب حضور پرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ہے، ہاں اگر کسی خلاف شرع بات کاحکم دے ہرگز نہ کرے۔
لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ اﷲ تعالٰی۴؎۔
اﷲ تعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔(ت)
 (۴؎ مسنداحمد بن حنبل     بقیہ حدیث الحکم  بن عمر والغفاری    المکتب الاسلامی بیروت      ۵/ ۶۶)
مگر اس نہ ماننے پربھی گستاخی وبے ادبی سے پیش نہ آئے
فان المنکر لایزال بمنکر
 (کیونکہ ناپسندیدہ چیز ناپسند عمل سے زائل نہیں ہوتی۔ت) نافرمانی احکام کاجواب اسی تقریر سے واضح ہوگیا اس کا وہ حکم کہ خلاف شرع ہو مستثنٰی کیاجائے گا بکمال عاجزی و زاری معذرت کرے اوربچے اورا گر اس کاحکم مباحات میں ہے تو حتی الوسع اس کی بجا آوری میں اپنی سعادت جانے اور نافرمانی کاحکم معلوم ہوچکا اس نے اسلام کی گرہوں سے ایک گرہ کھول دی۔ علماء فرماتے ہیں جس سے اس کے استاد کو کسی طرح کی ایذاپہنچے وہ علم کی برکت سے محرورم رہے گا  اور اگر اس کے احکام واجبات شرعیہ ہیں جب تو ظاہر  ہے کہ ان کالزوم اور زیادہ ہوگیا ان میں اس کی نافرمانی صریح راہ جہنم ہے،
والعیاذباﷲ،  واﷲ تعالٰی اعلم۔
Flag Counter