وقدموا فاسقا یاثمون بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریمۃ ۱؎۔
قاسق کو امام بنانے والے گنہگار ہوں گے، کیونکہ اسے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے ۱۲غنیہ(ت)
(۱؎ غنیۃ المستملی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۳)
درمختار میں ہے :
کل صلٰوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم وجب اعادتھا۲؎۔
ہروہ نماز جو کراہت تحریمہ کے ساتھ ادا کی گئی ہو اس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۱۲(ت)
(۲؎ درمختار کتاب الصلٰوۃ باب قضاء الفوائت مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۰۰)
ایسے اشدفاسق فاجر سے شرعاً بغض رکھنے کاحکم ہے اور جس بات میں اس کا اعزاز واکرام نکلے بے ضرورت ومجبوری ناجائزوممنوع ہے۔
ایسے اشدفاسق فاجر سے شرعاً بغض رکھنے کاحکم ہے اور جس بات میں اس کا اعزاز واکرام نکلے بے ضرورت ومجبوری ناجائزوممنوع ہے۔ تبیین الحقائق ومراقی الفلاح وفتح المعین وحاشیہ درمختار للعلامۃ الطحطاوی وغیرھا میں ہے :
الفاسق وجب علیھم اھانتہ شرعاً۳؎۔
شرعی طور پر فاسق کی توہین واجب ہے ۱۲(ت)
(۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الصلٰوۃ فصل فی الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۴۳)
(تبیین الحقائق باب الامامۃ المطبعۃ الکبرٰی بولاق مصر ۱ /۱۳۴)
(فتح المعین کتاب الصلٰوۃ باب الامامۃ ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی ۱ /۲۰۸)
اس کی دعوت کرنا کرانا اس کے یہاں دعوت کھاناکچھ نہ چاہئے۔ سنن ابی داؤد وجامع ترمذی میں عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے ہے،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لما وقعت بنواسرائیل فی المعاصی نھتھم علماؤھم فلم ینتھوا فجالسوھم واٰکلوھم وشاربوھم فضرب اﷲ قلوب بعضھم ببعض فلعنھم علٰی لسان داؤد وعیسٰی بن مریم ذٰلک بما عصوا وکانوا یعتدون۴؎۔
جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے ان کے علماء نے منع کیا وہ باز نہ آئے یہ علماء ان کے پاس ان کے جلسوں میں بیٹھے ان کے ساتھ کھانا کھایا پانی پیا تو اﷲ تعالٰی نے ان مجرموں کے دلوں پر اثر ان پاس بیٹھنے والوں پربھی ڈالا کہ سب ایک سے ہوگئے پھر ان سب پرداؤد وعیسٰی بن مریم علیہم الصلٰوۃ والسلام کی زبان سے لعنت فرمائی یہ بدلہ تھا ان کے گناہوں او رحد سے بڑھنے کا۔
(۴؎ مشکوٰۃ المصابیح بحوالہ داؤد والترمذی کتاب الادب باب الامربالمعروف مطبع مجتبائی دہلی ص۴۳۸)
وہ سخت سے سخت تعزیر کے قابل ہے جس کی مقدار حاکم شرع کی رائے پرسپرد ہے اور اگر سرقہ شہادت شرعیہ سے ثابت ہوجائے توحاکم شرع اس کاہاتھ کلائی سے کاٹ دے گا اس کی تائید کرنے والے سب سخت گناہگار ہیں، قال اﷲ تعالٰی :
ولاتعاونوا علی الاثم والعدوان۔۱؎
اور گناہ اور زیادتی پرباہم مددنہ کرو۔ (ت)
(۱؎ القرآن الکریم ۵ /۲)
ابھی حدیث سن چکے کہ پاس بیٹھنے، ساتھ کھانے والوں پر لعنت اُتری۔ پھرتائید کرنے کرانے والوں کاکیاحال ہوگا، اﷲ عزوجل پناہ دے اور مسلمانوں کوتوفیق توبہ بخشے، آمین!
رہا صدقہ دینا دلانا، اگر اسے محتاج ضرورت مند ننگا بھوکا دیکھیں تو حرج نہیں جبکہ گناہوں میں اس کی تائیدواعانت کی نیت نہ ہو،
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
فی کل ذات کبد حراء اجر۔ رواہ الشیخان۲؎ عن ابی ھریرۃ وفی الباب عن عبداﷲ بن عمرو عن سراقۃ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنھم۔
ہرگرم جگروالی میں ثواب ہے۔(امام بخاری اور مسلم نے ابوہریرہ سے اور اس باب میں عبداﷲ بن عمرو سے انہوں نے سراقہ بن مالک رضی اﷲ تعالٰی عنہم سے اسے روایت کیا۔ت)
(۲؎ صحیح البخاری، کتاب المساقات ۱ /۳۱۸۔ ابواب المظالم ۱ /۳۳۳۔ کتاب الادب ۲ /۸۸۹ قدیمی کتب خانہ کراچی )
(صحیح مسلم کتاب قتل الحیّات باب فضل سقی البہائم المحرمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷)
(مسند احمدبن حنبل عن عبداﷲ بن عمرو المکتب الاسلامی بیروت ۲ /۲۲۲)
صحیح حدیث میں ہے کہ کُتّے کوبھی پانی پلانا ثواب ہے
حتی غفراﷲ تعالٰی بہ البغی کما فی الصحاح۳؎
(حتی کہ اﷲ تعالٰی نے اس سبب سے فاحشہ عورت کی مغفرت فرمائی۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳؎ صحیح مسلم کتاب قتل الحیات باب فضل سقی البہائم المحرمۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۳۷)
مسئلہ ۱۶۴ : ۷ ربیع الآخرشریف ۱۳۲۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کو جب مرض الموت میں اپنے مرگ کایقین ہوا تو اپنے شوہر زید کو بمواجہہ موجودیں مخاطب کرکے عفو حقوق و تقصیرات کی مستدعی ہوئی اور اپنے جملہ حقوق زید کو معاف کئے دینِ مہر کو بہ تفصیل علیحدہ معاف کیا زید نے بھی اپنے حقوق وقصور خدمات کی معافی دی اب اس صورت میں کسی قسم کا مواخذہ ایک دوسرے پرعنداﷲ باقی تونہ رہا یا لفظ مجمل جملہ حقوق وقصور کافی نہ تھا علیحدہ علیحدہ ہرخطا وحق کی تشریح ضرورتھی اور زید دَین مہر سے بری ہوگیا یایہ معافی زمانہ مرض الموت کی حکم وصیت میں متصور ہوکر دوثلث کامواخذہ دار رہے گا اگرچہ ورثاء دنیامیں شرم یارسم کے باعث متقاضی نہ ہوں۔بیّنواتوجروا۔
الجواب : عام حقوق کی معافی جوزید نے ہندہ اور ہندہ نے زید کو کی ان میں ہندہ کے حقوق مالیہ مثل مہر ودیگر دُیُون کی معافی تواجازت وارثان ہندہ پرموقوف رہے گی
کما بیّناہ فی الھبۃ من فتاوٰنا
(جیسا کہ ہمارے فتاوٰی میں ہبہ کے باب میں بیان کیاگیاہے۔ت) ان کے سوا ہندہ کے حقوق غیرمالیہ اور زید کے حقوق مالیہ وغیر مالیہ جو کچھ معاف کنندہ زید خواہ ہندہ کے علم میں تھا وہ سب معاف ہوگیا اور جو علم میں نہ تھا مگرمعمولی حقوق سہل وآسان سے تھا کہ بالخصوص معلوم ہوتا تو معافی میں باک نہ ہوتا وہ بھی معاف ہوگیا اور جو اتنا کثیریاعظیم یا شدید تھا کہ اگرتفصیلاً بتایاجائے توصاحب حق معاف نہ کرے ایسے عام مجمل لفظ میں ان حقوق کی معافی ہوجانا علماء میں مختلف فیہ ہے بعض بنظر ظاہر لفظ سب کی معافی مانتے ہیں اور بعض بالخصوص تفصیلاً ان کابتاکر معافی مانگنا ضروری جانتے ہیں اول اوسع ہے اور ثانی احوط۔
منح الروض الازہر میں ہے :
ھل یکفیہ ان یقول لک علی دین فاجعلنی فی حل ام لابد ان یعین مقدارہ؟ ففی النوازل رجل لہ علی اخردین۔ وھو لایعلم بجمیع ذالک فقال لہ المدیون ابرئنی ممّا لک علی فقال الدائن ابرأتک، فقال نصیر لایبرأ الا مقدار مایتوھم ای یظن انہ علیہ، وقال محمد بن سلمۃ یبرأ عن الکل، قال الفقیہ ابواللیث حکم القضاء ماقالہ محمد بن سلمۃ وحکم الاٰخرۃ ماقالہ نصیر، وفی القنیۃ من علیہ حقوق فاستحل صاحبھا ولم یفصلھا فجعلہ فی حل یعذرُ اِن علم انہ فصلہ یجعلہ فی حل والا فلا قال بعضھم انہ حسن وان روی انہ یصیر فی حل مطلقا، وفی الخلاصۃ رجل قال الاٰخر حللنی من کل حق ھو لک ففعل فابرأہ ان کان صاحب الحق عالما بہ برئ حکما بالاجماع واما دیانۃ فعند محمد رحمہ اﷲ تعالٰی لایبرأ عند ابی یوسف یبرأ علیہ الفتوی انتھی، وفیہ انہ خلاف ما اختار ابوالیث ولعل قولہ مبنی علی التقوٰی ۱؎۱ھ مافی منح الروض ۔
کیامقروض کے لئے یہ کافی ہے کہ قرض خواہ سے کہے کہ مجھ پر تمہارا قرض ہے مجھے معاف کردے یاضروری ہے کہ قرض کی مقدار معین کرے؟ نوازل میں ہے کہ ایک آدمی کادوسرے پر قرض ہے اور اسے تمام قرض کاعلم نہیں مقروض اسے کہتا ہے کہ تومجھے اپنا قرض معاف کردے، اس نے کہا میں نے تجھے معاف کردیا۔ نصیر کہتے ہیں کہ اسی قدر معاف ہوگا جتنا کہ اس کے گمان میں تھا، محمدبن سلمہ کہتے ہیں کہ تمام معاف ہوجائے گا۔ فقیہ ابواللیث نے فرمایا : قاضی کافیصلہ وہی ہے جومحمدبن سلمہ کاقول ہے، اور آخرت کا حکم وہ ہے جو نصیر نے فرمایا، قنیہ میں ہے کہ جس شخص پر کسی کے،کچھ حق ہوں وہ صاحب حق سے کہے کہ مجھے معاف کردے اور حقوق کی تفصیل نہ کرے صاحب حق اسے معاف کردے، تو اگر یہ معلوم ہو کہ صاحب حق حقوق کی تفصیل کوجان کربھی معاف کردے گا تو معاف ہوجائیں گے ورنہ نہیں۔ بعض علماء نے فرمایا : یہ تفصیل عمدہ ہے۔ یہ بھی روایت ہے کہ اسے بہرصورت حقوق معاف ہوجائیں گے۔ خلاصہ میں ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کوکہا تم مجھے اپنا ہرحق معاف کردو، اس نے معاف کردیا، اگر صاحب حق کو علم ہے پھر تو معافی مانگنے والا قضاء ً ودیانۃً (یعنی فیصلے کے اعتبار سے بھی اور عنداﷲبھی) بری ہوجائے گا اور اگر اسے علم نہیں تو بالاتفاق یہ فیصلہ ہوگا کہ وہ بری ہوگیا، رہادیانۃً (عنداﷲ) تو امام محمد کے نزدیک بری نہیں ہوگا امام ابویوسف کے نزدیک بری ہوجائے گا اسی پرفتوٰی ہے انتہٰی، اس میں اعتراض ہے کہ یہ فقیہ ابواللیث کے مختار کے خلاف ہے ہوسکتاہے ان کا قول تقوٰی پرمبنی ہو۔ منح الروض کاکلام ختم ہوا۔
(۱؎ منح الروض الازہر شرح الفقہ الاکبر بحث التوبہ وشرائطہا مصطفی البابی مصر ص۱۵۹)