Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
82 - 160
مسئلہ ۱۶۳ : ازبنگالہ ضلع کمرلا موضع ہرمنڈل مرسلہ مولوی عبدالجبار صاحب ۲۵ ربیع الاول شریف ۱۳۲۰ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کچھ لیاقت رکھنے والا اپنے والدین صالحین کے ساتھ جنگ وجدل وزدوضرب و ظلم  وستم کرتاہے اور خود اپنے والدین کوطعنے تشنیع ودشنام کرتا ہے اور لوگوں سے کرواتاہے اور وہ شخص غاصب وکاذب وسارق کے ساتھ موصوف ہے، ایسے شخص کے پیچھے نمازجائزہے یامکروہ؟ اگرمکروہ ہےتو کون قسم کی مکروہ ہے؟ اور ایسے شخص کے پیچھے جوکوئی بسبب ناواقفی  کے نمازپڑھے تونماز اس کودوبارہ پڑھناہوگی یانہیں؟ اور ایسے عاق الوالدین کودعوت کرنا کروانا صدقہ وغیرہ دینا دلوانا درست ہے یانہیں؟ اور اس کے مکان میں دعوت کھانا کیسی ہے اور وہ شخص از روئے شرع شریف کے کس تعزیر کے لائق ہے اوراس کی تائید کرنے والے پراز روئے شرع شریف کیاحکم ہے بادلائل قرآن وحدیث واقوال ائمہ  ارشاد فرمایاجائے۔
الجواب 

ایساشخص افسق الفاسقین واخبث مہین ومستحق غضب شدید رب العالمین وعذاب عظیم ونارجحیم ہے۔
حدیث ۱:  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
الاانبئکم باکبر الکبائر، الا انبئکم باکبر الکبائر، الا انبئکم باکبر الکبائر۔
میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سب کبیرہ گناہوں سے سخت تر گناہ کیاہے، کیانہ بتادوں کہ سب کبائر سے بدترکیاہے، کیانہ بتادوں کہ سب کبیروں سے شدیدتر کیاہے۔
صحابہ نے عرض کی : ارشاد ہو۔ فرمایا :
الاشراک باﷲ عقوق الوالدین، الحدیث۔ رواہ الشیخان ۱؎ والترمذی۲؎ عن ابی بکرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
اﷲ تعالٰی کاشریک ٹھہرانا اور ماں باپ کوستانا، الحدیث، (اسے امام بخاری ومسلم اور ترمذی نے ابی بکرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ صحیح بخاری     کتاب الشہادات     باب ماقیل فی شہادۃ الزور     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۳۶۲)

(صحیح مسلم      کتاب الایمان     باب الکبائر      قدیمی کتب خانہ کراچی   ۱ /۶۴)

(۲؎ جامع الترمذی     ابواب البروالصلۃ     ۲/ ۱۲    ابواب الشہادۃ  ۲ /۵۴    امین کمپنی دہلی )
حدیث ۲ : رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث  والرجلۃ من النساء۔ رواہ النسائی ۳؎ والبزار بسندین جیدین والحاکم۴؎ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
تین شخص جنت میں نہ جائیں گے : ماں باپ کو ستانے والا اور دیّوث اورمردوں کی وضع بنانے والی عورت۔ (نسائی اور بزار نے جیدسندوں کے ساتھ اور حاکم نے ابن عمررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۳؎ سنن النسائی     کتاب الزکوٰۃ     باب المنان بما اعطی     نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی  ۱ /۳۵۱)

(۴؎ المستدرک الحاکم     کتاب الایمان     ثلثۃ لایدخلون الجنۃ    دارالفکربیروت     ۱/ ۷۲)
حدیث ۳ : رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لایقبل اﷲ عزوجل منھم صرفا ولاعدلا عاق ومنان ومکذب بقدر۔ رواہ ابن ابی عاصم ۵؎ فی السنۃ بسند حسن عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
تین شخص ہیں کہ اﷲ تعالٰی نہ ان کے فرض قبول کرے نہ نفل : ماں باپ کوایذادینے والا اور صدقہ دے کر فقیر احسان رکھنے والا اور تقدیر کاجھٹلانے والا۔ (اسے عاصم نے السنّۃ میں بسند حسن ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے روایت کیا۔ت)
 (۵؎ العلل المتناہیۃ     باب ذکر القدر والقدریۃ     حدیث ۲۳۹        دارنشر الکتب الاسلامیہ     ۱ /۱۵۲)

(مجمع الزوائد    باب ماجاء فیمن یکذب بالقدر    دارالکتب العربی بیروت     ۷ /۲۰۶)
حدیث۴ : رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اﷲ عزوجل فرماتاہے :
ملعون من عق والدیہ  ملعون من عق والدیہ  ملعون من عق والدیہ۔ رواہ الطبرانی والحاکم ۱؎ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ملعون ہے جو اپنے والدین کو ستائے، ملعون ہے جو اپنے والدین کوستائے، ملعون ہے جو اپنے والدین کوستائے۔ (اسےطبرانی اور حاکم نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ الترغیب والترھیب     بحوالہ الطبرانی والحاکم     من اللواط حدیث ۴    مصطفی البابی مصر    ۳ /۲۸۷)
حدیث۵ :  رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لعن اﷲ من سبّ والدیہ ۔  رواہ ابن حبان ۲؎ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ ۔
اﷲ کی لعنت اس پرجو اپنے ماں باپ کوگالی دے (ابن حبان نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ ت)
 (۲؎ موارالظماٰن     باب فی الکبائر     حدیث ۵۳        المطبعۃ السلفیہ     ص۴۳)
حدیث ۶ : کہ ایک جوان کو نزع کے وقت کلمہ تلقین کیا، نہ کہہ سکا، نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کوخبر ہوئی تشریف لے گئے، فرمایاکہہ لاالہ الااﷲ۔ کہا: مجھ سے نہیں کہاجاتا۔ فرمایا کیوں؟ کہا : وہ شخص اپنی ماں کو ستاتا تھا، رحمت عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اس کی ماں کو بلاکرفرمایا : یہ تیرابیٹا ہے؟  عرض کی :  ہاں۔ فرمایا؟
ارأیت لو اججت نار ضخمۃ فقیل لک ان شفعت لہ خلیناہ  والاحرقناہ اکنت تشفعین لہ۔
بھلا سن تو اگر ایک عظیم الشان آگ بھڑکائی جائے اور کوئی تجھ سے کہے کہ تو اس کی شفاعت کرے جب تو ہم  اسے چھوڑتے ہیں ورنہ جلادیں گے، کیا  اس وقت تو اس کی شفاعت کرے گی۔
عرض کی : یارسول اﷲ! جب توشفاعت کروں گی، فرمایا : تو اﷲ کو  اور مجھے گواہ کرلے کہ تو اس سے راضی ہوگئی۔ اس نے عرض کی : الٰہی ! میں تجھے اور تیرے رسول کوگواہ کرتی ہیں کہ میں اپنے بیٹے سے راضی ہوئی، اب  سیّد عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جوان سے فرمایا : اے لـڑکے! کہہ
لاالٰہ الااﷲ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمداً عبدہ، ورسولہ۔
جوان نے کلمہ پڑھا اور انتقال کیا، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
الحمدﷲ الذی انقذہ بی من النار۔ رواہ الطبرانی۱؎ عن عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
شکر اس خدا کاجس نے میرے وسیلے سے اس کو دوزخ سے بچالیا۔ (اسے طبرانی نے عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ شعب الایمان     حدیث ۷۸۹۲      دارالکتب العلمیہ بیروت     ۶ /۱۹۸)
حدیث ۷ : عوّام بن حوشب رحمۃ اﷲ علیہ کو اجلہ ائمہ تبع تابعین سے ہیں ۱۴۸ھ میں انتقال کیا، فرماتے ہیں میں ایک محلے میں گیا اس کے کنارے پرقبرستان تھا عصر کے وقت ایک قبرشق ہوئی اور اس میں سے ایک آدمی نکلا جس کاسرگدھے اورباقی بدن انسان کا، اس نے تین آوازیں گدھے کی طرح کیں پھرقبربند ہوگئی، ایک بڑھیا بیٹھی کات رہی تھی ایک عورت نے مجھ سے کہا ان بڑی بی کو دیکھتے  ہو؟ میں نے کہا: اس کاکیامعاملہ ہے؟ کہا: یہ قبروالے کی ماں ہے وہ شراب پیتاتھا جب شام کو آتا ماں نصیحت کرتی کہ اے بیٹے! خدا سے ڈر کب تک اس ناپاک کوپیئے گا؟ یہ جواب دیتا کہ تو توگدھے کی طرح چلاتی ہے،  یہ شخص عصر کے بعد مرا جب سے ہر روز بعد عصر  اس کی قبرشق ہوتی ہے اور یوں تین آوازیں گدھے کی کرکے  پھربندہوجاتی ہے
رواہ الاصبہانی۲؎ وغیرہ
 (اصبہانی وغیرہ نے اسے روایت کیاہے۔ت)
 (۲؎ شرح الصدور  بحوالہ اصبہانی فی الترغیب     باب عذاب القبر   خلافت اکیڈمی منگورہ سوات ص۷۱  و ۷۲)
اسی طرح غضب وکذب وسرقہ کی حرمتیں ضروریات دین سے ہیں ایسے شخص کے پیچھے نماز سخت مکروہ ہے مکروہ تحریمی قریب بحرام اور واجب الاعادہ ہے کہ نادانستہ پڑھ لی ہو توپھیرناواجب ہے۔
Flag Counter