Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
81 - 160
حدیث ۱۶ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من زارقبر ابویہ اواحدھما احتسابا کان کعدل حجۃ  مبرورۃ ومن کان زوارا لھما زارت الملئکۃ قبرہ۔  رواہ الامام الترمذی ۲؎ الحکیم  وابن عدی۳؎ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
جو بہ نیت ثواب اپنے  والدین دونوں یا ایک کی زیارت قبرکرے حج مقبول کے برابرثواب پائے، اور جوبکثرت ان کی زیارت قبرکیاکرتاہو فرشتے اس کی قبر کی زیارت کوآئیں(حکیم ترمذی اور ابن عدی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ نوادرالاصول للترمذی     الاصل الخامس عشر    دارصادربیروت    ص۲۴) 

(۳؎ الکامل لابن عدی     ترجمہ حفص بن سلمہ الخ   دارالفکر بیروت     ۲ /۸۰۱)
امام ابن الجوزی محدث کتاب عیون الحکایات میں بسند خود محمدابن العباس وراق سے روایت فرماتے ہیں ایک شخص اپنے بیٹے کے ساتھ سفرکو گیا راہ میں باپ کا انتقال ہوگیا وہ جنگل درختان مقل یعنی گوگل کے پیڑوں کاتھا ان کے نیچے دفن کرکے بیٹا جہاں جاناتھا چلاگیا جب پلٹ کر آیا اس منزل میں رات کو پہنچا باپ کی قبر پر نہ گیا توناگاہ سنا کہ کوئی کہنے والاکہتاہے :
رأیتک تطوی الدوم لیلا ولاترٰی     علیک باھل الدوم ان تتکلما

وبالدوم ثا ولو ثویت مکانہ             فمر باھل الدوم عاج فسلما ۴؎
 (میں نے تجھے دیکھا کہ تو رات میں اس جنگل کو طے کرتاہے اور وہ جو ان پیڑوں میں ہےاس سے کلام کرنا اپنے اوپرلازم نہیں جانتا حالانکہ ان درختوں میں وہ مقیم ہے کہ اگر اس کی جگہ تو  ہوتا اور  وہ یہاں گزرتا تو  وہ راہ سے  پھرکر آتا اور  تیری قبرپر سلام کرتا۔ت)
 (۴؎ شرح الصدور     بحوالہ عیون الحکایات     باب زیارۃ القبور علم الموتی         خلافت اکیـڈمی منگورہ سوات ص۹۱)
حدیث ۱۷ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من احب ان یصل اباہ فی قبرہ فلیصل اخوان ابیہ من بعدہ۔ رواہ ابویعلٰی ۱؎ وابن حبان عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جوچاہے کہ باپ کی قبرمیں اس کے ساتھ حسن سلوک کرے وہ باپ کے بعد اس کے عزیزوں دوستوں سے نیک برتاؤ رکھے(ابویعلٰی وابن حبان نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ مسند ابویعلٰی    حدیث ۵۶۴۳    مؤسسۃ علوم القرآن بیروت     ۵ /۲۶۰)
حدیث ۱۸ : فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من البر ان تصل صدیق ابیک، رواہ الطبرانی۲؎ فی الاوسط عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
باپ کے ساتھ نیکوکاری سے ہے یہ کہ تو اس کے دوست سے اچھابرتاؤ کرے۔ (طبرانی نے اوسط میں انس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ المعجم الاوسط     حدیث ۷۲۹۹     مکتبۃ المعارف ریاض         ۸ /۱۴۹)
حدیث ۱۹ :  کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
ان البر ان یصل الرجل اھل ود ابیہ بعد ان یولی الاب ۔  رواہ الائمۃ احمد والبخاری فی الادب المفرد و مسلم۳؎ فی صحیحہ وابوداؤد والترمذی عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
بے شک باپ کے ساتھ سب نکوکاریوں سے بڑھ کریہ نکوکاری ہے کہ آدمی باپ کے بعد اس کے دوستوں سے اچھی روش  پرنباہے  (اسے ائمہ کرام احمد اور بخاری نے ادب المفرد میں اور مسلم نے اپنی صحیح میں اور ابوداؤد اور ترمذی نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۳؎ صحیح مسلم     کتاب البر والصلۃ     باب فضل صلۃ اصدقاء الاب والام     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۳۱۴)

(کنزالعمال     بحوالہ حم خذم ، د، ت    حدیث ۴۵۴۶۲   موسسۃ الرسالۃ بیروت     ۱۶ /۴۶۵)
حدیث ۲۰ : کہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
احفظ ودّ ابیک لاتقطعہ فیطفئ اﷲ نورک۔ رواہ البخاری فی الادب المفرد والطبرانی فی الاوسط۱؎ والبیھقی فی الشعب عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
اپنے ماں باپ کی دوستی پرنگاہ رکھ اسے قطع نہ کرنا کہ اﷲ تعالٰی نور تیرا بجھادے گا(اسے بخاری نے ادب المفرد میں اور طبرانی نے اوسط میں اور بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ المعجم الاوسط      حدیث ۸۶۲۸      مکتبۃ المعارف ریاض   ۹/ ۲۸۸)

(کنزالعمال    بحوالہ خد، طس، ھب عن ابن عباس     حدیث ۴۵۴۶۰    مؤسسۃ الرسالہ بیروت  ۱۶ /۴۶۴)
حدیث ۲۱ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
تعرض الاعمال یوم الاثنین والخمیس علی اﷲ تعالٰی وتعرض علی الانبیاء وعلی الاباء والامھات یوم الجمعۃ فیفرحون بحسناتھم ویزدادون وجوھھم بیضاء ونزھۃ فاتقوا اﷲ ولا توذوا موتاکم۔ رواہ الامام الحکیم۲؎ عن والد عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ہردوشنبہ وپنجشنبہ کو اﷲ عزوجل کے حضوراعمال پیش ہوتے ہیں اور انبیاء کرام علیہم الصلٰوۃ والتسلیم اور ماں باپ کے سامنے ہرجمعہ کو، وہ نیکیوں پرخوش ہوتے ہیں اور ان کے چہروں کی صفائی وتابش بڑھ جاتی ہے، تو اﷲ سے ڈرو اور اپنے مردوں کو اپنے گناہوں سے رنج نہ پہنچاؤ (اسے امام حکیم نے اپنے والد عبدالعزیز رضی اﷲ تعالٰی عنہ  سے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ نوادرالاصول للترمذی     الاصل السابع والستون والمائۃ الخ   دارصادر بیروت     ص۲۱۳)
بالجملہ والدین کا حق وہ نہیں کہ انسان اس سے کبھی عہدہ برآہو وہ اس کے حیات ووجود کے سبب ہیں تو جوکچھ نعمتیں دینی ودنیوی پائے گاسب انہیں کے طفیل میں ہوئیں کہ ہرنعمت وکمال وجود پرموقوف ہے اور وجود کے سبب وہ ہوئے تو صرف ماں باپ ہونا ہی ایسے عظیم حق کاموجب ہے جس سے بری الذمہ کبھی نہیں ہوسکتا نہ کہ اس کے ساتھ اس کی پرورش میں ان کی کوششیں، اس کے آرام کے لئے ان کی تکلیفیں خصوصاً پیٹ میں رکھنے، پیداہونے میں، دودھ پلانے میں ماں کی اذیتیں، ان کا شکر کہاں تک ادا ہو سکتاہے، خلاصہ یہ کہ وہ اس کے لئے اﷲ ورسول جل جلالہ وصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے سائے اور ان کی ربوبیت ورحمت کے مظہرہیں، ولہٰذا قرآن  عظیم میں اﷲ جل جلالہ، نے اپنے حق کے ساتھ ان کا ذکرفرمایا کہ
ان اشکرلی ولوالدیک۳؎
حق مان میرا اور اپنے  ماں باپ کا۔
(۳؎ القرآن الکریم     ۳۱ /۱۴)
حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حاضر ہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! ایک راہ میں ایسے گرم پتھروں پر کہ اگرگوشت ان پرڈالا جاتاکباب ہوجاتا میں ۶میل تک اپنی ماں کو گردن پرسوار کرکے لے گیاہوں کیا میں اب اس کے حق سے بری ہوگیا۔ 

رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا :
لعلہ ان یکون بطلقۃ واحدۃ۔ رواہ الطبرانی۱؎ فی الاوسط عن بریدۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
تیرے پیداہونے میں جس قدر دردوں کے جھٹکے اس نے اٹھائے ہیں شاید ان میں سے ایک جھٹکے کابدلہ ہوسکے(اسے طبرانی نے اوسط میں بریدہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)

اﷲ عزوجل عقوق سے بچائے اور ادائے حقوق کی توفیق عطافرمائے
اٰمین اٰمین برحمتک یا ارحم الراحمین وصلی اﷲ تعالٰی علٰی سیّدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین اٰمین والحمدﷲ ربّ العٰلمین۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ کنزالعمال     بحوالہ طس عن بریدہ     حدیث ۴۵۵۰۶     مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱۶ /۴۷۳)

(مجمع الزوائد   بحوالہ الطبرانی فی الصغیر     کتاب البروالصلۃ باب ماجاء فی البر وحق الوالدین     دارالکتب ۸ /۱۳۷)
Flag Counter