حدیث ۸ : امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ پر اسی ہزار قرض تھے وقت وفات اپنے صاحبزادے حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کو بلاکرفرمایا :
بع فیھا اموال عمر فان وفت والا فسل بنی عدی فان وفت والافسل قریشا ولاتعدھم۔
میرے دین (قرض) میں اول تومیرا مال بیچنا اگرکافی ہوجائے فبہا ورنہ میری قوم بنی عدی سے مانگ کرپوراکرنا اگریوں بھی پورا نہ ہو توقریش سے مانگنا اور ان کے سوا اوروں سے سوال نہ کرنا۔ پھرصاحبزادہ موصوف سے فرمایا : اضمنھا تم میرے قرض کی ضمانت کرلو، وہ ضامن ہوگئے اور امیرالمؤمنین کے دفن سے پہلے اکابر مہاجرین وانصار وگواہ کرلیا کہ وہ اسی ہزار مجھ پر ہیں، ایک ہفتہ نہ گزرا تھا کہ عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وہ سارا قرض ادافرمادیا۔
رواہ ابن سعد فی الطبقات۱؎ عن عثمان بن عروۃ
(اسے ابن سعد نے طبقات میں عثمان بن عروہ سے روایت کیا۔ت)
(۱؎ الطبقات الکبرٰی لابن سعد ذکراستخلاف عمررضی اﷲ عنہ دارصادر بیروت ۳ /۳۵۸)
حدیث ۹: قبیلہ جہینہ سے ایک بی بی رضی اﷲ تعالٰی عنہا نے خدمت اقدس حضورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضرہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! میری ماں نے حج کرنے کی منت مانی تھی وہ ادانہ کرسکیں اور ان کاانتقال ہوگیا کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں، فرمایا :
حجی عنھا ارأیت لوکان علی امک دین اکنت قاضیتہ اقضوا اﷲ فاﷲ احق بالوفاء۔ رواہ البخاری ۲؎ عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
ہاں اس کی طرف سے حج کر، بھلاتو دیکھ توتیری ماں پر اگر دَین ہوتا تو تو اداکرتی یانہیں؟ یونہی خدا کادَین اداکرو کہ وہ زیادہ حق ادارکھتاہے(اسے بخاری نے ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۲؎ صحیح البخاری ابواب العمرۃ باب الحج والنذر عن المیت قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۵۰)
(صحیح البخاری کتاب الاعتصام باب شبّہ اصلاً معلوماً الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۱۰۸۸)
حدیث ۱۰ : فرماتے صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
اذا حج الرجل عن والدیہ تقبل منہ ومنھما واستبشرت ارواحھما فی السماء وکتب عند اﷲ برا۔ رواہ الدار قطنی۱؎ عن زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
انسان جب اپنے والدین کی طرف سے حج کرتاہے وہ حج اس کی اور اس کے والدین کی طرف سے قبول کیاجاتا ہے اور ان کی روحیں آسمان میں اس سے شاد ہوتی ہیں، اور یہ شخص اﷲ عزوجل کے نزدیک ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا لکھاجاتا ہے(اسے دارقطنی نے زید بن ارقم رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
( ۱؎ سنن الدارقطنی کتاب الحج باب المواقیت حدیث ۱۰۹ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۲۶۰)
حدیث ۱۱ : کہ فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من حج عن ابیہ وامہ فقد قضی عنہ حجتہ فکان لہ فضل عشر حجج۔ رواہ الدارقطنی۲؎ عن جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے ان کی طرف سے حج اداہوجائے اور اسے دس حج کا ثواب زیادہ ملے۔(دارقطنی نے جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
(۲؎سنن الدارقطنی کتاب الحج باب المواقیت حدیث ۱۱۲ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۲۲۰)
حدیث ۱۲ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من حج عن والدیہ بعد وفاتھما کتب لہ عتقا من النار وکان للمحجوج عنھما اجر حجۃ تامۃ من غیران ینقص من اجورھما شیئا۔ رواہ الاصبھا نی فی الترغیب والبیھقی فی الشعب ۳؎ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
جو اپنے والدین کی وفات کے بعد ان کی طرف سے حج کرے اﷲ تعالٰی اس کے لئے دوزخ سے آزادی لکھے اور ان دونوں کے واسطے پورے حج کاثواب ہو جس میں اصلاً کمی نہ ہو۔ (اسے اصبہانی نے ترغیب میں اور بیہقی نے شعب میں ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۳؎ شعب الایمان حدیث ۷۹۱۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۲۰۵)
حدیث ۱۳ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من برقسمھما وقضی دینھما ولم یستسب لھما کتب بارا و ان کان عاقا نی حیاتہ و من لم یبر قسمھما ولم یقض دینھما و استسب لھما کتب عاقا وان کان بارا فی حیاتھما۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط۱؎ عن عبدالرحمٰن بن سمرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جو شخص اپنے ماں باپ کے بعد ان کی قسم سچی کرے اور ان کا قرض اداکرے اور کسی کے ماں باپ کو براکہہ کر انہیں برا نہ کہلوائے وہ والدین کے ساتھ نکوکار لکھاجاتاہے اگرچہ ان کی زندگی میں نافرمان تھا اور جو ان کی قسم پوری نہ کرے اور ان کا قرض نہ اتارے اوروں کے والدین کو براکہہ کر انہیں برا کہلوائے وہ عاق لکھاجائے اگرچہ ان کی حیات میں نکوکارتھا (اسے طبرانی نے اوسط میں عبدالرحمن بن سمرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
من زارقبر والدیہ اواحدھما فی کل یوم جمعۃ مرۃ غفراﷲ لہ وکتب برا۔ رواہ الامام الترمذی العارف باﷲ الحکیم فی نوادر الاصول ۲؎عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
جو اپنے ماں باپ دونوں یا ایک کی قبر پرہرجمعہ کے دن زیارت کوحاضرہوا ﷲ تعالٰی اس کے گناہ بخش دے اور ماں باپ کے ساتھ اچھابرتاؤ کرنے والا لکھاجائے (الامام الحکیم عارف باﷲ ترمذی نے نوادر الاصول میں ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
(۲؎ نوادرالاوصول للترمذی الاصل الخامس عشر دارصادر بیروت ص۲۴)
حدیث ۱۵ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من زارقبر ابویہ اواحدھما یوم الجمعۃ فقرأ عندہ یٰس غفرلہ۔ رواہ ابن عدی ۳؎ عن الصدیق الاکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ وفی لفظ من زار قبروالدیہ اواحدھما فی کل جمعۃ فقرأ عندہ یٰس غفراﷲ لہ بعدد کل حرف منھا۔ رواہ ھو دالخلیلی وابوشیخ والدیلمی۱؎وابن النجار والرافعی وغیرھم عن ام المؤمنین الصدیقۃ عن ابیھا الصدیق الاکبر رضی اﷲ تعالٰی عنھما عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم۔
جو شخص روزجمعہ اپنے والدین یا ایک کی زیارت قبر کرے اور اس کے پاس یٰس پڑھے بخش دیاجائے (اسے عدی نے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ اور دیگر الفاظ میں۔ت) جو ہرجمعہ والدین یا ایک کی زیارت قبر کرکے وہاں یٰس پڑھے یٰس شریف میں جتنے حرف ہیں ان سب کی گنتی کے برابر اﷲ تعالٰی اس کے لئے مغفرت فرمائے (اسے روایت کیاترمذی، الخلیلی اور ابوشیخ اور دیلمی اور ابن نجار اور رافعی وغیرھم نے ام المومنین صدیقہ سے انہوں نے اپنے والدگرامی صدیق اکبررضی اﷲ تعالٰی عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے۔ت)
(۳؎ الکامل لابن عدی ترجمہ عمربن زیادبن عبدالرحمان بن ثوبان دارالفکر بیرو ت ۵ /۱۸۰۱)
(۱؎ اتحاف السادۃ للمتقین بحوالہ ابی الشیخ وغیرہ بیان زیارۃ القبور والدعاء للمیت دارالفکر بیروت ۱۰ /۳۶۳)