رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث، رواہ الائمۃ مالک۱؎ والشیخان وابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
گمان سے دور رہو کہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹی بات ہے (ائمہ کرام مثلاً امام مالک، بخاری، مسلم، ابوداؤد اور ترمذی نے اس کو حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیاہے۔ت)
(۱؎ مسندامام احمدبن حنبل مسندابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ دارالفکر بیروت ۲/ ۵۰۴)
(صحیح البخاری کتاب الفرائض قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۹۹۵)
(صحیح مسلم کتاب البر باب تحریم الظن قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۶)
(سنن ابی داؤد کتاب الادب ۲/ ۳۱۷ وجامع الترمذی ابواب البر ۲/ ۲۰)
امام علامہ عارف باﷲ ناصح فی اﷲ سیدی عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے اس بحث میں بالتعیین کسی شخص کی نسبت حکم تصنّع وریاء لگادینے پرایک طویل وجلیل کلام میں اقامت قیامت فرمائی جس میں سے چندحرف کاخلاصہ یہ کہ سب صوفیہ یکساں نہیں، جیسے سب علماء وفقہاء ومدرسین ایک سے نہیں، جیسے سب قضاۃ واُمراء ووزراء وسلاطین برابرنہیں بلکہ ان میں صالح اصلح فاسد افسد سب طرح کے ہیں، ناقص قاصرجاہل، مسلمانوں کی عیب جوئی کرتے اور کاملوں کوکمال ہی نظرآتا اور عیب پوشی وتاویل فرماتے ہیں؛
پھرفرمایا:
ھذا کلہ فی طائفۃ من المتصوفۃ اوصافھم کذلک واحوالھم اخبث من ذلک وان لم یجز تعیین طائفۃ منھم باعیانھم ولاشخص واحد بعینہ مالم ینکشف فیھم جلیلۃ الامر بالمشاھدۃ والعیان الذی لایحتمل التاویل فی البیان و لایجوز تقلید الناس بعضھم بعضا فی الاخبار عن ذلک مالم یثبت بالبینۃ العادلۃ عندالحاکم الشرعی علی ان الحاکم ایضا یحکم بالظاھر، وبواطن الامور معلومۃ عنداﷲ تعالٰی فلاقطع الاظاھرا واﷲ اعلم بالسرائر،
یہ سب کچھ صوفیاء کے اس گروہ سے متعلق ہے جن کے اوصاف اس طرح یا اس سے بھی خبیث تر ہیں اگرچہ ان میں سے کسی گروہ کی بلحاظ اشخاص تعیین جائزنہیں اور نہ کسی شخص معین کی، جب تک مشاہدے سے امرواضح نہ ہو اور عیاں بھی ایسا ہوکہ جس کے بیان میں کسی شک اور تاویل کی گنجائش نہ ہو۔ اور خبرمیں لوگوں کا ایک دوسرے کی تقلید کرناجائزنہیں جب تک حاکم شرع کے روبرو کسی عادل گواہ کے ذریعے کوئی امرثابت نہ ہو۔ علاوہ ازیں حاکم بھی ظاہر پر حکم لگاتاہے اور پوشیدہ ومخفی امورتواﷲ تعالٰی ہی کومعلوم ہیں لہٰذا ظاہری محل یقین ہوسکتاہے اورپوشیدہ بھیدوں کو تو اﷲ تعالٰی ہی خوب جانتاہے۔
واماخبر التواتر من الناس لبعضھم بعضا بذٰلک فھو ممنوع، لاستناد الکل فیہ الی الظن والتخمین واستفادۃ الخبر من بعضھم لبعض بحیث لوسألت کل واحد منھم من رؤیتہ ذٰلک لقال لم اعاینہ انما سمعت ومن قال عاینتہ تستکشف من حالہ فتراہ مستندا الی ظنون وامارات وھمیۃ وربما اذا تاملت وجدت خبر ذلک التواتر مستندا فی الاصل الٰی خبرواحداواثنین والواحد ایضا قولہ مبنی علی الظن والتھمۃ فلایجوز لاحد ان یقول ثبت عندی بالتواتر معصیۃ فلان لان الناس اخبرونی بذٰلک وھم کثیرون، وانما ذٰلک لغلبۃ الکذب فی الناس خصوصا فی زماننا، وکثرۃ الحسد و العداوۃ وربما یفتری احدھم علی رجل بمالاعلم لہ بہ ویخبرالناس بذلک ویخبرالناس ینقلونہ فیصل الخبر الٰی بعض المغرورین بعلمھم المطرودین عن ابواب فضل اﷲ تعالٰی فیقول وصلنی ھذا عن فلان بالتواتر ولایعلم المسکین ان الذی ینقلون الیہ الکذب ینقلون عنہ ایضا الکذب لغیرہ وبعد ھذا کلہ اذا ثبت فعل المعصیۃ من احد بطریق التواتر اوالروایۃ لم یفد شیئا لان ذکرہ بمعصیۃ بین الناس علی وجہ الذم حرام لان الغیبۃ صدق محرم اماقصد ان یحذرالناس والخبر شائع فی الناس فغیر معتبر نعم قالوا ذٰلک فیما اذا لم یکن للناس علم بہ وھذا انما استفاد العلم بہ من خبر الناس المتواتر عندہ وعلی کل حال فالسترلعورات المسلمین ھوالمتعین علی صاحب الاستقامۃ فی الدین، ذکر النجم الغزی رحمہ اﷲ تعالٰی فی حسن التنبہ فی التشبہ، ان من اخلاق الیھود والنصاری الاتھام والوقوع فی عرض من لم یثبت عنہ وھذا من الخوض فیمالایعنیہ روی الترمذی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من حسن اسلام المرء ترکہ مالایعنیہ،
رہایہ کہ اس باب میں لوگوں کاایک دوسرے سے خبرتواتر کاوصول، تووہ ممنوع ہے کیونکہ اس میں سب کا استناد گمان اور اندازہ ہے۔ لوگوں کا ایک دوسرے سے استفادہ خبر، اس طریقے سے ہرایک نے دوسرے سے اس کی رؤیت (مشاہدے) کا سوال کیا تو اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا میں نے صرف سناہے اور جو یہ کہے میں نے دیکھاہے اگرتم اس کے حال کاانکشاف کرو یعنی چھان بین کرو تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ اس کی سند بھی گمان اور چند وہمی علامات پر ہے خصوصاً جب آپ غوروفکر کریں گے تو اس خبرمتواتر کو ایک یا دو کی طرف منسوب پائیں گے، اور ایک کا قول بھی ظن اور الزام وتہمت پرمبنی ہوگا لہٰذا کسی شخص کے لئے یہ کہناجائز نہیں کہ میرے نزدیک فلاں آدمی کاگناہ تواتر سے ثابت ہے اس لئے کہ زیادہ ترلوگوں نے مجھے یہی بتایا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں میں زیادہ ترجھوٹ ہوتاہے خصوصاً ہمارے دورمیں زیادہ حسد اور دشمنی پائی جاتی ہے۔ بسااوقات کوئی شخص کسی پرایساافتراباندھتاہے جس کا اسے خود بھی علم نہیں ہوتا اور وہ لوگوں کو اطلاع دیتاہے پھر لوگ وہ بات اس کے حوالے سے بیان کرتے ہیں پھر یہ خبربعض ایسے لوگوں تک پہنچ جاتی ہے جو اپنے علم پرمغرور اور فریب خوردہ ہوتے ہیں اور فضل خداوندی سے دھتکارے ہوئے ہوتے ہیں۔ پھروہ کہتاہے کہ مجھے فلاں شخص کی طرف سے بتواتر یہ بات پہنچی ہے حالانکہ اس بیچارے کو معلوم نہیں ہوتا کہ جو اس کی طرف جھوٹ نقل کرتے ہیں وہ اس سے بھی دوسروں تک جھوٹ نقل کرسکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے بعد جب کسی شخص سے بطریق تواتریامشاہدہ گناہ ثابت ہوجائے توپھربھی اس کاتذکرہ بند کردے کیونکہ لوگوں میں بطورغیبت کسی کے گناہ کاتذکرہ حرام ہے اس لئے کہ غیبت سچی بھی حرام ہے لیکن اگر اس نے لوگوں کو ڈرانے اور چوکنا کرنے کے لئے ایسے کیا جبکہ خبرلوگوں میں پھیلی ہوئی اور مشہورہے تو اس کی بات غیرمعتبر ہے، ہاں اگروہ ایسی بات کہیں جس کالوگوں کوکوئی علم نہیں ہوتا یہ الگ بات ہے، یہ اس وقت ہے جب یہ خبر سے علم کا فائدہ حاصل کرے جب کہ لوگوں کی خبر اس کے نزدیک متواترہو، بہرحال مسلمانوں کے عیوب کی پردہ پوشی ان لوگوں پرلازمی ہے جو دین میں استقامت رکھتے ہیں، چنانچہ امام نجم غزی رحمۃ اﷲ علیہ تعالٰی علیہ نے ''حسن التنبہ فی التشبہ'' میں ذکرکیا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے اخلاق میں سے یہ ہے کہ دوسروں کو الزام لگائے جائیں اور ان کی عزت میں ہاتھ ڈالاجائے اور لایعنی وبے مقصد باتوں میں غوطہ زنی کی جائے۔ چنانچہ امام ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ حضورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم کاارشاد ہے کہ آدمی کی اسلامی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ لایعنی اور بے مقصد کاموں کو ترک کردے۔
وروی الطبرانی بسند صحیح عن ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال اعظم الناس خطایا یوم القٰیمۃ اکثرھم خوضا فی الباطل ورواہ ابن ابی الدنیا فی الصمت باسناد رجالہ ثقات عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مرسلا قال فی الاحیاء والیہ الاشارۃ بقولہ تعالٰی وکنّا نخوض مع الخائضینo وروی البیھقی فی الشعب عن عائشۃ رضی اﷲ تعالٰی عنھا قالت قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایزول المسروق منہ فی تھمۃ حتی یکون اعظم جرما من السارق وروی الامام احمد والشیخان والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال راٰی عیسٰی ابن مریم علیہما الصلٰوۃ والسلام رجلا یسرق فقال اسرقت قال کلا واﷲ الذی لاالٰہ الاھو فقال عیسٰی اٰمنت باﷲ وکذبت عینی،وھذا الخلق عزیز جدا انتھی فایاک ان تقع فی حق احد ولوبکلمۃ واحذر ان تخوض مع الخائضین خصوصا فی حق فقراء الصوفیۃ۱؎ اھ بالالتقاط تحصیلا للبرکۃ بکلمات الھداۃ الناصحین وعدۃ لنفسی وللمسلمین، واﷲ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔
امام طبرانی نے بسند صحیح حضرت عبداﷲ ابن مسعود رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب لوگوں سے بڑا گنہگار وہ شخص ہوگا جو سب سے زیادہ باطل میں گھستا رہتاہے۔ ابن ابی الدنیا نے خاموشی کے باب میں آنحضرت صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے اس کومرسل (یعنی بغیرسند) روایت کیا۔ ایسی اسناد سے کہ رواۃ مستند اور معتبر ہیں۔ اور اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد میں اسی طرف اشارہ ہے کہ ہم گھسے رہنے والوں کے ساتھ گھسے رہے ہیں۔ امام بیہقی نے شعب الایمان میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا سے روایت فرمائی کہ مائی صاحبہ نے فرمایا کہ حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہمیشہ مسروق عنہ (وہ شخص جس کامال چوری ہوا) تہمت میں رہے گا یہاں تک کہ وہ چور سے بڑا مجرم بن جائے گا۔ امام احمد، بخاری، مسلم، نسائی اور ابن ماجہ نے حضوراکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے بواسطہ ابوہریرہ روایت فرمائی ہے کہ حضرت عیسٰی ابن مریم علیہما الصلٰوۃ والسلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا توفرمایا کیاتونے چوری کی؟ اس نے جھٹ کہا ہرگز ایسانہیں، اس خداتعالٰی کی قسم جس کے سوا کوئی سچامعبود نہیں۔ حضرت عیسٰی نے فرمایا میں اﷲ تعالٰی پرایمان لایا اور میں نے اپنی آنکھوں کو جھٹلایا یہ لوگ یقینا پیارے ہیں اھ کسی کے حق میں شبہہ کرنے سے بچو اگرچہ کسی ایک ہی کلمہ سے ہو۔ اور اس بات سے ہوشیار رہو کہ باطل میں شروع ہونے والوں کے ساتھ شروع ہونے لگو خصوصاً فقراء صوفیہ کے حق میں، اھ بالالتقاط۔ ہدایت یافتہ خیرخواہ ہوں کے کلمات سے حصول برکت کرتے ہوئے اور گنتی کے چندکلمات میرے نفس اور مسلمانوں کے لئے ایک گونہ وعدہ ہیں۔ اﷲ تعالٰی پاک اور برتر سب سے بڑا عالم ہے۔(ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقۃ المحمدیۃ الصنف التاسع مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/ ۵۲۱ تا ۵۲۳)