اب وہ حدیثیں جن سے فقیر نے یہ حقوق استخراج کئے ان میں سے بعض بقدرکفایت ذکرکروں :
حدیث ۱ : کہ ایک انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے خدمت اقدس حضورپرنورسیدعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر ہوکرعرض کی : یارسول اﷲ ! ماں باپ کے انتقال کے بعد کوئی طریقہ ان کے ساتھ نکوئی کاباقی ہے جسے میں بجالاؤں ۔فرمایا :
نعم اربعۃ الصلاۃ علیھما والاستغفار لھما وانفاذ عھدھما من بعدھما واکرام صدیقھما وصلۃ الرحم التی لارحم لک الا من قبلھما فھذا الذی بقی من برھما بعد موتھما۔ رواہ ابن النجار ۱؎ عن ابی اسید الساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ مع القصۃ، ورواہ البیھقی۲؎ فی سننہ عنہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ قال قال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لایبقی للولد من برالوالد الا اربع الصلٰوۃ علیہ والدعاء لہ وانفاذ عھدہ من بعدہ وصلۃ رحمہ واکرام صدیقہ۔
ہاں چار باتیں ہیں : ان پرنماز، اورا ن کے لئے دعاء مغفرت، اور ان کی وصیت نافذ کرنا، اور ان کے دوستوں کی بزرگ داشت، اور جو رشتہ صرف انہیں کی جانب سے ہونیک برتاؤ سے اس کا قائم رکھنا، یہ وہ نکوئی ہے کہ ان کی موت کے بعد ان کے ساتھ کرنی باقی ہے (ابن نجار نے ابی اسید ساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مع قصہ کے روایت کیا۔ اوربیہقی نے اپنی سنن میں انہیں روایت کیا، اور بیہقی نے اپنی سنن میں انہیں رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا، کہافرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے : والد کے ساتھ نیکی کی چارباتیں ہیں: اس پرنماز پڑھنا اور اس کے لئے دعامغفرت کرنا، اس کی وصیت نافذ کرنا، اس کے رشتہ داروں سے نیک برتاؤ کرنا، اس کے دوستوں کا احترام کرنا۔ت)
(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابن النجار حدیث ۴۵۹۳۴ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۶ /۵۷۹)
(۲؎ السنن الکبرٰی کتاب الجنائز باب مالا یستحب لولی المیت الخ دارصادر بیروت ۴ /۶۱ و ۶۲)
حدیث ۲ـ : کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
استغفار الولد لابیہ من بعد الموت من البر۔ رواہ ابن النجار ۱؎ عن ابی اسید بن مالک بن زر ارۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک سے یہ بات ہے کہ اولاد ان کے بعد ان کے لئے دعاء مغفرت کرے (ابن النجار نے ابی اسید بن مالک بن زرارہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
حدیث ۴ و ۵ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
اذا تصدق احدکم بصدقۃ تطوعا فلیجعلھا عن ابویہ فیکون لہما اجرھا ولاینقص من اجرہ شیئا۔ رواہ الطبرانی فی الاوسط۳؎ وابن عساکر۴؎ عن عبداﷲ بن عمر ورضی اﷲ تعالٰی عنہما ونحوہ الدیلمی فی مسند الفردوس ۵؎عن معٰویۃ ابن حیدۃ القشیری رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
جب تم سے کوئی شخص کچھ نفل خیرات کرے تو چاہئے کہ اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرے کہ اس کا ثواب انہیں ملے گا اور اس کے ثواب میں سے کچھ نہ گھٹے گا (اس حدیث کوطبرانی نے اوسط میں اور ابن عساکر نے عبداﷲ بن عمرورضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا اور ایسے ہی دیلمی نے مسند الفردوس میں معاویہ ابن حیدہ قشیرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)
(۳؎ المعجم الاوسط حدیث ۶۹۴۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۷ /۴۷۹)
(۴؎ الجامع الصغیر بحوالہ ابن عساکر حدیث ۷۹۴۳ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۴۸۵)
(۵؎ الفردوس بماثور الخطاب عن معاویہ بن حیدۃ حدیث ۶۳۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۴ /۱۰۹)
حدیث ۶ : کہ ایک صحابی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حاضرہوکر عرض کی : یارسول اﷲ! میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی میں نیک سلوک کرتاتھا اب وہ مرگئے ان کے ساتھ نیک سلوک کی کیا راہ ہے؟ فرمایا :
ان من البربعد الموت ان تصلی لھما مع صلٰوتک وتصوم لھما مع صیامک۔ رواہ الدارقطنی ۱؎۔
بعد مرگ نیک سلوک سے یہ ہے کہ تواپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لئے روزے رکھے (اسے دارقطنی نے روایت کیا۔ت)
(۱؎ ردالمحتار بحوالہ الدارقطنی کتاب الحج باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۳۷)
یعنی جب اپنے ثواب ملنے کے لئے کچھ نفلی نمازپڑھے یاروزے رکھے تو کچھ نفل نماز ان کی طرف کہ انہیں ثواب پہنچائے یانماز روزہ جونیک عمل کرے ساتھ ہی انہیں ثواب پہنچنے کی بھی نیت کرلے کہ انہیں ثواب ملے گا اور تیرا بھی کم نہ ہوگا،
کما یدل علیہ لفظ "مع" انہ یحتمل لوجھین بل ھذا الصق بالمعیۃ۔
جیسا کہ لفظ ''مع'' اس پر دال ہے کیونکہ اس میں مذکورہ دونوں احتمال ہیں بلکہ آخری وجہ معیت کو زیادہ مناسب ہے۔(ت)
محیط پھرتاتارخانیہ پھرردالمحتار میں ہے :
الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المؤمنین والمؤمنات لانھا تصل الیھم ولاینقص من اجرہ شیئ ۲؎۔
جوشخص نفلی صدقہ دے اس کے لئے افضل یہ ہے کہ تمام ایمان والوں کی نیت کرے کیونکہ انہیں بھی ثواب پہنچے گا اور اس کاثواب بھی کم نہ ہوگا۔ت)
(۲؎ردالمحتار بحوالہ الدارقطنی کتاب الحج باب الحج عن الغیر داراحیاء التراث العربی بیروت ۲ /۲۳۶)
حدیث۷ : کہ فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم :
من حجّ عن والدیہ اوقضی عنہما مغرما بعثہ اﷲ یوم القیٰمۃ مع الابرار ۔ رواہ الطبرانی ۳؎ فی الاوسط والدار قطنی ۴؎ فی السنن عن ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے یا ان کا قرض اداکرے روزقیامت نیکوں کے ساتھ اُٹھے (اسے طبرانی نے اوسط میں اور دارقطنی نے سنن میں ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ت)
(۳؎ المعجم الاوسط حدیث ۷۷۹۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۸ /۳۹۳)
(۴؎ سنن الدارقطنی کتاب الحج باب المواقیت حدیث ۱۱۰ نشرالسنۃ ملتان ۲ /۲۶۰)