Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
78 - 160
تیسری حدیث میں ہے کہ رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اوصی الرجل بامہ اوصی الرجل بامہ اوصی الرجل بامہ اوصی الرجل بابیہ۔ رواہ الامام احمدوابن ماجۃ والحاکم والبیھقی فی السنن۲؎ عن ابی سلامۃ۔
میں ایک آدمی کو وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں،  وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں،  وصیت کرتاہوں اس کی ماں کے حق میں،وصیت کرتاہوں اس کے باپ کے حق میں۔(امام احمد اور ابن ماجہ اور حاکم اور بیہقی نے سنن میں ابی سلامہ سے اسے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ مسنداحمدبن حنبل     حدیث خداش ابی سلامہ             المکتب الاسلامی بیروت     ۴ /۳۱۱)

(سنن ابن ماجہ         ابواب الادب             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۲۶۸)

(المستدرک للحاکم     کتاب البروالصلۃ     باب بر امک        دارالفکر بیروت    ۴ /۱۵۰)

(السنن الکبرٰی         کتاب الزکوٰۃ باب الاختیار فی صدقۃ التطوع    دارصادربیروت     ۴ /۱۷۹)
مگر اس زیادت کے یہ معنی ہیں کہ خدمت میں دینے میں باپ پر ماں کو ترجیح دے مثلاً سو روپے ہیں اور کوئی خاص وجہ مانع تفصیل مادرنہیں توباپ کو پچیس دے ماں کو پچھتر، یاماں باپ دونوں نے ایک ساتھ پانی مانگا توپہلے ماں کو پلائے پھرباپ کو، یادونوں سفر سے آئے ہیں پہلے ماں کے پاؤں دبائے پھرباپ کے، وعلٰی ہذاالقیاس، نہ یہ کہ اگر والدین میں باہم تنازع ہو تو ماں کا ساتھ دے کرمعاذاﷲ باپ کے درپے ایذا ہو یا اس پر کسی طرح درشتی کرے یااسے جواب دے یابے ادبانہ آنکھ ملاکربات کرے، یہ سب باتیں حرام اور اﷲ عزوجل کی معصیت ہیں، نہ ماں کی اطاعت ہے نہ باپ کی، تو اسے ماں باپ  میں سے کسی کاایساساتھ دیناہرگز جائز نہیں، وہ دونوں اس کی جنت ونار ہیں، جسے ایذا دے گا دوزخ کامستحق ہوگا والعیاذباﷲ، معصیت خالق میں کسی کی اطاعت نہیں، اگرمثلاً ماں چاہتی ہے کہ یہ باپ کو کسی طرح کاآزار پہنچائے اور یہ نہیں مانتا تو وہ ناراض ہوتی ہے، ہونے دے اور ہرگز نہ مانے، ایسے ہی باپ کی طرف سے ماں کے معاملہ میں، ان کی ایسی ناراضیاں کچھ قابل لحاظ نہ ہوں گی کہ یہ ان کی نری زیادتی ہے کہ اس سے اﷲ تعالٰی کی نافرمانی چاہتے ہیں بلکہ ہمارے علمائے کرام نے یوں تقسیم فرمائی ہے کہ خدمت میں ماں کوترجیح ہے جس کی مثالیں ہم لکھ آئے ہیں، اور تعظیم باپ کی زائد ہے کہ وہ اس کی ماں کابھی حاکم وآقا ہے،
عالمگیری میں ہے :
اذا تعذر علیہ جمع مراعاۃ حق الوالدین بان یتأذی احدھما بمراعاۃ الاٰخر یرجح حق الاب فیما  یرجع الی التعظیم والاحترام وحق الام فیما یرجع الی الخدمۃ والانعام وعن علاء الائمۃ الحمامی قال مشائخنا رحمھم اﷲ تعالٰی الاب یقدم علی الام فی الاحترام والام فی الخدمۃ حتی لو دخلا علیہ فی البیت یقوم للاب ولوسألامنہ ماء ولم یاخذ من یدہ احدھما فیبدأ بالام کذا فی القنیۃ۱؎، واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔
جب آدمی کے لئے والدین میں سے ہرایک کے حق کی رعایت مشکل ہوجائے مثلاً ایک کی رعایت سے دوسرے کو تکلیف پہنچتی ہے توتعظیم واحترام میں والد کے حق کی رعایت کرے اور خدمت میں والدہ کے حق کی۔ علامہ حمامی نے فرمایا ہمارے امام فرماتے ہیں کہ احترام میں باپ مقدم ہے اورخدمت میں والدہ مقدم ہوگی حتی کہ اگر گھرمیں دونوں اس کے پاس آئے ہیں توباپ کی تعظیم کے لئے کھڑاہو، اور اگر دونوں نے اس سے پانی مانگا اور کسی نے اس کے ہاتھ سے پانی نہیں پکڑا تو پہلے والدہ کو پیش کرے، اسی طرح قنیہ میں ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ احکم۔(ت)
 (۱؎ فتاوٰی ہندیہ ہندیۃ     کتاب الکراھیۃ     الباب السادس والعشرون     نورانی کتب خانہ پشاور   ۵ /۳۶۵)
مسئلہ رابعہ :	مابین زن وشوہر حق زیادہ کس کاہے اور کہاں تک؟

الجواب : زن وشوہر میں ہرایک کے دوسرے پرحقوق کثیرہ واجب ہیں ان میں جوبجانہ لائے گااپنے گناہ میں گرفتارہوگا، اگرایک ادائے حق نہ کرے تودوسرا اسے دستاویزبناکر اس کے حق کو ساقط نہیں کرسکتا مگروہ حقوق کہ دوسرے کے کسی حق پرمبنی ہوں اگریہ اس کا ایساحق ترک کرے وہ دوسرا اس کے یہ حقوق کہ اس پرمبنی تھے ترک کرسکتاہے جیسے عورت کانان ونفقہ کہ شوہر کے یہاں پابند رہنے کابدلہ ہے، اگرناحق اس کے یہاں سے چلی جائے گی جب تک واپس نہ آئے گی کچھ نہ پائے گی، غرض واجب ہونے مطالبہ ہونے، بے وجہ شرعی ادانہ کرنے سے گنہگار ہونے میں تو حقوق زن وشوہر برابر ہیں ہاں شوہر کے حقوق عورت پر بکثرت ہیں اور اس پروجوب بھی اشدوآکد، ہم اس پرحدیث لکھ چکے کہ عورت پرسب سے بڑا حق شوہرکاہے یعنی ماں باپ سے بھی زیادہ، اور مرد پر سب سے بڑاحق ماں کاہے یعنی زوجہ کاحق اس سے بلکہ باپ سے بھی کم،
ذٰلک بمافضل اﷲ بعضھم علی بعض
 (یہ اﷲ تعالٰی کابعض پربعض کافضل ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۲ : مسئولہ منشی شوکت علی صاحب فاروقی     ۱۴ربیع الآخر ۱۳۲۰ھ

ماقولکم رحمکم اﷲ تعالٰی اندریں مسئلہ
(آپ پر اﷲ تعالٰی کی رحمت ہو، اس مسئلہ کے بارے میں آپ کاکیا ارشاد ہے۔ت) کہ بعد فوت ہوجانے والدین کے اولاد پر کیاحق والدین کارہتاہے؟
بیّنوابالکتاب توجروابالثواب۔
الجواب :  (۱) سب سے پہلاحق بعدموت ان کے جنازے کی تجہیز، غسل وکفن ونماز ودفن ہے اور ان کاموں میں سنن ومستحبات کی رعایت جس سے ان کے لئے ہرخوبی وبرکت ورحمت ووسعت کی امیدہو۔

(۲) ان کے لئے دعاواستغفار ہمیشہ کرتے رہنا اس سے کبھی غفلت نہ کرنا۔

(۳) صدقہ وخیرات واعمال صالحہ کاثواب انہیں پہنچاتے رہنا، حسب طاقت اس میں کمی نہ کرنا، اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے بھی نمازپڑھنا، اپنے روزوں کے ساتھ ان کے واسطے بھی روزے رکھنابلکہ جونیک کام کرے سب کاثواب انہیں اور سب مسلمانوں کوبخش دینا کہ ان سب کو ثواب  پہنچ جائے گا اور اس کے ثواب میں کمی نہ ہوگی بلکہ بہت ترقیاں پائے گا۔
 (۴) ان پرکوئی قرض کسی کاہو تو اس کے ادا میں حددرجہ کی جلدی وکوشش کرنا اور اپنے مال سے ان کاقرض اداہونے کو دونوں جہاں کی سعادت سمجھنا، آپ قدرت نہ ہو تو اور عزیزوں قریبوں پھرباقی اہل خیر سے اس کی ادامیں امداد لینا۔

(۵) ان پرکوئی فرض رہ گیا توبقدرقدرت اس کے ادامیں سعی بجالانا، حج نہ کیاہوتو ان کی طرف سے حج کرنا یاحج  بدل کرانا، زکوٰۃ یاعشر کامطالبہ ان پر رہا تو اسے اداکرنا، نمازیا روزہ باقی ہوتو اس کاکفارہ دینا وعلٰی ہذاالقیاس ہرطرح ان کی برأت ذمہ میں جدوجہد کرنا۔
 (۶) انہوں نے جو وصیت جائزہ شرعیہ کی ہو حتی الامکان اس کے نفاذ میں سعی کرنا اگرچہ شرعاً اپنے اوپر لازم نہ ہواگرچہ اپنے نفس پربارہومثلاً وہ نصف جائداد کی وصیت اپنے کسی عزیز غیر وارث یا اجنبی محض کے لئے کرگئے توشرعاً تہائی مال سے زیادہ میں بے اجازت وارثان نافذ نہیں مگر اولاد کومناسب ہے کہ ان کی وصیت مانیں اور ان کی خوشخبری پوری کرنے کو اپنی خواہش پر مقدم جانیں۔
 (۷) ان کی قسم بعدمرگ بھی سچی ہی رکھنا مثلاً ماں باپ نے قسم کھائی تھی کہ میرابیٹا فلاں جگہ نہ جائے گا یافلاں سے نہ ملے گا یافلاں کام کرے گا تو ان کے بعد یہ خیال نہ کرنا کہ اب وہ تو نہیں ان کی قسم کاخیال نہیں بلکہ اس کاویسے ہی پابند رہنا جیساان کی حیات میں رہتا جب تک کوئی حرج شرعی مانع نہ ہو اور کچھ قسم ہی پرموقوف نہیں ہرطرح امورجائزہ میں بعد مرگ بھی ان کی مرضی کا پابند رہنا۔
 (۸) ہرجمعہ کو ان کی زیارت قبر کے لئے جانا، وہاں یٰس شریف پڑھنا ایسی آواز سے کہ وہ سنیں اور اس کا ثواب ان کی روح کوپہنچانا، راہ میں جب کبھی ان کی قبرآئے بے سلام وفاتحہ نہ گزرنا۔

(۹) ان کے رشتہ داروں کے ساتھ عمربھر نیک سلوک کئے جانا۔

(۱۰) ان کے دوستوں سے دوستی نباہنا ہمیشہ ان کااعزاز واکرام رکھنا۔

(۱۱)کبھی کسی کے ماں باپ کوبراکہہ کرجواب میں انہیں برانہ کہلوانا۔
 (۱۲) سب میں سخت تر وعام تر ومدام تریہ حق ہے کہ کبھی کوئی گناہ کرکے انہیں قبرمیں ایذا نہ پہنچانا، اس کے سب اعمال کی خبرماں باپ کوپہنچتی ہے، نیکیاں دیکھتے ہیں توخوش ہوتے ہیں اور ان کاچہرہ فرحت سے چمکتا اوردمکتاہے، اور گناہ دیکھتے ہیں تو رنجیدہ ہوتے ہیں اور ان کے قلب پرصدمہ ہوتاہے، ماں باپ کایہ حق نہیں کہ انہیں قبرمیں بھی رنج پہنچائے۔

اﷲ غفوررحیم عزیز کریم جل جلالہ صدقہ اپنے رؤف رحیم علیہ وعلٰی آلہ افضل والتسلیم کا ہم سب مسلمانوں کو نیکیوں کی توفیق دے گناہوں سے بچائے، ہمارے اکابر کی قبروں میں ہمیشہ نور وسرورپہنچائے کہ وہ قادر  ہے اور ہم عاجز، وہ غنی ہے ہم محتاج،
وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل نعم المولٰی ونعم النصیر ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم، وصلی اﷲ تعالٰی علی الشفیع علی الرفیع العفو الکریم الرؤف الرحیم سیّدنا محمّد واٰلہٖ واصحابہٖ اجمعین اٰمین  والحمدﷲ ربّ العٰلمین۔
Flag Counter