Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
77 - 160
آٹھویں حدیث میں ہے :  ایک جوان نزع میں تھا اسے کلمہ تلقین کرتے تھے، نہ کہاجاتاتھا یہاں تک کہ حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تشریف لے گئے اور فرمایا : کہہ
لاالٰہ الا اﷲ،
عرض کی نہیں کہاجاتا، معلوم ہوا کہ ماں ناراض ہے، اسے راضی کیا توکلمہ زبان سے  نکلا۔
رواہ الامام احمد۲؎ والطبرانی عن عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اﷲ تعالٰی عنہ
 (امام احمد اور طبرانی نے عبداﷲ بن ابی اوفٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ شعب الایمان     حدیث ۷۸۹۲    دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۶ /۱۹۸)
ف: تلاش کے باوجود احمدوطبرانی سے ان الفاظ کے ساتھ حدیث نہیں مل سکی شعب الایمان میں انہی الفاظ سے ملاحظہ ہو۔
مگر ان  امور سے وہ عاصی اور اس کافعل مخالف حکم خداہوا، اس کا منکرِخداہونا لازم نہیں آتا جب تک یہ نہ کہے کہ باپ کی اطاعت شرعاً ضروری نہیں یامعاذاﷲ باپ کی توہین وتذلیل جائز ہے جومطلقاً بلاتاویل ایسا اعتقاد رکھتاہو وہ بے شک منکرالٰہی ہوگا اور اس پرصریح الزام کفر،
والعیاذباﷲ تعالٰی، واﷲ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ثانیہ:

سوتی مادر پرتہمت بد طرح طرح کی لگائے اس کے واسطے کیاحکم ہے؟ اورسوتیلی مادر کا حق پسر علاتی پرہے یانہیں؟
الجواب : حقوق تومسلمان پرہرمسلمان رکھتاہے اور کسی مسلمان کو تہمت لگانی حرام قطعی ہے خصوصاً معاذاﷲ اگرتہمت زنا ہو،جس پرقرآن عظیم نے فرمایا :
یعظکم اﷲ ان تعودوا المثلہ ابدا ان کنتم مؤمنین۳؎۔
اﷲ تمہیں نصیحت فرماتاہے کہ اب ایسانہ کرنا اگرایمان رکھتے ہو۔
(۳؎ القرآن الکریم     ۲۴/۱۷)
تہمت زنالگانے والے کو اسی کوڑے لگتے ہیں اور ہمیشہ کو اس کی گواہی مردود ہوتی ہے اﷲ تعالٰی نے اس کانام فاسق رکھا، یہ سب احکام ہرمسلمان کے معاملے میں ہیں اگرچہ اس سے کوئی رشتہ علاقہ اصلاً نہ ہو، اور سوتیلی ماں توایک عظیم وخاص علاقہ اس کے باپ سے رکھتی ہے جس کے باعث اس کی تعظیم وحرمت اس پربلاشبہ لازم، اسی حرمت کے باعث رب العزت جل وعلا نے اسے حقیقی ماں کی مثل حرام ابدی کیا۔
حدیث رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ان ابرالبر صلۃ الرجل اھل ودابیہ۔ رواہ مسلم۱؎ عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
بیشک سب نکوکاریوں سے بڑھ کر نکوکاری یہ ہے کہ فرزند اپنے باپ کے دوستوں سے اچھاسلوک کرے(مسلم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب البروالصلۃ     باب فضل صلۃ اصدقاء الاب والام     قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۳۱۴)
دوسری حدیث میں ہے، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ماں باپ کے ساتھ نکوکاری کے طریقوں میں یہ  بھی شمارفرمایا :
واکرم صدیقھما۔ ابوداؤد ۲؎ ابن ماجۃ و ابن حبان فی صحاحھم عن مالک بن ربیعۃ الساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ان کے دوست کی عزت کرنا۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ اورابن حبان نے اپنی  اپنی صحاح میں مالک بن ربیعۃ الساعدی رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے  اسے روایت کیا۔ت)
 (۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الادب     باب فی برالوالدین     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۳۴۴)

(سنن ابن ماجہ     ابواب الادب     باب صل من کان ابوک یصل     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۲۶۹)
باپ کے دوستوں کی نسبت یہ احکام تو اس کی منکوحہ اس کی ناموس کی تعظیم وتکریم کیوں نہ  احق وآکد  ہوگی خصوصاً جبکہ اس کی ناراضی میں باپ کی ناراضی اﷲ تعالٰی کی ناراضی ہے  واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ثالثہ :

اولادپرحق پدرزیادہ ہے یاحق مادر؟ بیّنواتوجروا(بیان فرماؤ، اجرپاؤ۔ت)
الجواب :

اولاد پرماں باپ کاحق نہایت عظیم ہے او رماں کاحق اس سے اعظم، قال اﷲ تعالٰی :
  ووصینا الانسان بوالدیہ احساناحملتہ امہ کرھا ووضعتہ کرھا وحملہ وفصالہ ثلٰثون شھراط۱؎۔
  آدمی کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کی، اسے پیٹ میں رکھے رہی اس کی ماں تکلیف سے، اور اسے جنا تکلیف سے، او اس کا پیٹ میں رہنا اور دودھ چھُٹنا تیس مہینے میں ہے۔
 (۱؎ القرآن الکریم  ۴۶/۱۵ )
اس آیہ کریمہ میں رب العزت نے ماں باپ دونوں کے حق میں تاکید فرماکر ماں کو پھرخاص الگ کرکے گنا اور اس کی ان سختیوں اور تکلیفوں کوجو اسے حمل وولادت اور دوبرس تک اپنے خون کا عطرپلانے میں پیش آئیں جن کے باعث اس کاحق بہت اشدواعظم ہوگیا شمارفرمایا اسی طرح دوسری آیت میں ارشاد فرمایا :
ووصینا الانسان بوالدیہ حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین ان اشکر لی ولوالدیک۲؎۔
تاکید کی ہم نے آدمی کو اس کے ماں باپ کے حق میں کہ پیٹ میں رکھا اسے اس کی ماں نے سختی پرسختی اٹھاکر، اور اس کادودھ چھُٹنا دو برس میں ہے، یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا۔
(۲؎ القرآن الکریم     ۳۱/ ۱۴)
یہاں ماں باپ کے حق کی کوئی نہایت نہ رکھی کہ انہیں اپنے حق جلیل کے ساتھ شمارکیا، فرماتاہے : شکربجالا میرا اور اپنے ماں باپ کا،
اﷲ اکبر اﷲ اکبر وحسبنا اﷲ ونعم الوکیل ولاحول ولاقوۃ الاباﷲ العلی العظیم،
یہ دونوں آیتیں اوراسی طرح بہت حدیثیں دلیل ہیں کہ ماں کاحق باپ کے حق سے زائد ہے، ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں :
سألت رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ای الناس اعظم حقا علی المرأۃ قال زوجھا قلت فای الناس اعظم حقا علی الرجل قال امہ۔ رواہ البزار  بسند حسن  والحاکم۳؎۔
یعنی میں نے حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی عورت پرسب سے بڑا حق کس کاہے، فرمایا شوہر کا، میں نے عرض کی اور مرد  پر سب سے بڑا حق کس کاہے، فرمایا  اس کی ماں کا، (بزار نے بسند حسن اورحاکم نے اسے روایت کیا۔ت)
 (۳؎ المستدرک للحاکم     کتاب البروالصلۃ اعظم الناس حقا علی الرجل امہ     دارالفکربیروت     ۴ /۱۷۵)
ابو ھریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں :
جاء رجل الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال یارسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم من احق الناس بحسن صحابتی قال امک  قال  ثم من  قال امک  قال  ثم من  قال امک قال ثم من قال امک قال ثم من قال ابوک۔ رواہ الشیخان ۱؎ فی صحیحھما۔
ایک شخص نے خدمت اقدس حضورپرنورصلوات اﷲ وسلامہ علیہ میں حاضرہوکر عرض کی یارسول اﷲ سب سے زیادہ کون اس کامستحق ہے کہ میں اس کے ساتھ نیک رفاقت کروں، فرمایا تیری ماں، عرض کی پھر، فرمایا  تیرا باپ۔  (امام بخاری اور مسلم نے اپنی اپنی صحیح میں اسے روایت کیا۔ت)
 (۱؎ صحیح البخاری کتاب الادب     باب من احق الناس بحسن الصحبۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۲ /۸۸۳)

(صحیح مسلم     کتاب البروالصلۃ     باب برالوالدین         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۳۱۲)
Flag Counter