مسئلہ ۱۵۸ تا ۱۶۱ : ۱۲شعبان ۱۳۱۱ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ان مسائل میں :
مسئلہ اولٰی :
پسر نے اپنے باپ کی نافرمانی اختیارکرکے کل جائداد پدر پر قبضہ کرلیا اور باپ کے پاس واسطے اوقات بسری کے کچھ نہ چھوڑا بلکہ درپَے تذلیل وتوہین پدر کے ہے اور اﷲ جل شانہ، نے واسطے اطاعت پد ر کے کلام اپنے میں فرمایا ہے، صورت ہذا میں اس نے خلاف فرمودہ خدا کیا وہ منکرحکم خداہوا ا نہیں؟ اور منکرکلام ربانی کے واسطے کیا حکم شرع شریف ہے؟ اور وہ کہاں تک گنہگار ہے؟ بیّنواتوجروا(بیان فرماؤ، اجرپاؤ۔ت)
الجواب : پسر مذکور فاسق فاجر مرتکب کبائر عاق ہے اور اسے سخت عذاب وغضب الٰہی کااستحقاق، باپ کی نافرمانی اﷲ جبار وقہار کی نافرمانی ہے اورباپ کی ناراضی اﷲ جبار وقہار کی ناراضی ہے، آدمی ماں باپ کو راضی کرے تو وہ اس کے جنت ہیں اور ناراض کرے تو وہی اس کے دوزخ ہیں۔ جب تک باپ کو راضی نہ کرے گا اس کاکوئی فرض، کوئی نفل، کوئی عمل نیک اصلاً قبول نہ ہوگا، عذاب آخرت کے علاوہ دنیا میں ہی جیتے جی سخت بلاء نازل ہوگی مرتے وقت معاذاﷲ کلمہ نصیب نہ ہونے کاخوف ہے۔
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
اﷲ کی اطاعت ہے والد کی اطاعت، اور اﷲ کی معصیت ہے والد کی معصیت (طبرانی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
(۱؎ المعجم الاوسط حدیث ۲۲۷۶ مکتبۃ المعارف ریاض ۳ /۱۳۴)
دوسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
رضا اﷲ فی رضا الوالد وسخط اﷲ فی سخط الوالد۔ رواہ الترمذی ۲؎ وابن حبان فی صحیحہ والحاکم عن عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنھما۔
اﷲ کی رضاوالد کی رضامیں ہے اور اﷲ کی ناراضی والد کی ناراضی میں ہے(ترمذی اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اورحاکم نے عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
(۲؎ جامع الترمذی ابواب البر والصلۃ باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین امین کمپنی دہلی ۲ /۱۲)
تیسری حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ھما جنتک ونارک۔ رواہ ابن ماجۃ ۳؎ عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
ماں باپ تیری جنت اور تیری دوزخ ہیں (ابن ماجہ نے ابی امامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
(۳؎ سنن ابن ماجہ ابواب الادب باب برالوالدین ایچ ایم سعید کمپنی دہلی ص۲۶۹)
چوتھی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
الوالد اوسط ابواب الجنۃ فان شئت فاضع ذٰلک الباب او احفظہ۔ رواہ الترمذی۱؎ فی صحیحہ وابن ماجۃ وابن حبان عن ابی الدرداء رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
والدجنت کے سب دروازوں میں بیچ کادروازہ ہے اب توچاہے تو اس دروازے کو اپنے ہاتھ سے کھودے خواہ نگاہ رکھ (ترمذی نے اپنی صحیح میں اور ابن ماجہ اور ابن حبان نے ابوالدرداء سے اسے روایت کیا۔ت)
(۱؎ جامع الترمذی ابواب البروالصلۃ باب ماجاء من الفضل فی رضا الوالدین امین کمپنی دہلی ۲ /۱۲)
پانچویں حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لایدخلون الجنۃ العاق لوالدیہ والدیوث والرجلۃ من النساء۲؎۔ رواہ النسائی والبزار باسناد جید والحاکم عن ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما۔
تین اشخاص جنت میں نہ جائیں گے: ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا اور دیّوث او ر وہ عورت کہ مردانی کرنے والا اور دیّوث اور وہ عورت کہ مردانی وضع بنائے۔ (نسائی اوربزار نے اسناد جید کے ساتھ اور حاکم نے ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے اسے روایت کیا۔ت)
(۲؎ سنن النسائی کتاب الزکوٰۃ باپ المنان بما اعطٰی نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۳۵۷)
(المستدرک للحاکم کتاب الایمان ثلاثۃ لایدخلون الجنۃ دارالفکر بیروت ۱ /۷۲)
چھٹی حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
ثلثۃ لایقبل اﷲ عزوجل منھم صرفا ولا عدلا عاق ومنان ومکذب بقدر۔ رواہ ابن ابی عاصم فی السنۃ۳؎ بسند حسن عن ابی امامۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
تین شخصوں کاکوئی فرض ونفل اﷲ تعالٰی قبول نہیں فرماتا : عاق اور صدقہ دے کر احسان جتانے والا اور ہرنیکی وبدی کو تقدیرالٰہی سے نہ ماننے والا (ابن ابی عاصم نے السنۃ میں سندحسن کے ساتھ ابوامامہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)
ساتویں حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
کل الذنوب یؤخرمنھا ماشاء الی یوم القیٰمۃ الاعقوق الوالدین فان اﷲ یعجلہ لصاحبہ فی الحیاۃ قبل الممات رواہ الحاکم ۱؎ والاصبہانی والطبرانی عن ابی بکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔
سب گناہوں کی سز ااﷲ تعالٰی چاہے تو قیامت کے لئے اٹھارکھتا ہے مگرماں باپ کی نافرمانی کہ اس کی سزا جیتے جی پہنچاتاہے۔ (حاکم اور اصبہانی اور طبرانی نے ابی بکررضی اﷲ تعالٰی عنہ سے اسے روایت کیا۔ت)
(۱؎ المستدرک للحاکم کتاب البر والصلۃ باب کل الذنوب یؤخر اﷲ ماشاء منہا دارالفکر بیروت ۴ /۱۵۶)
(کنزالعمال حدیث ۴۵۵۴۵ بیروت و الدرالمنثور تحت آیات ۱۷ /۲۳،۲۴ و ۴ /۱۷۴)