Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۲۴(کتاب الحظر والاباحۃ)
75 - 160
مسئلہ ۱۵۱ و ۱۵۲ : ازفیض آباد مسجد مغلپورہ مرسلہ شیخ اکبر علی مؤذن ومولوی عبدالعلی ۱۹ ربیع الآخر ۱۳۳۶ھ 

(۱) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کسی سائل کو یا کسی نالشی کوجو ان کے پاس حاضر ہوامعافی مانگی توبہ کی توحضورسرورعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کس طرح پیش آئے؟

(۲) کیارسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے جو مسافر ومہمان معزز رئیس دنیا جس سے آمدنی ہوساتھ کھانا کھلایا اور غریبوں پرتوجہ نہیں کی، شریعت میں جائزہے؟
الجواب

(۱) حضوراقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے کبھی کسی سائل کوجس کاسوال ناحق نہ تھا زجر نہ فرمایا، نالشیوں کی ہمیشہ بات سنی، اور اگر حق پرتھا توداد رسی وفریادرسی فرمائی، جس نے توبہ کی توبہ قبول فرمائی، جس نے معافی مانگی اسے معافی دی اگرچہ بعض مصلحت دینیہ سے بدیر مگرحدوداﷲ میں کہ بعد وجوب حد اس سے درگزرکاحکم نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم
 (۲) رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم غریب نوازی ہی کو تشریف لائے ہیں، شبانہ روز سرکار سے غریبوں امیروں سب کی پرورش جاری ہے مگریہ بھی حکم فرمایاہے :
انزلوا الناس منازلھم۱؎۔
لوگوں کو ان کے مراتب ودرجات کے مطابق اتارو(یعنی ان کے مقام کے مطابق ان کی عزت افزائی اور مہمان نوازی کرو) ۔ (ت)
 (۱؎ سنن ابی داؤد     کتاب الادب    باب تنزیل الناس منازلہم         آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۳۰۹)
اور حدیث میں ہے :
اذا اتاکم کریم قوم  فاکرموہ۔۲؎
جب کسی قوم کامعزز  تمہارے یہاں آئے تو اس کی عزت کرو۔
 (۲؎سنن ابن ماجہ     کتاب الادب    باب اذا اتاکم الخ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۲۷۲)
ام المؤمنین صدیقہ رضی اﷲ تعالٰی عنہا کے حضورایک سائل حاضرہوا اسے ٹکڑا عطافرمایا ایک ذی عزت مسافر گھوڑے پرسوارحاضر ہوا اس کی نسبت فرمایا کہ باعزاز اتارکر کھاناکھلایاجائے، سائل کی حاجت اسی قدر تھی اور کسی رئیس کو ٹکڑا دیاجائے توباعث اس کی سُبکی اور ذلت کاہو لہٰذا فرق مراتب ضرورہے اور اصل مدارنیت پر ہے اگرسائل کوبوجہ اس کے فقر کے ذلیل سمجھے اور غنی کو بوجہ اس کی دنیا کے عزت دارجانے توسخت بیجاسخت شنیع ہے اور اگرہرایک کے ساتھ خلق حسن منظورہے توجتنا جس کے حال کے مناسب ہے اس پرعمل ضرور ہے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۵۳ و ۱۵۴ : ازبلرام پورضلع گونڈہ محلہ پورینیا تالاب مرسلہ حافظ محمد عین اﷲ صاحب ۱۴ رجب ۱۳۳۷ھ 

کیافرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں :

(۱) ایک شخص عالم ہے اور اس کو اہل اسلام اور برادری پیشوا جانتے ہیں اور وہ عیال دار ہے اگر برادری میں شادی  نکاح میں نیوتا مروّجہ لے لے اور کھانا بھی کھائے اور اُن کو بطریق نیوتاکچھ نقد دے اور اپنے یہاں کسی لڑکے کی شادی کرے اور برادری کونیوتا دے کرمدعو کرے تو وہ برادری میں منسلک ہوجائے گا اور علم کے درجہ سے گرجائے گا اور پیشوا نہ رہے گا اور برادری کے ہرمعاملہ جائزوناجائز میں شریک ہونا اور تسلیم کرنا اس پرواجب ہوگا۔

(۲) ایک شخص قناعت گزیں ہے اور بجز فتوح غیب کوئی وجہ معاش نہیں رکھتا اور قوم اس کو پیشوا جانتی ہے اور مدخیرات سے اس کو دیتی ہے اور عیال دار ہے اگر وہ بلااکراہ واجبار مثل مذکورہ رسم نیوتاجاری رکھے تو درجہ توکل سے گرجائے گا اور خیرات وغیرہ سے لینا ناجائزہوگا اور شرکت برادری ہرخیروشر میں اس پر واجب ہوگی۔
الجواب :

(۱) جوعالم دین اور پیشوائے مسلمین ہو اسے برادری سے میل جول اور ان کی جائز تقریبوں میں شرکت اور جائز رسموں میں موافقت اور اپنی تقریبوں میں انہیں شریک کرناہرگز نہ ممنوع ہے نہ اس کو درجہ سے کچھ کم کردے وہ کہ تمام عالم سے افضل واعلٰی ہیں۔ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اپنے غلاموں سے ایسے برتاؤ رکھتے۔ ہاں ناجائز تقریبوں میں شریک ہونا، ناجائز رسموں میں ساتھ دینا یہ ضرورناجائز اور عالم وپیشوا کے لئے سخت ترناجائز، یہ ضرور درجہ گرادینے والی چیزہے اور یہ محض غلط ہے کہ برادری سے میل جول ناجائزباتوں میں شرکت پربھی مجبورکرے گا کیوں مجبور کرے گا جب یہ عالم ہے اور وہ اسے پیشوا مانتے ہیں صاف کہہ دے کہ فلاں بات ناجائز ہے میں اسے نہیں کرسکتا اور تم بھی نہ کرو۔
 (۲) شرکت برادری کاجواب اوپرآگیا، اور اگرصاحب نصاب وقادر علی الاکتساب ہے تو اسے اب بھی صدقات واجبہ لینا جائزنہیں۔
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
لاتحل الصدقۃ لغنی ولذی مرۃ سویّ۱؎۔
کسی مالدار کسی تندرست اورطاقتور کے لئے صدقہ وخیرات حلال نہیں۔(ت)
 (۱؎ مسندامام احمدبن حنبل   عن عبداﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہ     دارالفکر بیروت     ۲ /۱۹۲)
اور نظر مسبب جل وعلاء پررکھ کر جائزاسباب رزق کااختیارکرناہرگز منافی توکل نہیں، توکل ترک اسباب کانام نہیں بلکہ اعتماد علی الاسباب کا ترک ہے۔
حدیث میں ہے نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
اعقلھا وتوکّل علی اﷲ۲؎۔
برتوکّل پائے اشتر راببند، واﷲ تعالٰی اعلم  اونٹ کوباندھ کراﷲ تعالٰی پربھروساکیجئے ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)
 (۲؎ جامع الترمذی   ابواب القیامۃ     امین کمپنی دہلی   ۲ /۷۴)
مسئلہ ۱۵۵ : ازشہر محلہ پھوٹا دروازہ مسئولہ شیخ نعیم اﷲ صاحب چناں میاں ۴شوال ۱۳۳۸ھ

ذمہ زید حقوق العباد ہوں تو ان کا کیاکفارہ ہے اور کفارہ نہ ہو تو سبکدوشی کی کیاضرورت ہے؟ بیّنواتوجروا۔

الجواب : جس کامال دبایاہے فرض ہے کہ اُتنا مال اسے دے، وہ نہ رہا ہواس کے وارث کو دے، وہ نہ ہوں فقیرکودے، بے اس کے سبکدوش نہیں ہوسکتا، اور جسے علاوہ مال کچھ ایذادی ہو یابراکہاہو اس سے معافی مانگے یہاں تک کہ وہ معاف کردے، جس طرح ممکن ہومعافی لے، وہ نہ رہا ہواور تھامسلمان تو اس کے لئے صدقہ وتلاوت ونوافل کاثواب پہنچاتا رہے، اورکافر تھا تو کوئی علاج نہیں سوا اس کے کہ اپنے رب کی طرف رجوع اورتوبہ واستغفار کرتا رہے وہ مالک وقادرہے۔ واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۵۶ : ازشہر محلہ ذخیرہ مسئولہ منشی شوکت علی صاحب ۲۴صفر ۱۳۳۹ھ

کیا ارشاد ہے اہل شریعت کا اس مسئلہ میں کہ عورت پر مرد کے اور مرد پرعورت کے کیاکیاحق ہیں؟ بیّنواتوجروا۔

الجواب : مرد پرعورت کاحق نان ونفقہ دینا، رہنے کومکان دینا، مہروقت پراداکرنا، اس کے ساتھ  بھلائی کابرتاؤ رکھنا، اسے خلاف شرع باتوں سے بچانا۔ قال تعالٰی :
وعاشروھن بالمعروف۱؎
 (عورتوں سے اچھی طرح رہنا سہناکرو۔ت)او ر اﷲ تعالٰی نے فرمایا :
یاایھا الذین اٰمنوا قوا انفسکم واھلیکم نار۲؎۔
اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔(ت)
 (۱؎ القرآن الکریم     ۴ /۱۹)   ( ۲؎ القرآن الکریم     ۶۶ /۶)
اور عورت پرمرد کاحق خاص امورمتعلقہ زوجیت میں اﷲ ورسول کے بعد تمام حقوق حتی کہ ماں باپ کے حق سے زائد ہے ان امور میں اس کے احکام کی اطاعت اور اس کے ناموس کی نگہداشت عورت پر فرض اہم ہے، بے اس کے اذن کے محارم کے سوا کہیں نہیں جاسکتی اور محارم کے یہاں بھی ماں باپ کے یہاں ہرآٹھویں دن وہ بھی صبح سے شام تک کے لئے اور بہن، بھائی، چچا، ماموں، خالہ، پھوپھی کے یہاں سال بھر بعد اور شب کو کہیں نہیں جاسکتی، 

نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں : ''اگر میں کسی کو غیرخدا کے سجدے کا حکم دیتا توعورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوھر کو سجدہ کرے'' ۳؎
 (۳؂ جامع الترمذی    ابواب الرضاء     باب ماجاء فی حق الزوج  علی المرأۃ     امین کمپنی دہلی      ۱ /۱۳۸)

(کنزالعمال برمزحم     حدیث ۴۵۸۶۵   موسسۃ الرسالہ بیروت ۱۶ /۵۵۸)
اورایک حدیث میں ہے : ''اگرشوہر کے نتھنوں سے خون اور پیپ بہہ کر اس کی ایڑیوں تک جسم بھرگیا ہو اور عورت اپنی زبان سے چاٹ کر اسے صاف کرے تو اس کا حق ادانہ ہوگا''۴؎واﷲ تعالٰی اعلم۔
 (۴؎ مسند امام احمدبن حنبل         حدیث معاذ بن جبل     المکتب الاسلامی بیروت     ۵ /۲۳۹)

(کنزالعمال    برمزکر     حدیث ۴۵۸۶۱      مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۱۶ /۵۵۷)
مسئلہ ۱۵۷ :  ازریاست بھرت پورشرقی راجپوتانہ ڈیرہ سیدبشرالدین احمد عرف سیدفقیر احمدصاحب جمعدار ترب پنجم رجمنٹ اول مسئولہ حامد الدین احمدقادری ۲۰ رمضان ۱۳۳۹ھ

چہ میفرمایند علمائے دین احدی ومفتیان شرع محمدی اندریں مسئلہ کہ اخبار وآثاریکہ درمواخذہ وتصفیہ حقوق العباد در محشروارد اند مخصوص بحقوق مومنان بذمہ مومنان ہستند یابعموم بحقوق آدمیان یعنی مؤمن و غیرمومن بذمہ مومن اند۔ بالعموم حقوق مخلوقات بذمہ انسان مؤمن۔ واگرخصمان علاوہ انسان ہم باشند یا انسان زندہ نماندہ باشد  یا ازیاد وارفتہ باشد  یاقدرت ادائے حقوق نباشد  یاگمان عفو از صاحبان حقوق نباشد یاصاحبان حقوق باوجود طلب عفو بحل نسازند۔ پس ازروئے شرع شریف حسب مذہب حنفیہ ماتریدیہ چارہ برأت مؤمن ہست یادخول نارواجب وحرمان نجات لابدست۔ بیّنواتوجروا۔
دین الٰہی کے علماء اور شرع محمدی کے مفتی حضرات اس مسئلہ میں کیافرماتے ہیں کہ احادیث اور آثار قیامت کے دن حقوق العباد کی صلح وصفائی وگرفت کے بارے میں جو وارد ہیں کیا وہ مومنوں کے حقوق، مومنوں کے ذمے لازم اور مخصوص ہیں یاصرف انسانی حقوق ہیں کہ جس میں مومن اور غیرمومن برابرہیں۔ البتہ وہ مومنوں کے ذمے لازم ہیں، یاعام طورپرمخلوق الٰہی کے حقوق بندہ مومن کے ذمے لازم ہیں۔ اگرانسان کے علاوہ دوسری مخلوق بھی فریق مخالف ہو، یاانسان زندہ نہ رہے یا اس کی یاد سے یہ بات نکل جائے یاحقوق اداکرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو  یا اہل حقوق سے معاف کرنے کی امید نہ ہو  یا اہل حقوق معافی طلب کرنے کے باوجود معاف نہ کریں، تو ان تمام صورتوں میں شریعت محمدیہ میں مذہب حنفی ماتریدی کے مطابق مومن کے بری الذمہ ہونے کی کیاصورت ہے، یاآگ میں جانا ضروری اور  رہائی پانے  سے  محروم ہونا لازمی  ہے، جوبھی صورت ہو بیان فرماؤ اور اجر و ثواب پاؤ۔(ت)
الجواب:  اخباروآثار درمطلق حقوق ست مؤمن راباشد یاکافرذمی راانسان راباشد یاحیوان وقد نصوا ان خصومۃ الدابۃ اشد من خصومۃ الذمی وخصومۃ الذمی اشد من خصومۃ المسلم کما فی الخانیۃ و الدر۱؎ وغیرھما، وباجماع اہلسنّت ہیچ وعید درحق مسلم قطعی نیست قال اﷲ تعالٰی
ان اﷲ تعالٰی انّ اﷲ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذٰلک لمن یشاء۱؎
انچہ دراشدیت خصومت ذمی گفتہ اند  انہ لایرجی منہ العفو فیبقی فی خصومتہ فاقول ای یطول خصومتہ ولیس فیہ ان الوعید ینفذ ولابد حقوق واصحاب ہمہ رامالک حقیقی حضرت حق ست عز جلالہ
فیفعل مایشاء۲؎ ویحکم مایرید۳؎
 نسأل اﷲ العفو والعافیۃ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
اخبار اور آثار مطلق حقوق کے متعلق وارِد ہیں، خواہ مومن ہویاکافر ذمی، انسان ہو یاحیوان، اس لئے کہ ائمہ کرام نے تصریح فرمائی کہ جانوروں کاجھگڑنا اور فریق مخالف ہونا، ذمی کافر کی مخالفت سے زیادہ سخت ہے، اور ذمی کی مخالفت مسلمان کی مخالفت سے زیادہ سخت ہے جیسا کہ فتاوٰی قاضیخان اور درمختار وغیرہ میں مذکور ہے۔ اور اہل سنّت کا اتفاق ہے کہ کوئی دھمکی مسلمان کے حق میں قطعی نہیں۔ چنانچہ اﷲ تعالٰی کاارشاد ہے کہ بیشک اﷲ تعالٰی اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیاجائے۔ اور اس سے کمتر جس کے لئے چاہیں معاف کردیتاہے اور یہ جو وارد  ہوا ہے کہ ذمی کی مخالفت زیادہ سخت ہے اس کامطلب یہ ہے کہ اس سے معافی کی امیدنہیں۔ پھروہ اپنی مخالفت میں باقی رہے گا۔ میں کہتاہوں کہ اس کی مخالفت طویل ہوجائے گی اور اس میں یہ نہیں کہ عذاب کی دھمکی ضرورنافذ ہوگی، حقوق واصحاب سب کاحقیقی مالک اﷲ تعالٰی ہے کہ جس کی عزت بڑی ہے۔ لہٰذا وہ کرتاہے جوچاہے۔ اور فیصلہ کرتاہے جس کا ارادہ فرمائے۔ ہم اﷲتعالٰی سے معافی اور عافیت مانگتے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم (ت)
 (۱؎ الدرالمختار   کتاب الحظروالاباحۃ     فصل فی البیع    مطبع مجتبائی دہلی     ۲ /۲۴۹)

(۱؎ القرآن الکریم     ۴ /۴۸ و ۱۱۶ )       (۲؎ القرآن الکریم     ۳ /۴۰ و ۲۲/۱۸)

(۳؎القرآن الکریم  ۵ /۱)
Flag Counter